اداکارہ میرا کے ذہنی صحت کے مرکز میں علاج والی خبروں کی حقیقت: ’پاگل ہوں میرے دشمن۔۔۔ اِٹ از آل بُل شِٹ‘

،تصویر کا ذریعہARY FILMS
- مصنف, طاہر سرور میر
- عہدہ, صحافی، لاہور
’اٹ از آل بل شِٹ (یہ سب بکواس ہے)۔۔۔ بھلا میں کیوں پاگل ہونے لگی۔ پاگل ہوں میرے دشمن۔۔۔‘
پاکستانی اداکارہ میرا کے یہ الفاظ ایک ایسے موقع پر سننے کو ملے جب مقامی ذرائع ابلاغ پر ان سے متعلق ایسی سرسری اطلاعات سامنے آئیں کہ انھیں امریکہ کے کسی ’ذہنی صحت کے مرکز میں علاج کے لیے‘ داخل کروا دیا گیا ہے۔
انھوں نے کئی فلموں اور ڈراموں میں کام کرنے کے علاوہ آف کیمرہ جانے انجانے میں لوگوں کو انٹرٹین کیا ہے۔ شاید اسی لیے یہ اطلاع سامنے آنے پر بہت سے لوگوں نے اپنی تشویش ظاہر کی۔
ان خبروں کی سچائی جاننے کے لیے جب بی بی سی نے ان سے رابطہ قائم کیا تو وہ کافی غصے میں معلوم ہوئیں۔ امریکہ سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’میرے مخالف لابی میری کردار کشی کرتی رہتی ہے تاکہ میرے سٹارڈم کو خراب کیا جائے۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ میں میرا کے ساتھ آخر ہوا کیا؟

،تصویر کا ذریعہMeera
اداکارہ میرا حال ہی میں ایک نجی دورے پر امریکہ گئی تھیں۔ اسی دوران ان کا امریکہ کے ایک ہسپتال جانا بھی ہوا۔
بی بی سی سے فون پر گفتگو کے دوران جب ان سے دریافت کیا گیا کہ نیویارک بروکلین ہسپتال میں کیا ہوا، تو انھوں نے بتایا کہ ’بروکلین ہسپتال میں مجھے کورونا ویکسین لگائی گئی اور میرے معمول کے ٹیسٹ کیے گئے۔‘
اس وقت تک میرا اپنا تمام تر دفاع تیار کر چکی تھیں اور بظاہر ان خبروں سے کافی پریشان سنائی دے رہی تھیں۔ شاید اسی لیے انھوں نے خود کو ویکسین لگنے کی ویڈیو بھی فوراً وٹس ایپ پر ہمیں بھیج دی۔
لیکن کیا واقعی انھیں ذہنی صحت کے علاج کے کسی مرکز لے جایا گیا اور امریکہ سے ڈیپورٹ کیا جا رہا ہے، اس سوال پر میرا کا کہنا تھا کہ ’اس وقت امریکہ میں آدھی رات کا وقت ہے اور میرے گھر میں سب سو رہے ہیں۔ میں تفصیل سے بات نہیں کرسکتی۔‘
’وزیر اعظم عمران خان سے رہائی کی اپیل کی‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگر یہ کوئی عام گفتگو ہوتی تو شاید اب تک ہمارا رابطہ ان سے ختم ہو جاتا۔ لیکن یہ کہنے کے بعد میرا نے وٹس ایپ پر پیغام کے ذریعے بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 'امریکہ میں مجھے ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔'
'میں ڈپریشن کا شکار تھی، اس لیے مجھے ہسپتال جانا پڑا لیکن وہاں مجھے پاگل سمجھ لیا گیا اور میرا ٹیلی فون بھی مجھ سے چھین لیا گیا۔'
میرا نے کہا کہ 'پاگل پن اور ڈپریشن میں فرق ہوتا ہے، جسے سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن امریکہ میں میرے ساتھ یہ امیتاز نہ کیا گیا اور مجھے بند کردیا گیا۔‘
'میں ساری رات چیختی اور پکارتی رہی۔ وہ بہت ہی ڈرؤانی اور منحوس رات تھی، میں رات بھر مدد کے لیے پکارتی رہی اور کوئی میری مدد کو نہ آیا۔
'اگلے روز میری والدہ نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وزیر داخلہ شیخ رشید سے میری رہائی کی اپیل کی۔
’میری رہائی شیخ رشید نے کرائی ہے‘

،تصویر کا ذریعہMeera
مزید بات کرتے ہوئے میرا نے بتایا کہ امریکہ میں ذہنی صحت کے اس مرکز سے ان کی رہائی شیخ رشید کے فون سے ممکن ہو پائی جنھوں نے 'امریکہ میں پاکستانی سفارتخانے سے میری رہائی کی بابت درخواست کی ہے۔'
'اس طرح پاکستانی سفارتخانے کی درخواست پر میری رہائی ممکن ہوسکی۔'
میرا نے بتایا کہ انھیں امریکہ سے ڈیپورٹ نہیں کیا جارہا، وہ اپنی مرضی سے دبئی آرہی ہیں جہاں ایک پاکستان ٹیلی ویژن کے پروگرام کی ریکارڈنگ میں شریک ہوں گی۔
’میرا کو بڑا ذہنی صدمہ پہنچا ہے‘
بہت سے لوگ شاید اس بات سے لاعلم رہے ہیں کہ میرا ڈپریشن کا شکار ہیں۔ یہ جان کر ایک لمحے کے لیے حیرت ہوتی ہے کیونکہ وہ اپنے کیریئر کے آغاز سے ہی جانے انجانے میں لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرتی رہی ہیں۔
میرا کی والدہ شفقت زہرہ بخاری نے لاہور سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'تین روز پہلے میری بیٹی میرا نے ٹیلی فون پر مجھے بتایا کہ میں امریکہ کے ہسپتال میں ہوں جہاں میری کورونا سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن ہو رہی ہے اورٹیلی فون کال (اچانک) ڈراپ ہوگئی۔‘
'میں نے میرا سے رابطہ کرنا چاہا لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ اسی اثنا میں مجھے امریکہ سے کسی صحافی کا فون آیا جس نے کہا کہ میری بیٹی اداکارہ میرا امریکہ میں مینٹل ہسپتال میں داخل ہے، اس نے وہاں یہ کہا ہے کہ امریکی مجھے پروٹوکول دیں کیونکہ مجھے تو پاکستان کی ہر حکومت وی آئی پی کی حیثیت سے ڈیل کرتی ہے۔'
شفقت بیگم نے کہا کہ 'کیونکہ میرا سے رابطہ نہیں ہورہا تھا اس لیے مجھے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے اپیل کرنا پڑی۔'

،تصویر کا ذریعہFacebook\Meera
دوسری طرف میرا کے والد سرورشاہ بخاری نے اس ڈرامائی صورتحال پر نئی بحث چھیڑ دی۔
ان کا کہنا تھا کہ 'کورونا کے باعث دنیا بھر کے شوبز پر زوال آیا ہوا ہے۔ 'پاکستان میں بھی انڈسٹری متاثر ہوئی ہے۔ میری بیٹی کی فلم 'باجی' سپرہٹ ہوئی لیکن اس کا مالی فائدہ دوسروں نے اٹھایا۔'
سرور شاہ نے بتایا کہ 'کراچی میں ایک ٹی وی چینل نے میرا سے رمضان نشریات کا معاہدہ کیا جسے ایک دوسری اداکارہ نے سازش کر کے میرا سے چھین لیا جس کا میرا کو بڑا ذہنی صدمہ پہنچا۔'
'میرا انتہائی ڈپریشن میں دبئی سے ہوتی ہوئی امریکہ پہنچی جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔'
سرورشاہ بخاری نے تردید کی کہ میرا کو امریکہ سے ڈیپورٹ کیا جارہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ 'میری بیٹی وہاں اپنے خاوند کیپٹن نوید اور سسر راجہ پرویز کے ہاں ہے اور وہ آج دبئی پہنچ رہی ہے۔'
سینیئر اداکارہ اور گلوکارہ سلمیٰ آغا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ہمدردانہ لہجے میں کہا کہ وہ میرا کو ہمیشہ سپورٹ کرتی ہیں۔ ممبئی ہو یا دبئی، انھوں نے ہی میرا کی دیکھ بھال کی ہے۔
گذشتہ دنوں مقامی و سوشل میڈیا پر میرا کو ملنے والی کوریج کے بارے میں انھوں نے کہا کہ میڈیا کو ورکنگ ویمن کے لیے احترام اور احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔
سلمیٰ آغا نے بی بی سی کو بتایا کہ 'مجھے میرا کے سسر راجہ پرویز نے وہ سب بتایا ہے جو امریکہ میں ہوا' لیکن وہ اس کی تفصیل میں جانا پسند نہیں کرتیں۔
تاہم انھوں نے کہا کہ 'میرا جب کراچی سے دبئی آئیں تو شدید ڈپریشن میں تھیں۔'
’کئی آرٹسٹ ذہنی و نفسیاتی دباؤ کا شکار رہتے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہFacebook\Meera
ایک اداکار کی زندگی کئی کردار نبھاتے گزر جاتی ہے اور ان کے پرستار ساری زندگی کہیں نہ کہیں انھیں ان کے کسی کردار سے جانتے ہیں۔
ذہنی صحت کے ماہرین کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھر کے فنکار ذہنی اور نفسیاتی دباؤ کا شکار رہتے ہیں اور اس کی وجہ کام کا پریشر، ذاتی تعلقات میں اتار چڑھاؤ یا کچھ اور ہوسکتی ہے۔
شوبز انڈسٹری میں کس قسم کے ذہنی دباؤ ہوسکتے ہیں، یہ سمجھنے کے لیے ہم نے ڈرامہ نگار و مزاح نگار ڈاکٹر محمد یونس بٹ سے بات کی ہے جو ایک طویل عرصے تک میو ہسپتال لاہور کے سائیکاٹری ڈیپارٹمنٹ میں سینیئر ڈاکٹر تعینات رہے ہیں۔
ڈاکٹر یونس بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ اداکارہ میرا نے کئی ڈراموں و فلموں میں کام کیا ہے مگر وہ انھیں 'ذہنی مریضہ' قرار نہیں دیتے۔
وہ اپنے تجربے سے بتاتے ہیں کہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے آرٹسٹ ذہنی اور نفسیاتی دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔ ان مختلف حالتوں میں انگزائٹی (بے قراری) ڈپریشن (ذہنی دباؤ) اور سکیزوفرنیا (دماغی مرض) جیسی بیماریاں عام ہیں۔
ڈاکٹر یونس بٹ نے کہا ہے کہ جب تک ماہرین اداکارہ میرا سے گفتگو کرتے ہوئے طویل نشست نہ کریں اور وہ خاص علامات نہ دیکھیں جو ایک ذہنی مریض میں پائی جاتی ہیں وہ میرا کو کوئی ذہنی مریضہ قرار نہیں دے سکتے۔'










