آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ایران نے امریکہ کا 15 نکارتی مجوزہ منصوبہ مسترد کر دیا، جنگ بندی کے لیے پانچ شرائط پیش کر دیں

پریس ٹی وی کے مطابق اسے ایک سینیئر سیاسی و سکیورٹی عہدیدار نے بتایا ہے کہ ایران صدر ٹرمپ کو اس جنگ کے خاتمے کے وقت کا تعین نہیں کرنے دے گا۔ اس عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ ’ایران اس جنگ کا اختتام اپنی مرضی کے وقت پر کرے گا جب اس کی شرائط مان لی جائیں گی۔‘

خلاصہ

  • خبر رساں نے دو پاکستانی عہدیداروں کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کو جنگ بندی کے حصول کے لیے امریکہ کا 15 نکاتی منصوبہ موصول ہو گیا ہے
  • اسرائیل کے وزیرِ معیشت نیر برکت نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس بات کا امکان کم ہے کہ ایران اطلاعات کے مطابق امریکی انتطامیہ کی طرف سے پیش کیے گئے 15 نکاتی مجوزہ منصوبے پر عمل کرے گا
  • پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان 'کوئی بالواسطہ یا بلاواسطہ مذاکرات نہیں ہو رہے۔'
  • ایرانی فوج کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’کیا آپ کے اندرونی اختلافات اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ آپ خود ہی اپنے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں؟‘
  • پاکستان نے مارچ اور اپریل کے لیے ملک میں پٹرول کی فراہمی کے لیے درآمدی کارگوز حاصل کر لیے ہیں، جبکہ مزید سپلائیز بھی یقینی بنانے کے اقدامات جاری ہیں
  • صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ایران میں ’درست لوگوں‘ سے بات کر رہا ہے اور ایرانی مذاکرات کاروں نے امریکہ کو تیل اور گیس سے متعلق ایک ’بہت اہم تحفہ‘ دیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. ایران نے امریکہ کا 15 نکارتی مجوزہ منصوبہ مسترد کر دیا، جنگ بندی کے لیے پانچ شرائط پیش کر دیں

    ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کا کہنا ہے کہ تہران نے امریکہ کا 15 نکاتی مجوزہ مسترد کر دیا ہے اور اپنی شرائط پیش کر دی ہیں۔

    پریس ٹی وی کے مطابق اسے ایک سینیئر سیاسی و سکیورٹی عہدیدار نے بتایا ہے کہ ایران صدر ٹرمپ کو اس جنگ کے خاتمے کے وقت کا تعین نہیں کرنے دے گا۔

    اس عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ ’ایران اس جنگ کا اختتام اپنی مرضی کے وقت پر کرے گا جب اس کی شرائط مان لی جائیں گی۔‘

    خیال رہے اس سے قبل متعدد میڈیا اداروں نے رپورٹ کیا تھا امریکہ نے بذریعہ پاکستان ایران کو یہ مجوزہ منصوبہ بھیجا ہے۔

    ایرانی نشریاتی ادارے کے مطابق سیاسی و سکیورٹی عہدیدار نے اسے مزید بتایا کہ واشنگٹن متعدد سفارتی ذرائع سے مذاکرات کی کوشش کر رہا ہے اور ایسے پروپوزل پیش کر رہا ہے جو ایران کے نزدیک ’حدود سے تجاوز‘ کر رہے ہیں۔

    اس عہدیدار نے پریس ٹی وی کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایران کی پانچ شرائط بھی پیش کی ہیں:

    • دشمن کی طرف سے ’جارحیت اور قتلِ عام‘ کا مکمل خاتمہ
    • ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کو روکنے کے لیے مربوط طریقہ کار
    • جنگ میں ہونے والے نقصانات کے معاوضے کی ضمانت
    • خطے میں تمام محاذوں اور ’مزاحمتی گروہوں‘ کے خلاف جنگ کا خاتمہ
    • بین الاقوامی برادری آبنائے ہرمز پر ایران کا اختیار تسلیم کرے
  2. امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں ہو رہے: پاکستان میں ایرانی سفیر

    پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ’کوئی بالواسطہ یا بلاواسطہ مذاکرات نہیں ہو رہے۔‘

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق رضا امیری مقدم کا کہنا تھا کہ ’کچھ دوست ممالک تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کی بنیاد رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہمیں امید ہے کہ وہ اس مسلط کی گئی جنگ کے خاتمے کے لیے مؤثر ثابت ہوں گے۔‘

    امریکی صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، جبکہ دوسری جانب ایرانی فوج نے اس کی تردید کی تھی۔

    خیال رہے گذشتہ روز پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ان کا ملک اس تنازع کے لیے مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔

  3. امریکہ کا مجوزہ 15 نکاتی منصوبہ ’کاغذ پر خوبصورت‘ نظر آتا ہے: اسرائیلی وزیر, لوسی ولیمز، بی بی سی نیوز یروشلم

    اسرائیل کے وزیرِ معیشت نیر برکت نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس بات کا امکان کم ہے کہ ایران اطلاعات کے مطابق امریکی انتطامیہ کی طرف سے پیش کیے گئے 15 نکاتی مجوزہ منصوبے پر عمل کرے گا۔

    نیر برکت کا کہنا تھا کہ یہ مجوزہ منصوبہ ’کاغذ پر خوبصورت‘ نظر آتا ہے لیکن اس پر عملدرآمد پر ضمانتوں کی ضرورت ہوگی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران میں حکومت ’تبدیل نہیں‘ ہو رہی اور اس جنگ میں اسرائیل کا مقصد ایران کو ’جوہری ہتھیاروں، میزائلوں اور پراکیسوں سے‘ محروم کرنا ہے۔

    ’اگر ہم اس مقصد تک کل پہنچ جاتے ہیں، ان کی طرف سے سفید جھنڈا لہرایا جاتا ہے یا وہ معاہدے پر دستخط کرتے ہیں تو ٹھیک ہے، یا پھر ہمیں ایران کو مزید دھچکے دینے ہوں گے۔‘

    ’مجھے یقین ہے کہ صدر ٹرمپ اور وزیرِ اعظم نیتن یاہو ان مقاصد پر اتفاق کرتے ہیں اور انھیں کسی نے کسی طرح سے حاصل کریں گے۔‘

    نیر برکت مزید کہتے ہیں کہ: ’ایک طرف ٹرمپ مذاکرات کے لیے راضی ہیں تو دوسری طرف وہ خطے میں مزید فوج لا رہے ہیں۔ وہ دراصل ایران کے لوگوں کو بتا رہے ہیں کہ ہم سنجیدہ ہیں۔‘

    ’میرے خیال میں اس مرحلے کے اختتام پر ہم کسی معاہدے یا بنا معاہدے کے اپنے مقاصد حاصل کر لیں گے۔‘

  4. ایران کو امریکہ کا 15 نکاتی مجوزہ منصوبہ موصول ہوگیا: خبر رساں ادارہ

    خبر رساں ادارے ایسوی ایٹڈ پریس (اے پی) نے دو پاکستانی عہدیداروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو جنگ بندی کے حصول کے لیے امریکہ کا 15 نکاتی منصوبہ موصول ہو گیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ منصوبے میں ان معاملات سے جڑے نکات درج ہیں:

    ایران پر پابندیوں میں نرمی

    ایران اور امریکہ کے درمیان سویلین جوہری تعاون

    ایران کے نیوکلیئر پروگرام کا خاتمہ

    انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی طرف سے ایران کی نگرانی

    ایران کے میزائل پروگرام میں کمی اور آبنائے ہرمز تک رسائی

    خیال رہے گذشتہ روز پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ان کا ملک اس تنازع کے لیے مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔

    اسرائیل کے چینل 12 نے بھی اس 15 نکاتی منصوبے پر تفصیلی خبر چلائی ہے، تاہم واشنگٹن نے ان تفصیلات کی تصدیق نہیں کی ہے۔

  5. خطے میں امریکہ کی نقل و حرکت کی نگرانی کر رہے ہیں: قالیباف

    ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ایران ’خطے میں امریکہ کے ہر قسم کے نقل و حرکت کی نگرانی کر رہا ہے۔‘

    سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے ہمارے عزم کا امتحان نہ لیں۔‘

    امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق پینٹاگون 82ویں ایئربورن ڈویژن کی گراونڈ فورسز کو خطے میں بھیجنے پر غور کر رہا ہے۔

    کچھ ایسی غیرتصدیق شدہ اطلاعات بھی منظرِ عام پر آئی ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ قالیباف کو ایران میں اپنا ممکنہ پارٹنر یا مستقبل میں ملک کے رہنما کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

  6. اسرائیل کا ایران میں زیرِ سمندر ریسرچ مرکز پر حملوں کا دعویٰ

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے اصفہان میں ایران کے ایک زیرِ سمندر ریسرچ مرکز پر منگل کو ’وسیع‘ حملے کیے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ ریسرچ مرکز ایرانی بحریہ کے لیے آبدوزوں اور دیگر ہتھیار بنانے کا ذمہ دار ہے۔

    ایران نے اسرائیل کے اس دعوے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

  7. پاکستان نے امریکی تجاویز ایران کو پہنچا دیں، ایرانی اہلکار کی روئٹرز کو تصدیق

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک سینیئر ایرانی اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے جنگ بندی کے لیے امریکی کی جانب سے بھیجی گئی تجاویز ایران کو پہنچا دی ہیں جبکہ مذاکرات کے لیے پاکستان یا ترکی کے ناموں پر غور کیا جا رہا ہے۔

    روئٹرز کے مطابق نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایرانی اہلکار کا کہنا تھا کہ ترکی نے بھی ’جنگ ختم کرنے میں مدد کی ہے اور مذاکرات کے مقام کے طور پر ترکی یا پاکستان دونوں پر غور کیا جا رہا ہے۔‘

    معاملے سے واقف ایک ذریعے نے منگل کے روز روئٹرز کو تصدیق کی تھی کہ یہ منصوبہ ایران کو بھیج دیا گیا ہے۔

    تین اسرائیلی کابینہ ذرائع نے کہا کہ وزیراعظم نیتن یاہو کی سکیورٹی کابینہ کو اس تجویز پر بریفنگ دی گئی تھی جس میں ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کو ختم کرنا، افزودگی روکنا اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں پابندیاں اور خطے میں اتحادی گروہوں کی فنڈنگ کا خاتمہ شامل ہے۔

  8. سعودی عرب کا تین اور کویت کا چھ ڈرونز تباہ کرنے کا دعویٰ

    سعودی عرب کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس نے ملک کے مشرقی حصے میں تین ڈرونز کو تباہ کیا ہے۔

    ملک میں محکمہ شہری دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ تباہ شدہ میزائل کا ایک ٹکڑا دو گھروں کی چھت پر گِرا لیکن اس کے سبب کسی کے زخمی ہونے کی اطلاعات نہیں ملیں۔

    کویت کے نیشنل گارڈ کے ترجمان کا بھی کہنا ہے کہ انھوں نے علی الصبح چھ ڈرونز کو تباہ کیا ہے۔ گذشتہ رات ایک ڈرون کویت کے ایئرپورٹ سے ٹکرایا تھا، جس کے بعد وہاں آگ بھڑک اٹھی تھی۔

    دوسری جانب اسرائیلی فون نے آج ایران کی طرف سے پانچ میزائل فائر کیے جانے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم اس سے ہونے والے نقصان کے حوالے سے کوئی تفصیلات موجود نہیں ہے

  9. ٹرمپ کا ایران کے ساتھ مذاکرات کا دعویٰ، تہران کا انکار: کس پر یقین کیا جائے؟, فرینک گارڈنر، نامہ نگار برائے سکیورٹی امور

    ایک فریق امریکہ کہتا ہے کہ مذاکرات جاری ہیں جبکہ دوسران فریق ایران کہتا ہے کہ ایسا نہیں ہے‘ تو پھر کس پر یقین کیا جائے؟

    قطر کا امریکہ کے ساتھ قریبی دفاعی اور سکیورٹی اتحاد ہے اور ایک ماہ قبل تک اس کے ایران کے ساتھ بھی اچھے تعلقات تھے۔ تاہم اب اس کے حکام کہہ رہے ہیں کہ وہ امریکہ یا ایران کے درمیان مذاکرات کا حصہ نہیں ہیں۔

    اس خطے میں سب سے بڑا امریکی اڈہ العدید ایئربیس بھی قطر میں ہی موجود ہے، جو کہ دارالحکومت دوحہ کے باہر واقع ہے۔ اس کے حکام نے بھی عوامی طور پر ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کی تھی۔

    قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کا کہنا ہے کہ: ’ہم امریکیوں سے روزانہ بات کرتے ہیں، لیکن اس وقت ہماری ترجیح اپنی سرزمین کا دفاع اور تحفظ ہے۔‘

    اس وقت واشنگٹن اور خطے کے دوسرے ممالک ترکی، پاکستان اور مصر میں سفارتی ذرائع متحرک ہیں اور فریقین تک پیغامات پہنچا رہے ہیں۔

    لیکن یہ مذاکرات نہیں ہیں۔ ایران کی اسلامی حکومت اپنی جگہ برقرار ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کے مطالبات مزید سخت ہوگئے ہیں۔

    اب اسے امید ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر مزید کنٹرول بڑھا سکے گی۔ واشنگٹن جتنی بار دنیا کو بتائے گا کہ ایران کسی معاہدے کے لیے بیتاب ہے، تہران اتنا ہی کم کسی معاہدے کی طرف راغب ہوگا۔

  10. ایران کی اسٹیبلشمنٹ اب تک اپنی جگہ پر کیسے موجود ہے؟, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی

    ایران میں جنگ کی شروعات اور آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کو تقریباً ایک مہینہ گزر چکا ہے۔

    ایران میں جن لوگوں سے میں بات کر رہی ہوں انھیں امید تھی کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے دن ہی یہ جنگ ختم ہو جائے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ تہران میں اسٹیبلشمنٹ اب بھی اپنی جگہ برقرار ہے۔

    ایران کا نظامِ اقتدار بہت پیچیدہ ہے۔ اگرچہ رہبرِ اعلی کو ملک میں سب سے زیادہ اختیارات حاصل ہیں لیکن اس ریاست کے اندر بھی ایک ریاست ہے، جسے پاسدارانِ انقلاب کہا جاتا ہے اور اس کی طاقت کسی بھی دوسری فوج کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔

    گذشتہ موسمِ گرما اور اس موجودہ تنازع میں اس کے متعدد سینیئر کمانڈر ہلاک ہو چکے ہیں۔ لیکن پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ جب بھی اس کا کوئی اہلکار ہلاک ہوگا، اس کی جگہ دوسرا شخص مقرر کر دیا جائے گا۔

    پاسدارانِ انقلاب کو بسیج کا بھی کنٹرول حاصل ہے۔ یہ ایک رضاکار فورس ہے جس کے اراکین کی تعداد تقریباً 10 لاکھ ہے اور اسے اکثر سڑکوں پر اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف طاقت کے استعمال کے لیے تعینات کیا جاتا ہے۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے بسیج کے متعدد چیک پوائنٹس کو نشانہ بنایا ہے، لیکن رواں ہفتے تہران سے مجھے لوگوں نے بتایا ہے کہ اس فورس کے اہلکار اب بھی سڑکوں پر موجود ہیں، گاڑیوں کو روک رہے ہیں اور تلاشی لے رہے ہیں۔

    جہاں تک احتجاجی مظاہروں کی بات ہے، ایرانی حکومت نے بیانات اور پیغامات کے ذریعے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سڑکوں پر نہ نکلیں۔

    ملک میں انٹرنیٹ کی بندش ہے، جس کے سبب احتجاجی مظاہروں کا انعقاد مشکل ہے۔ اس جنگ کی ابتدا کے بعد ہم نے ایران میں کوئی بڑے حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے نہیں دیکھے، تاہم سرکاری میڈیا پر ضرور اسٹیبلشمنٹ کے حامیوں کی ریلیوں کی خبریں نشر ہوتی ہیں۔

    ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای اپنی تقرری کے بعد سے منظرِ عام پر نہیں آئے ہیں۔ اب تک ہم نے صرف سرکاری میڈیا پر ان کے تحریری پیغامات ہی دیکھے ہیں۔

    اسرائیل نے انھیں بھی نشانہ بنانے کا اعلان کر رکھا ہے۔

    ایران کی موجود اسٹیبلشمنٹ نے ہلاک ہونے والے قائدین کے متبادل لا کر کھڑے کر دیے ہیں اور چیک پوائنٹس بڑھا دیے ہیں، لیکن ابھی تک اس نے یہ ثانت نہیں کیا ہے کہ وہ ایک ایسی قوم پر مزید حکمرانی کر سکتی ہے جو اس کے اختیارات کو نہیں مانتی بلکہ طاقت کے استعمال کے سبب خاموش ہے۔

  11. ایران میں انٹرنیٹ کی بندش کو 26 دن گزر چُکے ہیں: نیٹ بلاکس کا دعویٰ

    انٹرنیٹ مانیٹرنگ گروپ نیٹ بلاکس کے مطابق ایران میں حکومت کی جانب سے نافذ کردہ انٹرنیٹ بندش اپنے 26 ویں دن میں داخل ہو گئی ہے اور 600 گھنٹوں کی حد عبور کر چکی ہے۔

    نیٹ بلاکس کا کہنا ہے کہ ’اس اقدام کے باعث ایران کے لوگ بین الاقوامی نیٹ ورکس سے کٹ گئے ہیں، جو ’جنگ کے دوران معلومات تک رسائی کے ان کے حق کی خلاف ورزی‘ ہے۔‘

    کچھ ایرانیوں کو وقفے وقفے سے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہو رہی ہے اور بی بی سی فارسی جنگ کے دوران ان میں سے کچھ سے بات کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

    ایک خاتون نے پہلے بتایا تھا کہ وہ ’بس چاہتی ہیں کہ پلک جھپکنے میں جنگ کا یہ ماحول ختم ہو جائے۔‘

  12. اسرائیل کا تہران میں کروز میزائل بنانے والی اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    اسرائیلی دفاعی افواج نے ایک حالیہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے تہران میں کروز میزائل تیار کرنے والے اہم مقامات اور تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔

    اسرائیلی دفاعی افواج کے مطابق انھوں نے ایرانی دارالحکومت تہران میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے بحری کروز میزائل تیار کرنے کے دو اہم مقامات پر حملے کیے ہیں۔

    آئی ڈی ایف نے ٹیلیگرام پر ایک بیان میں کہا کہ ان ’اہم حملوں‘ سے حالیہ دنوں میں ان مقامات کو شدید نقصان پہنچا ہے اور یہ میزائل ’سمندر اور زمین پر اہداف کو تیزی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ حملے ’حکومت کے فوجی پیداواری ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کو مزید گہرا کرنے کی ایک اور کڑی ہیں۔‘

  13. بریکنگ, اپنی شکست کو معاہدہ نہ کہیں، آپ خود سے ہی مذاکرات کر رہے ہیں: ترجمان ایرانی فوج کا ٹرمپ کو پیغام

    ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان جو ملک کی مرکزی فوجی کمان ہے نے (امریکہ اور ٹرمپ کا نام لیے بغیر) ’خود ساختہ عالمی سپر پاور‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اپنی شکست کو معاہدہ نہ کہیں۔‘

    ابراہیم ذوالفقاری نے آج ایرانی میڈیا پر نشر ہونے والے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’کیا آپ کے اندرونی اختلافات اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ آپ خود ہی اپنے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں؟‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’آپ نہ تو خطے میں اپنی سرمایہ کاری دوبارہ دیکھیں گے اور نہ ہی توانائی اور تیل کی وہ پرانی قیمتیں، جب تک آپ یہ نہ سمجھ لیں کہ خطے کا استحکام ہماری مسلح افواج کے طاقتور ہاتھ سے یقینی بنتا ہے۔ استحکام طاقت سے آتا ہے۔‘

    ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ ’ہم جیسے لوگ آپ جیسے لوگوں سے کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ نہ اب، نہ کبھی۔‘

  14. ایران امریکہ مذاکرات: ٹرمپ کے 15 نکاتی امن منصوبے میں مبینہ طور پر کیا ہے؟

    ہم نے وہ 15 نکاتی منصوبہ نہیں دیکھا جس کے بارے میں صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کو بھیجا گیا ہے۔ اس کے مندرجات کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی، تاہم اسرائیلی اور امریکی میڈیا میں کچھ تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔

    • اسرائیل کے چینل 12 کے مطابق منصوبے میں درج ذیل مطالبات شامل ہیں:
    • نطنز، اصفہان اور فردو میں جوہری تنصیبات کو غیر فعال کر کے ختم کیا جائے گا
    • ایران کی سرگرمیوں پر بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی شفاف نگرانی اور جائزہ ہوگا
    • ایران خطے میں مسلح پراکسیز کا استعمال ترک کرے گا اور علاقائی گروہوں کو فنڈنگ اور اسلحہ فراہم کرنا بند کرے گا
    • پہلے سے جمع شدہ جوہری صلاحیتوں کو ختم کیا جائے گا
    • جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کا عہد کیا جائے گا
    • ایرانی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی نہیں کی جائے گی اور تمام افزودہ مواد بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے حوالے کیا جائے گا
    • آبنائے ہرمز پرکسی بھی قسم کی پابندی نہیں ہوگی اور اسے ’آزاد بحری زون‘ قرار دیا جائے گا
    • ایران کے میزائلوں سے متعلق فیصلہ بعد میں کیا جائے گا، تاہم ان کی تعداد اور حد مقرر کی جائے گی اور انھیں صرف دفاعی مقاصد تک محدود رکھا جائے گا

    منصوبے کے تحت ایران کو کیا ملے گا:

    • بوشہر میں بجلی کی پیداوار کے لیے سویلین جوہری منصوبے کی ترقی میں امریکی مدد
    • ایران پر تمام پابندیوں کا خاتمہ
    • پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے خطرے کا خاتمہ

    یہ بھی اطلاعات ہیں کہ مذاکرات کے دوران ممکنہ طور پر ایک ماہ کی جنگ بندی ہو سکتی ہے تاہم اس کی بھی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

  15. تہران سمیت خطے کے مختلف علاقوں میں رات بھر ہونے والے حملوں کی تصاویر

    رات بھر اسرائیل اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے پر میزائل داغے جانے کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ لبنان کے جنوبی بیروت کے رہائشیوں کو اسرائیلی دفاعی افواج کی جانب سے خبردار کیا گیا کہ وہ شہر خالی کر دیں۔

    کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بھی ڈرون حملہ ہوا، جس سے آگ لگ گئی لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور کُچھ ہی دیر کے بعد آگ پر بھی قابو پا لیا گیا۔

    سعودی عرب نے بھی رات بھر ڈرونز کو ناکام بنائے جانے کا دعویٰ کیا، جبکہ بحرین کی وزارت داخلہ نے شہریوں کو مُمکنہ حملوں سے محفوظ رہنے کے لیے سائرن بجئے اور انھیں محفوظ مقام پر جانے کی ہدایت کی۔

  16. پاکستان نے مارچ اور اپریل کے لیے پیٹرول کی فراہمی کو یقینی بنانے کا انتظام کر لیا ہے: وفاقی حکومت, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان نے مارچ اور اپریل کے لیے ملک میں پٹرول کی فراہمی کے لیے درآمدی کارگوز حاصل کر لیے ہیں، جبکہ مزید سپلائیز بھی یقینی بنانے کے اقدامات جاری ہیں۔

    وزارت خزانہ نے اپنے ایک اعلامیہ میں کہا ہے کہ ’ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کی صورتحال مستحکم ہے اور عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے باوجود سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی جاری ہے۔‘

    اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی قیمتوں کی نگرانی کرنے والی کابینہ کمیٹی کا اجلاس وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی صدارت میں ہوا جس میں توانائی کی فراہمی اور عالمی تیل و گیس مارکیٹ کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

    اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک میں خام تیل اور ریفائن شدہ پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر تسلی بخش سطح پر ہیں، جنھیں درآمدی معاہدوں اور مقامی پیداوار کی مدد حاصل ہے۔

    حکام کے مطابق درآمدی ٹرمینلز سے لے کر ریفائنریوں، ذخائر اور پٹرول پمپس تک سپلائی کا نظام معمول کے مطابق اور بغیر کسی خلل کے جاری ہے۔

    کمیٹی کو بریفنگ میں آگاہ کیا گیا کہ پیٹرول کی درآمدی کھیپ مارچ اور اپریل کے لیے بڑی حد تک حاصل کر لی گئی ہے جبکہ مزید سپلائیز کا بھی منصوبہ بنایا جا رہا ہے تاکہ ذخائر کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔

    مزید یہ کہ ریفائنریاں بھی معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں اور خام تیل کی مؤثر پراسیسنگ کو یقینی بنانے کے اقدامات جاری ہیں۔

    اجلاس میں عالمی توانائی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں اور قیمتوں کے رجحانات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ حکومت عالمی اور مقامی قیمتوں کے فرق کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے تاکہ بروقت اور متوازن پالیسی مرتب کی جا سکے۔

    کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کے اندر توانائی کے نظام کو مکمل طور پر فعال رکھا جائے اور ریفائنریاں اپنی بہترین استعداد پر کام جاری رکھیں تاکہ کسی ممکنہ بحران سے بچا جا سکے۔ اس موقع پر عالمی سیاسی صورتحال اور اس کے توانائی کی فراہمی پر اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

    اعلامیے کے مطابق حکومت مختلف ممالک کے ساتھ سرکاری سطح پر رابطوں کے ذریعے تیل کی سپلائی کو مزید مستحکم بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان اقدامات میں خام تیل اور ریفائن شدہ مصنوعات کی متنوع ذرائع سے فراہمی، ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ اور درآمدی و مالیاتی طریقہ کار میں لچک پیدا کرنا شامل ہے۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پیشگی منصوبہ بندی، متنوع خریداری حکمتِ عملی اور اداروں کے درمیان قریبی رابطے کی بدولت عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود پاکستان میں توانائی کی فراہمی مستحکم رہی ہے۔ انھوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ عالمی حالات، ذخائر اور سپلائی چین پر کڑی نظر رکھی جائے۔

    انھوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور توانائی کے شعبے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے مربوط حکمت عملی پر عمل جاری رکھا جائے گا۔

  17. وزیراعظم پاکستان کا سعودی ولی عہد سے ٹیلیفونک رابطہ: خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بدھ کی صبح سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔

    وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اس ٹیلیفونک رابطے کے دوران وزیرِاعظم شہباز شریف نے شہزادہ محمد بن سلمان کو عید کی مبارکباد دی اور سعودی عرب پر حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی۔‘

    بیان کے مطابق شہباز شریف نے اس مشکل وقت میں مملکت اور اس کے عوام کے لیے پاکستان کی مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا اور موجودہ بحران میں غیر معمولی تحمل کا مظاہرہ کرنے پر قیادت کو سراہا۔

    وزیراعظم نے فوری طور پر جنگ کے خاتمے اور معمول پر آنے پر زور دیا تاکہ علاقائی صورتحال کو مستحکم کیا جا سکے۔

    انھوں نے سعودی ولی عہد کو تمام فریقین تک پاکستان کی تعمیری سفارتی رسائی کے بارے میں آگاہ کیا جس میں کشیدگی کو کم کرنے اور اختلافات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

    وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’سعودی ولی عہد کی جانب سے نے پاکستان کی امن کوششوں کو سراہا اور دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے درمیان ہر سطح پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔‘

  18. ہمیں نہیں لگتا کہ وہ مذاکرات کریں گے: ایرانی عوام کا امریکی مذاکراتی عمل پر ردِعمل

    بی بی سی فارسی نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات سے متعلق متضاد خبروں پر ایرانی عوام سے بات کی ہے۔

    زیادہ تر افراد نے ان خبروں پر اپنے عدم یقین کا اظہار کیا۔

    تہران کے قریب واقع شہر کرج سے تعلق رکھنے والے ایک فرد نے کہا ہے کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ وہ (امریکہ) مذاکرات کریں گے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’چاہے جنگ رک بھی جائے، یہ کسی نہ کسی وقت دوبارہ شروع ہو جائے گی،‘ اور یہ بھی کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ’اس وقت مضبوطی سے قائم ہے۔‘

    تہران میں ایک خاتون نے بھی اسی طرح کی رائے دی ان کا کہنا تھا کہ ’ٹرمپ مذاکرات کی بات کر کے وقت کے حصول کی کوشش میں ہیں تاکہ جنگ کو ایک اور مرحلے میں لے جا سکیں۔۔۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ ان کے ساتھ کوئی معاہدہ کریں گے۔‘

    20 سالہ ایک خاتون نے کہا کہ وہ ’بس چاہتی ہیں کہ ایک پلک جھپکیں اور یہ سب ختم ہو جائے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے اور میں کیسا محسوس کر رہی ہوں،‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’میں اگلے مراحل کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتی۔‘

    تاہم ایرانی حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ بند کیے جانے کے باعث ایران کے لوگ بڑی حد تک دنیا سے کٹے ہوئے ہیں۔

  19. پاسدارانِ انقلاب کا اسرائیل، بحرین، کویت اور اردن پر میزائل داغنے کا اعلان: ایرانی ٹی وی کا دعویٰ

    اب سے کُچھ دیر قبل تک ہمارے پاس اسرائیلی فوج کی جانب سے تہران کے متعدد علاقوں پر حملوں کی اطلاعات موجود تھیں تاہم اب ایرانی ٹی وی یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایران نے متعدد مُمالک پر اپنے ایک تازہ حملے میں میزائل داغے ہیں۔

    پاسدارانِ انقلاب کے حوالے سے ایرانی میڈیا یہ خبریں دے رہا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیل، بحرین، کویت اور اردن کی جانب میزائل داغنے کا اعلان۔

    تاہم اس اعلان کے حوالے سے بی بی سی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

  20. روس کا یوکرین پر 24 گھنٹوں میں 948 ڈرونز سے اب تک کا سب سے بڑا حملہ

    روس نے یوکرین کے ساتھ جاری جنگ کے آغاز کے بعد گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے بڑا فضائی حملہ کیا ہے، جس میں یوکرین کے متعدد شہروں کو 948 ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    یوکرین کی فضائیہ کے مطابق منگل کو مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے سے 556 ڈرونز داغے گئے، جو دن کے وقت ہونے والا ایک انتہائی غیر معمولی حملہ تھا، جس میں کم از کم تین افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔

    مقامی حکام کے مطابق مغربی شہر لویف میں 16ویں صدی کی برنارڈائن خانقاہ جو شہر کے مرکز میں واقع یونیسکو عالمی ورثہ سائٹ کا حصہ ہے کو نقصان پہنچا۔

    یوکرین انتظامیہ کے مطابق دو کے بعد رات میں 392 ڈرونز اور 34 میزائل داغے گئے۔

    تاہم روسی فوج یا انتظامیہ کی جانب سے یورکیں کے ان دعوں کے حوالے سے کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔