وہ چیز جو خلیجی ممالک کو ایران کے خلاف جوابی کارروائیوں سے روک رہی ہے

    • مصنف, لوئس بروچو
    • عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران تہران مشرقِ وسطیٰ میں میزائل حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

گذشتہ ہفتے اسرائیل کے ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر حملے کے بعد تہران نے قطر کے راس لفان انرجی کمپلیکس کو نشانہ بنایا۔

تاہم اب تک قطر اور دیگر خلیجی ریاستوں نے بار بار نشانہ بنائے جانے کے باوجود ایران کے خلاف جوابی کارروائیاں نہیں کی۔

آخر خلیجی ریاستیں جوابی کارروائیوں سے کیوں گریز کر رہی ہیں اور کیا چیز انھیں ایران کے خلاف کارروائیوں پر مجبور کر سکتی ہے؟

جوابی حملوں کا ’فائدے سے زیادہ نقصان ہوگا‘

جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر حملہ کیا تو تہران نے فوری طور پر نہ صرف اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائیاں شروع کر دیں بلکہ خطے میں موجود امریکہ کے اتحادی خلیجی ریاستوں پر بھی حملے کیے۔

اب تک ایران کی جانب سے بحرین، کویت، سعودی عرب، قطر، عمان اور خاص طور پر متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

خلیجی حکام کا کہنا ہے کہ ایران نے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملہ کرنے کے ساتھ ساتھ خلیجی ریاستوں میں شہری انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا ہے جس میں ہوائی اڈے، ہوٹل، رہائشی علاقے اور خاص طور پر توانائی کی تنصیبات شامل ہیں۔

اس سب کے باوجود خلیجی ممالک نے اب تک ایران کے خلاف جوابی کارروائی نہیں کی ہے اور اس جنگ میں براہِ راست شامل نہیں ہوئے ہیں۔

امریکی تھنک ٹینک سینٹر فار انٹرنیشنل پالیسی کے ایک سینئر نان ریذیڈنٹ فیلو سینا توسی کہتے ہیں کہ ’ان کے نقطہ نظر سے، یہ ان کی جنگ نہیں ہے۔ اور جوابی کارروائیاں ان کے بڑے اہداف میں تبدیل ہونے کا خطرہ ہے، کیونکہ انھیں ڈر ہے کہ ان اقدامات سے وہ جو حاصل کریں اس سے کہیں زیادہ کھو سکتے ہیں۔‘

توسی کہتے ہیں کہ خلیجی ریاستوں کے اس فیصلے کی بنیادی وجوہات میں ان ممالک کی کمزوری، سٹریٹجک حساب کتاب اور اس سے حاصل ہونا محدود فائدہ ہے۔

توسی کے مطابق خلیجی ریاستوں کی معیشتوں کا انحصار توانائی کے بنیادی ڈھانچے، جہاز رانی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر ہے۔ ’ایران نے ثابت کیا ہے کہ وہ ان سب میں خلل ڈال سکتا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایران عالمی معیشت کے لیے اہم آبی گزرگاہوں - خلیج فارس اور آبنائے ہرمز - کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

تاہم، ٹرینڈز ریسرچ اینڈ ایڈوائزری کے سینئر مینیجنگ ڈائریکٹر بلال صاب کا کہنا ہے کہ اگر خلیجی ممالک ایران پر حملہ نہیں کرتے تو ’وہ بنیادی طور پر تہران کو یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ وہ نتائج کی فکر کیے بغیر انھیں نقصان پہنچا سکتا ہے۔‘

بلال صاب پہلی ٹرمپ انتظامیہ میں پینٹاگون کے اہلکاربھی رہ چکے ہیں۔ ’مختصر مدت میں پلٹ کر وار کرنے کا مقصد ایران کو اپنے حملے روکنے پر مجبور کرنا ہے، اور اس کا طویل مدتی مقصد مستقبل میں ایرانی جارحیت کے خلاف کسی حد تک مزاحمت پیدا کرنا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ان جوابی کارروائیوں کے سنگین خطرات بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ آیا خلیجی ممالک کی طرف سے کوئی بھی حملہ جنگ پر کس حد تک اثر انداز ہوگا یا حکمت عملی کے لحاظ سے دانشمندانہ قدم ہوگا بھی کہ نہیں۔

کنگز کالج لندن میں ڈیفنس سٹڈیز ڈپارٹمنٹ میں بین الاقوامی سلامتی کے لیکچرر روب گیسٹ پنفولڈ کا کہنا ہے کہ خلیجی ریاستوں میں اسرائیل اور خطے کے لیے اس کے مقاصد کے ساتھ خود کو منسلک کرنے کے حوالے سے بھی ہچکچاہٹ پائی جاتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ایسا تاثر پایا جاتا ہے کہ اسرائیل نے امریکہ کو اس جنگ میں گھسیٹا ہے۔‘

’عراق جنگ کے سائے اب بھی خطے پر منڈلا رہے ہیں‘

خلیجی رہنماؤں کے لیے 2003 میں امریکہ کی قیادت میں عراق پر ہونے والے حملے اور اس کے خطے پر اثرات آج بھی خلیجی ممالک کی حکمتِ عملی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس جنگ کے بعد پیدا ہونے والا عدم استحکام آج کی پالیسی سازی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

سنہ 2003 میں امریکہ نے عراق پر حملہ کر کے صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ تو کر دیا مگر اس کے بعد پیدا ہونے والا طاقت کا خلا بغاوت، فرقہ وارانہ تشدد اور کئی برسوں تک جاری رہنے والی عدم استحکام کا باعث بنا۔

ماہرِ امورِ خارجہ پِن فولڈ کے مطابق ’2003 کے سائے اب بھی منڈلا رہے ہیں‘۔

’خلیجی ممالک کو ڈر ہے کہ ایک بار پھر خطہ انتشار اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو سکتا اور اس بار ایران اس کا فائدہ اٹھا اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ ان کے بقول یہ خدشات وقت کے ساتھ درست ثابت ہورہے ہیں۔‘

امریکہ پر عدم اعتماد مگر عسکری انحصار برقرار

پِن فولڈ کہتے ہیں کہ اگرچہ خلیجی ممالک امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ سے ناخوش ہیں اور اسے غیر واضح اہداف پر مبنی ایک کھلا عسکری آپریشن سمجھتے ہیں، مگر عملی طور پر وہ اب بھی امریکی عسکری مدد کے بغیر اپنے دفاع کا تصور نہیں کر سکتے۔

امریکی فوجی اڈے، انٹیلیجنس معلومات کا تبادلہ اور امریکی فضائی دفاعی نظام آج بھی ان تعلقات کی بنیاد ہیں۔

خلیجی حکام کے مطابق یہ امریکی فضائی دفاعی نظام ہی ہے جو کہ ان ممالک کو ایرانی میزائل حملوں سے بچنے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔

پِن فولڈ کہتے ہیں کہ ’سیاسی سطح پر سوالات ضرور اٹھ رہے ہیں، مگر عسکری سطح پر یہ تعاون آزمائش کے باوجود مؤثر ثابت ہوا ہے۔‘

امریکہ کی جانب سے حالیہ حملوں کے بعد اس جنگ کے مختلف مقاصد بیان کیے گئے ہیں جن میں ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کرنے سے لے کر رجیم چینج جیسے اہداف شامل ہیں۔

تاہم خلیجی ریاستوں کے نزدیک اس بحران کا واحد حل مذاکرات ہے۔

’کسی معاہدے اور سمجھوتے کے ذریعے ہی اس بات کو یقینی بنایا جا سکتا ہے ایران کسی بھی خلیجی ممالک کو نشانہ نہ بنائے۔‘

خطے میں تقسیم اور ایرانی حکمتِ عملی

پِن فولڈ کا کہنا ہے کہ ایران نے تمام خلیجی ممالک کو یکساں شدت سے نشانہ نہیں بنایا، جو اس کے انفرادی تزویراتی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

مثال کے طور پر متحدہ عرب امارات ان ممالک میں شامل ہے جو اس جنگ کے دوران سب سے زیادہ حملوں کی زد میں رہے ہیں۔ 2020 میں متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کیے تھے۔

دوسری جانب عمان کافی حد تک ایرانی حملوں سے محفوظ رہا ہے۔ خیال رہے کہ عمان ایران اور مغربی ممالک کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرتا ہے۔

پِن فولڈ کے مطابق عمان وہ واحد خلیجی ملک ہے جس نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ بننے پر مبارکباد دی تھی اور اس پر دیگر خلیجی دارالحکومتوں میں ناراضی پائی جاتی ہے۔

دبئی پبلک پالیسی ریسرچ سینٹر کے سربراہ محمد بہارون کے مطابق ’ایران اپنی پالیسیوں سے خلیج کو اپنے خلاف ایک وسیع اتحاد کی جانب دھکیل رہا ہے‘۔

بہارون کا کہنا ہے کہ ایران یہ حملے کر کے ان ممالک کو اپنا دشمن بنا رہا ہے اور ایک ایسی وسیع جنگ کا خطرہ مول لے رہا ہے جس میں کوئی بھی نہیں پڑنا چاہتا۔

ریاض میں خلیجی وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد عرب ممالک نے اقوامِ متحدہ کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق پر زور دیا ہے۔

کیا چیز خلیجی ممالک کو جوابی کارروائی پر مجبور کر سکتی ہے؟

برطانیہ کے تھنک ٹینک رُوسی سے وابستہ ڈاکٹر ایچ اے ہیلر کے مطابق فی الحال تو خلیجی ممالک تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں لیکن اگر توانائی کی برآمدات کو روکنے کے لیے ایرانی حملے جاری رہے یا ان میں اضافہ ہوا تو اس پالیسی میں بہت تیزی سے تبدیل آ سکتی ہے

ان کے مطابق توانائی کی اہم تنصیبات پر کوئی بڑا حملہ خلیجی ممالک کے ردِعمل کا باعث بن سکتا ہے۔

گذشتہ ہفتے ایران نے قطر کے راس لفان انرجی کمپلیکس کو نشانہ بنانے کے بعد دھمکی دی تھی کہ اگر اس کی تنصیبات پر حملے جاری رہے تو امریکہ کے خلیجی اتحادیوں کو ’مکمل تباہی‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پِن فولڈ کہتے ہیں کہ اگر ایران کے علاقائی اتحادیوں کی جانب سے براہِ راست خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا گیا تو اس سے بھی صورتحال یکسر بدل سکتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایران کے حامی حوثی جنگجو خلیجی ممالک پر حملہ کر دیتے تو اس سے جنگ کا ایک نیا محاذ کھل جائے گا۔

پن فولڈ کے مطابق ایسی صورت میں خلیجی ممالک اس جنگ کو صرف امریکی–اسرائیلی تنازع نہیں بلکہ اپنی بقا کا مسئلہ سمجھنے لگیں گے۔

’ایران خلیجی ریاستوں اپنے تمام پل جلا رہا ہے‘

پِن فولڈ کے مطابق ایران کی موجودہ پیش قدمی ’انتہائی خطرناک‘ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایران خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے تمام پل جلا رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس تنازع کو اپنی بقا کے لیے فیصلہ کن معرکہ سمجھتا ہے۔

ڈاکٹر ہیلر کے مطابق خلیجی ممالک ایران کے مسلسل حملوں کو برداشت نہیں کریں گے، خصوصاً جب شہری اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہو۔

ان کے مطابق ایران کا خلیجی ممالک پر حملوں کو واشنگٹن پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرنے کی پالیسی الٹی بھی پڑ سکتی ہے۔

’ممکن ہے کہ اگرچہ خلیجی ممالک امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے خلاف جنگ کے مخالف ہیں مگر شاید انھیں لگنے لگے کہ ایرانی حملے ان کی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث بن رہے ہیں لہذا عقلمندی کا تقاضہ ہوگا کہ وہ امریکہ کا ساتھ دیں تاکہ یہ جنگ جلد از جلد ختم کی جا سکے۔‘