جب موموز کے لالچ میں ایک لڑکے نے سونے کے زیورات لُٹا دیے

    • مصنف, سید معیز امام
    • عہدہ, بی بی سی، لکھنئو
  • مطالعے کا وقت: 4 منٹ

’جب میری بہن نے گھر آ کر میرے پاس رکھوائے گئے اپنے زیورات کا تقاضا کیا تو وہ الماری سے غائب تھے۔‘

انڈیا کی ریاست اتر پردیش کے ضلع دیوریا کے ایک رہائشی کو اس معاملے میں اپنے 14 سالہ بیٹے پر شک ہوا تھا۔ جب انھوں نے اپنے بیٹے سے اس بارے میں سوال کیا تو معلوم ہوا کہ اس نے ’موموز کھانے کے لیے زیورات قریبی دکان والے کو دے دیے ہیں۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ وہ خود تو وارانسی میں ایک مندر میں پجاری ہیں لیکن ان کا 14 سالہ بیٹا گاؤں میں ہی رہتا ہے جو موموز کھانے کا بہت شوقین ہے۔

زیورات کے بدلے موموز، آخر معاملہ کیا ہے؟

متاثرہ شخص کا دعویٰ ہے کہ ایک چوراہے کے قریب مومو کی دکان چلانے والے تین نوجوانوں نے ان کے بیٹے کی موموز کھانے کی عادت کا فائدہ اٹھا کر اس سے دوستی کی اور زیورات ہتھیا لیے۔

لڑکے کے چچا کا کہنا ہے کہ گھر میں پورے خاندان کے زیورات رکھے ہوئے تھے۔

متاثرہ خاندان کے مطابق گمشدہ زیورات میں سونے کے ہار، نو انگوٹھیاں، چوڑیوں کے دو جوڑے، 22 بالیاں، پاؤں میں پہننے والی چار انگوٹھیاں، پاؤں میں پہننے والی چاندی کی 13 انگوٹھیاں، پانچ دیگر سونے کی انگوٹھیاں اور چار جوڑے سونے کی بالیاں شامل ہیں۔

گھر والوں کا کہنا کہ گمشدہ زیورات کا کل تخمینہ تقریباً 85 لاکھ روپے بنتا ہے۔

رام پور کارخانہ پولیس سٹیشن کے ایس او دیویندر کمار سنگھ کے مطابق تین نوجوانوں نے ساتویں جماعت کے لڑکے کو موموز کھلانے کے نام پر ورغلا کر اس سے زیورات ہتھیائے۔

پولیس کی تفتیش میں سامنے آیا ہے کہ ملزمان نے پہلے لڑکے کو مفت موموز دے کر اس سے دوستی کی اور بعد ازاں انھوں نے آہستہ آہستہ اسے زیورات لانے پر مجبور کیا۔

دیویندر کمار سنگھ کے مطابق ’لڑکے نے بتایا ہے کہ وہ اپنے گھر سے زیورات نکال کر ڈمری چوک کے دکانداروں کو موموز کے بدلے میں دے دیتا تھا۔ اس نے بتایا ہے کہ یہ سلسلہ تقریباً چار سے چھ ماہ تک جاری رہا۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ نابالغ لڑکا اپنی عمر اور سمجھ کی کمی کی وجہ سے مجرموں کے جھانسے میں آ گیا اور وہ تقریباً ہر روز الماری سے زیورات نکال کر موموز کے بدلے دے دیتا تھا۔

اس معاملے میں پولیس نے انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 305 اے کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے جس میں ایک نابالغ سمیت چار ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ متاثرہ خاندان نے گمشدہ زیورات کی فہرست بھی پولیس کو جمع کروا دی ہے۔

انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 305 چوری سے متعلق ہے اور اس جرم کے مرتکب افراد کو سات سال تک قید اور جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ایک ملزم راکیش کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ ایک خاتون کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تفتیش کار کچھ زیورات بھی برآمد کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

دیوریا کے ریجنل پولیس افسر سنیل ریڈی نے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی ٹیمیں باقی ملزمان کی تلاش کر رہی ہیں۔

انھوں نے امید ظاہر کی کہ باقی ماندہ زیورات بھی جلد مل جائیں گے۔

دوسری جانب ملزمان کے اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے زیورات واپس کر دیے تھے۔

راکیش کے اہل خانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزمان نے جو زیورات لڑکے سے لیے تھے، وہ پولیس کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان سونے کی چار چوڑیوں کا دعویٰ کر رہے ہیں لیکن ان کے پاس صرف دو چوڑیاں تھیں۔