چین: بچوں میں نظر کی کمزوری کو روکنے کے لیے ویڈیو گیمنگ کنٹرول کرنے کا اعلان

Screenshot from King of Glory

،تصویر کا ذریعہTencent

،تصویر کا کیپشنچین دنیا کی سب سے بڑی گیمنگ مارکیٹ ہے

چین میں حکام نے بچوں کی قریب کی نظر کم ہونے کے بڑھتے ہوئے رحجان کو روکنے کے لیے ویڈیو گیمنگ کو کنٹرول کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔

ریگولیٹرز نئی ویڈیو گیمز کی تعداد کو محدود کرنے، کھیلنے کا وقت کم کرنے اور عمر کی پابندی کے نظام کو نافذ کرنا چاہتے ہیں۔

چین میں سنہ 2015 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ملک کے 50 کروڑ افراد کو بصری معذوری کا سامنا کرنا پڑا جن میں سے نصف آبادی پانچ برس کی تھی۔

واضح رہے کہ چین دنیا کی سب سے بڑی گیمنگ مارکیٹ ہے۔ حکومت کی جانب سے اس اعلان کے بعد مقامی ٹیک کمپنیوں کے حصص میں تیزی سے کمی آئی ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

چین کے صدر شی جنگ پنگ نے رواں ہفتے کے اوائل میں نظر کی قومی صحت پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا تھا جس کے بعد چین کی وزارتِ تعلیم نے جمعرات کو نئی پالیسی جاری کی ہے۔

اس پالیسی نے قریب کی نظر کی اعلیٰ سطح پر بھاری مطالعہ کے بوجھ، موبائل فونز اور دیگر الیکٹرانک آلات کے پھیلاؤ، بیرونی سرگرمیوں اور مشق کی کمی پر الزام عائد کیا ہے۔

گو کہ اس اس پالیسی میں اس امر پر اتفاق نہیں ہے کہ گیمنگ کی وجہ سے بچوں کی قریب کی نظر متاثر ہو رہی ہے تاہم مطالعہ کو ایک ممکنہ وجہ کے طور دیکھا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ دہائیوں کے دوران دنیا بھر میں لوگوں کی بینائی کم ہونے کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور مشرقی ایشیا کے ممالک میں شرح سب سے زیادہ ہے۔

چین میں جمعرات کو جاری کی جانے والی نئی پالیسی کے بعد جمعے کو چین کی گیمنگ کمپنیوں کے حصص میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔