آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
وہ قاتل جسے امید تھی کہ یوٹیوب لائیو کا بہانہ اسے سزا سے بچا لے گا
- مصنف, کارمَک کیمبل
- عہدہ, بی بی سی نیوز شمالی آئرلینڈ
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
انتباہ: اس مضمون میں شامل چند تفصیلات بعض قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔
سرد خون، بے رحمی اور عجیب و غریب بہانے۔۔۔ اگر سٹیفن مک کلگھ کا اپنی حاملہ ساتھی کو قتل کرنے کا منصوبہ کسی ویڈیو گیم کی کہانی ہوتا، تو شاید اسے حد سے زیادہ غیر حقیقی قرار دے کر مسترد کر دیا جاتا۔
لیکن 2023 کے اوائل میں جب وہ پہلی بار عدالت میں پیش ہوا، تو یہ واضح تھا کہ (حکام کے مطابق) اس نے ناصرف نیٹلی مک نالی کو قتل کیا بلکہ انصاف سے بچنے کے لیے ایک نہایت پیچیدہ اور باریک بینی سے تیار کیا گیا جھوٹ کا جال بھی بُنا۔
پولیس کے موقع پر پہنچنے پر اس کے آنسو، 999 پر کی گئی کال اور یہ دعویٰ کہ نیٹلی کے سابق ساتھی نے یہ سب کیا۔۔۔ یہ سب اس منصوبے کا حصہ تھے۔
اس کے علاوہ، نیٹلی کی موت کے بعد کے دنوں اور ہفتوں میں وہ اس کے خاندان کے ساتھ موجود رہا، حتیٰ کہ ان کی گفتگو پر خفیہ طور پر نظر رکھنے کی بھی کوشش کرتا رہا۔
اور اس کے پاس اس جرم کا عذر (الائبائی) تھا۔۔۔ چھ گھنٹے طویل یوٹیوب گیمنگ ’لائیو سٹریم‘ جو نیٹلی کی لاش ملنے سے ایک رات پہلے نشر ہوا تھا، لیکن بعد میں ثابت ہوا کہ وہ پہلے سے ریکارڈ کی گئی ایک چال تھی۔
قتل کے بعد ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک 36 سالہ مک کلگھ کو یقین تھا کہ نیٹلی کی موت کے سلسلے میں اسے مشتبہ افراد کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔
لیکن فردِ جرم عائد ہونے کے تین سال بعد، پانچ ہفتوں پر مشتمل ٹرائل نے جیوری کے سامنے اس کے تمام جھوٹ بے نقاب کر دیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نیٹلی کی موت کی رات کیا ہوا؟
18 دسمبر 2022 کو تقریباً 16:00 جی ایم ٹی پر مک کلگھ اپنے لاکھوں سبسکرائبرز کو بتاتا ہے کہ وہ شام 18:00 بجے یوٹیوب پر ایک لائیو گیمنگ سٹریم کرے گا۔
اس سٹریم کا عنوان تھا ’وائلنٹ نائٹ۔‘
جب سٹریم نشر ہوا تو اس میں مک کلگھ کو ’گرینڈ تھیفٹ آٹو: وائس سٹی اور روبوٹ وارز‘ جیسے ویڈیو گیمز کھیلتے ہوئے دکھایا گیا، ساتھ ہی وہ شراب پی رہا تھا، ویپ کر رہا تھا اور کیمرے پر بات بھی کر رہا تھا۔
معمول کے برعکس اس نے ناظرین کو بتایا کہ وہ تکنیکی مسائل کی وجہ سے تبصروں کا جواب نہیں دے سکے گا۔۔۔ جو کہ عام طور پر لائیو سٹریمز میں ہوتا ہے۔
لیکن حقیقت یہ تھی کہ وہ سٹریم سرے سے لائیو تھا ہی نہیں۔
ڈیجیٹل فارنزک تجزیہ کار نے عدالت کو بتایا کہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ چھ گھنٹے طویل گیمنگ سٹریم چار دن پہلے ریکارڈ کی گئی تھی۔
تجزیہ کار نے یہ بھی بتایا کہ یہ پہلے سے ریکارڈ شدہ فائل 19 دسمبر کو 00:05 پر بند کی گئی اور پھر ڈیلیٹ کر دی گئی۔
اسی دوران جب یہ سٹریم نشر ہو رہا تھا مک کلگھ نے نیٹلی کو قتل کیا۔
مک کلگھ کے یوٹیوب چینلز کو پلیٹ فارم نے ہٹا دیا ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ گیمنگ سٹریم پہلے ہی ڈی مونیٹائز ہو چکا تھا، لیکن عدالتی کارروائی کے دوران یہ کلگھ کے یوٹیوب اکاؤنٹ پر موجود رہا۔
’مجھے اسے ختم کرنا ہے‘
سٹریم کے کچھ حصے اس کے ٹرائل کے دوران جیوری کو سنوائے گئے جن میں تشدد، جرائم اور ان کے رشتے سے متعلق حوالہ جات شامل تھے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ جس وقت نیٹلی پر حملہ ہوا، اسی دوران مک کلگھ گرینڈ تھیفٹ آٹو کا ایک مشن کھیل رہا تھا جس میں ایک عورت کو قتل کرنا ضروری ہوتا ہے۔
اسی دوران وہ گالیاں دیتے ہوئے گاتا ہے: ’مجھے اسے ختم کرنا ہے۔‘
تقریباً دس منٹ بعد وہ نیٹلی کو مزید گالیاں دیتا ہے۔
یہ سٹریم کے دوران اس کا نیٹلی کا نام لے کر کیا گیا واحد حوالہ تھا۔
چند منٹ بعد وہ ایک وقفہ لیتا ہے، جس کے دوران سکرین پر اچانک اور بے ربط انداز میں جیمز بونڈ کی فلم ’نو ٹائم ٹو ڈائی‘ کا پوسٹر نمودار ہوتا ہے۔
مک کلگھ کی ان حوالوں سے کیا مراد تھی۔۔۔ یہ واضح نہیں ہو سکا، کیونکہ اس نے ٹرائل کے دوران گواہی دینے کے لیے سٹینڈ پر آنے سے انکار کر دیا تھا۔
بے رحمانہ قتل
مک کلگھ کی پہلے سے ریکارڈ شدہ سٹریم یوٹیوب پر پوسٹ ہونے سے چند گھنٹے قبل، نیٹلی مک نالی اپنے والدین کے گھر میں موجود تھیں جہاں وہ ورلڈ کپ فائنل دیکھ رہی تھیں اور اتوار کا کھانا کھا رہی تھیں۔
سٹریم پوسٹ ہونے سے کچھ دیر پہلے دونوں کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہوا۔
مک کلگھ نے لکھا کہ وہ ’ساری رات سٹریم کرنے‘ والا ہے اور نیٹلی نے جواب دیا کہ وہ ’اسے دیکھنے کی کوشش کرے گی‘۔
کچھ ہی دیر بعد نیٹلی اپنی گاڑی میں اپنے گھر واپس روانہ ہوئیں اور تقریباً 19:00 بجے پہنچیں۔
اسی دوران مک کلگھ لزبرن میں اپنے گھر سے تقریباً دو میل پیدل چل کر ڈنمری پہنچتا ہے، جہاں سے وہ لرگن جانے کے لیے بس پکڑتا ہے، جو وہاں سے 20 میل دور ہے۔
وہ سیاہ کپڑوں میں ملبوس تھا، دستانے پہنے ہوئے تھے، چہرے کا نچلا حصہ ڈھانپا ہوا تھا اور اس کے ہاتھ میں ایک سبز شاپنگ بیگ تھا۔
اس سے پہلے وہ لزبن، ڈنمری اور لرگن کے درمیان بس اور ٹرین کے اوقات کار بھی دیکھ چکا تھا۔
لرگن پہنچنے کے بعد وہ تقريباً ڈيڑھ ميل پيدل چل کر سلور وڈ گرين ميں نيٹلي کے گھر جاتا ہے جہاں وہ اسے بے رحمي سے قتل کرتا ہے۔
پوليس کے مطابق قتل 20:50 اور 21:30 کے درميان ہوا۔
نيٹلي کو چاقو مارا گيا، گلا گھونٹا گيا اور اس کے سر پر کم از کم پانچ بار بھاری ضربيں لگائی گئيں۔
مک کلگھ کے واپسي کے سفر کي تفصيلات بڑے پيمانے پر سی سی ٹی وی کيمروں ميں محفوظ ہو گئيں۔
روانہ ہونے سے پہلے وہ اپنے کپڑے بدلتا ہے۔
ٹرائل کے دوران استغاثہ نے مک کلگھ کی سوشل میڈیا سے لی گئی وہ تصاویر بھی دکھائيں جن ميں وہ کالی ٹوپی اور وگ پہنے ہوئے ہے، جو اس شخص سے مشابہت رکھتی ہیں جو سی سی ٹی وی ميں لرگن کے ٹاؤن سينٹر سے واپس چلتا ہوا نظر آتا ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا ارادہ بس يا ٹرين سے گھر واپس جانے کا تھا، ليکن وہ دير سے پہنچتا ہے۔
اسے قريب کھڑی ايک ٹيکسي نظر آتی ہے۔ وہ ڈرائيور کو يقين دلاتا ہے کہ بکنگ اسی نے کی تھی، ليکن منزل بدل گئی ہے اور اسے لزبن جانا ہے۔۔۔ بالکل مک کلگھ کے گھر کے گيٹ تک۔
گھر پہنچ کر وہ سٹريم بند کرتا ہے اور پہلے سے ریکارڈ شدہ فائل کو حذف کر ديتا ہے۔
مک کلگھ کی گرفتاری اور رہائی
مک کلگھ نیٹلی کے فون پر اور اپنی دوست اين کو پيغامات بھيجتا ہے تاکہ اپنے اليبائی کو مزيد مضبوط بنا سکے۔
ان پيغامات ميں يہ تاثر ديا جاتا ہے کہ شايد نیٹلی اس سے ناراض ہے کيونکہ وہ اس کے حمل کے دوران شراب پی رہا تھا، اور يہ بھی کہ اسے ذيابيطس کے باعث کچھ مشکلات پيش آ رہی ہیں۔
اس دوران وہ سٹار وارز کے لائٹ سيبر کھلونے کا ايک ویڈیو ریویو پوسٹ کرنے کے لیے بھی وقت نکالتا ہے۔
اس شام وہ لرگن جاتا ہے، بظاہر اس ليے کہ نیٹلی کو ديکھ سکے جس کے بارے ميں تقريباً 24 گھنٹے سے کسی نے کچھ نہيں سنا تھا۔
وہ روتے ہوئے نیٹلی کے گھر سے 999 پر کال کرتا ہے۔
تقريباً دس منٹ کی اس کال ميں ايمرجنسی سروسز کو بتايا جاتا ہے کہ ’وہ جا چکی ہے‘ اور ’ہر جگہ خون ہے‘۔ وہ سی پی آر بھی کرتا ہے۔
استغاثہ نے عدالت کو بتايا کہ يہ سب ايک ڈرامہ تھا۔
مک کلگھ موقع پر پوليس کو بتاتا ہے کہ اسے شبہ ہے کہ نیٹلی کا ’تشدد کرنے والا سابق ساتھی‘ اس کا ذمہ دار ہے۔
وہ پوليس کو اپنی پچھلی رات کی لائيو سٹريم کے بارے ميں بھی بتاتا ہے۔ اسے موقع پر گرفتار کيا جاتا ہے ليکن بعد ميں رہا کر ديا جاتا ہے۔
پوليس نے اس کا اليبائی قبول کر ليا تھا اور کرسمس سے ایک روز قبل مک کلگھ کو بتايا گيا کہ اب اسے مشتبہ نہيں سمجھا جا رہا۔
جس سابق ساتھی پر مک کلگھ نے الزام لگايا تھا اسے بھی گرفتار کر کے پوچھ گچھ کی گئی۔۔۔ اس کے پاس بھی اليبائی تھا اور اسے رہا کر ديا گيا۔
اس اليبائی کی تفصيلات مک کلگھ کے ٹرائل کے دوران عدالت ميں پيش کی گئيں، اور جيوری کو ايک ویڈیو دکھائی گئی جس ميں وہ ورلڈ کپ فائنل کے دوران ٹی وی کے سامنے سو رہا تھا۔
اگلے چھ ہفتوں تک مک کلگھ خود کو غم زدہ بوائے فرینڈ کے طور پر پيش کرتا رہتا ہے۔
وہ نیٹلی کی آخری رسومات ميں شرکت کرتا ہے جہاں اسے نیٹلی کی میت کے ساتھ اکيلا وقت بھی ديا جاتا ہے۔ وہ اس کی قبر پر جاتا ہے۔ وہ اس کے بھائیوں کو باقاعدگی سے پيغامات بھيجتا ہے۔
وہ پرانی ویڈیوز سے ایک ٹريبيوٹ ویڈیو مونٹاج بھی بناتا ہے جو اس کے اعزاز ميں ہونے والی ایک ريلی ميں دکھايا جاتا ہے۔
وہ اس حد تک بھی جاتا ہے کہ اپنا فون میک نالی خاندان کے گھر ميں چھوڑ آتا ہے تاکہ ان کی نجی گفتگو کی ریکارڈنگ ہو سکے۔
39 منٹ بعد وہ واپس آ کر کہتا ہے کہ وہ اپنا فون بھول گيا تھا۔
اس کا دعویٰ تھا کہ ریکارڈنگ فون کی کسی خرابی کے باعث ہوئی، لیکن عدالت کو بتایا گیا کہ اس نے اس سے پہلے بھی اپنی سابق ساتھی کے ایک نجی کاؤنسلنگ سیشن کی ریکارڈنگ کی تھی۔
اس نے نیٹلی کا قتل کیوں کیا؟
اس بات کا درست تعین ممکن نہیں کہ اصل محرک کیا تھا۔ مک کلگھ نے قتل سے انکار کیا، پہلے سے ریکارڈ کی گئی لائیو سٹریم کی کوئی وضاحت نہیں دی اور اپنے ٹرائل کے دوران گواہی کے لیے بھی پیش نہیں ہوا۔
لیکن عدالت کو بتایا گیا کہ نیٹلی اپنی موت سے پہلے کے مہینوں میں دوسرے مردوں کو پیغامات بھیج رہی تھیں۔
ان میں سے کچھ پیغامات جنسی نوعیت کے تھے، اور اس نے اپنی موت سے ایک ہفتہ پہلے ایک شخص کو بتایا تھا کہ وہ نئے سال میں مک کلگھ سے علیحدگی پر غور کر رہی ہے۔
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ غالباً مک کلگھ نے نیٹلی کا فون کھول کر یہ پیغامات پڑھ لیے تھے۔
یہ بھی سامنے آیا کہ اس سے پہلے وہ اپنی ایک سابق گرل فرینڈ کو اس کے فون پر پیغامات دیکھنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں گرفتار ہو چکا تھا۔
لیکن حسد صرف جزوی طور پر اس منصوبے کی شدت کو بیان کرتا ہے جو مک کلگھ نے شروع کیا تھا۔
یہ منصوبہ نہایت باریکی سے تیار کیا گیا تھا، مگر آخرکار یہ ایک ایسا گھر ثابت ہوا جو ایک جھٹکے میں زمین بوس ہو گیا۔