بالی ووڈ: عالیہ بھٹ بچے کی پیدائش کے بعد بھی کام جاری رکھیں گی، کریئر کی قربانی نہیں دیں گی، رنبیر کپور

،تصویر کا ذریعہHYPE PR CREDIT
- مصنف, مدھو پال
- عہدہ, بی بی سی ہندی، ممبئی
’شادی کے بعد خاندان اور بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری صرف خواتین پر ہی کیوں؟ مردوں کو بھی اس ذمہ داری کا احساس کرنے کی ضرورت ہے اور میں اس کے لیے تیار ہوں۔۔۔‘ یہ کہنا ہے اداکار رنبیر کپور کا جو والد بننے والے ہیں۔
بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے رنبیر کا کہنا تھا کہ ’بچے کی پیدائش ہونا بہت فطری عمل ہے۔ یہ خدا کا تحفہ ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ وقت بدل گیا ہے۔ عالیہ جتنی محنت سے اپنا کام کر رہی ہیں، وہ مستقبل میں بھی محنت کرتی رہیں گی۔ اس میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں ہو گی۔‘
ہندی فلمی دنیا میں کافی جدوجہد کے بعد چند ہی اداکاراؤں کو اپنا مقام حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔ دوسری جانب ایسی کئی اداکارائیں ہیں جنھیں بہت پیسہ، پیار اور شہرت ملی لیکن شادی اور بچے ہونے کے بعد وہ اپنا شاندار کریئر چھوڑنے پر مجبور ہو گئیں۔
ستّر کی دہائی سے ہم وحیدہ رحمٰن، ممتاز، نوتن، نیتو کپور اور سائرہ بانو جیسی کئی اداکاراؤں کو دیکھ رہے ہیں۔ یہی سلسلہ بعد میں بھی جاری رہا۔ ایسی اداکاراؤں کو شادی ہوتے ہی اپنے خوابوں اور امنگوں کو کنارے رکھ کر گھر کی ذمہ داریاں سنبھالنا پڑیں۔
بالی ووڈ میں کپور خاندان کی یہ روایت بھی رہی کہ شادی کے بعد ان کے گھر کی بہوؤں کو فلموں کو خیرباد کہنا پڑتا تھا جس کی مثال ببیتا اور نیتو کپور ہیں تاہم کرینہ کپور اکیلے اس رجحان کو توڑنے میں کامیاب رہیں۔ اُنھوں نے شادی کے بعد بھی کئی بڑی فلموں میں کام کیا۔ آج وہ دو بچوں کی ماں ہیں، اس کے باوجود وہ اپنی تقریباً تمام فلموں میں مرکزی کردار کر رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
رنبیر اور عالیہ نئی تبدیلیاں لائیں گے
کرینہ کپور کی طرح ان کے کزن رنبیر کپور بھی نئی سوچ کے ساتھ نیا ٹرینڈ سیٹ کرنے کو تیار ہیں۔ ایسے میں اب وہ ایک نئی تبدیلی کی بات کر رہے ہیں۔
بی بی سی ہندی سے بات چیت میں اداکار رنبیر کپور کا کہنا ہے کہ وہ شادی کے بعد خاندان اور بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے تیار ہیں کیونکہ ان کے نزدیک یہ صرف خواتین کی ذمہ داری نہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ شادی اور بچہ پیدا ہونے کے بعد مرد تو فلموں میں مسلسل کام کرتے رہتے ہیں اور ان کی زندگی نہیں رکتی لیکن اس میں نقصان صرف اداکاراؤں کا ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رنبیر کپور کہتے ہیں کہ میں بہت خوش قسمت ہوں کہ عالیہ بھٹ میری بیوی ہیں۔ ہم دونوں ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں۔ ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے ہیں. آنے والے دنوں میں ہمارا مستقبل بہت خوبصورت ہے۔ میں جانتا ہوں کہ عالیہ بہت محنتی انسان ہیں، اُنھوں نے اتنی کم عمر میں اتنا بڑا مقام حاصل کیا۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’مجھے معلوم ہے کہ بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ عالیہ اپنے کریئر کے عروج پر ہونے کے باوجود ماں بن رہی ہیں، حالانکہ عالیہ کے ذہن میں کبھی یہ نہیں آیا کہ وہ بہت مقبول ہیں۔‘
رنبیر کپور کا کہنا ہے کہ کبھی عالیہ بچے کی دیکھ بھال کریں گی تو کبھی وہ خود۔ ان کے مطابق وہ بچے کی دیکھ بھال کے لیے تیار ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSTR
وہ کہتے ہیں کہ ’میں اپنے بچے کی پرورش کے لیے کام سے چھٹی بھی لے سکتا ہوں۔ ایسا ہر گز نہیں کہ اب عالیہ ماں بن رہی ہے تو ان کے کام کی اہمیت کم ہو جائے گی، ایسا نہیں ہو گا۔‘
رنبیر کپور نے اصرار کرتے ہوئے کہا کہ ’جو قربانی میری والدہ نے دی وہ میری بیوی عالیہ کو نہیں دینی پڑے گی کیونکہ آج کے ناظرین بہت سمجھدار ہیں۔‘
’ہیروئنز اب صرف اردھانگنی بن کر نہیں رہتی‘
معروف فلمی نقاد اور صحافی رام چندرن سری نواسن کا بھی خیال ہے کہ وقت بدل گیا ہے۔
بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہندی فلموں میں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ ہیروئنز کو اپنے ہیرو سے شادی کے لیے کافی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ اکثر فلم کا آخری سین شادی کا ہوتا ہے۔ جب لڑکا اور لڑکی دونوں کی شادی ہو جاتی ہے تو فلم اسی سین کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے۔ ہم اسے ’ہیپی اینڈنگ‘ کہتے ہیں۔
اگر آپ ماضی کی ہیروئنز کو دیکھیں تو حقیقی زندگی میں ان کا فلمی کریئر بھی شادی کے بعد ختم ہو جاتا تھا، شادی کے بالکل اسی سین کی طرح۔ یہ ایک ٹرینڈ بن چکا تھا لیکن آج کے دور میں بہت کچھ بدل گیا ہے۔
ان کے مطابق ’اگر آپ سوشل میڈیا پر نظر ڈالیں تو آپ دیکھیں گے کہ کئی ہیروئنز اپنے پارٹنرز کے ساتھ مل کر ایسی پوسٹس کرتی رہتی ہیں کہ وہ دونوں والدین بننے والے ہیں۔ ایسا نہیں کہ صرف اداکارہ ہی لکھتی ہیں کہ ’میں ماں بن رہی ہوں‘ اور پہلے ایسا نہیں تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہ@THEDILIPKUMAR
’کپور خاندان میں بہوؤں کا کام کرنا نیا ٹرینڈ‘
سینئر صحافی رام چندرن سری نواسن نے پہلے کے دور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سائرہ بانو نے اُنھیں ایک بار ہیروئنز کی مجبوریوں کے بارے میں بتایا تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ایک بار سائرہ بانو نے بتایا تھا کہ شادی کے بعد وہ بھی باقاعدگی سے شوٹنگ کرتی تھیں۔ ایک دن اُنھیں احساس ہوا کہ یوسف صاحب (دلیپ کمار) سے ان کی ملاقات اکثر ایئرپورٹ پر ہی ہوتی ہے، گھر پر ان سے ملاقات نہیں ہو پاتی۔ اسی لیے اس وقت انھیں لگا کہ انھیں اداکاری چھوڑ کر گھر پر رہنا چاہیے۔ اُنھوں نے کہا کہ دلیپ صاحب نے اُنھیں کبھی کسی کام سے نہیں روکا۔‘
لیکن رام چندرن سری نواسن ماضی قریب میں کپور خاندان میں آنے والی تبدیلی کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’سائرہ بانو کی طرح کپور خاندان کی تمام بہوؤں نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا۔ کافی دیر بعد نیتو کپور نے دوبارہ کام شروع کیا۔ اب اگر اسی خاندان کی بہو کام کرتی رہے تو یہ اس خاندان کے لیے اور باقی لوگوں کے لیے بھی بہت بڑی تبدیلی ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ کرینہ نے شادی کے بعد بھی کام کیا لیکن وہ سیف کے ساتھ پٹودی خاندان میں رہ رہی تھیں جہاں ان کی ساس شرمیلا ٹیگور نے بھی شادی کے بعد کچھ عرصہ کام کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’ہیروئنز کے لیے فلموں میں واپسی بہت مشکل‘
رام چندرن سری نواسن کے مطابق ’پہلے زیادہ تر لوگوں کو یہ پسند نہیں تھا کہ ان کی بیوی ایکٹنگ کرے۔ پہلے لوگ اس پیشے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ ایک وقت تھا جب فلم انڈسٹری اتنی پروفیشنل نہیں تھی لیکن اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ پیشہ اور لوگوں کی سوچ دونوں بدل چکے ہیں۔‘
ان کے مطابق پہلے زمانے میں نینا گپتا، ممتاز، سونالی بیندرے اور کرشمہ کپور جیسی کئی ہیروئنز کو فلموں میں واپسی کے لیے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن آج ایسا نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ آن لائن سٹریمنگ پلیٹ فارمز ان خواتین کے لیے بہت مددگار ثابت ہوئے، جہاں 90 کی دہائی کی کئی اداکاراؤں نے مرکزی کرداروں میں واپسی کی ہے۔
مادھوری، سونالی بیندرے، کرشمہ کپور، پوجا بھٹ، روینہ ٹنڈن اور شلپا شیٹی جیسی اداکارہ نے ان پلیٹ فارمز کی پروڈکشنز میں حال ہی میں کئی کردار ادا کیے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER/RANVEER SINGH
’شادی یا بچے کے بارے میں بتانے سے اب ہیروئن کو ڈر نہیں لگتا‘
سری نواسن پہلے زمانے میں اداکارہ نرگس کو مختلف قرار دیتے ہیں جنھیں شادی کے بعد بھی اہم کرداروں اور بڑے اداکاروں کے ساتھ کام کرنے کے مواقع ملے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’نرگس ایسی اداکارہ تھیں جنھوں نے شادی کے بعد بھی کئی سال کام کیا۔ وہ راج کپور اور کئی دوسرے بڑے اداکاروں کے ساتھ کام کرتی رہیں۔‘
سری نواسن کا کہنا ہے کہ آج کی خواتین بغیر کسی خوف کے اس بارے میں کھل کر بات کر رہی ہیں جب کہ ناظرین بھی ان کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں اور اُنھیں بڑی فلموں میں دیکھنا بھی پسند کرتے ہیں۔
ان کے مطابق شاید یہی وجہ ہے کہ اُنھیں مرکزی کردار مل رہے ہیں۔









