شوبز ڈائری: 'کنگنا کو سکیورٹی اور عامر خان کو پاکستان جانے کا مشورہ‘

کنگنا، انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنریاست ہماچل پردیش کے ایک چھوٹے سے قصبے سے تعلق رکھنے والی اداکارہ کنگنا رناوت کا کریئر سنہ 2004 میں فلم ’گینگسٹر‘ سے شروع ہوا تھا
    • مصنف, نصرت جہاں
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

دنیا کو تفریح کا سامان مہیا کرنے والی انڈسٹری بالی وڈ میں ہر روز ایک نیا تماشا سامنے آ رہا ہے اور اس تماشے کو دکھانے کی ذمہ داری کچھ انڈین نیوز چینلز بخوبی نبھا رہے ہیں۔

تماشے کے مرکزی کرداروں میں بدقسمتی سے مرحوم سُشانت سنگھ راجپوت اور ان کی گرل فرینڈ ریا چکرورتی ہیں اور خصوصی کردار میں کنگنا رناوت ہیں۔

اس تماشے کے ہدایت کار اور پروڈیوسر کون ہیں اس بارے میں خاموشی ہی میں عافیت ہے۔

سُشانت کی موت کو تماشا اور ریا چکرورتی کو ملزم بلکہ ’مجرم‘ بنا کر پیش کرنے میں میڈیا اور سوشل میڈیا نے جو کردار ادا کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔

یہ بھی پڑھیے

اس کہانی میں کنگنا کی اینٹری کو کچھ لوگ سیاست اور ذاتی مفادات کا نام دے رہے ہیں۔

کرن جوہر پر الزامات سے لے کر سُشانت سنگھ راجپوت کی موت پر میڈیا میں دھاڑیں مارنے اور ممبئی میں شِو سینا چیف اودھو ٹھاکرے کو للکارنے تک کنگنا نے جس تیزی اور بے باکی سے اپنا کردار نبھایا ہے اس پر سوشل میڈیا اور خود بالی وڈ میں کئی طرح کی آرا سامنے آ رہی ہیں۔

عامر خان، انڈیا
،تصویر کا کیپشنعامر خان نے انڈیا میں عدم برداشت میں اضافے پر بیان دیا تھا جس پر انھیں پاکستان جانے کے مشورے دیے گئے تھے

ممبئی میں حکام کی جانب سے کنگنا کے دفتر کا حصہ مسمار کیے جانے کے بعد جو ہنگامہ ہوا اس کے بعد کنگنا نے وزیر داخلہ امیت شاہ سے ٹویٹ کر کے کہا تھا کہ انھیں ’ممبئی میں ڈر لگتا ہے۔‘

جواب میں وزیر داخلہ امیت شاہ نے جھٹ سے انھیں وائی کیٹیگری کی سکیورٹی فراہم کروا دی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب اداکار عامر خان نے اپنی بیگم کرن راؤ کے حوالے سے کہا تھا کہ انھیں انڈیا میں عدم برداشت کے موجودہ ماحول سے ڈر لگتا ہے، تو بی جے پی کے رہنماؤں نے انھیں پاکستان جانے کی صلاح دے ڈالی تھی۔

ویسے کنگنا اپنی جگہ کافی اہم ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ کنگنا اس وقت مرکزی حکومت کے لیے بہت کارآمد ثابت ہو رہی ہیں کیونکہ ملک میں ریکارڈ توڑ بے روزگاری، مسلسل گرتی ہوئی معیشت اور کورونا کے معاملے میں امریکہ سے مقابلے کے درمیان سُشانت سنگھ کا معاملہ، ریا چکرورتی کی گرفتاری اور کنگنا کا ہنگامہ غالباً حکومت کے لیے اس وقت بہت اہم ہے، عوام کو مصروف اور بے خبر بھی تو رکھنا ہے۔

ریاست ہماچل پردیش کے ایک چھوٹے سے قصبے سے تعلق رکھنے والی اداکارہ کنگنا رناوت کا کریئر 2004 میں فلم ’گینگسٹر‘ سے شروع ہوا تھا، لیکن اب انھوں نے فلموں کے ساتھ ساتھ سیاست کا سفر شروع کر دیا ہے، اور وہ بھی وائی کیٹیگری کی سکیورٹی کے ساتھ۔

اب وہ کشمیری پنڈتوں کا درد سمجنے لگی ہیں اور بابری مسجد پر بھی فلم بنانے والی ہیں۔ ویسے کنگنا کی ہمت کو بھی داد دینی پڑے گی جنھوں نے ایک ساتھ کئی محاذ کھول رکھے ہیں۔

ٹوئٹر پر انھوں نے فلم انڈسٹری کے ساتھیوں پر اپنے زبانی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جمعرات کی شام انھوں نے اداکارہ سونم کپور اور دیا مرزا کی جانب سے ریا چکرورتی کی حمایت کرنے پر انھیں ’مافیا بمبو‘ کہہ ڈالا۔

کنگنا، انڈیا

،تصویر کا ذریعہAni

،تصویر کا کیپشنممبئی کی بلدیہ نے کنگنا کے دفتر کے حصے کو غیر قانونی تعمیرات کے الزام کے تحت مسمار کیا تھا

انھوں نے لکھا ’میرے دفتر کے سانحے کے دوران اچانک مافیا بِمبوز نے ریا کے لیے انصاف مانگنا شروع کر دیا۔‘

ویسے دیا مرزا نے تو کنگنا کی حمایت میں ٹوئٹ کی تھی، ہاں ساتھ میں لفظ انصاف سے پہلے ریا چکرورتی کا نام بھی شامل کرنے کی غلطی کر بیٹھیں۔

اس تمام معاملے میں ابھی تک جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے، آگے کیا کچھ ہو گا یہ کہنا مشکل ہے ہاں اتنا کہا جا سکتا ہے ’پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست۔‘