گجرات میں پی پی کی فتح کا دعوٰی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گجرات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چوہدری احمد مختار کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے نیشنل اسمبلی کے حلقے ایک سو پانچ سے پاکستان مسلم لیگ کے صدر اور سابق وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین کو واضح فرق سے شکست دی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق چوہدری احمد مختار کو چودھری شجاعت حسین کے خلاف تیرہ ہزار ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔ گجرات شہر سے چودھری شجاعت حسین حلقہ ایک سو پانچ سے انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان کے مد مقابل پیپلز پارٹی کے احمد مختار اور مسلم لیگ (ن) کے سید علی ہارون شاہ ہیں اور دیگر امیدوار ہیں۔بینظیر بھٹو کے قتل کی وجہ سے ہمدردی کی لہر اور مسلم لیگ (ن) کے سرگرم ہونے کی وجہ سے چودھری شجاعت حسین کو سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ انہوں نے گجرات شہر میں درجنوں گاڑیوں پر مشتمل جلوس نکالا اور قدم قدم پر ہوائی فائرنگ کی۔ اس فتح کے جشن سے پورا گجرات شہر گونج اٹھا۔ اور بڑے پیمانے پر خوشیاں منانی شروع کردی ہیں۔ آج صبح گجرات یونیورسٹی کے پولنگ سٹیشن میں ق لیگ کے مسلح کارکن زبردستی داخل ہوئے۔ ان کے پاس پہلے سے کئی بیلٹ پیپرز موجود تھے اور انہوں نے پریزائڈنگ افسر سے مزید بیلٹ پیپرز چھین کر ان پر سرِ عام مہریں لگا کر ان بیلٹ پیپروں کو بیلٹ باکسوں میں ڈال دیا۔ اس دوران پولیس ایک طرف کھڑی رہی اور پریزائڈنگ افسر کا کہنا تھا کہ وہ بے بس ہیں۔ حلقہ ایک سو چار میں سرخ پور کے پولنگ سٹیشن پر فائرنگ کے تبادلے میں ایک عورت کے مرنے اور چھ کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ گجرات شہر کے جی ٹی ایس اڈے قریب مین روڈ پولنگ سٹیشن پر فائرنگ کے بعد بھگدڑ مچ گئی اور پولنگ ختم ہونے کے بعد اندرونِ شہر سے بھی فائرنگ کی آوازیں آ رہی ہیں۔
اگرچہ گجرات کے دیگر حلقوں سے ابھی تک واضح نتیجے نہیں آئے تاہم پاکستان پیپلز پارٹی دعویٰ کر رہی ہے کہ دیگر نشستوں سے بھی ان کو فتح ہوئی ہے۔ جلال پور جٹاں اور گرد و نواح کے علاقے پر مشتمل گجرات کے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو چار میں چودھری شجاعت حسین کے بھائی چودھری وجاہت حسین کا پیپلز پارٹی کے مولانا غضنفر گل اور مسلم لیگ نواز کے سید فیصل عباس کے درمیاں سخت مقابلہ ہے۔ اس حلقہ سے مولانا غضنفر گل انیس سو ترانوے میں جیتے لیکن بعد میں دو بار مسلسل چودھری وجاہت جیتے۔ حلقہ این اے ایک سو چار جلال پور جٹاں میں ایک سو چالیس نمبر پولنگ سٹیشن پر رش کی وجہ سے پولنگ کچھ دیر تک بند رہنے کے بعد دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ یہ پولنگ سٹیشن خواتین کے لیے ہے۔ پریزائڈنگ آفیسر کا کہنا ہے کہ انہیں ایک بیلٹ بُک نامکمل حالت میں ملی ہے جس میں سے اکیس بیلٹ پیپر غائب ہیں۔ دوسری طرف لالہ موسیٰ کا حلقہ گجرات تین سے پیپلز پارٹی کے قمر الزمان قائرہ کے مرکزی پارٹی دفتر میں مٹھائیاں تقسیم کر رہی تھی۔ جبکہ اس کے سامنے واقع پاکستان مسلم لیگ قاف کا پارٹی دفتر ویران پڑا تھا۔ گجرات کے حلقہ این اے ایک سو چھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے قومی اسمبلی کے امیدوار قمر الزماں کائرہ نے الزام لگایا ہے کہ ان کے مخالف مسلم لیگ ق کے امیدوار نورالحسن شاہ کے مسلح افراد نے شوکر کلاں کے علاقے میں پولنگ اسٹیشن پر فائرنگ کی اور پولنگ کے عملے کو زدوکوب کرکے جعلی ووٹ ڈالنے کی کوشش کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ رینجرز اور پیپلز پارٹی کے لوگوں کے موقع پر پہنچنے پر مسلح افراد بھاگ گئے۔ مسلم لیگ نواز کے کرنل (ر) میاں محمد اکرم ایڈووکیٹ اور مسلم لیگ کے (ق) کے سید نورالحسن شاہ ہیں۔ قمرالزمان کائرہ کے ایک بھائی بینظیر بھٹو کے ہمراہ ستائیس دسمبر کو راولپنڈی میں ہلاک ہوگیا تھے۔ اس حلقہ میں مقامی صحافیوں کے بقول اب بھی پیپلز پارٹی کی پوزیشن مستحکم ہے۔ جی ٹی روڈ پر سفر کرتے ہوئے جہلم میں پاکستان مسلم لیگ ن کے راجہ اسد کے حامی بھی خوشیاں مناتے نظر آئے۔ اور اس کے بعد راجہ پرویز اشرف کے مرکزی دفتر میں بڑی پیمانے پر آتش بازی ہوئی اور سینکڑوں افراد جمع تھے۔ اور ان کا بھی دعویٰ تھا کہ وہ جیت گئے ہیں۔ |
اسی بارے میں انتہائی خوف کی فضا میں پولنگ جاری18 February, 2008 | الیکشن 2008 ممکنہ اتحاد بنانے کا عمل شروع 18 February, 2008 | الیکشن 2008 فائرنگ میں ایک ہلاک دو زخمی18 February, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||