#filterdrop مہم: انسٹاگرام کے چہرہ تبدیل کرنے والے فوٹو فلٹرز پر ماڈلز کی تنقید

،تصویر کا ذریعہSasha Pallari
فلٹرز تصاویر کو تبدیل کرنے کا ایک مقبول طریقہ بن چکے ہیں، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو سوشل میڈیا کی دنیا میں خوبصورتی کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنے کے شوقین ہیں۔
گرل گائیوڈنگ کے ایک حالیہ سروے کے مطابق ایک تہائی لڑکیاں اور نوجوان خواتین اس وقت تک اپنی سیلفی آن لائن پوسٹ نہیں کرتیں جب تک کہ وہ فلٹر استعمال کرکے اپنی شکل تبدیل نہ کر لیں۔
11-21 سال کی عمر کی 1473 خواتین میں سے 39 فیصد نے اس بات پر غصے کا اظہار کیا کہ وہ حقیقی زندگی میں ویسا نظر نہیں آ سکتی ہیں جیسا وہ آن لائن دکھتی ہیں۔
سروے کے نتائج میک اپ آرٹسٹ اور کرؤ ماڈل ساشا پلہری کی پریشانیوں سے ملتے ہیں، جنھوں نے حال ہی میں انسٹاگرام پر ’مزید نارمل جلد دیکھنے کی امید میں #filterdrop ہیش ٹیگ لانچ کیا ہے۔
اس لمحے کا ذکر کرتے ہوئے جب انھوں نے ایک عالمی برانڈ کو اپنے مصنوعات کی تشہیر کے لیے فلٹر شدہ مواد پوسٹ کرتے دیکھا، وہ کہتی ہیں ’میں نے صرف سوچا، کیا کسی کو احساس ہے کہ یہ کتنا خطرناک ہے؟‘
’میں نہیں چاہتی کہ سوشل میڈیا پر جو نظر آ رہا ہے اسے دیکھ کر بچے بڑے ہو کر یہ سوچیں کہ وہ دیکھنے میں اچھے نہیں لگتے۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہSasha Pallari
برسٹل سے تعلق رکھنے والی اس 28 سالہ نوجوان خاتون نے ’اپنی بھڑاس آن لائن نکالنے کے لیے‘ اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ کا رخ کیا۔ اس پوسٹ پر ان کو اتنا زبردست ردِعمل ملا کہ انھوں نے #filterdrop مہم کا آغاز کر دیا۔
پلاری کہتی ہیں ’جیسے ہی یہ ٹرینڈ چلا، اس کے بعد پوسٹ کی جانے والی تصاویر دیکھ کر ایک بہت غیر معمولی احساس ہوا۔‘
وہ صارفین سے انسٹاگرام اکاؤنٹس پر بغیر فلٹر والی تصاویر اپ لوڈ کرنے کو کہہ رہی ہیں اور انھیں یہ مشورہ دیتی ہیں کہ ’اس بارے میں پریشان ہونے کے بجائے کہ وہ کیسے دکھتے ہیں، اپنی شخصیت کی قدر کریں۔‘
وہ کہتی ہیں 'اب ہمیں عام نارمل جلد کہیں نظر نہیں آتی'۔
’میرے لئے میک اپ اور فلٹر کے بغیر تصویر پوسٹ کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن ایسی خواتین جو یہ دونوں کام کر رہی ہیں۔۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ یہ بچہ پیدا کرنے سے زیادہ خوفناک ہے۔
پرائمری سکول کی ٹیچر کیٹی میک گراتھ تقریباً ایک سال سے سوشل میڈیا پر پلاری کو فالو کر رہی ہیں۔
انھوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ شام کو وقت گزاری کے لیے انسٹاگرام فیڈ سکرول کرنا ان کا پیش بن جائے گا۔۔گ لیکن اس موسمِ گرما میں ایسا ہی ہوا۔

،تصویر کا ذریعہKatie McGrath
کیٹی میک گراتھ کہتی ہیں ’لاک ڈاؤن کے خاتمے کے دنوں میں، مجھے ایک بچی کے والدین کی جانب سے ایک ای میل موصول ہوا جس میں ان کی بیٹی کے طرز عمل میں تبدیلی کے خدشات کو اجاگر کیا گیا تھا۔‘
’ای میل میں یہ بھی کہا گیا کہ ان کی بیٹی اپنے ظاہری خدوخال کو لے کر پریشان ہے۔ مجھے یہ پڑھ کر ایک جھٹکا لگا۔۔ یہ بچی صرف چار سال کی ہے۔‘
’میں سخت افسردہ ہوئی کہ بچے اتنی چھوٹی عمر سے اپنے جسمانی خدوخال سے واقف ہو رہے ہیں۔‘
سیومبرن، ساؤتھ ویلز سے تعلق رکھنے والے اس 29 سالہ نوجوان خاتون کو معلوم ہوا کہ یہ بچی سوشل میڈیا پر میک اپ ٹیوٹوریل دیکھ رہی تھی۔
’اس نے مجھے بتایا کہ اسے اپنا چہرہ ناپسند ہے اور وہ اپنے بالوں کا رنگ تبدیل کرنا چاہتی ہے۔‘
بس اسی وقت #filterdrop مہم نے میری مدد کی اورمجھے بچا لیا۔
’میں نے محسوس کیا کہ اس مہم نے مجھے کس طرح متاثر کیا، میں اس حوالے سے خود اعتماد کے بارے میں اپنے شاگردوں سے بات کرسکتی ہوں۔‘

اس کے بعد چار سالہ بچی نے میک گراتھ سے پوچھا کہ وہ روزانہ میک اپ کیوں لگاتی ہیں۔۔۔ میک گراتھ اس سوال کا جواب نہیں دے سکیں۔
اگلے ہفتے، وہ بنا میک اپ والے قدرتی چہرے کے ساتھ سکول گئیں۔
وہ کہتی ہیں ’ساشا کی مہم نے مجھے جو اعتماد دیا، اس کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا۔‘
میک گراتھ ان سینکڑوں خواتین میں سے ایک ہیں جنھوں نے پلاری کی مہم کے ردِعمل میں اپنی کہانیاں شئیر کیں۔
پلاری کا کہنا ہے کہ ان کہانیوں نے انھیں اس مسئلے سے نمٹنے کی کوششیں جاری رکھنے کے لیے ہمت دی ہے جس کے بارے میں وہ سوچتی تھیں کہ یہ ایک بہت بڑا چیلینج ہے اور اس سے نمٹنا ممکن نہیں۔

،تصویر کا ذریعہSasha Pallari
انسٹاگرام پر #filterdrop مہم کے بارے میں پلاری کی ویڈیو کو اب تک تقریباً 50،000 افراد نے دیکھا ہے۔
وہ پوسٹ حمایتی پیغامات سے بھری ہوئی ہے، جن میں سے بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کو اس وقت تک احساس نہیں تھا کہ وہ فلٹرز کے ساتھ کتنا جڑ گئے ہیں جب تک کہ انھیں فلٹرز استعمال نہ کرنے کا چیلنج دیا گیا۔
گلاسگو سے تعلق رکھنے والی ایک 33 سالہ ماں نے لکھا کہ تین سال قبل جب انھوں نے بہت سارے فٹنس اور خوبصورتی انفلوئنسرز کو فالو کرنا شروع کیا، تب سے انھوں نے دوسروں کو ان کی تصویر لینے کی اجازت دینا چھوڑ دی تھی۔
وہ کہتی ہیں ’میں واقعی ان خواتین میں سے ایک بننا چاہتی تھی جنھوں نے ساشا کے کام کی حمایت کی تھی، لیکن جب میں نے اپنا کیمرہ کھولا تو میرے آنسو نہیں رکے۔۔۔ اس تصویر کو دیکھ کر گھورنے والوں کی شکلیں سامنے آ ر ہی تھیں اور یہ مجھے بہت برا لگا۔‘
’فلٹرز اور فوٹوشاپ کے ذریعے تبدیل کی گئی تصاویر کے مقابلے میں اپنی نارمل جلد کی تصویر پوسٹ کرنا۔۔۔ جس پر لوگوں کو میرا تنقیدی جائزہ لینے کا موقع ملے۔۔ میں یہ برداشت نہیں کر سکتی تھی۔‘
این ایچ ایس میں کام کرنے والی کارکن کا کہنا تھا کہ ماضی میں انھیں اپنے رشتوں میں جسمانی، نفسیاتی اور جذباتی استحصال کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ان کی خود اعتمادی ختم ہو چکی ہے۔
ان کا کہنا تھا ’میرے جیسے اور بہت سےایسے لوگ ہیں جن کا زیادہ تر انحصار فلٹرز پر ہے اور انھیں اپنی ظاہری شکل پسند نہیں۔‘
’قومی سطح پر ذہنی صحت پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے اور ہمیں یہ جاننے میں کوئی عذر نہیں ہونا چاہیے کہ اس طرح کی غیر صحت بخش نمائندگی ہمارے نوجوانوں کو منفی طور پر کیسے متاثر کرسکتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہZia Hutchings
پلاری کی ایک اور فالور، ضیا ہچنگز نے کہا: ’ساشا نے اپنے انسٹاگرام پر فلٹر ڈراپ مہم کے بارے میں چیزیں شئیر کرنا شروع کیں تو مجھے احساس ہوا کہ میں میک اپ اور فلٹر کے بغیر اپنے چہرے سے نفرت کرتی ہوں۔‘
27 سالہ خاتون کہتی ہیں ’میں نے سوشل میڈیا پر بہت ساری خوبصورت لڑکیوں یا ماڈل دیکھے جن کی خوبصورت جلد، ایک خوبصورت ناک، اور بہترین جسمانی خدوخال ہیں۔ جبکہ میرے چہرے پر داغ دھبے، سورج کی شعاؤں سے نقصان زدہ رنگ برنگی جلد ہے، اور ابھی ابھی میرا بچہ بھی پیدا ہوا ہے۔‘
’پہلے تو میری اس مہم میں شامل ہونے کی ہمت نہیں تھی، پھر ایک رات اس زبردست احساس نے مجھے حیران کر دیا کہ میں اپنے اصلی چہرے سے ڈرتی ہوں۔
’میری ایک 18 ماہ کی بیٹی ہے۔ اگر میں میک اپ اور بغیر کسی فلٹر کے اپنے چہرے کی تصویر شیئر نہیں کرسکتی تو میں اس سے اپنے آپ سے پیار کرنے کی توقع کیسے کرسکتی ہوں؟‘
’اس سوچ نے میرا دل توڑ دیا۔‘

،تصویر کا ذریعہSahsa Pallari
پلاری امید کرتی ہیں کہ اس مہم کے تین نتائج برآمد ہوں گے: ایڈورٹائزنگ سٹینڈرز اتھارٹی (اے ایس اے) یہ مطالبہ کر سکتی ہے کہ اگر سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے کاسمیٹکس کو فروغ دینے کے دوران فلٹر استعمال کیا ہے تو انھیں یہ بتانا لازم ہو گا۔ دوسرا انسٹاگرام سے یہ فلٹرز ہٹوائے جا سکتے ہیں اور تیسرا حقیقی نارمل جلد دیکھنے کا مطالبہ زور پکڑ سکتا ہے۔
وہ کہتی ہیں ’اکثر فلٹرز کے استعمال کا اعلان نہیں کیا جاتا ہے لہذا لوگ یہ سوچتے ہی رہ جاتے ہیں کہ میں اس طرح کیوں نہیں لگتا؟ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں سچ نہیں بتایا جارہا ہے۔
وہ فلٹرز کا خاتمہ نہیں دیکھنا چاہتیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ چہرہ تبدیل کرنے والے فلٹرز کو ’موجود نہیں ہونا چاہیے۔‘
’حال ہی میں ایک فلٹر نے میری ناک اور چہرے کو پتلا کردیا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
"میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میری ناک بڑی ہے اور میں اس کی طرف دیکھ رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ ’شاید یہ بڑی ہے۔۔۔ سوچیے ایک کم اعتماد شخص کے لیے یہ کس قدر نقصان دہ ہے؟
’سوشل میڈیا پر تبدیلی لانے کی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے۔ وہاں کیا دکھایا جائے گا اس کی ذمہ داری ہم پر ہے۔‘
’اگر ان فلٹرز کا اعلان کرنا پڑا تو انھیں استعمال کرنے کا رجحان ختم ہو سکتا ہے۔‘
پیلاری فلٹر استعمال کرنے والی کمپنیوں کو نام لے کر انھیں تنقید کا نشانہ نہیں بنانا چاہتی ہیں بلکہ اس کے بجائے ایسی برانڈز کو براہ راست پیغامات بھیجتی رہی ہیں جنھوں نے فلٹرز کا استعمال کیا ہے یا اسی فوٹو ری پوسٹ کی ہے جس میں فلٹر استعمال ہوا ہے۔
انھوں نے بتیا کہ اس کے بارے میں ملا جلا جواب ملا ہے۔
اے ایس اے نے تصدیق کی کہ پیلاری سے رابطے کے بعد، اس بات کی تفتیش کی جا رہی ہے کہ کیا انسٹاگرام اشتہارات میں فلٹرز کا استعمال ’گمراہ کن انداز میں کاسمیٹکس مصنوعات کی افادیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہا ہے۔‘
اس میں مزید کہا گیا: ’اگرچہ اشتہارات کے حوالے سے انفلوئنسرز کے لیے اشتہاروں کے بعد پیداوار کے سٹائل کا استعمال بالکل جائز ہے لیکن یہ ضروری ہے کہ فلٹرز گمراہ کن انداز میں مبالغہ آرائی نہ کریں کہ مصنوعات کے استعمال سے کیا کیا حاصل کر سکتے ہیں۔۔ ہم اپنی تحقیقات کے نتائج کو بروقت جاری کریں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہSasha Pallari
جب انسٹاگرام سے فلٹرز کے منفی اثرات کے بارے میں تبصرے کے لیے رابطہ کیا گیا تو سوشل میڈیا پلیٹ فارم نے کہا کہ وہ معاشرتی دباؤ کو کم کرنے والے اقدامات پر کام کر رہا ہے، جس میں لائیکس کو ہٹانا شامل ہے تاکہ تحقیق اور رجحانات کو دیکھتے ہوئے پالیسیوں کو ’بطور ضرورت‘ موافق بنایا جاسکے۔
بیان میں کہا گیا ہے: ’ہم چاہتے ہیں کہ آگمنٹڈ رئیلیٹی کے اثرات ہماری صارفین کے لیے ایک محفوظ اور مثبت تجربہ بنیں، اور تخلیق کاروں کو اپنی رائے اور کام کے اظہار کی اجازت ہو۔‘
’اسی لیے ہم صارفین کو انسٹاگرام پر چہرہ بدلنے والے فلٹرز استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں لیکن ہم انھیں ایفکٹس گیلری (بہت سے لوگ نئی چیزوں کو اس گیلری سے دریافت کرتے ہیں) میں رکھ کر ایسا کرنے کی تجویز نہیں کرتے ہیں۔‘
ان تبصروں کا جواب دیتے ہوئے پیلاری نے کہا: ’یہ شرم کی بات ہے کہ چہرے کو بدلنے اور تبدیل کرنے والے فلٹرز کتنے خطرناک ہیں، قطع نظر اس کے کہ یہ ایفکٹس گیلری میں دکھائے جائیں یا وہاں موجود نہ ہوں۔ ان کو ابھی بھی خوبصورت جیسے الفاظ استعمال کرکے آسانی سے ڈھونڈا جاسکتا ہے۔‘
’فلٹرز سب سے زیادہ تخلیق کاروں اور انفلوئنسرز استعمال کرتے ہیں، ان کی سٹوریز سے فلٹر تلاش کرنے کے بجائے زیادہ تعداد میں فالورز تک پہنچ جاتے ہیں۔‘
’مجھے امید ہے کہ اس چیز کی ذمہ داری قبول کرنے میں زیادہ عرصہ نہیں لگے گا کہ پانچ سیکنڈ سے بھی کم وقت میں ناک کو پتلا کرنا ہمارے اعتماد کو کتنا نقصان پہنچا رہا ہے۔‘










