’مجھے اچانک دبئی کا ویزا مل گیا‘: ایران جنگ کے باعث متحدہ عرب امارات میں ’مواقع سے فائدہ‘ اٹھاتے پاکستانیوں کی کہانیاں

    • مصنف, احتشام احمد شامی
    • عہدہ, صحافی
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

بیرون ملک جانے کے خواہشمند انیق بٹ کو قریب ایک سال سے دبئی کا ویزا نہیں ملا تھا۔ وہ پاکستان کے حالات سے تنگ تھے اور متحدہ عرب امارات جا کر روزگار کمانا چاہتے تھے۔

لیکن پھر فروری کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی جس کے بعد سے تہران کی طرف سے متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی ریاستوں میں جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔

انیق بٹ، جن کا نام ان کے تحفظ کے لیے تبدیل کیا گیا ہے، کا کہنا ہے کہ اس جنگ میں ’بہت سارے لوگوں کا نقصان ہو گیا (مگر) وہیں ہمیں یہ فائدہ ہوا ہے کہ نہ صرف میرا دبئی کا ویزا جاری ہو گیا بلکہ میں یہاں آ کر اپنے بڑے بھائی کے ساتھ ان کے کاروبار میں ہاتھ بھی بٹانے لگا ہوں۔‘

انیق اِن پاکستانیوں میں شامل ہیں جنھوں نے طویل تاخیر کے بعد اچانک ویزا مل جانے پر تمام تر خطرات کے باوجود دبئی اور ابو ظہبی کے ٹکٹ کٹوائے اور وہاں پہنچ گئے۔

اس تاخیر کی وجہ بظاہر متحدہ عرب امارات میں ویزا پالیسی کی تبدیلی تھی۔ جبکہ پاکستان نے بھی گذشتہ مہینوں کے دوران مختلف وجوہات کی بنا پر ہزاروں مسافروں کو آف لوڈ کیا ہے تاکہ پاسپورٹ کی ساکھ بحال کر سکے۔

’میرے لیے دبئی دنیا کی جنت ہے‘

انیق بٹ کے بڑے بھائی ارحم 2002 سے دبئی میں مقیم ہیں اور وہاں گاڑیوں کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ انھوں نے کئی سال بطور مکینک کام کیا مگر چار سال پہلے اپنی ورکشاپ قائم کی ہے۔

وہ دبئی میں لوگوں کی گاڑیاں مرمت کرتے ہیں۔ ان کے مطابق حادثے کا شکار گاڑیوں کو نیلامی میں خرید کر انھیں ری کنڈیشن کر کے بیچنے میں اچھا منافع مل جاتا ہے۔

ارحم نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ان کے لیے اب بھی دبئی ’دنیا کی جنت ہے جس نے مجھے زیرو سے اس مقام پر پہنچایا۔‘

وہ اب یہاں مالی لحاظ سے مستحکم ہو چکے ہیں اور ’اگر پاکستان میں ہی رہتے تو شاید صورتحال ایسی نہ ہوتی۔‘

جب وہ 24 سال پہلے دبئی پہنچے تو ’گھر قرضے میں بری طرح جکڑا ہوا تھا، لوگ اپنے ادھار کی رقم واپس مانگنے آتے تھے تو ہم شرمندگی کے باعث دروازہ نہیں کھولتے تھے۔‘

’گھر میں جو کچھ تھا وہ بیچ کر والدین نے مجھے دبئی بھجوایا اور میں نے یہاں مشکل حالات ضرور دیکھے لیکن ناکامی کا منھ نہیں دیکھا۔ دن رات کی تفریق کیے بغیر کام کیا اور اس کا پھل پایا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’آج پاکستان میں میرا دس مرلے کا ذاتی گھر اور چار پلاٹ ہیں، بچے اچھے سکولوں میں پڑھتے ہیں، بیوی بچوں کو سال میں ایک بار وزٹ ویزے پر دبئی کی سیر کروا دیتا ہوں۔‘

ان کی رائے میں ’پاکستان میں اس کی عزت ہے جس کے پاس پیسہ ہے۔ میرے پاس دبئی کے درہم ہیں اس لیے مالی پریشانیوں سے آزاد ہو چکا ہوں۔‘

ارحم بٹ کہتے ہیں کہ دبئی میں گاڑیوں کے کام کی سمجھ بوجھ ہونا ایک فن ہے۔ ’میں نے دو عشرے اس کام میں گزارے ہیں، میرے لیے اس کام کو آگے بڑھانا کوئی مشکل نہیں تھا۔ اسی وجہ سے میں اپنے چھوٹے بھائی کو بھی یہاں بلانا چاہ رہا تھا تاکہ وہ بھی اس کام کو سیکھے اور میرا ہاتھ بٹائے۔ تاہم اسے ویزا نہیں مل پا رہا تھا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’میرے پاس ورکشاپ کا جو لائسنس ہے اس کے تحت میں دوسرے ملک سے ورکرز کو ویزا سپانسر کرسکتا ہوں۔ لیکن جب سے دبئی حکومت کی پاکستان کے لیے ویزا پالیسی تبدیل ہوئی ہے، بھائی کے ویزے میں رکاوٹیں آ رہی تھیں کیونکہ بھائی غیرشادی شدہ ہے۔‘

لیکن اب ’ایک کنسلٹنٹ نے بتایا کہ جنگ کی وجہ سے ویزا پالیسی نرم ہوئی ہے۔ چنانچہ میں نے یہاں سے ویزا اپلائی کیا تو وہ دو دنوں بعد ہی منظور ہو گیا اور بھائی اگلی فلائٹ سے پاکستان سے دبئی پہنچ گیا۔‘

دبئی میں کن شعبوں میں پاکستانیوں کے لیے ملازمتیں ہیں؟

ملک ابوبکر (تبدیل شدہ نام) بھی ان خوش قسمت لوگوں میں شامل ہیں جو کہ حال ہی میں دبئی پہنچے ہیں اور انھوں نے وہاں فوری طور پر روزگار کمانا شروع کر دیا ہے۔

ان کے بہنوئی ملک ذیشان اپنی فیملی کے ساتھ شارجہ میں مقیم ہیں اور ان کی دبئی میں ٹورزم کمپنی اور الیکٹرونکس ریپئرنگ شاپ ہے۔ وہاں انھوں نے کچھ ملازم رکھے ہوئے ہیں۔ حالیہ جنگ کی وجہ سے ٹورزم کمپنی تو فی الحال بند پڑی ہے لیکن الیکٹرونکس شاپ چل رہی ہے۔

ملک ابوبکر بتاتے ہیں کہ انھوں نے بزنس ایڈمنسٹریشن میں گریجویشن کی ہوئی ہے اور پاکستان میں انھوں نے نوکری کے لیے متعدد جگہ پر اپلائی کیا تھا لیکن کوئی 20، 22 ہزار روپے سے زیادہ تنخواہ دینے کو تیار نہ تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میرے بہنوئی نے مجھے کہا ہوا تھا کہ تم دبئی میں سیٹ ہوسکتے ہو لیکن اس کے لیے اگر تمہاری انگریزی اچھی ہے تو ٹورزم کمپنی میں کام کر سکو گے جہاں ایک سو درہم روزانہ تنخواہ ملے گی۔ اور جو ٹپ ملے گی وہ تمہاری ہو گی۔‘

ملک ابوبکر کہتے ہیں کہ دبئی میں الیکٹرونکس مرمت، پلمبنگ اور دیگر ایسے کاموں میں اچھے پیسے کمائے جا سکتے ہیں لیکن اس کے لیے ’پڑھائی اور معاشرتی جھجھک کو بالائے طاق رکھنا پڑتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے بے روزگاری کے دنوں میں ایئرکنڈیشن ریپئرنگ اور پلمبنگ کا کام سیکھ لیا تھا۔ اب ویزوں میں نرمی ہوتے ہی جب بہنوئی نے ویزا اپلائی کیا تو مجھے ویزا مل گیا۔‘

وہ اب دبئی میں روزانہ دس گھنٹے کام کر کے ڈیڈھ سے دو سو درہم کما رہے ہیں جو کہ پاکستانی بارہ سے سولہ ہزار روپے بنتے ہیں۔

’اتنے پیسوں میں تو پاکستان میں کوئی مجھے ماہانہ تنخواہ پر رکھنے کو تیار نہ تھا۔‘

’آئی ٹی کی نوکریوں میں مقابلہ سخت‘

ٹیپو خان آئی ٹی گریجویٹ ہیں۔ اگرچہ وہ دبئی تو پہنچ گئے ہیں تاہم فی الحال نوکری کی تلاش میں ہیں۔

ٹیپو خان کہتے ہیں کہ وہ لاہور میں ایک میڈیکل بلنگ کمپنی کے ساتھ کام کر رہے تھے اور اس کمپنی کو امریکہ کی کسی کمپنی سے کنٹریکٹ ملا ہوا تھا، تاہم پاکستان میں کمپنی کے مالک نے کم تنخواہوں پر بندے بھرتی کیے ہوئے تھے اور وہ تیس پینتیس ہزار ماہانہ سے زیادہ تنخواہ نہیں دیتے تھے، جس وجہ سے انھوں نے پاکستان سے دبئی میں نوکریوں کے لیے اپلائی کرنا شروع کر دیا۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’میرا ایک دوست دبئی میں پراپرٹی کا کام کرتا ہے جس نے میری کچھ لوگوں کے ساتھ بات بھی کروائی جو کہ دبئی میں آئی ٹی سے منسلک تھے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہاں مقابلہ سخت ہے اور آسانی سے جاب نہیں مل سکتی۔ اگر آپ دبئی میں رہ کر اپلائی کرو اور انٹرویوز دو تو شاید بات بن جائے، لیکن پاکستان میں رہ کر آپ کو کوئی نوکری نہیں دے گا۔‘

ٹیپو خان کہتے ہیں کہ ’میرے دوست نے میرے لیے ویزے کا بندوبست کرنا چاہا لیکن وہ ناکام رہا۔ اب ویزہ مل گیا ہے اور میں یہاں آ کر روزانہ پندرہ بیس جگہوں پر اپلائی کرتا ہوں، لیکن کوئی انٹرویو کے لیے کال ہی نہیں کرتا۔‘

’جو تین انٹرویوز ہوئے ہیں وہ بھی فون کال پر ہوئے لیکن اس کے بعد کوئی ریسپانس نہیں ملا۔ میرا دوست کہتا ہے کہ دبئی انٹرنیشنل مارکیٹ ہے، یہاں پاؤں جمانا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، اس لیے کوشش جاری رکھو۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’میرے ویزے کی معیاد تین ماہ ہے جس میں سے دو ہفتے تو گزر چکے ہیں۔ یہاں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اگر ایران کی امریکہ، اسرائیل کے ساتھ جنگ بند ہو گئی تو بڑے پیمانے پر نوکریاں نکلیں گی اور میرا چانس بھی بن جائے گا۔‘

’میں پُرامید ہوں اور مایوس نہیں ہوا۔ اگر میری قسمت میں اچھے دن لکھے ہیں تو ضرور آئیں گے۔‘

’پراپرٹی اور گاڑیاں اصل قیمت پر آ گئی ہیں‘

سیالکوٹ کے رہائشی واجد علی کے تین بیٹے ہیں جن میں سے ایک بیٹا وکیل اور دوسرا فارمیسی چلاتا ہے۔ تیسرے بیٹے فہد علی کو انھوں نے دو سال قبل دبئی میں کمرشل گاڑیوں کا کاروبار شروع کر کے دیا تھا اور چار گاڑیاں خرید کر دی تھیں۔

لائسنس ملنے اور دیگر قانونی لوازمات پورے ہونے میں کچھ ماہ لگے جس کے بعد فہد علی کو کام کی قدرے سمجھ بوجھ آ گئی۔

اب جب جنگ کا بحران شروع ہوا ہے تو واجد علی ایک بار پھر اپنے بیٹے فہد علی کے پاس دبئی پہنچے ہوئے ہیں اور استعمال شدہ کمرشل گاڑیوں کی تلاش میں ہیں۔

واجد علی کہتے ہیں کہ ’دبئی میں گاڑیوں اور پراپرٹی کے ریٹس بیس سے پچیس فیصد تک گر گئے ہیں، اور یہی وقت خریداری کا ہے کیونکہ جب جنگ رکے گی تو کام ایک بار پھر تیزی کی طرف جائیں گے۔ کمرشل گاڑیاں بلڈنگ میٹیریل اور مال برداری کے لیے استعمال ہوتی ہیں اور یہ کام سارا سال چلتے رہتے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستانی لوگ ہر قسم کے حالات میں اپنا فائدہ نکالنا جانتے ہیں۔ ایران کی جنگ کی وجہ سے دبئی میں پاکستانی کمیونٹی پریشان ضرور ہے لیکن حالات اس قدر برے نہیں کہ لوگ دبئی سے بھاگنا شروع کر دیں۔ اتنا ضرور ہوا ہے کہ مصنوعی انویسٹمنٹ کا غبارہ پھٹ گیا ہے اور گاڑیوں اور پراپرٹی کے ریٹس اپنی اصل ویلیو پر آ گئے ہیں۔‘

واجد علی کہتے ہیں کہ مجھے سعودی عرب اور دبئی میں کام کرنے کا بیس سال سے زیادہ کا تجربہ ہے۔ خلیجی ممالک میں بحران عارضی طور پر آتا ہے، اور یہی وقت ہوتا ہے کہ آپ کے پاس جو سرمایہ ہے وہ آپ کسی ایسی جگہ پر لگائیں جو کہ بحران ختم ہونے کے بعد بڑھے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ مزید کم از کم چھ کمرشل گاڑیاں خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ایران جنگ کے خاتمے کا انتظار اور امیدیں

چودھری نعیم وسطی پنجاب کے شہر وزیرآباد کے زمیندار ہیں، جن کے دبئی اور شارجہ میں مختلف اپارٹمنٹس ہیں جن کو انھوں نے کرائے یا سالانہ ٹھیکے پر دے رکھا ہے، لیکن اب وہ مزید اپارٹمنٹس خریدنا چاہتے ہیں۔

چودھری نعیم کہتے ہیں کہ خلیجی ممالک میں کبھی کسی نے نہیں سنا کہ اس کی انویسٹمنٹ ڈوب گئی ہو۔ منافع کم یا زیادہ ہو سکتا ہے لیکن دھوکہ فراڈ ہونے کا چانس کم ہوتا ہے۔

’میں نے ایک بیڈ روم اور دو بیڈ رومز کے جو اپارٹمنٹس چھ سات سال پہلے لیے تھے، وہ کرایہ پر دینے کی وجہ سے نہ صرف اپنی قیمت پوری کر چکے ہیں بلکہ ان کی قیمتیں دو سے تین گنا بڑھ چکی ہیں۔ یہ ایسا کاروبار ہے جس میں آپ ایک بار سرمایہ لگاتے ہیں اور پھر پوری زندگی گھر بیٹھ کر کھاتے ہیں۔ ہر ماہ کرایہ بھی آتا رہتا ہے اور اپارٹمنٹ کی ویلیو بھی بڑھتی رہتی ہے۔‘

چودھری نعیم نے کووڈ 19 کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وبا کے دنوں میں جب کاروبار پر بحران آیا تھا تو جن لوگوں نے کم قیمت پر ولاز اور اپارٹمنٹس خریدنے کا رسک لیا تھا ان کے ’وارے نیارے ہو گئے۔ کووڈ کے خاتمے کے بعد پراپرٹی کو جو جمپ لگا وہ ڈبل ریٹس کا تھا۔ اب بھی یہی امکان ہے کہ ایران جنگ جب ختم ہو گی تو پراپرٹی پھر کم از کم پچاس فیصد ریٹس پر جمپ کرے گی۔‘

چودھری نعیم کہتے ہیں کہ ’پاکستان سے بڑی تعداد میں لوگ دبئی میں گاڑیوں، پراپرٹی، گروسری سٹورز اور الیکٹرانکس کے بزنس میں انویسٹمنٹ کرنا شروع ہو گئے ہیں۔ چونکہ دبئی میں اس وقت کاروبار کم ہے اور گاڑیوں اور پراپرٹی کے ریٹس گرے ہوئے ہیں، تو پاکستانیوں نے اس موقع کو گولڈن چانس سمجھ کر وہاں گاڑیوں اور پراپرٹی کی خریداری شروع کر دی ہے۔ یہ کاروباری سوچ ہے، اس میں کوئی کسی کا نقصان نہیں کر رہا بلکہ موقع سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔‘

گوجرانوالہ کے بلال چٹھہ کا کچھ سال پہلے دبئی میں پراپرٹی کا کاروبار تھا۔ دو سال پہلے وہ اپنا کاروبار ختم کر کے واپس پاکستان آ گئے تھے اور یہاں سیاست میں دلچسپی لینا شروع کر دی تھی اور مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں فائلیں خرید لی تھیں۔

بلال چٹھہ نے بتایا کہ ’توقع کے برعکس فائلوں کے ریٹس بڑھنے کے بجائے کم ہو گئے اور ان کا سیاست میں قدم رکھنے کا شوق بھی وقت کے ساتھ ساتھ ماند پڑ گیا کیونکہ ملکی سیاست میں جو کچھ چل رہا ہے، اس میں کسی نئے بندے کی انٹری ہونا مشکل ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’میرے پاس دبئی کا پارٹنر ویزہ پہلے سے موجود تھا تو میں نے یہی سوچا کہ واپس دبئی چلا جاؤں اور بہتر جگہ پر انویسٹمنٹ کروں، کیونکہ یہی موقع ہے اپنا نقصان پورا کرنے کا۔‘

بلال چٹھہ کا خیال ہے کہ ’اگر آپ کے پاس زیادہ سرمایہ ہے یا پھر اگر آپ کو کوئی ہنر آتا ہے اور مزدوری کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی تو دبئی آپ کے لیے بہتر جگہ ہے۔‘