’بیٹی کے فلمی کریئر پر سوال کیوں؟'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, نصرت جہاں
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
بالی وڈ اداکار رشی کپور جب ایکٹنگ نہیں کر رہے ہوتے تو ٹوئٹر پر کمال دکھانا شروع کر دیتے ہیں موضوع چاہے جو بھی ہو مجال ہے جو وہ چوک جائیں۔
ہر موضوع پر رائے دینا جیسے اپنا حق سمجھتے ہیں، چاہے کسی کا جنازہ ہو یا شادی وہ اپنا راگ ضرور الاپتے ہیں۔ اب یہ تو کرکٹ ہے بھلا رشی جی چپ کیسے رہیں۔
اس ہفتے چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل میں پاک بھارت مقابلے سے پہلے ہی رشی کپور نے ٹوئٹر پر چوکے چھکے مارنے شروع کر دیے۔ اب ایسے میں کچھ باؤنسر تو ان پر بھی پڑنے تھے جواب میں لوگوں نے انھیں کھیل کو سیاست سے جوڑنے پر شرم دلوائی۔
ویسے رشی صاحب کبھی کبھی بڑے مذاقیہ ہونے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اکثر بھول جاتے ہیں کہ مذاق کی حد کہاں ختم ہوتی ہے۔
سیف علی خان کی پریشانی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اداکار سیف علی خان گذشتہ تین دہائیوں سے بالی وڈ میں ہیں۔ ان سے پہلے ان کی ممی شرمیلا ٹیگور اور پھر ان کی بہن سوہا علی خان اور بیگم کرینہ کپور خان بالی وڈ کا حصہ رہے اور ابھی تک ہیں۔
اپنے خاندان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اب سیف کی بیٹی سارہ علی خان بھی بڑے پردے کا رخ کر رہی ہیں۔ ان کی پہلی فلم سوشانت سنگھ راجپوت کے ساتھ ہوگی لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے پاپا یعنی سیف علی خان اس بات سے قطعی خوش نہیں ہیں۔
اس موقعے پر سیف کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے لیے ایک مستحکم یا مستقل روزگار چاہتے ہیں۔ سیف کا کہنا تھا کہ اتنی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد سارہ یہ کام کیوں کر رہی ہیں؟
بالی وڈ میں اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ آپ کامیاب ہی ہوں گے۔ سیف کہتے ہیں کہ کوئی بھی والدین اپنے بچوں کے لیے یہ نہیں چاہیں گے۔ سیف پہلے بھی سارہ کے انڈسٹری میں آنے سے متعلق سوالوں سے بے چین ہو جاتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آج جب ان کی سابق بیگم امریتا سنگھ اپنی بیٹی کو انڈسٹری میں لانے پر بضد ہیں تو سیف کی پریشانی پھر بڑھ گئی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر آپ خود 20 سال سے اس انڈسٹری کا حصہ ہیں تو بیٹی کے کریئر پر سوال کیوں؟
سلمان خان کی سٹار پاور

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فلمساز کرن جوہر نے اپنے ٹی وی شو 'کافی ود کرن' میں ایک بار شاہ رخ خان سے پوچھا تھا کہ سلمان خان کی بائیو گرافی کا نام کیا ہونا چاہیے جواب میں شاہ رخ نے کہا تھا 'کل ہو نہ ہو میری تو چلتی رہے گی'۔
یہ سلمان خان کی وہ سٹار پاور ہے جس کا احساس سبھی کو ہے۔ یہ سلمان کی سٹار پاور ہی ہے کہ ناقدین کی تنقید کے باوجود بھی ان کی تقریباً ہر فلم باکس آفس پر کامیاب رہتی ہے۔
ایک روزنامے کے ساتھ بات چیت میں سلمان نے اسی بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ناقدین کیا کہہ رہے ہیں فلم اچھی ہے یا بری یہ فیصلہ پبلک کا ہوتا ہے اور یوں بھی کسی کی محنت کو خراب کرنے کا حق ناقدین کو کس نے دیا۔
سلمان کا کہنا تھا کہ فلم کی ریلیز کے اگلے ہی دن فلم کو خراب کہہ کر درجنوں لوگوں کی بے پناہ محنت اور کروڑوں کی لاگت کو برباد کرنا کہاں کی دانشمندی ہے۔
سلمان کہتے ہیں کہ ان کی فلمیں ناقدین کے لیے نہیں مداحوں کے لیے ہوتی ہیں۔ سلمان خان کو ہٹ اینڈ رن کیس میں ممبئی ہائی کورٹ نے 2015 میں بری کر دیا تھا اس پر بھی کچھ لوگوں کا الزام ہے کہ کیونکہ وہ ایک سپر سٹار ہیں اسی لیے انھیں بری کر دیا گیا جبکہ سلمان کا کہنا ہے کہ اگر وہ سٹار نہ ہوتے تو ان کے خلاف اتنے کیسز نہ ہوتے۔








