آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بی بی سی سروے: انڈیا میں خواتین کرکٹرز کی تعداد سنہ 2020 کے مقابلے میں دگنی ہو گئی
انڈیا کی 14 ریاستوں میں کیے گئے ایک مطالعے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 2020 کے بعد کرکٹ کے شعبے میں انڈین خواتین کی شرکت دگنی ہو گئی ہے اور اب ہر 10 میں سے ایک لڑکی کرکٹ کھیلتی ہے۔
بی بی سی اور کلیکٹو نیوز روم کی طرف سے کمیشن کی گئی اس سٹدی میں یہ بھی پتا چلا کہ گذشتہ چھ ماہ کے دوران، ہر دو میں سے ایک شخص (51 فیصد) نے خواتین کے کھیلوں کی کوریج دیکھی۔
یہ تعداد مردوں کے کھیلوں کی کوریج دیکھنے والے لوگوں کے تناسب سے زیادہ پیچھے نہیں۔
اس تبدیلی کا بنیادی محرک خواتین کا کھیلوں میں حصہ لینا اور ویمن سپورٹس دیکھنے کے لیے 15 سے 24 سال کی عمر کی نوجوان خواتین کی شمولیت ہے۔
ہر چار میں سے ایک (26 فیصد) نوجوان خاتون کا کہنا ہے کہ انھوں نے کھیل کو کریئر کے آپشن کے طور پر منتخب کیا جبکہ 2020 میں یہ تعداد 16 فیصد تھی۔
بی بی سی، کلیکٹو نیوز روم اور بی بی سی کے ’انڈین سپورٹس ویمن آف دی ایئر انیشی ایٹو‘ کے ایک حصے کے طور پر مارکیٹ ریسرچ، سروے اور بزنس کنسلٹنسی فرم ’کنٹر‘ نے انڈیا کی 14 ریاستوں میں 10,304 لوگوں سے بات چیت کی۔
اس سروے سے جمع کردہ اعدادوشمار کو سنہ 2020 میں کیے گئے اسی طرح کے ایک سروے کے تناظر میں بینچ مارک کے طور پر رکھا گیا تاکہ کھیلوں میں انڈین خواتین کی شرکت کے ساتھ ساتھ ان کے تئيں سماجی رویوں میں آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں بصیرت حاصل کی جا سکے۔
کھیلوں میں انڈین خواتین کی نمایاں کارکردگی
اس سال کے نتائج ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب انڈیا کی خواتین کھلاڑیوں نے اہم سنگ میل حاصل کیے ہیں۔ پچھلے دو سال کے دوران، خواتین ایتھلیٹ نے کئی شعبوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور میڈیا اور بطور خاص انڈین میڈیا میں شہ سرخیاں حاصل کی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایسے میں شوٹر منو بھاکر کی سنہ 2024 کے پیرس اولمپکس میں دو گولڈ میڈلز کی تاریخی جیت، پیرا اولمپکس میں 10 تمغے حاصل کرنے والی انڈین خاتون اور خواتین کی کرکٹ ٹیم کا 2025 میں ون ڈے ورلڈ کپ جیتنا کامیابی کی ایسی کہانیاں ہیں جو تیزی سے عوام کی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔
اس سروے میں 43 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ خواتین کے کھیلوں کو براہ راست دیکھتے ہیں جبکہ مردوں کے کھیلوں کے لیے یہ تعداد 54 فیصد ہے۔
جب سٹیڈیم میں ذاتی طور پر میچ دیکھنے کی بات آتی ہے تو یہ فرق اور بھی کم ہوجاتا ہے۔ سروے کے مطابق 29 فیصد جواب دہندگان نے خواتین کے کھیلوں کو سٹیڈیم میں دیکھا جبکہ مردوں کے کھیلوں کے لیے یہ شرح 37 فیصد تھی۔
ان کامیابیوں سے متاثر ہو کر کرکٹ اور بیڈمنٹن میں حصہ لینے والی خواتین کی تعداد میں اضافہ ہوا۔
اس تحقیق کے مطابق، مختلف کھیلوں میں حصہ لینے کے معاملے میں کرکٹ مردوں اور عورتوں دونوں اصناف میں اولین انتخاب کے طور پر سامنے آیا۔
پچھلے مطالعہ کے بعد سے، کرکٹ میں حصہ لینے میں صنفی فرق کم ہو گیا۔
سنہ 2020 میں، خواتین کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ مردوں نے کرکٹ کھیلی تاہم 2026 تک یہ فرق صرف تین ایک کے تناسب تک محدود ہو گیا۔
کرکٹ کے علاوہ خواتین میں بیڈمنٹن کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہوا۔ سروے میں شامل چھ فیصد خواتین اب اس کھیل میں حصہ لے رہی ہیں۔
سنہ 2020 میں یہ تعداد چار فیصد رہی۔
جنوب میں آندھرا پردیش اور تلنگانہ اور شمال میں پنجاب جیسی ریاستوں میں خواتین میں بیڈمنٹن کے لیے خاص طور پر جوش و خروش دیکھا گیا۔
پی وی سندھو، سائنا نہوال اور تنوی شرما جیسی لیجنڈری بیڈمنٹن کھلاڑیوں کا تعلق ان ہی علاقوں سے ہے۔
ترغیب
کھیلوں میں بڑھتی شرکت اور ناظرین کی بڑھتی تعداد کے پیچھے ایک بڑی ترغیبی قوت اس تعلق کا احساس ہے جسے ناظرین خواتین کھلاڑیوں کے ساتھ محسوس کرتے ہیں۔ ایک تہائی (33 فیصد) جواب دہندگان نے خواتین کے کھیلوں کو دیکھنے کی وجہ کے طور پر ’خواتین کھلاڑیوں کی حمایت‘ کا حوالہ دیا۔
سنہ 2020 میں یہ تعداد 21 فیصد تھی۔ مردوں کے کھیلوں کے تناظر میں صرف 17 فیصد جواب دہندگان نے کسی مخصوص ایتھلیٹ کے لیے ذاتی حمایت کو اپنے لیے ترغیب قرار دیا۔
مزید برآں، اس سال ہر دو میں سے ایک خاتون (51 فیصد) نے اس سوال کا جواب دیا کہ کون سی انڈین خاتون کھلاڑی اپنے قریبی حلقے میں لوگوں میں سب سے زیادہ مقبول ہے۔
سنہ 2020 کے مقابلے اس بار اس میں سات فیصد پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا۔
سروے میں جن خواتین نے بتایا کہ وہ فی الحال کسی بھی کھیل میں حصہ نہیں لیتی ہیں، جب ان سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو ان میں سے 13 فیصد نے حفاظت سے متعلق خدشات بتائے۔
تحقیق کے مطابق سروے میں شامل ریاستوں میں یہ تعداد تقریباً 32.7 ملین خواتین کے مساوی ہے۔ یہ مسئلہ ان ریاستوں میں زیادہ کثرت سے دیکھا گیا جہاں پچھلی دہائی کے دوران صنفی بنیاد پر تشدد کے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے۔
مطالعے میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ کھیلوں کو کھیلنے اور دیکھنے دونوں میں بڑھتی دلچسپی کے باوجود، خواتین کے کھیلوں کے حوالے سے بعض ’منفی تصورات‘ اور ’پابندیاں‘ سنہ 2020 کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہو گئی ہیں۔
دس میں سے چار سے زیادہ جواب دہندگان (43 فیصد) کا خیال ہے کہ خواتین کے کھیل مردوں کے کھیلوں کے مقابلے میں کم باعث تفریح ہوتے ہیں (پہلے یہ 38 فیصد سے زیادہ تھا)۔
وقت کی کمی کھیل سے دور ہونے کی اہم وجہ
تحقیق سے پتا چلا کہ تقریباً دو میں سے ایک شخص (46 فیصد) کا خیال تھا کہ خواتین ایتھلیٹس کو پرکشش نظر آنا چاہیے اور مردوں کے مقابلے میں خواتین ہی اس بیان سے زیادہ متفق نظر آئیں۔
کھیل چھوڑنے کی ایک بڑی وجہ کے طور پر ’وقت کی کمی‘ سروے میں نمایاں وجہ کے طور پر سامنے آئی۔ جہاں کرکٹ کھیلنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، وہیں اس کھیل میں حصہ لینے والے انڈینز کی مجموعی تعداد میں بہت کم بہتری آئی۔
اس تحقیق میں اس بات پر تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ انڈیا میں لوگ وقت کی کمی کی وجہ سے اپنی کھیلوں کی عادتیں ترک کر رہے ہیں۔
سروے میں شامل انڈینز میں سے 74 فیصد (2020 میں 69 فیصد) نے کہا کہ جب وہ بچے تھے تو کرکٹ کھیلتے تھے لیکن بالغ ہونے یا بڑے ہونے کے بعد ان میں سے صرف آدھے لوگ ہی کرکٹ کھیلتے ہیں۔
سروے میں شامل دو تہائی (65 فیصد) جواب دہندگان جو کھیلوں میں حصہ نہیں لیتے ہیں، نے کہا کہ ان کے پاس اس کے لیے وقت نہیں۔
اس مطالعے میں یہ نوٹ کیا گیا کہ کام اور زندگی میں بہتر توازن سے خواتین کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچے گا کیونکہ وہ اپنے پیشہ ورانہ کام کے ساتھ ساتھ گھر کا انتظام اور بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری کا بڑا حصہ اٹھاتی ہیں۔