بنگلہ دیش میں روہنگیا مسلمان خواتین اور لڑکیوں کا انوکھا میک اپ

خبر رساں ادارے روئٹرز کے فوٹوگرافر کلوداغ کلکوئن نے جنوبی بنگلہ دیش میں پناہ گزین کیمپوں میں رہنے والی روہنگیا مسلمان لڑکیوں اور خواتین کی روایتی میک اپ میں تصاویر بنائی ہیں۔

روہنگیا میک اپ

،تصویر کا ذریعہReuters

روہنگیا میک اپ

،تصویر کا ذریعہReuters

روہنگیا میک اپ

،تصویر کا ذریعہReuters

اگست 2017 کے بعد سے سات لاکھ سے زائد روہنگیا افراد میانمار کے صوبے شمالی رخائن سے اپنے گھروں کے تباہ ہونے کے بعد علاقہ چھوڑ کر ہمسایہ ملک بنگلہ دیش آگئے تھے۔

روہنگیا میانمار میں کئی نسلی اقلیتوں میں سے ایک ہیں اور گذشتہ سال کے آغاز تک ان کی تعداد دس لاکھ کے قریب تھی۔

میانمار کی فوج کا کہنا ہے کہ وہ روہنگیا شدت پسندوں کے خلاف لڑ رہے ہیں جبکہ وہ عام شہریوں کو نشانہ بنانے سے انکار کرتی ہے۔

روہنگیا میک اپ

،تصویر کا ذریعہReuters

کلوداغ کلکوئن نے بنگلہ دیش میں کاکس بازار میں پناہ گزین کیمپوں میں روہنگیا مسلمان لڑکیوں اور خواتین کی تصاویر بنائی ہیں۔

روہنگیا میک اپ

،تصویر کا ذریعہReuters

اس میک اپ کو ’تھناکا‘ کہا جاتا ہے، جو میانمار کے خشک علاقوں میں پائے جانے والے درخت کی چھال سے بنائے جانے والے پیلے پیسٹ سے کیا جاتا ہے، اور اسے گذشتہ کئی صدیوں سے خواتین اور لڑکیوں کے گالوں پر لگایا جاتا ہے۔

روہنگیا میک اپ

،تصویر کا ذریعہReuters

کاسمیٹک کے ساتھ ساتھ اس پیسٹ کو سورج کی تیز دھوپ سے بچاؤ کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، جو جلد کو ٹھنڈا رکھتا ہے۔

روہنگیا میک اپ

،تصویر کا ذریعہReuters

یہ پیلا پیسٹ خشک ہو کر تحفظ دینے والی تہہ بن جاتا ہے اور کیڑے مکڑوں سے بچانے کے ساتھ ساتھ کیل مہاسوں کے لیے بھی کار آمد ہے۔

روہنگیا میک اپ

،تصویر کا ذریعہReuters

یہ روایتی میک اپ جسے پناہ گزینوں کے کیمپ سے خریدا جا سکتا ہے کی وجہ سے روہنگیا مسلمان خواتین اور لڑکیوں کی زندگی معمول پر آئی ہے۔

روہنگیا میک اپ

،تصویر کا ذریعہReuters

مندرجہ ذیل تصویر میں دیکھی جانے والی ظہورا بیگم جن کی عمر 13 سال ہے نے کلکوئن کو بتایا: ’میک اپ میرا مشغلہ ہے، اور یہ ہماری روایت ہے۔‘

’فوج نے ہم پر گولیاں برسائیں اور ہمیں قتل کیا۔ میں پہاڑی کے اوپر رہتی ہوں، جہاں سورج کی وجہ سے بہت گرمی ہوتی ہے۔‘

روہنگیا میک اپ

،تصویر کا ذریعہReuters

بیگم گذشتہ سال ستمبر میں رخائن پر فوج کے حملے کے بعد علاقہ چھوڑ کر کاکس بازار آگئیں۔

انھیں سرحد پر محفوظ مقام اور پرہجوم پناہ گزین کیمپ جامتولی تک پہنچنے کے لیے پانچ روز تک پیدل چلنا پڑا۔

بیگم کا کہنا ہے کہ ’میں چاول کھائے بغیر رہ سکتی ہوں لیکن میک اپ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔‘

روہنگیا میک اپ

،تصویر کا ذریعہReuters

نو سالہ زینت آرا جنھیں مندرجہ ذیل تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ انھوں نے بتایا: ’میں اپنے چہرے کو صاف رکھنے کے لیے میک اپ کرتی ہوں اور چند کیڑے مکوڑے ہیں جو میرے چہرے پر کاٹتے ہیں انھیں یہ میک اپ دور رکھتا ہے، تو یہ مجھے محفوظ رکھتا ہے۔‘

روہنگیا میک اپ

،تصویر کا ذریعہReuters

روہنگیا میک اپ

،تصویر کا ذریعہReuters

تصاویر: کلوداغ کلکوئن۔