ویڈیو گیمز کی لت کو ذہنی بیماری تسلیم کر لیا گیا

ویڈیو گیمز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبرطانیہ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں پہلے ہی گیمنگ کی لت کا علاج نجی سطح پر کیا جا رہا ہے

عالمی ادارۂ صحت نے پہلی مرتبہ الیکٹرانک گیمز یا ویڈیو گیمز کھیلنے کی لت کو باقاعدہ طور پر ایک ذہنی بیماری تسلیم کر لیا ہے۔

ادارے نے ’گیمنگ ڈس آرڈر‘ کو بیماریوں کی تازہ ترین فہرست میں شامل کیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی جانب سے ایسی فہرست اس سے قبل 1992 میں شائع کی گئی تھی۔

ویڈیو گیمز بنانے والی صنعت نے ان ثبوتوں کو چیلنج کیا ہے جن کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے اور کہا ہے کہ وہ معترضہ اور غیرحتمی ہیں۔

تاہم طبی ماہرین نے کہا ہے کہ اگرچہ زیادہ تر گیمرز خود کو یا دیگر افراد کو نقصان نہیں پہنچاتے لیکن کچھ ایسے ہوتے ہیں جنھیں ان گیمز کی لت لگ جاتی ہے اور ان کا علاج کیا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے

اس بیماری کی علامتوں میں طویل دورانیے تک گیمز کھیلنا، گیمز کو دیگر معمولاتِ زندگی پر ترجیح دینا، منفی اثرات کے باوجود گیمنگ میں اضافہ شامل ہیں۔

بی بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے سنوکر کے سابق عالمی چیمپیئن نیل روبرٹسن نے اعتراف کیا کہ ایک زمانے میں انھیں بھی ویڈیو گیمز کی لت لگی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہوتا یہ ہے کہ آپ کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ 12 گھنٹے گزر گئے ہیں یا 14۔ پلک جھپکتے میں وقت گزر جاتا ہے۔ مجھے شدید لت لگ گئی تھی اور مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ میں کئی برس تک اس سے انکار کرتا رہا اور کہتا تہا کہ مجھے اس کی ضرورت ہے۔ یہ بہت اہم ہے جبکہ میں اصل مسئلے سے نمٹنے کی کوشش نہیں کر رہا تھا۔‘

برطانیہ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں پہلے ہی گیمنگ کی لت کا علاج نجی سطح پر کیا جا رہا ہے تاہم عالمی ادارۂ صحت کے اس فیصلے کے بعد اب برطانیہ میں اس لت کا شکار افراد سرکاری خرچے پر علاج بھی کروا سکیں گے۔ تاہم اس کے لیے انھیں دکھانا ہو گا کہ کم از کم ایک برس کے لیے اس لت کے ان کی ذاتی زندگی اور تعلیمی یا ملازمتی معاملات پر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

لندن کے نائٹانگیل ہسپتال کے ڈاکٹر رچرڈ گراہم کا کہنا ہے کہ وہ ہر برس ڈیجیٹل ایڈکشن کے پچاس نئے مریض دیکھتے ہیں جن کی روزمرہ زندگی گیمنگ کی وجہ سے متاثر ہو چکی ہوتی ہے۔

دنیا کے بہت سے ممالک میں گیمنگ کی لت سے نمٹنے کے لیے بہت سے اقدامات کیے گئے ہیں۔ جنوبی کوریا میں حکومت نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے رات بارہ بجے سے صبح چھ بجے کے درمیان ویڈیو گیمز کھیلنے پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔

جاپان میں کھلاڑی اگر مقررہ وقت سے زیادہ ویڈیو گیمز کھیلیں تو انھیں خبردار کیا جاتا ہے جبکہ چین میں انٹرنیٹ کمپنی ٹینسینٹ نے بچوں کے لیے مقبول گیمز کھیلنے کی مدت مقرر کی ہوئی ہے۔