’آن لائن گیمز میں دوران 57 فیصد نوجوانوں کو دھمکایا جاتا ہے‘

،تصویر کا ذریعہEPA
ایک مشاہدے کے مطابق آن لائن گیمز کھیلنے والے 57 فیصد نوجوانوں کو کھیل کے دوران ڈرایا دھمکایا جاتا ہے۔
22 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس طرح کے رویے کے بعد آن لائن گیم کھیلنا ہی چھوڑ دیا۔
ڈچ دی لیبل نامی ادارے کی جانب سے کیے گئے سروے میں 12 سے 25 سال کے 2500 نوجوانوں سے بات کی گئی۔
ایک 16 سالہ گیمر بیلے مچل نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں آن لائن گیمز کھیلنے کے دوران تب سے ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے جب وہ صرف 10 سال کے تھے۔
’اگر آپ سکول جاتے ہیں اور وہاں آپ بلیئنگ یعنی ڈرانے دھمکانے والے رویوں کا سامنا کرتے ہیں تو آپ گھر آکر اپنے کمپیوٹر مںی پناہ ڈھونڈتے ہیں۔‘
’لیکن اگر یہاں آپ کا مزید استحصال کیا جاتا ہے اور آپ کو سماجی سرگرمیوں سے الگ کر دیا جاتا ہے۔ یہ بہت سے لوگوں کے ساتھ ہوا ہے جن میں میں خود بھی شامل ہوں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہEPA
’یہ عام بات ہے، آپ کوئی بھی کھیل کھیلیں اس میں کوئی نہ کوئی ایسا ہوتا ہے جس کے پاس مائک ہے یا وہ چیٹ پر ہوتا ہے۔ یہ لوگ بدسلوکی کرتے ہیں جو ان کے دل میں آتا ہے کہتے یا لکھتے ہیں۔‘
مچل کا کہنا ہے کہ انہیں جان سے مارے جانے کی دھمکیاں باقاعدگی سے ملتی رہتی ہیں لیکن وہ کھیل سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ خاص طور پر جب کسی دوسرے سے مقابلے میں کھیل اور بھی دلچسپ ہو جائے۔
’اب جب مجھے ایسی چیزیں آتی ہیں تو میں انہیں مذاق میں جواب دیتا ہوں یا نظر انداز کر دیتا ہوں۔ لیکن جب میں 10 سال کا تھا تو سوچتا تھا یہ کون لوگ ہیں یہ لوگ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔‘
ڈچ دی لیب نامی ادارے کے سربراہ لائم ہیکٹ کا کہنا ہے کہ ان کا ادارہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے عالمی مہم شروع کرنے والا ہے۔
ان کا کہنا تھا ’آن لائن گیمنگ کے دوران ڈرایا دھمکایا جانا ایک حقیقی مسئلہ ہے۔‘
’ہم چاہتے ہیں کہ کھیل کے دوران برداشت اور قبولیت پیدا ہو اور انٹر نیٹ ایک بہتر جگہ بنے۔ ‘
سروے کے نتائج
- 47 فیصد لوگوں کو آن لائن گیم کے دوران دھمکایا گیا۔
- 38 فیصد لوگوں کی گیم دوران کھیل ہیک کر لی گئی۔
- 74 فیصد لوگ اس معاملے کو سنجیدگی سے لینے کے حق میں ہیں۔
- 29 فیصد کا خیال ہے کہ کسی کو پریشان کرنے یا دھمکانے سے آن لائن گیم کا مزہ خراب نہیں ہوتا۔









