’ایف آئی آر میں تاخیر، بددیانت چشم دید گواہ‘: دادُو میں تین افراد کے قتل میں نامزد تمام ملزمان بری

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو، کراچی
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

صوبہ سندھ کے ضلع دادو کی عدالت نے اُم رباب کے والد سمیت تین افراد کے قتل کیس میں نامزد حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے دو اراکینِ سندھ اسمبلی سمیت آٹھ ملزموں کو باعزت بری کر دیا ہے۔

دادو کے ایڈیشنل سیشن جج ون حسن علی کلوڑ نے سکندر علی، علی گوہر، سردار احمد خان، برہان خان، عبدالستار، ذوالفقار، غلام مرتضیٰ اور عبدالکریم عرف کریم بخش کو بری کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگرچہ تینوں افراد کرم اللہ، مختار احمد اور قابل حسین آتشیں اسلحے کے زخموں سے غیر فطری طور پر ہلاک ہوئے، لیکن استغاثہ ملزموں کے جرم کو کسی بھی معقول شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

اُم رباب کے خاندان کے تین افراد کیسے قتل ہوئے؟

یاد رہے 18 جنوری 2018 کو رات ایک بجے پرویز احمد ولد کرم اللہ خان چانڈیو نے تھانہ ’اے‘ سیکشن، میہڑ، ضلع دادو میں ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ اس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مقتول مختار احمد ان کے بھائی اور کرم اللہ خان چانڈیو ان کے والد تھے، جو کہ یونین کونسل کے چیئرمین تھے۔

انھوں نے الزام لگایا گیا کہ کافی عرصے سے سردار خان ولد شبیر احمد چانڈیو (چانڈیو قبیلے کے سردار) ان کے بھائی مختار احمد خان کو دھمکیاں بھیج رہے تھے۔ مختار احمد خود بھی ’تمن دار‘ تھے اور انھوں نے چانڈیو برادری کے دیگر تمن داروں کو ساتھ ملا کر ایک ’تمن دار کونسل‘ بنائی تھی۔

ایف آئی آر میں درج مدعی کے دعوے کے مطابق سردار خان کا خیال تھا کہ مختار احمد ان کی سرداری کے خلاف بغاوت پھیلا رہے ہیں، اس لیے وہ مطالبہ کر رہے تھے کہ تمن دار کونسل کو ختم کر دیا جائے، بصورتِ دیگر وہ اس کونسل کو ’دیکھ لیں گے‘ اور مختار احمد سمیت ان کے پورے خاندان کو شدید نقصان پہنچائیں گے۔

ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا کہ سردار خان مختلف اوقات میں مختلف لوگوں کے ذریعے مختار احمد کو ایسے دھمکی آمیز پیغامات بھیجتے رہے تھے۔

واقعے کے روز کے بارے میں ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا کہ 17 جنوری 2018 کی صبح، مدعی پرویز احمد اپنے والد کرم اللہ خان، بھائیوں مختار احمد، قابل حسین، کزن اعجاز احمد اور منظور احمد اپنے اوطاق کے سامنے کھڑے تھے۔ اسی دوران صبح تقریباً نو بجے دو گاڑیاں (ایک سفید کورولا کار اور ایک سفید لینڈ کروزر) ان کے اوطاق کے سامنے آ کر رکیں جن میں سے چھ مسلح افراد اترے۔

ایف آئی آر کے مطابق ان کی شناخت علی گوہر ولد بختیار علی عرف بختیار چانڈیو، غلام مرتضیٰ ولد محمد صفر چانڈیو، سکندر ولد علی حسن چانڈیو، ذوالفقار ولد غلام قادر عرف قادو چانڈیو، غلام قادر عرف قادو ولد پاریل چانڈیو کے طور پر ہوئی جبکہ ایک ملزم برہان ولد شبیر احمد چانڈیو لینڈ کروزر میں بیٹھے تھے۔

ایف آئی آر کے مطابق ملزم برہان نے لینڈ کروزر کے دروازے کا شیشہ نیچے کیا اور وہاں سے اپنے ساتھی ملزموں کو اُکسایا کہ ’انھوں نے سردار خان کے خلاف بغاوت پیدا کر دی ہے اور کئی بار منع کرنے کے باوجود باز نہیں آ رہے، لہٰذا ان کے ساتھ ایسا سلوک کریں کہ وہ دوسروں کے لیے نشان عبرت بن جائیں اور ان کا قتل کر کے انھیں ختم کر دیا جائے۔‘

ایف آئی آر میں درج مدعی کے الزام کے مطابق ملزم برہان خان کی اس اشتعال انگیزی اور ملزم سردار خان کی ایما پر دیگر ملزموں نے اپنے ہتھیاروں کے منہ کھول دیے اور اندھا دھند فائرنگ کی، جس سے عوام میں دہشت پھیل گئی۔

ایف آئی آر کے مطابق ملزم غلام قادر عرف قادو نے قتل کرنے کی نیت سے مدعی کے والد کرم اللہ پر ریپیٹر سے فائر کیا جو انھیں پیٹ پر لگا۔ مدعی کے والد نے غلام قادر عرف قادو کے ساتھ گتھم گتھا ہو کر انھیں نیچے گرانے کی کوشش کی، اسی دوران ملزم علی گوہر نے کلاشنکوف سے اور غلام مرتضیٰ نے ریپیٹر سے ملزم غلام قادر عرف قادو کو چھڑانے کے لیے فائر کیے۔

ایف آئی آر کے مطابق کلاشنکوف کا ایک فائر مدعی کے والد کے سینے کی دائیں جانب لگا، جبکہ کلاشنکوف اور ریپیٹر کے فائر ملزم قادو کو بھی لگے اور دونوں زمین پر گر گئے۔ ملزم مرتضیٰ نے قتل کی نیت سے مختار احمد خان پر ریپیٹر سے سیدھا فائر کیا جو انھیں سینے کے اوپری حصے پر لگا، ملزم علی گوہر نے مختار پر کلاشنکوف سے فائر کیے جو ان کے چہرے پر لگے اور وہ چیختے ہوئے نیچے گر گئے۔ ملزم سکندر نے قتلِ عمد کی نیت سے قابل حسین پر ریپیٹر سے فائر کیا جو ان کے دائیں کولہے پر لگا، وہ بھی چیختے ہوئے گر گئے۔

مدعی کے مطابق ملزموں نے اندھا دھند فائرنگ جاری رکھی، نعرے لگائے اور کہا کہ ’جو بھی سردار خان کے خلاف بغاوت پھیلانے کی کوشش کرے گا اسے ایسے ہی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا‘ اور فائرنگ کرتے ہوئے مذکورہ دونوں گاڑیوں میں سوار ہو کر مغربی سمت چلے گئے۔

مدعی کا کہنا ہے کہ انھوں نے تعلقہ ہسپتال میہڑ میں متوفی کرم اللہ اور مختار احمد کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد ان کی تدفین کی۔ شام کے وقت مدعی کو اطلاع ملی کہ قابل حسین بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے لاڑکانہ میں وفات پا گئے ہیں۔ تعلقہ ہسپتال میہڑ سے ان کی میت کا بھی پوسٹ مارٹم کرانے کے بعد مدعی نے تھانے حاضر ہو کر مندرجہ بالا ایف آئی آر درج کرائی۔

کبھی ننگے پاؤں تو کبھی لالٹین ہاتھ میں

اس تہرے قتل کا مقدمہ تو پرویز چانڈیو کی مدعیت میں دائر ہوا لیکن اسے شہرت ان کی بھتیجی اُم رباب کی وجہ سے ملی۔ مقتولین میں اُم رباب کے والد مختیار چانڈیو، دادا کرم اللہ چانڈیو اور چچا قابل چانڈیو شامل تھے۔ ابتدا میں یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلایا گیا۔

ایک موقع پر امِ رباب سپریم کورٹ کے اُس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی گاڑی کے سامنے آ گئیں۔

اُم رباب کے مطابق چیف جسٹس نے عوام کے سامنے اعلان کیا تھا کہ وہ انصاف دلائیں گے اور دو ماہ میں مقدمے کا فیصلہ سنا دیا جائے گا، لیکن اس پر عمل در آمد نہیں ہو سکا۔

پھر جنوری میں تحریری طور پر حکم جاری کیا گیا کہ یہ مقدمہ تین ماہ کے اندر نمٹایا جائے کیونکہ اس میں انسداد دہشت گردی کے دفعات لگی ہوئی ہیں اور قانون کے مطابق یہ مقدمہ تین سے چھ ماہ میں مکمل ہونا چاہیے لیکن پھر بھی عمل نہ ہوا۔

اُم رباب نے مقدمے میں تاخیر پر خاموش احتجاج ریکارڈ کرایا، جس میں وہ ننگے پاؤں عدالت میں گئیں۔ سوشل میڈیا پر یہ تصویر بڑے پیمانے پر شیئر ہوئی اور لوگوں نے ام رباب کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔

ایک بار وہ لالٹین لے کر عدالت پہنچیں۔

یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آیا جس کے بعد اس کو ٹرائل کورٹ میں بھیجا گیا۔ تقریباً چھ سال سے زیادہ عرصے کے بعد اس کا فیصلہ سنایا گیا۔

ملزم کن بنیادوں پر بری کیے گئے؟

دادو کی عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ ایف آئی آر واقعے کے 16 گھنٹے بعد درج کی گئی۔ مدعی کے پاس پولیس کو جرم کی اطلاع دینے کے کافی مواقع تھے، وہ ہسپتال میں موجود تھے اور جائے وقوعہ سے صرف 200 میٹر کے فاصلے پر واقع تھے۔ عدالت نے اس تاخیر کو مشکوک پایا اور قرار دیا کہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ وقت کہانی گھڑنے کی خاطر ’مشاورت اور غور و خوض‘ کے لیے استعمال کیا گیا۔

عدالت نے عینی شاہدین کے بیانات کو بد دیانتی پر مبنی قرار دیا اور فیصلے میں لکھا ہے کہ عینی شاہدین ٹرائل کے دوران نئی تفصیلات اور نام سامنے لائے جو ان کے پولیس کے اصل بیانات یا ایف آئی آر میں درج نہیں تھے۔

جج نے اسے ’ناقابل فہم‘ قرار دیا کہ عینی شاہدین واقعے کے وقت مکمل طور پر محفوظ رہے حالانکہ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ خودکار ہتھیاروں سے لیس پانچ افراد کی جانب سے ’اندھا دھند فائرنگ‘ کے دوران محض پانچ یا چھ فٹ کے فاصلے پر موجود تھے۔ انھوں نے نوٹ کیا کہ اگر قاتلوں کا ارادہ ’پورے خاندان کو ختم کرنا‘ تھا تو وہ اہم گواہوں کو اپنے خلاف گواہی دینے کے لیے زندہ نہ چھوڑتے۔

فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ میڈیکل رپورٹس نے ایک مقتول اور حملہ آور کے درمیان ’گتھم گتھا‘ ہونے کے بارے میں گواہوں کے بیان کی تردید کی۔ جج نے مشاہدہ کیا کہ یہ جسمانی طور پر ناممکن تھا کیونکہ دونوں افراد کو سامنے سے زخم آئے ہیں جبکہ وہ مبینہ طور پر جدوجہد کے دوران ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔

عدالت نے غیر جانبدار شواہد کی کمی کی نشاندہی کی ہے اور کہا ہے کہ استغاثہ غیر جانبدار گواہوں، جیسے قریبی دکانداروں کے بیانات لینے میں ناکام رہا اور ان پولیس گواہوں کو بھی چھوڑ دیا جو سب سے پہلے جائے وقوعہ پر پہنچے تھے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سردار احمد خان کو سازش سے جوڑنے والا کوئی براہ راست یا ضمنی ثبوت موجود نہیں تھا۔ برہان خان کے بارے میں جج نے نوٹ کیا کہ وہ واقعے کے وقت دوسرے ضلع ٹنڈو محمد خان میں موجود تھے۔

اسی طرح کال ڈیٹیل ریکارڈز کی سیلولر کمپنیوں سے تصدیق نہیں کرائی گئی تھی اور ان میں آواز کی ریکارڈنگ موجود نہیں تھی، جس کی وجہ سے وہ قانونی طور پر رابطے یا سازش کو ثابت کرنے کے لیے ناکافی تھے۔

عدالت نے شک کا فائدہ دیتے ہوئے سکندر علی، علی گوہر، سردار احمد خان، برہان خان، عبدالستار، ذوالفقار، غلام مرتضیٰ اور عبدالکریم سمیت تمام آٹھ ملزموں کو بری کر دیا اور حکم جاری کیا کہ حراست میں موجود افراد کو فوری رہا کیا جائے۔

’ایک ملزم کو بھی سزا نہ ہونا باعثِ تعجب‘

اس فیصلے سے پہلے دادو شہر اور عدالت میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے۔

چانڈیو قبیلے کے سربراہ رکن سندھ اسمبلی سردار خان چانڈیو اور برہان چانڈیو اپنے محافظوں اور ہمدروں کے ہمراہ عدالت پہنچے اور فیصلے کے بعد انھوں نے باہر نکل کر اپنے حمایتیوں کو مبارک باد دی۔

میڈیا سے مختصر بات چیت میں انھوں نے کہا کہ ’پہلے دن سے کہہ رہا تھا کہ یہ سب جھوٹ پر مبنی ہے اور آج ہم بری ہو گئے۔‘

عدالتی فیصلے کے بعد اُم رباب نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تین افراد کے قتل میں ملوث کسی ایک ملزم کو بھی سزا نہیں ہوئی، یہ ان کے لیے ’باعث تعجب ہے۔‘

اُم رباب کا کہنا تھا کہ ’ریاست کی عدالت نے یہ فیصلہ دیا ہے لیکن عوامی عدالت ان کے حق میں فیصلہ دے چکی ہے۔‘

ام رباب نے ہائی کورٹ جا کر یہ فیصلہ چیلنج کرنے کا بھی اعلان کیا۔

ان کے وکیل صلاح الدین پنہور کا کہنا تھا کہ تین چشم دید گواہ موجود تھے اور میڈیکل رپورٹ بھی تھی۔ صلاح الدین کے مطابق اتنی شہادتیں تو ضرور تھیں جن کے تحت سزا ہو سکتی تھی لیکن تمام ملزم بری کر دیے گئے۔