بالی وڈ ڈائری: عامر خان کو بچوں کو وقت نہ دینے پر افسوس، ڈی ڈی ایل جے کا میوزیکل ورژن لانے کی تیاری

،تصویر کا ذریعہSTRDEL
- مصنف, نصرت جہاں
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
'جب بھی میں زندگی میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کاش میں نے اپنے بچوں آئرہ اور جنید کے ساتھ زیادہ وقت گزارا ہوتا چاہے اس کے لیے مجھے کام کے ساتھ سمجھوتہ ہی کیوں نہ کرنا پڑتا، لیکن اس وقت میرا کام میرا جنون تھا۔‘
یہ کہنا ہے بالی وڈ سٹار عامر خان کا جنھوں نے رواں ہفتے ٹی وی شو ’کافی ود کرن‘ میں کرینہ کپور کے ساتھ شرکت کی۔
عامر کی اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کرینہ کا کہنا تھا بچوں کے ساتھ وقت گزارنا بہت اہم ہوتا ہے اور وہ بھی اس بات کو سمجھ سکتی ہیں کہ سیف کے لیے اپنے چاروں بچوں کے لیے یکساں وقت دینا کتنا اہم ہے۔
خیال رہے کہ عامر خان کی بیٹی آئرہ اکثر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتی ہیں کہ کس طرح وہ ڈپریشن سے نمٹنے کی کوشش کرتی ہیں۔
یوں تو کرن جوہر کے اس شو میں مہمانوں سے کبھی مشکل تو کبھی چٹ پٹے سوال پوچھے جاتے ہیں اور کبھی کبھی مہمانوں کو روسٹ بھی کیا جاتا ہے لیکن اس قسط میں عامر خان نے جم کر کرن جوہر کی کھنچائی کی۔

،تصویر کا ذریعہAAMIR KHAN PRODUCTIONS
عامر کا کہنا تھا کہ ’آپ کے شو میں کسی نہ کسی کی بے عزتی ہوتی ہے ، کوئی نہ کوئی روتا ہی ہے اور کسی نے کسی کا دل دکھتا ہے، آپ تو سب کے کپڑے اتارتے رہتے ہیں۔‘
عامر کی ان باتوں نے یقیناً کرن کے ذہن میں کنگنا کی یاد تازہ کر دی ہو گی جب بقول کنگنا کے انھوں نے کرن کو ان کے گھر میں گھس کر مارا تھا۔
کنگنا نے کرن کے اسی شو پر اُنھیں ’اقربا پروری کا سرغنہ‘ کہا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کرینہ سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ اُنھیں عامر کی کون سی بات ناپسند ہے تو جواب میں کرینہ کا کہنا تھا کہ وہ ایک فلم کو بنانے میں سال سے دو سال لیتے ہیں جبکہ اکشے کمار 30 دن میں ایک فلم ختم کر دیتے ہیں۔
عامر اور کرینہ کپور اپنی فلم ’لال سنگھ چڈھا‘ کی پروموشن میں تو مصروف ہیں ہی ساتھ ہی اس فلم کے بائیکاٹ کی اپیل سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہی ہے۔
بہت سے لوگ فلم کے بائیکاٹ کا مطالبہ کر رہے ہیں تو کچھ لوگ فلم کی حمایت میں آگے آ رہے ہیں۔
سناتن وادی کے نام کے ایک صارف نے لکھا ’لال سنگھ چڈھا کو چھوڑو اور اصلی ’فاریسٹ گمپ‘ دیکھو۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
جبکہ دھروو نام کے ایک صارف نے لکھا ’بلا وجہ فلموں کے بائیکاٹ کا کلچر انڈیا میں عام ہوتا جا رہا ہے ہر چیز کا بائیکاٹ، اب تو ہنسی آنے لگی ہے۔ یہ فلم اچھی ہوگی میں ضرور دیکھوں گا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
یہ بھی پڑھیے
ایسے میں کنگنا رناوت کیسے خاموش رہ سکتی ہیں۔ اس معاملے میں چٹکی لیتے ہوئے انھوں نے بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ لگائی ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’میرے خیال میں اس فلم کے ارد گرد جو بھی تنازع ہے وہ خود ماسٹر مائنڈ عامر جی نے ہی بڑی مہارت اور چالاکی کے ساتھ پیدا کیا ہے۔‘
انھوں نے مزید لکھا کہ ’ہندی فلموں کو آڈیئنس کی نبض پکڑنی ہو گی، یہ بات ہندو یا مسلم کی نہیں اسے ہندو مسلم یا مخصوص نظریے سے نہ جوڑیں کیونکہ عامر خان نے ہندو مخالف فلم ’پی کے‘ بنائی اور ملک کو برداشت سے عاری کہا پھر بھی لوگوں نے اس فلم کو پسند کیا اور فلم ہٹ رہی۔

،تصویر کا ذریعہHindustan Times
ویسے کمال کی بات ہے کہ کنگنا برسوں سے فلم انڈسٹری میں ہیں اور یہ اچھی طرح جانتی ہیں کہ فلم ہیرو کی نہیں ہوتی بلکہ فلم کے پروڈیوسر اور ہدایت کار کے ساتھ ساتھ رائٹر کی ہوتی ہے، اس کا تصور اور کہانی ہیرو نہیں کوئی اور لکھتا ہے اور پی کے ہو یا او مائی گاڈ ان فلموں کے پروڈیوسر، رائٹر اور مصنف سبھی ہندو ہیں۔
لیکن کنگنا بھی کیا کریں، لوگوں کے مطابق اُنھیں بھی انڈسٹری میں جھوٹ اور نفرت پھیلانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جسے وہ بخوبی نبھا رہی ہیں۔
اب جہاں تک اکشے کمار کا تعلق ہے، جنھیں سوشل میڈیا پر کچھ منچلے پیار سے ’کینیڈا کمار‘ بھی پکارتے ہیں، وہ آج کل کافی مصروف ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ انڈسٹری کے مصروف ترین اداکاروں میں سے ایک ہیں لیکن ان کی ایک کے بعد دوسری فلم باکس آفس پر منھ کے بل گر رہی ہے۔
پہلے بچن پانڈے اور پھر سمراٹ پرتھوی راج، حالانکہ سمراٹ پرتھوی راج کو کامیاب بنانے کے لیے نہ صرف ملک کے بڑے بڑے سیاسی لیڈروں نے ان کے لیے پروموشن کی بلکہ خود اکشے نے بھی سیاسی داؤ پیچ کھیلنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اس کے باوجود بھی نہ صرف فلم بری طرح ناکام رہی بلکہ اُنھیں ٹرولز کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔

،تصویر کا ذریعہHindustan Times
ای ٹائمز کے ساتھ بات چیت میں جب ان سے ان کی فلموں کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’بھائی میں سب سے زیادہ چھٹیاں لے کر بھی سب سے زیادہ فلمیں دیتا ہوں کیونکہ میں جب کام پر ہوتا ہوں تو پورے آٹھ گھنٹے سیٹ پر ہوتا ہوں، وینیٹی وین میں نہیں، اس لیے میرے آٹھ گھنٹے دوسرے ہیروز کے 14 پندرہ گھنٹوں کے برابر ہوتے ہیں۔‘
اکشے کی اگلی فلم آنند ایل رائے کے ساتھ رکھشا بندھن ہے۔ اس کے علاوہ اکشے فلم رام سیتو، اور سیلفی پر کام شروع کرنے والے ہیں۔
ذرا سوچیں کہ بالی ووڈ کی پہچان دل والے دلہنیا لے جائیں گے یعنی ڈی ڈی ایل جے میں فلم کے ہیرو راج کی جگہ کوئی انگریز ہو اور فلم کے گانے انگریزی میں ہوں تو کیسا لگے گا؟
دراصل فلسماز ادتیہ چوپڑہ نے اس فلم کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اس کا میوزیکل ورژن کم فال ان لو تھیٹرز میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس میوزیکل میں راج کا کردار جو کہ شاہ رخ خان نے نبھایا تھا، امریکی اداکار آسٹِن کولبی نبھائیں گے۔ آسٹن کو لگتا ہے کہ ڈی ڈی ایل جے کے میوزیکل ورژن میں راج کے کردار میں آنا ان کے لیے بڑی بات ہے اور اُنھیں خوشی ہے کہ ادتیہ چوپڑہ نے ان پر یہ اعتماد ظاہر کیا کہ وہ انڈیا ہی نہیں دنیا بھر میں مشہور ہونے والے اس کردار کو ادا کرنے والے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSTR
آسٹن کولبی نے یہ بھی واضح کیا کہ فلم میں شاہ رخ نے جو کیا وہ نہ تو اس کی نقل کرنے کی کوشش کریں گے اور نے ہی اس کردار کو کوئی نئی شکل دینا چاہیں گے۔
ان کا کہنا تھا ’میں وہ راج نہیں ہوں شاہ رخ نے جس سے ہم سب کو پیار کرنے پر مجبور کر دیا تھا‘
’میں اس کردار کے لیے تخلیقی ٹیم کے وژن کو پورا کرنے کے لیے پرجوش ہوں اور میں واقعی اس کہانی پر یقین رکھتا ہوں۔‘
انھوں نے کہا کہ چوپڑا کے پاس اس فلم کے میوزیکل کے لیے بالکل نیا وژن ہے۔ میوزیکل میں سِمرن کے کردار کے لیے انڈین امریکن اداکارہ شوبھا نارائن کو منتخب کیا گیا ہے۔
یہ میوزیکل 2022-2023 کے براڈوے سیزن میں سٹیج پر آنے کے لیے تیار ہے اب دیکھنا ہے کہ کیا یہ میوزیکل بھی لوگوں میں وہ پیار اور جنون پیدا کر پائے گا جو ڈی ڈی ایل جے فلم نے کیا تھا اور جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔











