مکہ کے نام پر دھوکہ، انڈونیشئن فیشن ڈیزائنر انیسہ ہسی ہوان کو 18 سال قید

انیسہ ہسی بوان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانیسہ ہسی بوان فیشن ڈیزائیننگ کے ساتھ ایک ٹریول ایجنسی بھی چلاتی تھیں

انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والی ڈیزائنر انیسہ ہسی ہوان پر ان کی 'فرسٹ ٹریول' کے نام سے قائم ٹریول ایجنسی کے ذریعے جعلسازی کرنے کا جرم ثابت ہوا ہے۔

انیسہ کو اٹھارہ برس کے لیے جیل بھیج دیا گیا ہے۔ اس جرم میں ان کے شوہر اندیکا سرکمان بھی شامل تھے۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے مکہ میں عمرہ کرانے کے لیے چھ کروڑ ڈالر کی رقم وصول کی۔

لیکن انھوں نے لوگوں کو عمرہ پر بھجوانے کی بجائے یہ رقم خرد برد کر لی۔

یہ بھی پڑھیے

cannes

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانیسہ ہسی بوان کا کام لندن، نیویارک اور کانز میں نمائش کے لئے پیش کیا جاچکا ہے

انیسہ ہسی بوان کو اسلامی فیشن کی دنیا میں ان کے شاندار ڈیزائنز کی بدولت ایک رہنما کی طرح دیکھا جاتا ہے۔

ان کا کام لندن، استنبول اور کانز میں مختلف تقریبات میں دکھایا جا چکا ہے۔ دو ہزار سولہ میں بی بی سی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے کام میں شہزادیوں اور ملکاؤں سے متاثر ہیں۔