امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کرنے کے ایک ماہ بعد سنیچر کے روز ایک نیا محاذ کھل گیا۔
سنیچر کے روز یمن سے اسرائیلی علاقے کی جانب میزائل داغے گئے۔ 28 فروری کو ایران کے خلاف حملے شروع ہونے کے بعد سے ایران نے نہ صرف اسرائیل کے خلاف بلکہ امریکہ کے اتحادی خلیجی ممالک کے خلاف بھی جوابی حملے شروع کیے ہیں۔
ادھر اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔
اسرائیلی دفاعی افواج نے سنیچر کی صبح اپنے ٹیلی گرام چینل پر یمن سے حملے کے بارے میں معلومات جاری کیں۔ فوج نے کہا کہ اس کا فضائی دفاعی نظام ’خطرے کو روکنے کے لیے مکمل طور پر فعال ہے۔‘
چند گھنٹوں بعد حوثی باغیوں نے تصدیق کی کہ اُنھوں نے ایران، لبنان، عراق اور فلسطینی علاقوں پر حملوں کے جواب میں ’اسرائیلی فوجی مقامات‘ پر بیلسٹک میزائل فائر کیے تھے۔
حوثی باغیوں نے خبردار کیا کہ یہ حملے تمام مزاحمتی محاذوں کے خلاف جارحیت بند ہونے تک جاری رہیں گے۔
حوثی باغی سنہ 2014 سے شمال مغربی یمن پر کنٹرول رکھتے ہیں اور یہ دُنیا کے ایک اور بڑے تجارتی راستے بحیرہ احمر پر کنٹرول رکھتے ہیں۔
سات اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد حوثی باغیوں نے اسرائیل کے خلاف جنگ میں حماس کا ساتھ دیا تھا۔
فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے، اُنھوں نے بحیرہ احمر سے نہر سویز کی طرف سفر کرنے والے مال بردار بحری جہازوں پر حملوں کا سلسلہ شروع کیا تھا۔
حوثی گروپ کے ڈرون اور میزائل حملوں میں کئی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں سے کچھ ڈوب بھی گئے تھے۔
اس نے شپنگ کمپنیوں کو محفوظ، بلکہ طویل اور مہنگے متبادل راستے اختیار کرنے پر مجبور کیا، بشمول جنوبی افریقہ میں کیپ آف گڈ ہوپ کے آس پاس۔ اس سے سپلائی چین اور بین الاقوامی تجارت میں نمایاں رکاوٹیں آئیں۔
ان حملوں کے بعد امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک نے گروپ کے ٹھکانوں کے خلاف بمباری کی مہم شروع کی اور راستے کو دوبارہ کھولنے کے لیے جنگی جہاز بھیجے۔
سنہ 2025 میں امریکہ نے یمن میں گروپ کے اڈوں پر دوبارہ حملہ کیا تاکہ مزید ایسے واقعات کو روکا جا سکے جو عالمی تجارت کو متاثر کر سکتے ہیں۔
لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بحیرہ احمر میں اس طرح کے حملوں کا دوبارہ ہونا دنیا کی معاشی صورتحال کو مزید خراب کر سکتا ہے۔