آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
300 ارب ڈالر کے ’تاریخی‘ معاہدے پر سوال: ٹرمپ کے اعلان پر مکیش امبانی کی ’ریلائنس‘ اب تک خاموش کیوں؟
- مصنف, دیپک منڈل
- عہدہ, بی بی سی، نئی دہلی
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
ایران جنگ کی وجہ سے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیکساس میں آئل ریفائنری بنانے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق انڈین کمپنی ریلائنس انڈسٹریز اس ریفائنری میں تعاون کرے گی، جسے امریکہ فرسٹ ریفائننگ پروجیکٹ کے ذریعے بنایا جائے گا۔
امریکی صدر نے اسے امریکی توانائی کے شعبے کے لیے ایک تاریخی قدم قرار دیا ہے۔
ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت فی بیرل 120 ڈالر تک پہنچ گئی۔
لیکن منگل کو ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ’ایران جنگ ختم ہو چکی ہے۔‘ اس کے بعد خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل تک گرنے کے بعد ایک بار پھر سے بڑھ رہی ہے۔
تاہم یہ قیمت 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ سے پہلے کے مقابلے میں اب بھی کافی زیادہ ہے کیونکہ فروری میں انڈین باسکٹ میں خام تیل کی قیمت 69 ڈالر فی بیرل تھی۔
بی بی سی ویریفائی کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ پیدا ہوئی تو وہ 20 گنا زیادہ طاقت سے حملہ کریں گے۔
دنیا کی تیل کی سپلائی کا 20 فیصد اسی بحری راستے سے گزرتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹرمپ نے کیا کہا؟
اپنے سوشل میڈیا ٹروتھ سوشل پر ٹیکسس میں ریفائنری بنانے کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا: ’امریکہ توانائی کے شعبے میں حقیقی غلبے کی طرف لوٹ رہا ہے۔ آج، مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے فخر ہو رہا ہے کہ امریکہ فرسٹ ریفائننگ براؤنز وِل ٹیکساس میں ایک ریفائنری کھول رہی ہے۔ یہ پہلی ریفائنری ہوگی جو وہاں گذشتہ 50 سالوں میں کھولی جائے گی۔ یہ امریکی تاریخ کا سب سے بڑا 300 ارب ڈالر کا پروجیکٹ ہے۔ یہ امریکی کارکنوں، توانائی کے شعبے اور جنوبی ٹیکسس کے شاندار لوگوں کے لیے ایک بڑی فتح ہے۔‘
انھوں نے مزید لکھا: ’میں اس بڑی سرمایہ کاری کے لیے انڈیا میں اپنے شراکت داروں اور ملک کی سب سے بڑی نجی توانائی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘
ٹرمپ کے اس اعلان کو تیل کی بین الاقوامی منڈی میں سپلائی کو یقینی بنانے کی امریکی کوششوں کے حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے قبل امریکہ نے انڈیا کو روس سے تیل خریدنے کے لیے 30 دن کی چھوٹ دی تھی۔
ٹرمپ کے اس اقدام کو اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ انڈیا میں تیل صاف کرنے کی ایک اہم صنعت ہے۔
تیل صاف کرنے کی صلاحیت کے لحاظ سے انڈیا دنیا کے پانچ سرفہرست ممالک میں شامل ہے۔
انڈیا کی ریفائننگ انڈسٹری کو بین الاقوامی منڈی میں تیل کی سپلائی کو برقرار رکھنے میں اہم کڑی سمجھا جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر انڈیا کو خام تیل ملتا رہا تو بین الاقوامی منڈی میں تیل کی سپلائی میں بہتری آئے گی۔
فائدہ کس کو ہوگا؟
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ ریفائنری امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر براؤنسویل بندرگاہ پر تعمیر کی جائے گی۔ اس کی ریفائننگ کی صلاحیت 168,000 بیرل یومیہ ہوگی۔
امریکہ فرسٹ کے چیئرمین جان وی کیلس نے کہا کہ ’50 سالوں میں یہ پہلا موقع ہے جب امریکہ ایک نئی ریفائنری بنا رہا ہے۔‘
اس میں امریکن شیل آئل کی ریفائننگ ہوگی۔
امریکہ خلیجی ساحل پر بہت سی ریفائنریز فریکنگ کے ذریعے تیار کیے جانے والے ہلکے اور کم سلفر والے خام تیل پر کارروائی نہیں کر سکتیں۔
گذشتہ 40 سالوں میں ان ریفائنریز کو سستے، بھاری اور زیادہ سلفر والے خام تیل پر کارروائی کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ اس خام تیل کی کثافت زیادہ ہوتی ہے اور اس میں سلفر زیادہ ہوتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ریلائنس انڈسٹریز کی ریفائننگ کی مہارت اور صلاحیت اس سلسلے میں امریکہ کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
توانائی کی پالیسی کے ماہر نریندر تنیجا نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکہ میں ’جدید ریفائنریز کا فقدان ہے جبکہ ریلائنس کے پاس جدید اور عالمی معیار کی ریفائنریز ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ریلائنس انڈسٹریز بڑی مقدار میں پیٹرول، ڈیزل اور ٹربائن فیول برآمد کرتی ہے۔
یہ ریلائنس کے لیے ایک منافع بخش سودا ہو سکتا ہے کیونکہ اس کی ریفائنری ٹیکساس اور خلیج میکسیکو کے قریب واقع ہوگی، جہاں وافر مقدار میں خام تیل دستیاب ہے۔
امریکہ دنیا کا سب سے بڑا خام تیل پیدا کرنے والا اور صارف دونوں ہے۔
نریندر تنیجا کہتے ہیں: ’امریکہ کو بڑی مقدار میں پیٹرول، ڈیزل، اور ٹربائن فیول (ایوی ایشن فیول) درآمد کرنا پڑتا ہے۔ امریکی ریفائنریوں کے پاس خلیج میکسیکو اور ٹیکسس کے قریب پائے جانے والے بھاری خام تیل کو پروسیس کرنے کی ریفائننگ کی صلاحیت نہیں ہے۔ ریلائنس کی ریفائننگ کی مہارت اس سلسلے میں مددگار ثابت ہوگی۔‘
’امریکہ کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ اسے پیٹرول، ڈیزل اور ٹربائن فیول جیسے ریفائنڈ تیل کی ضرورت سے زیادہ درآمدات پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا۔ اور اس طرح وہ گھریلو مارکیٹ کی فراہمی اور یورپ اور دیگر ممالک کو برآمد کرنے کے قابل ہو جائے گا۔‘
منصوبے پر سوال کیوں اٹھائے جا رہے ہیں؟
ڈونلڈ ٹرمپ نے بھلے ہی ریفائنری کا اعلان کیا ہو، لیکن ریلائنس انڈسٹریز کی طرف سے ابھی تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
نریندر تنیجا کا کہنا ہے کہ ’ٹرمپ کے بیان کی بنیاد پر کوئی تبصرہ کرنا قبل از وقت ہوگا۔ اس پر ریلائنس انڈسٹریز کی جانب سے کوئی بیان نہیں آیا ہے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں: ’ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ اگر یہ مشترکہ منصوبہ ہے تو اس میں کس کے پاس زیادہ حصہ ہو گا؟ ریفائنری کتنی بڑی ہو گی اور اس کی استعداد کیا ہو گی؟ اس میں کونسی ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی۔ ریلائنس کی سرمایہ کاری یا تو امریکی بینکوں سے قرض یا اس کی اپنی رقم ہوگی۔‘
نریندر تنیجا کا کہنا ہے کہ ’اگر ریلائنس سرمایہ کاری کرتی ہے تو یہ انڈیا سے باہر اس کا پہلا ریفائننگ وینچر ہوگا۔ تاہم، ہم ابھی اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔‘
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تجزیہ کاروں کو خدشہ ہے کہ آیا امریکی خلیجی ساحل پر ایک نئی ریفائنری کی واقعی ضرورت ہے۔
کیونکہ امریکہ کی دس بڑی ریفائنریوں میں سے آٹھ پہلے ہی یہاں واقع ہیں۔ پانچ سب سے بڑی ریفائنریاں تو پہلے سے ہی ٹیکسس میں ہیں۔
ریفائنڈ فیول اینالیٹکس کے مینیجنگ ڈائریکٹر جان آئرس نے روئٹرز کو بتایا: ’ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے اکثر اس طرح کے بلند و بانگ دعوے دیکھے جاتے ہیں۔‘