آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان کو بنگلہ دیش سے ون ڈے میچز کی سیریز میں 11رنز سے شکست: ’بہترین سینچری آغا جی لیکن پاکستان ٹیم میچ جیتنا بھول چکی ہے‘
پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تین ون ڈے میچز کی سیریز کے آخری اور فیصلہ کن میچ میں بنگلہ دیش نے پاکستان کو 11 رنز سے شکست دے دی۔
میرپور بنگلہ دیش میں ہونے والے اس میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تھا اور میزبان ٹیم کو پہلے کھیلنے کی دعوت دی تھی۔
بنگلہ دیش کی ٹیم نے مقررہ 50 اوورز میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر 290 رنز بنائے اور پاکستان کو جیت کے لیے 291 رنز کا ہدف دے دیا تھا۔
تاہم پاکستان کی ٹیم مقررہ اوورز میں 279 رنز بنا کر یہ ہدف پورا کرنے میں ناکام رہی۔
اس میچ کی ایک خاص بات سلمان علی آغا کے 98 گیندوں پر 106رنز کی شاندار اننگز بنانا رہی تاہم کپتان شاہین آفریدی کے چھکوں اور آخری اوورز میں شاندار بلے بازی بھی قومی ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکی۔
واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم نے تین میچز کی سیریز کے دوسرے ون ڈے میں بنگلادیش کو 128رنز سے شکست دی تھی جب کہ پہلے ون ڈے میں بنگلہ دیش نے کامیابی حاصل کی تھی۔
بنگلہ دیش کی اننگ
بنگلہ دیش کے بلے باز تنزید حسن نے 107 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ لٹن داس نے 41، سیف حسن نے 36 اور نجم الحسن شانتو نے 27 رنز بنائے۔
بنگلہ دیشی کھلاڑی توحید ہریدوئے نے 44 رنز بنا کے ناٹ آؤٹ رہے۔ اس دوران پاکستان کی جانب سے حارث رؤف نے تین وکٹیں لیں جبکہ شاہین آفریدی اور ابرار احمد نے ایک ایک وکٹ لی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان کی جانب سے ہدف کا مقابلہ کرنے کے لیے سلمان علی آغا نے 106 رنز بنائے جبکہ صاحبزادہ فرحان اور معاذ صداقت محض چھ چھ رنز بنا کے پویلین لوٹ گئے۔
غازی غوری نے 29، محمد رضوان نے چارعبدالصمد 34 اور سعد مسعود 38 رنز بنا پائے۔
تاہم شاہین شاہ آفریدی اور راشد حسین کی جوڑی اس کشتی کو پار لگانے میں ناکام رہی اور شاہین شاہ آفریدی آخری بال پر آوٹ ہو گئے اور یوں 50ویں اوور کے اختتام پر پاکستانی ٹیم 279 رنز بنا پائی۔
بنگلہ دیش کی جانب سے تسکین احمد نے چار، مستفیض الرحمان نے تین اور ناہید رانا نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
سوشل میڈیا پر پاکستانی ٹیم کو حکمتِ عملی اور کارکردگی بہتر بنانے کے مشورے
اتوار کے روز کھیلے گئے تیسرے دن کے میچ میں ایک سنسنی خیز لمحہ اس وقت آیا جو پاکستان کو چھ گیندوں پر 14 رنز چاہیے تھے اور لگتا تھا کہ پاکستان بازی جیت لے گا۔
تاہم حارث رؤف آؤٹ ہو کر پویلین لوٹ گئے اور ان کی جگہ راشد حسین نے پچ سنبھالی لیکن بات بن نہ سکی اور پاکستانی ٹیم 279 پر ڈھیر ہو گئی۔
سوشل میڈیا پر کرکٹ فینز کے درمیان اس میچ کے حوالے سے پاکستانی ٹیم کی کارکردگی ایک بار پھر زیر بحث بن گئی۔
الماس نامی صارف نے طنزاً لکھا کہ ’ایک لمحے کے لیے تو میں ڈر ہی گیا کہ کہیں پاکستان یہ میچ جیت گیا تو یہ سسٹم ایسے ہی چلتا رہے گا. پھر اللہ بھلا کرے شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف کا جنھوں نے اج تک کبھی پاکستان کا میچ نہیں جتایا.‘
مرزا روحان امین نامی صارف نے شاہین شاہ آفریدی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ شاہین شاہ آفریدی نے بالآخر روایت برقرار رکھی اور میچ جتوانے کی ساری گیندیں ضائع کر دیں۔‘
دوسری جانب کئی صارفین نے سلمان علی آغا کے کھیل اور سینچری کو دل کھول کر داد دی۔
ایکس پر جعفر رضی نامی صارف نے لکھا کہ ’ ون ڈے فارمیٹ میں اس وقت آغا سے اچھا کوئی کھلاڑی نہیں پاکستان کے پاس۔ بہترین سینچری آغا جی لیکن پاکستان ٹیم میچ جیتنا بھول چکی ہے۔ رنز کر لینا، کلوز پہنچ جانا لیکن جیتنا نہیں۔‘
کرکٹ کے شائق عروج جاوید نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’اس شکست کے بعد ٹیم کی کارکردگی، کپتانی اور سلیکشن کے فیصلوں پر شائقین اور ماہرین کرکٹ کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ پاکستان ٹیم کو اب آنے والے میچوں میں اپنی حکمتِ عملی اور کارکردگی بہتر بنانا ہو گی۔