مرد کسی کم عمر لڑکی کو ڈیٹ کرے تو کوئی مسئلہ نہیں، مگر عورت پر یہ پابندی کیوں؟

ملائکہ اور ارجن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنملائکہ اور ارجن کئی برسوں سے ڈیٹ کر رہے ہیں اور ان کی عمروں میں فرق کو عموماً ناقدین تنقید کا نشانہ بناتے ہیں
    • مصنف, نصرت جہاں
    • عہدہ, بی بی سی اردو، لندن

بہت سے لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کسی حال میں نہ تو خود خوش ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی کو خوش دیکھ سکتے ہیں۔ جہاں رنبیر کپور اپنی بڑھتی عمر کے بارے میں فکر مند ہیں تو وہیں ملائکہ کو ٹرول کرنے والوں کو ارجن کی کم عمر اور ملائکہ کی ڈھلتی عمر کی فکر ہے۔

جب رنبیر نے اپنے سے دس سال چھوٹی عالیہ بھٹ سے شادی کی تھی تو لوگوں نے دونوں کی جوڑی کی خوب بلائیں لی تھیں لیکن جب 49 سالہ ملائکہ نے اپنے سے تقریباً 12 سال چھوٹے ارجن کپور کو ڈیٹ کرنا شروع کیا تو لوگوں کو سخت پریشانی ہونے لگی۔

اور اس معاملے کو لے کر ملائکہ کو ہمیشہ ہی بُری طرح ٹرول کیا جاتا ہے۔ لوگ تو یہاں تک کہہ جاتے ہیں کہ ملائکہ نے ارجن کپور کی زندگی خراب کر دی۔

اپنے نئے شو ’مووِنگ اِن ود ملائکہ‘ کے تازہ ترین قسط میں ملائکہ نے اپنی ارباز خان سے طلاق، اپنی طرز زندگی، لباس اور کم عمر لڑکے کو ڈیٹ کرنے پر تنقید کرنے والوں کو کرارا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’میں ایک کم عمر لڑکے کو ڈیٹ کر رہی ہوں، ایسا کرنے کے لیے ’گٹس‘ اور ہمت چاہیے۔ لوگ ایسا برتاؤ کرتے ہیں جیسا کہ وہ کوئی سکول جاتا بچہ ہو اور میں نے اسے پڑھائی چھڑوا کر اپنے پاس بلا لیا ہو۔‘

ملائکہ نے مزید کہا کہ وہ (ارجن) ایک بالغ مرد ہے اور سوچ سمجھ کر فیصلہ لینے والا انسان ہے اور دوسری بات یہ کہ جو کوئی مرد کسی کم عمر لڑکی کو ڈیٹ کرے تو کوئی مسئلہ نہیں پھر عورتوں پر یہ پابندی کیوں۔

رنبیر عالیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنحال ہی میں رنبیر اور عالیہ کے یہاں ایک بچی کی پیدائش ہوئی ہے

’جب میرا بچہ 20 سال کا ہو گا تو میں 60 سال کا ہو چکا ہوں گا، کیا اس عمر میں اپنے بچوں کے ساتھ دوڑ لگا سکوں گا یا پھر ان کے ساتھ فٹبال کھیل سکوں گا؟‘

ان خدشات کا اظہار کیا ہے رنبیر کپور نے جو حال ہیں میں ایک بیٹی کے پاپا بنے ہیں اور رواں ہفتے سعودی عرب کے شہر جدہ میں ہونے والے ریڈ سی فلم فیسٹیول میں شرکت کر رہے تھے۔

اس موقع پر بات کرتے ہوئے رنبیر نے اپنی اور عالیہ کی زندگی میں ایک بچی کے آنے کی خوشی، کام اور بچی کی پرورش کے بارے میں کئی باتیں کیں۔

رنبیر کا کہنا تھا کہ اولاد کی خوشی سب سے الگ ہوتی ہے یہ ایک خوبصورت احساس ہے اور ایک بہت بڑی ذمہ داری بھی ہے۔

رنبیر نے کہا کہ وہ اور عالیہ کام میں مصروف رہتے ہیں لیکن وہ مل کر اپنی بیٹی کی پرورش کریں گے جب عالیہ کام پر ہوں گی تو وہ چھٹی لیں گے اور جب وہ کام پر ہوں گے تو عالیہ ان کی بیٹی ’راہا‘ کے ساتھ ہوں گی۔

تاہم رنبیر کا کہنا تھا کہ یہ زبردست اور بالکل نیا احساس ہے اور وہ اب پاپا بننے کی عادت ڈال رہے ہیں۔

وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں میں دوسروں کے لیے احساس ، ہمدردی اور بزرگوں یا بڑوں کا ادب و احترام ہو تاہم رنبیر کا سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ جب ان کے بچے جوان ہوں گے تو وہ بوڑھے ہو رہے ہوں گے۔

تو بھائی اس میں نیا کیا ہے بچوں کے ساتھ والدین کی عمر تو بڑھتی ہے۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ اگر انھوں نے ’اِدھر اُدھر‘ وقت ضائع نہیں کیا ہوتا تو آج انھیں یہ احساس کھائے نہ جاتا! اور رہی بات بچوں کے ساتھ دوڑ لگانے کی تو یہ کام عالیہ بخوبی کر سکتی ہیں کیونکہ اس وقت تک وہ چالیس کے پیٹے میں ہوں گی۔

انوراگ کشیپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانوراگ کشیپ نے کئی کامیاب فلمیں دی ہیں
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

فلسماز انوراگ کشیپ جو اکثر ایک مخصوص سیاسی جماعت پر تنقید کے لیے عتاب کا شکار ہوتے رہے ہیں پھر بھی اپنی ایماندارانہ سیاسی یا سماجی نظریہ پر بولنے سے نہیں جھجھکتے۔

انوراگ کا کہنا ہے کہ بالی ووڈ میں کچھ فلمیں بہت اچھی ہیں اور فلم ’آر آر آر‘ اُن میں سے ایک ہے، یہ ایک بلاک بسٹر فلم رہی ہے لیکن موقع پرست لوگ ایسی فلموں کو اپنے پراپیگنڈا کا ہتھیار بنانے سے باز نہیں آتے۔

یو ٹیوب چینل ’گلاتا پلس‘ کے راؤنڈ ٹیبل مباحثے میں بات کرتے ہوئے انوراگ کا کہنا تھا کہ کچھ فلمیں ایمانداری سے بنائی جاتی ہیں لیکن کچھ لوگ انھیں ’ہندوتوا‘ کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس شو میں اس بارے میں بات ہو رہی تھی کہ مخصوص ناظرین کو راغب کرنے کے لیے کس طرح کی فلمیں بنانے کا رجحان شروع ہو رہا ہے۔

انوراگ کا کہنا تھا کہ دو طرح کے فلسماز ہوتے ہیں کچھ فسلماز دل سے اور ایمانداری کے ساتھ فلم بناتے ہیں اور کچھ اس لیے کہ انھیں فنڈِنگ ملے گی، حکمران جماعت کی حمایت ملے گی یا پھر اقتدار میں شامل ہونے کا موقع ملے گا اور وہیں سے مسئلہ شروع ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ یہ ہے کہ اگر ایسے چیزوں کے خلاف کوئی رائے سامنے آتی ہے تو اسے بھی پراپیگنڈے کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔