وار گیمز: فوجیوں میں گیمنگ کا رجحان کیوں بڑھ رہا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سٹیفن پاول
- عہدہ, بی بی سی کے گیمنگ رپورٹر
جو غیر ملکی باشندے یوکرین جا کے روس کے خلاف جنگ میں حصہ لینے چاہتے تھے انھیں اس سال کے آغاز میں ہی بالکل واضح پیغام دے دیا گیا تھا: ’یہ کوئی کال آف ڈیوٹی نہیں ہے۔‘
حالیہ برسوں میں چاہے ویڈیو گیمز جتنی زیادہ ترقی کر گئی ہوں، پھر بھی حقیقی جنگ کی ہولناکیاں اسے ورچوئل ورژن سے کہیں زیادہ ہوتی ہیں۔
تاہم گیمنگ کی صنعت کے فوج کے ساتھ تعلقات ضرور بہتر ہوتے جا رہے ہیں، چاہے وہ آفیسرز کی تربیت کرنے والی ٹیکنالوجی کے ذریعے ہو، عوام کے شعور کو بدلنے کے طریقے ہوں، سابق آفیسرز سے قریبی تعلقات ہوں یا سادہ حقیقت ہی کہ فوجی کھیلنا پسند کرتے ہیں۔
ڈین گولڈنبرگ امریکی نیوی کے ایک سابق اہلکار ہیں جو اب فوجی ویٹرنز کی تنظیم ’کال آف ڈیوٹی اینڈؤمنٹ‘ چلا رہے ہیں اور اس کا تعلق اس مشہور ویڈیو فرینچائز سے بھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ فعال طور پر فوج کی خدمت کرنے والے اور نوجوان ویٹرنز کا گیمنگ سے ایک گہرا رشتہ ہے۔
’یہ تعلق اب کہیں نہیں جا رہا۔‘
وار گیمنگ
برسوں پہلے فوجی کمانڈر پرانے نقشوں پر اپنے حربوں کی منصوبہ بندی، تیاری اور ٹیسٹ کیا کرتے تھے۔
وہ سیاہی اور کاغذ پر لکڑی کے ماڈل ادھر ادھر ہلاتے رہتے۔ یہ ماڈلز فوجیوں کی حرکت کی نمائندگی کرتے تھے۔
آج کل وہ اس کی جگہ ویڈیو گیم کھیلتے ہیں۔ بس کچھ اسی طرح ہی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہImprobable
ماڈرن گیمنگ ٹیکنالوجی جرنیلوں کو اپنے تاریخی ہم منصبوں کی طرح کا کچھ کرنے کی اجازت دیتی ہے، بس وہ یہ ذرا زیادہ جدید طریقے سے کرتے ہیں۔
ٹیکنالوجی کمپنی ’امپروبیبل‘ کے جو رابنسن بتاتے ہیں: ’جہاں ویڈیو گیمنگ ٹیکنالوجی ناقابل یقین حد تک طاقتور اور کارآمد ہو گئی ہے اور یہ حقیقی دنیا کی تمام پیچیدگیوں کو بنیادی طور پر ایک ورچوئل دنیا میں دوبارہ تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔‘
’امپروبیبل‘ کا سافٹ ویئر حقیقی زندگی کے جنگی منظرناموں کو عملی طور پر دوبارہ ورچوئلی تخلیق کرنے کی اجازت دیتا ہے جو چاہے اونچے آسمان سے مکمل طور پر دیکھنے (کمپنی آف ہیروز) سے ہو یا پھر کسی شخص کی زبانی اپنی کہانی سنے (کاؤنٹر گیمز) ہو۔
سائبر حملوں اور غلط معلومات کے اثرات سے لے کر آبادی کے اعداد و شمار اور بنیادی ڈھانچے تک جدید جنگ کو متاثر کرنے والے تمام متعدد پہلوؤں کو سافٹ ویئر میں منتقل کیا گیا ہے اور حالات کی وجہ سے اثرات کے متعلق بتاتا ہے۔ یہ صرف فوجیوں کی تعیناتی اور نقل و حرکت سے کہیں زیادہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہImprobable
رابنسن بتاتے ہیں کہ آج کل خطرات کہیں سے بھی آ سکتے ہیں۔ یہ جاننا بہت مشکل ہے کہ وہ کس طرح پیدا ہوں گے اور میدانِ جنگ پر اثر چھوڑیں گے۔ اس طرح کے مسائل سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی اور تربیت کی کوشش شروع کرنا بہت مشکل ہے۔
ہم فیصلہ سازوں کو آئیڈیاز، حکمت عملیوں کی جانچ اور نئے آلات کو آزمانے کے قابل بناتے ہیں، اور ان پیچیدہ بدلتے ہوئے ماحول سے نمٹنے کے لیے فوجیوں کو تربیت دیتے ہیں۔ اس سے آپ کو بہت جلد یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ چیزیں ایک دوسرے پر کیسے اثر انداز ہوتی ہیں اور ان سے کیا سیکھا جا سکتا ہے۔‘
گیمنگ ٹیکنالوجی کو صرف تربیت میں ہی استعمال نہیں کیا جا رہا ہے۔ رابنسن کہتے ہیں کہ اسے موجودہ حقیقی دنیا کے آپریشنز میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے، یعنی یہ آپریشنز کے آرکیسٹریشن (انتظامات) تک ہر طرح سے پیشرفت فراہم کر رہا ہے۔‘
امپروبیبل کا کہنا ہے کہ اس کی ٹیکنالوجی کو کمانڈرز اب دنیا بھر میں مختلف تنازعات میں استعمال کر رہے ہیں، لیکن کمپنی سکیورٹی کی وجوہات کی بنا پر ہمیں یہ نہیں بتائے گی کہ ایسا کہاں کیا جا رہا ہے۔
لوگوں تک پہنچنے کا طریقہ
حال ہی میں برطانوی فوج کی عوام کے ساتھ مشغول ہونے کی حکمت عملی میں گیمنگ ایک اہم حصہ بن گئی ہے۔
کنونشنز میں جانے سے لے کر گیمز کو اپنی اشتہاری مہموں کے ایک واضح حصے کے طور پر استعمال کرنے اور ٹوئچ جیسے سٹریمنگ پلیٹ فارمز پر لوگوں کے ساتھ باقاعدگی سے بات چیت کرنے تک، یہ واضح ہے کہ اعلیٰ حکام سمجھتے ہیں کہ لاکھوں لوگ جو برطانیہ میں باقاعدگی سے گیمز کھیلتے ہیں ان کے ساتھ رابطہ رکھنا کتنا اہم ہے۔
بی بی سی ساؤنڈز کی گیمنگ پوڈ کاسٹ سے بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ کرنل ٹم ایلیٹ نے کہا کہ ’پورا خیال یہ ہے کہ فوج، جو ہماری بیرکوں میں بند ہے، اور عوام جن کی ہم خدمت کرتے ہیں، کے درمیان فاصلہ کم کیا جائے۔‘
لیفٹیننٹ کرنل ایلیٹ آرمی کے ایسپورٹس ڈویژن کے سربراہ ہیں۔ آج کل فوجی باقاعدگی سے اپنے گیم پلے سیشنز کو آن لائن شیئر کرتے ہیں، اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں، عوام کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں اور ناظرین کی ایک کمیونٹی بناتے ہیں۔
’فوج کو احساس ہے کہ ہمارے اور عوام کے درمیان فاصلہ بڑھ رہا ہے، لہذا خیال یہ ہے کہ اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کی جائے، تاکہ عام لوگ یہ سمجھ سکیں کہ ہم کیا کرتے ہیں، اور یہ کہ ہم بنیادی طور پر ان جیسے ہی ہیں لیکن ہم وردی پہنتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ کہتے ہیں کہ اس ’آؤٹ ریچ ورک‘ اور بھرتی میں فرق ہے۔ ’ہم لوگوں کے ساتھ بات چیت کر سکتے ہیں، وہ فوجیوں سے سوالات کر سکتے ہیں، کوئی پریس گینگز نہیں ہے، ہم فعال طور پر بھرتی نہیں کر رہے، یہ صرف افہام و تفہیم میں اضافہ ہے۔ اب کئی لوگوں کے خاندانوں میں سے کوئی بھی فوج میں نہیں ہے۔‘
یہ بھی پڑھیئے
’ہم اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ لوگ وہ سب کچھ جانیں جو وہ ہمارے بارے میں جاننا چاہتے ہیں، مقصد لوگوں کو کیریئر آفس میں لے جانا نہیں ہے۔ اگر لوگ اس میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو ہم انھیں بھرتی کرنے والوں کی طرف بھیج دیتے ہیں، لیکن ہماری توجہ فوج کے ارد گرد موجود اسرار اور غلط فہمیوں سے باہر نکلنے کی کوشش پر مرکوز ہے۔‘
لیکن مسابقتی گیمرز کے پاس فوج کی مطلوبہ مہارت ہوتی ہے۔ مثلاً تیز رد عمل، بات چیت کرنے کی اچھی صلاحیت اور مسئلہ حل کرنے کی مہارت۔ عام طور پر مسلح افواج کے لیے یہ بہترین عمر۔
ایسا نہیں کہ اس ابھرتے ہوئے رشتے کی طرف کسی کا دھیان نہیں گیا اور ماضی میں اسکا عالمی سطح پر خیرمقدم بھی نہیں کیا گیا۔ 2019 میں پلے سٹیشن میگزین کے ایک ایڈیشن میں فوج میں بھرتی کرنے والوں کی جانب سے ایک فوجی پبلیکشن تقسیم کرنے پر تنقید کی گئی تھی۔
سٹریمنگ پلیٹ فارمز کا استعمال صرف برطانوی مسلح افواج تک ہی محدود نہیں ہے۔ امریکی فوج نے ٹوئچ کو بھرتی کے آلے کے طور پر استعمال کیا ہے، حالانکہ اس اقدام پر آزادانہ تقریر کا تنازعہ کھڑا ہو گیا تھا۔
’فوجیوں کو بھی کھیلنا پسند ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹی جوناہ جوپ برطانوی فوج میں ایک طبیب ہیں اور آن لائن پر ایس کے نام سے مشہور ہیں۔ وہ بیرون ممالک میں اپنا نینٹینڈو سوئچ ساتھ لے کر جاتے ہیں اور ان کی پسندیدہ گیم ماریو کارٹ ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں تنازعات والے علاقوں میں خدمات انجام دینے والے بہت سے فوجی ہتھیار کے ساتھ ساتھ کنٹرولر کو بھی ہینڈل کرنا پسند کریں گے۔ ’گیم کھیلنا، خاص طور پر اپنے وطن کے دوستوں کے ساتھ، جڑے رہنے، دماغی صحت کو ترجیح دینے اور تھوڑی دیر کے لیے روز مرہ کے معمول سے دور رہنے کا طریقہ ہے۔‘
’لوگ بھول جاتے ہیں، ہاں ہم فوجی ہیں، لیکن ہم انسان بھی ہیں، اس لیے دوستوں کے ساتھ کھیلنے کے قابل ہونا مجھے اپنے آپ کو آرام دہ کرنے اور اپنے کام کے بارے میں بھول جانے کی اجازت دیتا ہے اور اس ماحول کے بھی تناؤ کو کم کرتا ہے جس میں میں ہوں۔‘
فوج میں فعال طور پر خدمات انجام دینے والے گیمرز کی تعداد میں یہ اضافہ ایک وجہ ہے کہ فوج کے آؤٹ ریچ پروگرام پر گیمنگ کا اثر بڑھ رہا ہے۔
خیراتی کام
بڑھتے ہوئے تعلقات کی ایک اور مثال یہ ہے کہ وہ کمپنیاں جو ملٹری تھیم والی ویڈیو گیمز سے فائدہ اٹھاتی ہیں انھیں فوجی خیراتی اداروں کے لیے چندہ اکٹھا کرتے اور حمایت کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
2009 میں قائم ہونے والی تنظیم کوڈ (کال آف ڈیوٹی اینڈؤمنٹ) سابق فوجیوں کے ساتھ کام کرتی ہے تاکہ سروس ختم ہونے کے بعد ان کے لیے ملازمتیں تلاش کرنے میں ان کی مدد کی جا سکے۔
ڈین گولڈن برگ بتاتے ہیں کہ ’گیم فوجی مردوں اور عورتوں کے اعمال سے متاثر ہو کر بنائی گئی ہے، اور ایسا لگتا تھا کہ کچھ یہ واپس دینے کا ایک اچھا طریقہ ہے۔‘
اس فرینچائز کے پبلشر ایکٹیویشن بلیزرڈ جنگی موضوعات پر مبنی عنوانات سے دولت کماتے ہیں، اس لیے یہ شاید کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ اس سے سب بنیادی اخراجات پورے ہو جاتے ہیں۔
گولڈن برگ کہتے ہیں: ’میرے خیال میں واپس دینے کا مناسب، تقریباً شاعرانہ طریقہ یہ ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اپنی سروس کے بعد سابق فوجی شہری زندگی میں اچھی طرح سے سمو سکیں۔‘
’یہ بالکل واضح ہے کہ اس منتقلی میں مدد کرنے کا سب سے یقینی طریقہ روزگار فراہم کرنا ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس کی ہر کسی کو ضرورت ہے۔ اگر آپ کے پاس ملازمت ہے تو، دماغی صحت کے مسائل کی طرح دیگر چیلنجز سے بھی اچھی طرح نمٹا جا سکتا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ گیمنگ ویٹرنز کے لیے اپنی سروس کے بعد جڑے رہنے کا ایک طریقہ ہے، اور اس لیے اس کے نتیجے میں ان کے ساتھ اس کی ’بہت مضبوط وابستگی‘ ہے۔











