کیا حالیہ دنوں میں پاکستان نے افغانستان کے کچھ علاقے پر قبضہ کر لیا ہے؟

    • مصنف, علی حسینی
    • عہدہ, بی بی سی فیکٹ چیکنگ
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

ڈیورینڈ لائن کہلانے والی پاکستان افغان سرحد پر پکتیکا صوبے میں حال ہی میں ایک واقعہ پیش آیا ہے، جس سے قیاس آرائیاں پیدا ہوئی ہیں کہ پاکستان نے افغانستان کے کم از کم 12 کلومیٹر علاقے کو باڑ لگا کر ضم کر لیا ہے۔

تاہم طالبان کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ افغانستان کے سرحدی علاقے حکومت کی سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہیں اور اس نے کسی بھی پاکستانی پیش قدمی کی تردید کی ہے۔

سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اس ہفتے پاکستانی اکاؤنٹس پر ایک ویڈیو گردش کرتی رہی جس کا عنوان تھا ’پاکستان کا نقشہ پھیل رہا ہے۔‘

ویڈیو میں پاکستانی باڑ والے سرحدی مقامات کی تصاویر دکھا کر لکھا گیا ہے کہ ’پاکستانی فورسز نے سرحدی باڑ لگا کر افغان طالبان سے چھینی گئی زمین پر مستقل قبضہ کر لیا ہے۔‘

افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد کو ’ڈیورینڈ لائن‘ کہا جاتا ہے جسے افغان حکومتوں نے ماضی میں دونوں ممالک کی سرحد کے طور پر باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔ اگرچہ اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی تنظیمیں اس لائن کو دونوں ممالک کی سرحد تسلیم کرتی ہیں۔

یہ علاقہ کہاں واقع ہے؟

پکتیکا صوبے کے جنوب مغرب میں پاکستانی سرحد کے ساتھ ایک علاقہ ہے۔ یہ ایک ایسے ابھار کی طرح لگتا ہے جو پاکستان کی طرف جا رہا ہے۔

گوگل ارتھ سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ گذشتہ چار سال سے اس علاقے پر دونوں ممالک کی سرحد کے درمیان باڑ لگی ہوئی ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد کے ساتھ باڑ لگا رہا ہے۔

یہ رقبہ کم از کم 32 مربع کلومیٹر ہے۔

جو کچھ تقریباً دو ہفتے پہلے ہوا وہ اس علاقے کے ایک درّے سے متعلق ہے۔

سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر دیکھا جا سکتا ہے کہ اس علاقے کو باڑ لگا کر افغانستان کی سر زمین سے الگ کر دیا گیا ہے۔

اگر ہم اس علاقے کو تصویر کی مدد سے سمجھنا چاہیں تو یوں تصور کریں کہ یہ خطہ تقریباً ایک بڑے ’ایل‘ کی شکل کا ہے جس کا رقبہ تقریباً 32 مربع کلومیٹر بنتا ہے اور لوہے کی باڑ نے اس کے نچلے اور اوپری حصے کو افغانستان کے علاقے سے جدا کر دیا ہے۔

اگر ہم پاکستان کی ہزاروں کلومیٹر طویل سرحدی باڑ کو معیار بنائیں، جس میں باڑ کے مشرقی جانب کا علاقہ پاکستان جبکہ مغربی جانب کا علاقہ افغانستان شمار ہوتا ہے، تو حالیہ باڑ کے ذریعے پاکستان نے ’ایل‘ علاقے کو عملاً اپنی سر زمین میں شامل کر لیا ہے۔

سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس علاقے کو جدا کرنے والی باڑ 10 مارچ سے پہلے نظر نہیں آتی لیکن صرف تین دن بعد یہ باڑ واضح طور پر دکھائی دینے لگتی ہے۔

اس خطے کا وہ حصہ جو اس نئی باڑ کے ذریعے پاکستان کی سمت میں کاٹا گیا ہے، اس کی لمبائی کم از کم 12 کلومیٹر ہے۔

ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا باڑ مکمل ہونے کے بعد اسی سرحدی علاقے کے ایک اور حصے میں ایک نئی باڑ بنائی گئی ہے۔

یہ نئی باڑ بالکل اسی ’ایل‘ شکل والے علاقے کے دہانے پر بنائی گئی ہے۔

یہ حصار افغانستان کی سر زمین میں سرحد سے ساڑھے 13 کلومیٹر سے زیادہ اندر کی جانب کھینچا گیا ہے۔

طالبان کی عبوری حکومت کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ڈیورینڈ لائن کے ساتھ واقع تمام علاقے سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہیں۔

وزارت کا کہنا ہے کہ افغانستان کی سر زمین کے کسی بھی حصے کے بارے میں کسی کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔

آج بھی طالبان حکومت کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں طالبان مسلح افراد کے نائب سربراہ مالی خان صدیق بتا رہے ہیں کہ وہ پکتیکا صوبے کے ضلع تروی میں موجود ہیں۔

ویڈیو میں وہ افغانستان کی سر زمین کے اندر باڑ لگانے کے معاملے کو ’میڈیا کا پروپیگنڈا‘ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں: ’آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہماری فورسز ہر جگہ موجود ہیں۔ اگر بین الاقوامی میڈیا آنا چاہے تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں۔‘