آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جنگ کے دوران ایران کی حمایت میں عربی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کیوں بڑھتے جا رہے ہیں؟
- مصنف, محمد خالد
- عہدہ, بی بی سی مانیٹرنک
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
جوں جوں امریکہ اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے دوران علاقائی تنازع بڑھ رہا ہے، ویسے ویسے ’ایران ان عریبک‘ اور ’ایران نیوز‘ سمیت ایران سے منسلک کئی عربی زبان کے سوشل میڈیا صفحات نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔
بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان اکاؤنٹس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فیس بک اور ایکس پر اپنی رسائی تیزی سے بڑھائی ہے اور ایران نواز اور مغرب مخالف بیانیے کو فروغ دینے میں کردار ادا کیا ہے۔
اگرچہ یہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس ایران کے حامی ایک وسیع اور مشکل سے سمجھ آنے والے آن لائن نیٹ ورکس کا صرف ایک حصہ ہیں، لیکن چند نمایاں اکاؤنٹس کا جائزہ لینے سے سمجھ آتا ہے کہ یہ نظام کیسے چلتا ہے، اس کے پیچھے کون ہو سکتا ہے اور لوگ اس پر کس طرح کا ردِعمل دے رہے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ صفحات ایک بکھرا ہوا مگر فعال ڈیجیٹل نظام دکھاتے ہیں جو خبر رسانی، سیاسی پیغام رسانی اور تفریحی انداز کو ملا جلا کر پیش کرتا ہے۔
ان کا جغرافیائی پھیلاؤ، مختلف پس منظر اور مختلف لہجے مرکزی کنٹرول کی کمی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ لیکن ان کے بیانیے اور انھیں بڑھاوا دینے کے طریقے عموماً ایک جیسے ہوتے ہیں۔
بکھرا ہوا اور بدلتا ہوا نیٹ ورک
ان اکاؤنٹس کا کوئی ایک جغرافیائی مرکز نہیں ۔ ایکس پر دستیاب لوکیشن ڈیٹا ان کی بکھری ہوئی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے جس میں جرمنی، بلغاریہ اور مغربی ایشیا کے دیگر ممالک میں رجسٹرڈ اکاؤنٹس شامل ہیں تاہم ساتھ ہی کم از کم ایک اکاؤنٹ ایران میں موجود ہے۔
مثال کے طور پر ایک سوشل میڈیا پیج اپنا پتہ چین میں ظاہر کرتا ہے تاہم اس کی رابطہ معلومات دمشق کی لوکیشن دکھاتی ہیں۔
اسی دوران دیگر صفحات کا مبہم یا غیر مستقل لوکیشن ڈیٹا سامنے آیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان صفحات کا پس منظر دیکھیں تو ان کی تاریخیں مختلف دکھائی دیتی ہیں مثلاً کچھ 2009 سے موجود ہیں جبکہ کچھ صرف حال ہی میں سامنے آئے۔
ایک اکاؤنٹ ایسا بھی ہے جو فروری 2026 میں ویریفائی ہوا، جو حالیہ جنگ کے آغاز کے وقت کے ساتھ میچ کرتا ہے۔
یہ وقت اور پوسٹنگ میں اچانک اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کچھ اکاؤنٹس شاید جنگ شروع ہونے پر فعال کیے گئے یا ان کا استعمال بدل دیا گیا۔
یہی رجحان فیس بک پر اور بھی واضح دکھائی دیتا ہے جہاں صفحات کی تعداد نمایاں طور پر زیادہ دکھائی دیتی ہے۔
یہ وسیع تر استعمال کے رجحانات کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ فیس بک عرب دنیا کے بیشتر حصوں، خاص طور پر شمالی افریقہ میں اب بھی سب سے زیادہ استعمال ہونے والا پلیٹ فارم ہے۔
زیادہ تر صفحات میں جدید معیاری عربی زبان کا استعمال کیا جاتا ہے اور خود کو پورے عرب خطے کے پلیٹ فارم کے طور پر متعارف کروایا گیا ہوتا ہے۔
ایک نمایاں استثنیٰ ایک فیس بک پیج ہے جو مصری لہجے، مزاح اور میمز پر مبنی ہے اور زیادہ مقامی ناظرین کی توجہ لینے کی کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے۔
یہ تمام پوسٹس عام طور پر ایرانی فوجی سرگرمیوں، خاص طور پر خطے بھر میں حملوں کو نمایاں کرتی ہیں، اور اکثر ایرانی حکام اور پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ شخصیات کے بیانات کا حوالہ دیتی ہیں۔
ان تمام اپ ڈیٹس کے ساتھ، کچھ صفحات وقفے وقفے سے مذہبی پیغامات بھی شامل کرتے ہیں جن میں شیعہ فرقے کو فروغ دینے والے نعروں اور علامتوں کا استعمال ہوتا ہے اگرچہ یہ ہمیشہ ان کے مواد کا مرکزی حصہ نہیں ہوتا۔
ایکس پر دیکھے گئے بڑے اکاؤنٹس میں سے ایک iraninarabic_ir کے تقریباً 15 لاکھ فالوورز ہیں۔ یہ اکاؤنٹ ہر گھنٹے میں کئی پوسٹس لگاتا ہے جن میں عراق اور اسرائیل میں ایرانی حملے، ایرانی فوجی رہنماؤں کے بیانات اور لبنانی حزب اللہ کے حملے نمایاں ہوتے ہیں۔
ایک اور اکاؤنٹ iranin_arabic کے تقریباً پانچ لاکھ فالوورز ہیں۔ اس اکاؤنٹ میں عموماً ردِعمل دینے والا لہجہ نظر آتا ہے جس میں ناقدین کو جواب دینا اور ایران کے حق میں بیانیے کو بڑھانا نمایاں دکھائی دیتا ہے۔
اس اکاؤنٹ نے ایسا مواد بھی شیئر کیا جس کی تصدیق نہیں ہو سکی، جن میں پوتن سے منسوب ایک بیان بھی شامل تھا۔
اس بیان میں یوکرین پر حملے کے بعد نیٹو کے ردِعمل کا موازنہ غزہ کی جنگ پر اس کے ردِعمل سے کیا گیا تھا، لیکن یہ بیان کسی معتبر ذریعے میں موجود نہیں۔۔
اس اکاؤنٹ نے 11 منٹ کی ایک اینیمیڈڈ طرز کی ویڈیو بھی شائع کی جس میں تنازع کو ایرانی نقطۂ نظر سے بیان کیا گیا تھا۔ اینیمیشن اور کہانی بیان کرنا نوجوان ناظرین کو متوجہ کرنے کی کوشش ظاہر کرتا ہے۔
ویڈیو میں جاری تنازع کے مختلف پہلو دکھائے گئے ہیں جن میں خلیجی ممالک پر حملے بھی شامل تھےاور ان حملوں کو جوابی کارروائی اور صرف امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کے طور پر پیش کیا گیا۔
اس میں ایک منظر میں ایسا دکھایا گیا کہ ایک خلیجی ملک کا رہنما امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فون کر کے جنگ ختم کرنے کی درخواست کر رہا ہے، ایسی جنگ جس میں خلیجی ممالک کا کوئی کردار نہیں۔
ویڈیو میں ایک منظر میں روسی اور چینی رہنماؤں کو ایک دوسرے کو فون کرتے اور امریکہ کے خلاف منصوبہ بندی کرتے بھی دکھایا گیا۔
ایک اور منظر میں پوتن یہ کہتے ہوئے نظر آئے کہ ’امریکی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا ہے۔‘
ویڈیو میں اسرائیل حزب اللہ تنازع کا بھی ذکر تھا اور اس میں گروہ کے رہنماؤں کو ایرانی سپریم لیڈر سے وفاداری کا حلف لیتے دکھایا گیا۔
فیس بک کا مواد
فیس بک پر ’ایران ان عربک‘ کے نام سے دو صفحات کے مجموعی طور پر 45 لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں۔
ان میں سے ایک صفحے، جس کے تقریباً 32 لاکھ فالوورز ہیں، غیر تصدیق شدہ ہے اور اپنی لوکیشن چین بتاتا ہے۔
فیس بک پر اس صفحے کا یوزر نیم(صارف کا نام) چائنا ڈاٹ ایریبک (china.arabiic) ہے۔
یہ صفحہ اکثر اے آئی سے بنائی گئی تصاویر اور ویڈیوز کا استعمال کرتا ہے، جن کے ساتھ اکثر انگریزی کیپشن ہوتے ہیں۔ اس کا مواد جنگ کی تازہ معلومات کے ساتھ جغرافیائی سیاسی پیغامات شامل کرتا ہے۔
17 مارچ کو اس فیس بک پیج سے ایک ویڈیو شیئر کی گئی جس میں تائیوان کے اوپر چینی طیارے دکھائے گئے تھے۔
ساتھ ہی یہ سوال کیا گیا کہ کیا چین تائیوان کے ذریعے امریکی اثر و رسوخ پر ضرب لگانے کی تیاری کر رہا ہے؟
اس سے ایک دن پہلے یہاں مبینہ طور پر ایرانی رہنما علی لاریجانی سے منسوب ایک بیان پوسٹ کیا گیا۔
اس بیان میں تنازع کو ایک ایسے انتخاب کے طور پر پیش کیا گیا تھا جس میں ایک طرف ایران اور اس کے اتحادی ہیں اور دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل۔
اس کے برعکس دوسرا صفحہ بالکل مختلف انداز اختیار کرتا ہے۔ 2016 میں بنایا گئے اس صفحے پر ابتدا میں غیر سیاسی مواد پر شیئر کیا جاتا رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں یہ پیج اپنی پوسٹس میں مصری انداز میں مزاح استعمال کیا گیا ہے یعنی تفریح اور سیاسی پیغام رسانی کو ملا کر شائع کیا گیا۔
اس کی پرانی سرگرمیوں میں برلن سے جڑے واقعات شامل ہیں، اگرچہ اس کی موجودہ لوکیشن واضح نہیں۔
یہ صفحہ زیادہ تر اسرائیل مخالف مواد اور ایران کے اسرائیل پر حملوں کی روزانہ اپ ڈیٹس پوسٹ کرتا ہے۔
ایکس اور فیس بک پر صارفین کا مختلف ردعمل
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس اور فیس بک پر ان صفحات پر صارفین کے ردِعمل میں واضح فرق دکھائی دیتا ہے۔
غالباً اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ایکس کے صارفین یا کم از کم ان صفحات پر تبصرہ کرنے والے زیادہ تر خلیجی ممالک سے ہوتے ہیں جبکہ فیس بک کے صارفین بنیادی طور پر شمالی افریقہ سے ہیں۔
ایکس پر ایرانی سپریم لیڈر کی موت پر افسوس سے متعلق ایک پوسٹ پر کئی صارفین نے ان کی موت پر خوشی کا اظہار کیا اور تبصرہ نگاروں کے مطابق ایران کے ’لاکھوں مسلمانوں کے قتل‘ میں کردار کا حوالہ دیا خصوصاً شام اور یمن میں بچوں کے حوالے سے بات کی گئی۔
تاہم اسی صفحے کی ایک اور پوسٹ جس میں مبینہ طور پر اسرائیل پر ایرانی میزائل حملے کی ویڈیو دکھائی گئی تھی، صارفین کی جانب سے زیادہ تر حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔
ایکس پر iranin_arabic کی ایک پوسٹ، جس میں ٹرمپ کی ایک کم عمر لڑکی کے ساتھ تصویر اور اس کے ساتھ ایرانی سپریم لیڈر کی بچوں کے ساتھ نماز پڑھتے ہوئے تصویر دکھائی گئی تھی۔
اس پوسٹ کو بہت سے صارفین کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ جنھوں نے کم عمر بچیوں سے متعلق شیعہ علما کے فتووں کا حوالہ دیا۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ٹرمپ کی تصویر غیر تصدیق شدہ ہے، جبکہ خامنہ ای کی تصویر تصدیق شدہ ہے۔
تنقید کے باوجود ایکس پر کئی تبصرے ایران کے حق میں تھے۔
فیس بک پر تبصرہ کرنے والے ایران کے حامی مواد کے زیادہ طرفدار تھے۔
مثال کے طور پر ’ایران ان عربک‘ کی ایک پوسٹ میں مبینہ طور پر سعودی عرب میں ایک امریکی ریڈار کی تباہی دکھائی گئی تھی اور اس کو سینکڑوں صارفین کی جانب سے پذیرائی ملی جن میں سے کچھ خلیجی ممالک پر تنقید بھی کر رہے تھے۔
نو مارچ کی ایک اور پوسٹ میں کہا گیا کہ ’کوئی بھی ہتھیار اگر کسی مصری، فلسطینی، لبنانی، شامی، کرد، عراقی، عرب، قوم پرست، بائیں بازو کے حامی، اسلام پسند یا سیکولر کے ہاتھ میں ہو، اور وہ اسرائیل کے خلاف ہو، میں اس کی حمایت کرتا ہوں۔‘
اس پوسٹ کو 60 ہزار انٹریکشنز، 3,200 سے زیادہ تبصرے اور 2,600 شیئرز ملے۔
زیادہ تر تبصرہ نگاروں نے ایران کی حمایت کی اور کئی نے اپنی قومیت صومالی، سوڈانی، مصری اور الجزائری بتائی۔
صارف احمد مختار نے لکھا کہ ’ایران نے وہ کیا ہے جو عرب صدیوں سے نہیں کر سکے۔ سلام ہے ان لوگوں کو جنھوں نے جھکنے کے بجائے مقابلہ چنا، اور ایرانی عوام کو ان کی ثابت قدمی پر خراجِ تحسین پیش ہو۔‘
محمد عادل حسنین نے لکھا کہ ’ہم سب آپ کے ساتھ ہیں سوائے خلیجی ممالک کے لوگوں کے۔‘