دوران سفر ہراسانی: ’معاوضے کے طور پر میرے پیسے ریفنڈ کیے گئے اور مجھے اگلی دو رائیڈز فری دی گئیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سحر بلوچ
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے نتیجے میں کئی لوگ دفتر یا کام کی جگہ پر پہنچنے کے لیے اوُبر یا کریم کا استعمال کرتے ہیں۔ اسلام آباد سے اوُبر کے ختم ہونے کے بعد اب زیادہ تر خواتین کو بائیکیا استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ اس دوران حال ہی میں ایک لڑکی نے اپنا تجربہ ٹوئٹر پر بیان کرتے ہوئے دیگر خواتین کو متنبہ کیا کہ اکثر غلط رائیڈر آنے کے باعث ہراسانی کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔
یہ 17 نومبر کی بات ہے جب ’وینٹنگ ویکا‘ نامی صارف نے اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے اِن ڈرائیو سے آئی ایٹ جانے کے لیے بائیک منگوائی۔ پہلے سب ٹھیک تھا لیکن دو مرتبہ انھوں نے نوٹ کیا کہ رائیڈر نے میپ یعنی نقشے کے مطابق جانے کے بجائے ’گھما پھرا کر رستہ نکالا۔‘
صارف کے مطابق جب انھوں نے رائیڈر کو کہا کہ ’کدھر جارہے ہو؟‘ تو مبینہ طور پر رائیڈر نے کہا کہ ’کہاں جانا چاہتی ہو۔‘ اس بات پر صارف نے انھیں دھکا دیا اور بائیک رکوائی۔ جس کے بعد گارڈن ایوینیو سے انھوں نے ایک اور موٹرسائیکل سوار سے مدد مانگی اور آخر کار آئی ایٹ مرکز پہنچ گئیں۔ ی یہ واقعہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے۔ اس سے پہلے بھی متعدد خواتین نے رائیڈ شئیرنگ ایپ کے ذریعے منگوائی گاڑی یا بائیک پر خود سے ہراسانی کے واقعات کی رپورٹ کروائی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن یہ رپورٹ کہاں درج ہوتی ہے اور اس سے نمٹنے کا کیا طریقہ کار ہے؟
اِن ڈرائیو سے رابطہ کرنے پر بروقت جواب تو موصول نہیں ہوسکا۔ لیکن ان کی ایپ پر ہیلپ سینٹر نام کا خانہ ہے جہاں آپ اپنے ساتھ ہونے والے کسی بھی مسئلے کو رپورٹ کرسکتے ہیں۔
رپورٹ کرتے ہی ہیلپ سینٹر سے کوئی ملازم آپ سے آن لائن بات کرکے مسئلہ بیان کرنے کو کہتا ہے، جس کے بعد آپ کو گاڑی یا بائیک کا نمبر، ڈرائیور کا نام انھیں بتانا ہوتا ہے۔
لیکن اس کے بعد آپ کو انتظار کرنے کو کہا جاتا ہے جس میں کبھی پندرہ منٹ تو کبھی ایک گھنٹہ لگ سکتا ہے۔ اوُبر سے منسلک ایک سابق افسر محمد علی کاظم نے بتایا کہ اوُبر نے چند ایسے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے کسٹمرز کے نمبر پر ڈرائیور کی طرف سے کال کرنے کی سہولت کو ختم کردیا تھا۔ ’صرف کسٹمر انھیں یا تو کال کرسکتے ہیں یا پھر ٹیکسٹ کے ذریعے ان سے بات کرسکتے ہیں۔‘
دوسری بات یہ کہ اوُبر سے ڈیسٹینیشن یا جہاں پہنچنا ہے اس کو جاننے کا آپشن بھی ختم کردیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کے اگر کسٹمر چاہے تو گاڑی میں بیٹھتے ہوئے یا پھر ٹیکسٹ کے ذریعے ڈرائیور کو بتا سکتا ہے کہ اسے کہاں جانا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’اس سے کوشش تو یہی کی گئی ہے کہ کسٹمر کے کنٹرول میں چیزیں ہوں نا کہ گاڑی چلانے والے کے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس رپورٹ کے درج ہونے کے علاوہ پولیس میں رپورٹ درج ہونے کا آپشن بھی موجود ہے۔ لیکن پولیس تک ہر کوئی نہیں جاتا خاص کر کے اگر شکایت کرنے والی لڑکی یا لڑکی کے گھر والے ہوں۔
لاہور سے تعلق رکھنے والے ایڈوکیٹ معظم علی نے بتایا کہ ’اکثر اوقات اکا دکا کیس کسی رائیڈ شیئیرنگ ایپ کے ڈرائیور کی جانب سے بدتمیزی کا آتا ہے۔ لیکن معاملات عدالت جانے سے پہلے ہی طے ہوجاتے ہیں۔
ٹوئٹر یا کسی پبلک سپیس میں شکایت کرنے کے علاوہ کوئی خاص طریقہ کار موجود نہیں ہے۔ ہاں، پاکستان کا قانون ہراسانی کے کیسز میں مدد دیتا ہے۔ اور یہ راستہ سب کے پاس موجود ہے اگر وہ اس کو استعمال کرنا چاہیں تو۔‘

،تصویر کا ذریعہiStock
یہ بھی پڑھیے
کیا درج کرائی گئی رپورٹ سے کوئی فرق پڑتا ہے؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
وینٹینگ ویکا نے اپنے پروفائل پر لکھا ہے کہ ان کی شکایت کا اب تک کوئی خیر خواہ جواب موصول نہیں ہوا ہے۔ جبکہ ماضی میں چند خواتین کی طرف سے شکایت درج کرانے کے نتیجے میں ڈرایئورز کو برطرف کیا گیا ہے۔
اس کی ایک مثال کراچی میں ملتی ہے۔ کراچی کی رہائیشی امیمہ بتول حسن سکوائر کے علاقے میں رہتی ہیں۔ انھیں کام کی غرض سے گلستانِ جوہر کی طرف جانا ہوتا ہے۔ ایسے میں سنہ 2016 میں ان کے ساتھ ایک رائیڈ شیئرنگ ڈرایئور نے جب ان سے بدتمیزی کی تو انھوں نے اس کی شکایت درج کروائی۔
’پہلے تو مجھ سے ڈرایئور کی تمام تر تفصیلات مانگی گئیں۔ میں نے وہ تمام تر معلومات دیں تو ایک دن کی خاموشی کے بعد مجھے فون آیا کہ اس شخص کو نکال دیا گیا ہے۔ اور معاوضے کے طور پر میرے پیسے ریفنڈ کیے گئے اور مجھے اگلی دو رائیڈز فری دی گئیں۔‘
بتول نے بتایا کہ ان کہ والدین نے خاصی مشکل سے انھیں کام کرنے کی اجازت دی تھی۔ ’اور ایسے واقعات کے بعد آپ کو یہ موقع بھی ہاتھ سے نکلتا ہوا لگتا ہے۔ ہمیں اتنی جگہوں پر خود کو بچانا پڑتا ہے کہ کبھی کبھار آپ تھک کر گھر میں ہی بیٹھ جاتے ہیں۔‘
لاہور سے تعلق رکھنے والی رِمشا علی نے بتایا کہ جب انھوں نے ایک ’ڈرائیور کو شیشے سے گھورنے سے کئی بار منع کیا تو اس نے انھیں بیچ راستے میں ہی اتار دیا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’بات بڑھی کیونکہ اتفاق سے وہ ڈرائیور ہمارے علاقے کا تھا اور بھائیوں نے مجھے پولیس میں شکایت درج کرنے کو کہا۔‘ رِمشا نے کہا کہ انھوں نے اپنی لکھی ہوئی درخواست واپس لے لی۔
فون پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’فیس بُک پر بات کرنا اور ہے۔ لیکن جب آپ کا نام ایسے کسی کیس سے منسلک ہوجائے تو کافی مسئلہ ہوجاتا ہے۔ مجھے ڈر تھا کہ میری نوکری روک دی جائے گی۔ اور بغیر ٹرانسپورٹ کے میں کیسے کام پر جاؤں گی؟ تو اسی خیال سے میں نے اس رائیڈ شئیرنگ ایپ کے ہیلپ سینٹر پر شکایت کی۔ اور مجھے نہیں معلوم کہ انھوں نے اس بارے میں کیا کیا۔‘
رِمشا نے بتایا کہ انھوں نے اب اپنے لیے رکشہ لگوالیا ہے۔ جو لوہاری گیٹ سے انھیں اپنے کام کی جگہ پہنچا دیتا ہے۔












