آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سعودی فضائی اڈے پر دو ٹکڑوں میں بٹے امریکی طیارے کی تصویر کی حقیقت: کیا یہ ایرانی حملے کا نتیجہ ہے؟
- مصنف, ایما پینگلی، شايان سرداری زاده اور جیک ہارٹن
- عہدہ, بی بی سی ویریفائی
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
سعودی عرب کے ایک فضائی اڈے کی بعض مصدقہ تصاویر میں امریکی فضائیہ کا ایک کمانڈ اینڈ کنٹرول طیارہ تباہ شدہ حالت میں دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ تصاویر سب سے پہلے امریکی فوج کی خبروں سے متعلق ایک فیس بُک پیج پر شیئر کی گئی تھیں۔ ان میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ’ای تھری سینٹری‘ نامی طیارہ دو ٹکڑوں میں بٹ چکا ہے۔
ہم نے تصدیق کی ہے کہ یہ تصاویر سعودی دارالحکومت ریاض سے 100 کلو میٹر شہزادہ سلطان ایئر بیس پر کھینچی گئی تھی۔ تصاویر میں موجود تعمیرات جیسے کھمبے، سٹوریج یونٹس اور سائن بورڈز سیٹلائٹ تصاویر سے مطابقت رکھتے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے تاحال اس واقعے پر تبصرہ نہیں کیا۔ بی بی سی نے موقف جاننے کے لیے اس سے رابطہ کیا ہے۔
جمعے کو ایک امریکی اہلکار نے روئٹرز کو بتایا تھا کہ اس فضائی اڈے پر ایک ایرانی حملے میں 12 امریکی فوجی زخمی ہوئے تھے جن میں سے دو کی حالت تشویش ناک ہے۔ اخبار والسٹریٹ جرنل کے مطابق کم از کم دو امریکی ریفیولنگ طیاروں کو نقصان پہنچا ہے۔
اتوار کو پاسداران انقلاب سے منسلک نیوز ایجنسی فارس نے کہا تھا کہ شاہد ڈرون نے ای تھری طیارے کو نشانہ بنایا ہے۔
بی بی سی ویرفائی نے 11 مارچ کو کھینچی گئی سیٹلائٹ تصویر میں بھی ایک ای تھری طیارہ اس مقام پر دیکھا تھا۔ ہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکتے کہ آیا یہ وہی طیارہ ہے۔
ایک مصدقہ تصویر میں طیارے کا ٹیل نمبر واضح ہے۔ اسے دیکھ کر ہم نے پروازوں کو ٹریک کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 پر چیک کیا جس سے ظاہر ہوا کہ اس نے 18 مارچ کو اڑان بھری تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جمعے کو کھینچی گئی سیٹلائٹ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اڈے پر طیاروں کو پارک کرنے کے مقام پر آگ لگی ہوئی ہے۔ مگر یہ تصویر ای تھری طیارے کے مقام سے 1600 میٹر دور مشرق میں واقع ہے۔
یہ واضح نہیں کہ آیا اسی حملے میں اس طیارے کو بھی نقصان پہنچا تھا۔
بوئنگ ای تھری طیارہ فضا میں وارننگ اور کنٹرول سسٹم کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ مسافر طیارے بوئنگ 707 سے مماثلت رکھتا ہے مگر اس پر ایک روٹیٹنگ ریڈار ڈسک بھی نصب ہوتی ہے۔
اس ریڈار کے ذریعے یہ طویل فاصلے تک ممکنہ خطرات کو جانچ لیتا ہے اور فضائی آپریشنز کے دوران قبل از وقت وارننگ جاری کر سکتا ہے۔
امریکی فضائیہ کی ویب سائٹ کے مطابق یہ طیارہ فضائی آپریشنز کے دوران ایسی معلومات فراہم کرتا ہے جس سے لڑائی میں برتری حاصل ہوتی ہے۔
امریکی فضائیہ میں اس قسم کے طیارے پہلے بار 1977 میں شامل کیے گئے تھے۔ اطلاعات ہیں کہ امریکی فضائیہ 2035 تک اپنے فضائی آپریشنز میں ای تھری طیارے استعمال کرے گی۔