کنگنا رناوت کو خصوصی سکیورٹی ملنے پر دپیکا پاڈوکون کے مداحوں کے سوشل میڈیا پر تبصرے

دپیکا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

آپ کو یاد ہو گا کہ گذشتہ روز انڈیا کی وفاقی حکومت نے بالی وڈ اداکارہ کنگنا رناوت کو اُن کی اِس شکایت کے بعد کہ ’وہ سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے بعد ممبئی میں محفوظ محسوس نہیں کرتیں‘ خصوصی سکیورٹی فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اگرچہ خصوصی سکیورٹی، یعنی وائی پلس درجے کی سکیورٹی، کا اعلان تو کنگنا رناوت کے لیے ہوا تاہم آج صبح سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بالی وڈ اداکارہ دپیکا پاڈوکون کا نام ٹرینڈ کر رہا ہے۔

حیران مت ہوں اس کی بڑی وجہ صرف یہ ہے کہ دپیکا کے چاہنے والے اس بات پر سیخ پا ہیں کہ اگر کنگنا کو خصوصی سکیورٹی دی جا سکتی ہے تو دپیکا کو اُس وقت ریاستی سکیورٹی فراہم کیوں نہیں کی گئی جب فلم پدماوت کی ریلیز کے بعد انھیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

چند صارفین کا خیال ہے کہ کنگنا کے لیے خصوصی سکیورٹی اقدامات شاید اس لیے بھی کیے گئے ہیں کیونکہ انھیں برسرِاقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کا حامی سمجھا جاتا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

پروین شیخ نامی صارف نے ایک پوسٹر شیئر کرتے ہوئے تحریر کیا کہ ’کیا وائی درجے کی سکیورٹی صرف مودی کی حامی سلیبریٹیز کے لیے ہے؟ حکومت نے عامر خان اور دپیکا پاڈوکون کو وائی درجے کی سکیورٹی کیوں نہیں دی جب اُنھیں دھمکیاں ملیں؟‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

اینکر پریتی چوہدری نے اپنے شُو میں سپریم کورٹ آف انڈیا کی ایڈوکیٹ کرونا نندی کے ایک بیان کو اپنی ٹویٹ میں دہرایا جس میں کہا گیا تھا کہ ’کیا دپیکا پاڈوکون کو وائی درجے کی سکیورٹی دی گئی تھی جب کارنی سینا نے پدماوت تنازع/مظاہروں کے دوران اُن کا ناک کاٹنے کی دھمکی دی تھی؟‘

سوشل میڈیا پر چند صارف ایسے بھی ہیں جو دپیکا کو سکیورٹی فراہم نہ کرنے اور کنگنا کو فراہم کرنے کے مختلف جواز تراشتے نظر آتے ہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 3

اینکر پریتی چوہدری کو جواب دیتے ہوئے ریٹائرڈ میجر رمیش اپادھیائے نامی صارف نے کہا کہ ’دپیکا ایک چھوٹی اداکارہ ہیں، کنگنا سٹار ہیں۔ کارنی سینا زیادہ بڑا گروہ نہیں، شیو سینا اقتدار میں ہے۔ انھوں نے بمبئی میونسپل کارپوریشن کو اُن کا دفتر منہدم کرنے کے لیے بھیجا اور اُنھیں آنے پر 14 دن قرنطینہ میں رکھیں گے۔ کیا آپ کو خطرے کا اندازہ لگانا نہیں آتا پریتی؟

اس معاملے میں یہی منطق بہت سے ہینڈلز سے کم و بیش انھیں الفاظ میں دہرائی گئی۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 4
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 4

پوّن درانی نے ٹویٹ کی اور کہا کہ ’دپیکا کو اُن سے خطرہ نہیں تھا جن کا کام حفاظت اور سکیورٹی فراہم کرنا ہے۔ کوئی موازنہ ہی نہیں۔‘

اس بحث میں بہت سے ٹوئٹر صارفین نے انڈین انٹیلیجینس ایجنسی را کے ایک سابق افسر کی ایک وڈیو کا حوالہ دیا جس میں انھوں (افسر) نے دپیکا پر الزام لگایا کہ وہ مبینہ طور ایک پاکستانی بزنس مین کے کہنے پر جے این یو (جواہر لعل نہرو یونیورسٹی) گئیں اور اس کے لیے انھیں پانچ کروڑ روپے دیے گئے۔

انڈیا کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد جے این یو میں مظاہرے کیے گئے تھے اور پولیس کی جانب سے طلبا پر تشدد بھی کیا گیا۔ دپیکا پاڈوکون وہاں طلبا مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے گئی تھیں جس پر انھیں پاکستان اور انڈیا کے کچھ حلقوں میں سراہا گیا تھا۔

دپیکا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجے این یو کے باہر مظاہرے میں شریک دپیکا پاڈوکون

اس بحث کے تناظر میں چند جذباتی صارفین دپیکا کو ’غدار‘ بھی کہہ رہے ہیں اور کنگنا کو سکیورٹی دینے کی حمایت کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ فاقی حکومت کی جانب سے سکیورٹی فراہم کیے جانے کی خبروں کے بعد کنگنا نے ٹوئٹر پر ملک کے وزیر داخلہ امت شاہ کا شکریہ ادا کیا تھا۔

کنگنا نے ٹویٹ کی کہ ’یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کسی محب الوطن آواز کو فسطائیت کچل نہیں سکے گی، میں امت شاہ جی کی شکر گزار ہوں۔ وہ چاہتے تو حالات کے سبب مجھے کچھ روز بعد ممبئی جانے کا مشورہ دے سکتے تھے، لیکن انھوں نے انڈیا کی ایک بیٹی کے الفاظ کا مان رکھا، ہمارے غرور اور خود داری کی لاج رکھی، جے ہند۔‘

وفاقی حکومت کا یہ فیصلہ مہاراشڑا میں سرکردہ ہندو تنظیم شِو سینا کے رکن پارلیمان سنجے راوت اور کنگنا کے درمیان جاری تلخ بیان بازی کے بعد سامنے آیا تھا۔

پدماوتی

،تصویر کا ذریعہSM

خصوصی سکیورٹی کیا ہے؟

انڈیا میں سیاسی رہنماؤں یا بڑی شخصیات کو عام طور پر زیڈ پلس، زیڈ، وائی اور ایکس درجے کی سکیورٹی فراہم کی جاتی ہے۔ ان میں وفاقی رہنما، وزیر اعلی، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے جج صاحبان، مشہور سیاستدان اور ملک کے سینیئر اہلکار شامل ہیں۔

زیڈ درجے میں کسی بھی شخصیت کی حفاظت پر معمور سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد 22 ہوتی ہے جبکہ وائی درجے کی سکیورٹی میں یہ تعداد 11 ہوتی ہے، جس میں دو ذاتی سکیورٹی اہلکار شامل ہوتے ہیں۔

وائی پلس درجے میں ایک محافظ گاڑی اور ذاتی سکیورٹی گارڈ کے علاوہ گھر پر ایک گارڈ کمانڈر اور چار گارڈز تعینات ہوتے ہیں۔ ان گارڈز میں ایک سب انسپکٹر درجے کا اہلکار ہوتا ہے جبکہ تین دیگر سکیورٹی کارکنان کے پاس آٹومیٹک ہتھیار ہوتے ہیں۔

ایکس درجے کی سکیورٹی میں محض دو سکیورٹی اہلکار ہوتے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق اتوار کو کنگنا کے والد نے سنجے راوت اور کنگنا کے درمیان جاری تلخ کلامی کے دوران ہماچل پردیش کے وزیرا علیٰ جے رام ٹھاکر کو خط لکھ کر اپنی بیٹی کو سکیورٹی مہیا کرائے جانے کی درخواست کی تھی۔ کنگنا ان دنوں ہماچل میں ہیں جہاں ان کے والدین بھی رہتے ہیں۔ وہ جلد ممبئی لوٹنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

کنگنا رناوت

،تصویر کا ذریعہTwitter@KanganaTeam

گزشتہ ہفتے کنگنا نے کہا تھا کہ ’سنجے راوت نے مجھے کھلی دھمکی دی ہے اور ممبئی نا آنے کو کہا ہے۔ ممبئی کی گلیوں میں آزادی گرافیٹی اور اب کھلی دھمکی۔ ممبئی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر جیسا کیوں محسوس ہو رہا ہے؟‘

اس سے قبل کنگنا رناوت نے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں انھوں نے سنجے راوت کی جانب سے ایک ٹی وی چینل پر بات چیت کے درمیان ان کے لیے قابل اعتراض الفاظ کے استعمال پر انھیں جواب دیا تھا۔

ویڈیو میں کنگنا نے کہا تھا ’سنجے راوت جی، آپ نے کہا کہ میں ایک ***خور لڑکی ہوں۔ آپ ایک سرکاری ملازم ہیں۔ ایک وزیر ہیں۔ آپ تو جانتے ہی ہوں گے ملک میں ہر روز، ہر گھنٹے کتنی لڑکیوں کا ریپ ہو رہا ہے۔ کتنی لڑکیوں کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ ان کا جسم کاٹ کر تیزاب ڈال کر پھینک دیا جاتا ہے۔ ان کی کام کی جگہ پر انھیں گالیاں دی جا رہی ہیں۔ ان کی تذلیل کی جا رہی ہے۔ جب عامر خان نے کہا کہ انھیں اس ملک میں ڈر لگتا ہے تو کسی نے انھیں ***خور نہیں کہا اور جب نصیر الدین شاہ جی نے بھی کہا تھا تو کسی نے ***خور نہیں کہا۔‘

کنگنا رناوت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انھوں نے مزید کہا 'جس ممبئی پولیس کی میں تعریف کرتے ہوئے نہیں تھکتی تھی، آج وہ پالگھر میں سادھوؤں کی لنچنگ پر کچھ نہیں کرتے ہیں، کھڑے رہتے ہیں، سشانت سنگھ راجپوت کے لاچار والد کی ایف آئی آر نہیں لیتے ہیں۔ میرا بیان نہیں لیتے ہیں۔ تو اگر میں ان کی مذمت کرتی ہوں، تو یہ میری اظہار کی آزادی ہے۔ سنجے جی میں آپ کی مذمت کرتی ہوں۔ آپ مہاراشٹرا نہیں ہیں۔ آپ یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ میں نے مہاراشٹرا کی برائی کی ہے۔ میں نو ستمبر کو آ رہی ہوں۔‘