’چوری‘ کرنے پر باپ کی بیٹیوں کو چھت سے لٹکانے کی سزا، ایک بچی ہلاک، دوسری کی حالت تشویشناک

مطالعے کا وقت: 6 منٹ

(انتباہ: اس خبر میں شامل کچھ تفصیلات قارئین کے لیے پریشان کن ثابت ہو سکتی ہیں۔)

انڈیا کی ریاست مہاراشٹرا میں ایک شخص نے چوری کرنے کے شبے میں اپنی دو بیٹیوں کو رسی سے باندھ کر گھر میں الٹا لٹکا دیا۔ اس کے نتیجے میں ایک بچی کی موت ہو گئی ہے جبکہ دوسری کی حالت تشویشناک ہے۔

اس معاملے میں مہاراشٹرا کے علاقے اٹپاڈی کی مقامی پولیس نے 51 سالہ ملزم دادا ہیبت یامگر کو گرفتار کر لیا ہے۔

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ لڑکیاں اکثرچیزیں چرا لیتی تھیں اور حال ہی میں یمگر کی دونوں بیٹیوں نے پڑوس کے ایک گھر سے پیسے چرائے تھے۔

جب یامگر کو ان کی اس حرکت کا پتہ چلا تو اس نے غصّے میں آکر دونوں لڑکیوں کے ہاتھ پاؤں باندھ کر انھیں پوری رات گھر میں لوہے کے اینگل سے الٹا لٹکائے رکھا جس کے باعث مبینہ طور پر ایک لڑکی کی موت ہو گئی۔

اٹپاڈی پولیس نے دادا ہیبت یامگر کو گرفتار کر لیا ہے۔

واقعہ کیا ہے؟

بی بی سی مراٹھی کے مطابق یمگر بنپوری گاؤں کے یمگر بستی کے رہائشی ہین۔ وہ پیشے سے ایک مزدور ہیں ان کی چار بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔

ان کی دو بیٹیاں یمگر بستی کے ضلع پریشد سکول میں پانچویں اور چوتھی جماعت میں پڑھتی تھی۔ یہ دونوں لڑکیاں شرارتی تھیں اور پچھلے کچھ مہینوں سے سکول، گھر اور دیگر جگہوں پر چوری کر رہی تھیں۔

اطلاعات کے مطابق 25 مارچ کو دونوں بہنوں نے مبینہ طور پر اپنے ساتھ والے گھر سے پیسے چرا لیے۔

اس بات کا علم ہونے پر متعلقہ خاندان نے دونوں بچیوں کے گھر والوں سے شکایت کی۔ جب لڑکیوں کا والد شام کو نشے کی حالت میں گھر آئے تو انھیں اس بات کا علم ہوا۔

جب یمگر کو اس چوری کے متعلق علم ہوا تو اس نے غصے میں دونوں لڑکیوں کے ہاتھ پاؤں باندھ کر انھیں گھر کی چھت پر لگے لوہے کے اینگل سے الٹا لٹکا دیا۔

دادا یمگر کی بیوی، والدہ اور والد نے ان کے اس اقدام کی مخالفت کی۔ تاہم یمگر نے طیش میں آ کر انھیں دھمکی دی کہ اگر کسی نے مداخلت کی تو وہ ان سب کو قتل کر دیں گے۔

اطلاع کے مطابق دونوں لڑکیاں رات بھر وہیں لٹکتی رہیں اس دوران وہ روتی رہیں۔ لڑکیاں پانی مانگتی رہیں جس کے بعد ان کے والد نے انھیں دو بار پانی پلایا انھیں نیچے نہیں اتارا۔

صبح لڑکیوں کو نیچے اتارا گیا تو دونوں کی حالات خراب تھی اور انھیں ہسپتال لے جایا گیا۔

ہسپتال لے جاتے ہوئے ایک لڑکی کی ایمبولینس میں ہی موت ہو گئی جبکہ دوسری کی حالت تشویشناک ہے اور وہ فی الحال اٹپاڈی میں زیر علاج ہے۔

گھر والوں کا کیا کہنا ہے؟

لڑکیوں کی والدہ رانی یمگر کی جانب سے مہیا کی گئی معلومات کے مطابق، ’ہماری لڑکیوں نے چوری کی تھی۔ وہ اکثر سکول یا دیگر جگہوں پر چھوٹی موٹی چوریاں کرتی تھیں جس کی وجہ سے ان کے والد کو غصہ آتا تھا۔ وہ نشے میں دھت ہو کر آیا اور اس نے لڑکیوں کے ہاتھ پاؤں باندھ کر انھیں لٹکا دیا۔‘

’اس دن لڑکیوں نے پڑوسیوں سے پیسے چرائے تھے۔ لڑکیوں نے چوری کی رقم میں سے 500 روپے خرچ کر دیے تھے، باقی 1450 روپے مل گئے تھے جو پڑوسیوں کو واپس کر دیے تھے۔‘

رانی کا کہنا ہے کہ ’لڑکیاں ایسے ہی چوریاں کیا کرتی تھیں۔ ان کا باپ جب نشے میں گھر آیا تو اس نے غصے میں آکر لڑکیوں کے ہاتھ پاؤں باندھ کر گھر میں لٹکا دیا۔‘

لڑکیوں کو ساری رات لٹکائے رکھا بالآخر صبح لڑکیوں کے دادا نے لڑکیوں کو نیچے اتارا۔ اس وقت تک بڑی بہن ہوش میں تھی اور بات کر رہی تھی لیکن نو سالہ چھوٹی بہن بات نہیں کر رہی تھی۔

گھر والوں نے دونوں لڑکیوں کو پنڈھار پور کے ہسپتال لے جانے کا فیصلہ کیا۔ جب دونوں لڑکیوں کو ایمبولینس میں پنڈھار پور لے جایا جا رہا تھا تو راستے میں ہی رتوجا کی موت ہو گئی۔

رانی کا کہنا ہے، ’ہم نے اسے پانی پلایا اور فوراً ہسپتال لے کر گئے۔ ہم نے ان کے والد کو روکنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ ہم پر بھی غصہ کر گیا اور ہمیں ان کے قریب بھی جانے نہیں دیا۔ ان کے والد اس لیے ناراض تھے کیونکہ لڑکیاں ہمیشہ چوری کرتی تھیں، وہ رات میں کسی بھی وقت باہر نکل جاتیں اور چوریاں کرتیں۔‘

لڑکیوں کے دادا نے عدالت کو بتایا کہ جب لڑکیوں کے والد نے انھیں لٹکایا تو وہ گھر پر نہیں تھے۔ جب جمعرات (26 مارچ) کی صبح پانچ بجے لڑکیوں کے والد گھر سے نکلے تو اس کے انھوں نے لڑکیوں کو نیچے اتارا۔

ہسپتال میں زیرِ علاج یمگر کی بڑی بیٹی نے ہوش میں آنے کے بعد ڈاکٹروں کو واقعے کے متعلق بتایا جس کے بعد اٹپاڈی پولیس کو اس بارے میں اطلاع دی گئی۔

جب اٹپاڈی پولیس واقعے کی پوچھ گچھ کرنے بنپوری گئی تو اس وقت انھیں وہاں رتوجا کی لاش ملی جسے انھیں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔ اس کے علاوہ دادا یمگر کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔

لڑکیوں کی دادی کا کہنا ہے کہ ’لڑکیاں چوری کرتی تھیں، اس لیے لوگ ہمیں ناموں سے پکارتے اور کہتے ’لڑکیوں کی پرورش کیسے کر رہے ہو؟‘۔

ان کے مطابق لڑکیاں چوری کرنے کے بعد دونوں لڑکیاں ایک دوسرے کے لیے تحفے تحائف اور کھانے لے کر آتیں۔

’اس دن بھی چوری کی وجہ سے یہ سب ہوا۔‘

’لڑکیاں رات بھر ہمیں پکارتی رہیں، انھوں نے اپنے والد کو بھی آواز دیا، اس نے انھیں دو مرتبہ پانی پلایا۔‘

پولیس کا کیا موقف ہے؟

اٹپاڈی پولیس کے انسپکٹر ونے بہیر نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس کو اطلاع ملی کہ رتوجا نامی لڑکی کو مردہ حالت ہسپتال میں داخل کروایا گیا ہے۔

’مزید تحقیقات پر معلوم ہوا کہ یامگر نے گھریلو وجوہات کی بنا پر اپنی دو بیٹیوں کو 27 مارچ کی رات ہاتھ پاؤں باندھ کر لٹکا دیا تھا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ بڑی بچی کی حالت تشویشناک ہے اور اس کا اٹپاڈی میں علاج چل رہا ہے۔

انسپکٹر ونے بہیر کا کہنا ہے کہ کیونکہ رتوجا کو ہاتھ پاؤں باندھ کر ہلاک کیا گیا تھا، اس لیے پوسٹ مارٹم کر کے اس کی لاش کو رشتہ دار کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے کارروائی کی جاری ہے۔