انڈیا: پولیس نے چوہوں سے چوری کا سونا برآمد کر لیا

انڈیا کی ریاست مہاراشٹر میں نامعلوم چوہوں کے ایک گروہ کو 5 لاکھ روپے مالیت کا سونا چوری کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے، تاہم پولیس نے چوری شدہ سونا برآمد کر لیا ہے۔

ممبئی پولیس کی تفتیش میں معلوم ہوا کہ چوہے سونے کے ایک تھیلے کو گھسیٹ کر ایک گٹر میں لے گئے اور ان کی اس حرکت کا راز دو دن بعد سی سی ٹی وی فوٹیج کی چھان بین کے بعد فاش ہوا۔

بی بی سی مراٹھی کے مطابق سندری پالنیول نامی خاتون سونے کا ایک تھیلا لے کر بینک کے لاکر میں جمع کرانے جا رہی تھیں۔ اسی تھیلے میں انہوں نے وڈا پاؤ بھی رکھا تھا جو انہوں نے سڑک پر موجود کچھ بھکاریوں کو دینے کا فیصلہ کیا، لیکن غلطی سے کھانے کے بیگ کے ساتھ سونے کے زیورات بھی دے دیئے۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ 'میں نے کھانا ان بچوں کو دیا کہ وہ کھا لیں گے، لیکن میں اسی تھیلے میں اپنا سونے والا پرس بھول گئی۔ دو منٹ میں ایک بس آئی اور میں اس میں سوار ہو گئی۔ پھر مجھے احساس ہوا کہ میرا پرس نہیں ہے، تب مجھے یاد آیا کہ یہ وڈا پاؤ کے ساتھ چلا گیا ہوگا۔'

لیکن جب سندری پالنیوال جلدی سے واپس آئیں تو وہ بچے وہاں نہیں تھے۔

تفتیش میں معلوم ہوا کہ بچوں نے وہ بیگ پھینک دیا تھا جسے چوہے موقع ملتے ہی گھسیٹ کر گٹر کے اندر لے گئے۔

پولیس نے بتایا کہ 'سی سی ٹی وی فوٹیج سے معلوم ہوا کہ چوہے بیگ کو گٹر لائن میں لے گئے ہیں۔ اس کے بعد پولیس نے گٹر کی پوری لائن کو سکین کیا تو وہ پرس گٹر لائن میں پڑا ہوا مل گیا۔

یہ بھی پڑھیے:

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ چوہے بھوکے تھے یا یہ حرکت کسی نے جان بوجھ کر، دشمنی کی وجہ سے یا چوری کے ارادے سے کی تھی۔

پولیس نے ابھی تک کسی شخص کو گرفتار نہیں کیا ہے، تاہم یہ پہلا واقعہ نہیں ہے جہاں چوہے انسان دشمن سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ہوں۔ 2013 میں ایک چوہے پر جاپان میں فوکوشیما کے جوہری پلانٹ میں بجلی بند کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

اس وقت بتایا گیا تھا کہ 'کمپنی کو شبہ ہے کہ سوئچ بورڈ میں شارٹ سرکٹ کرنے کا ذمہ دار ایک چوہا ہے۔

اسی طرح سنہ 2015 میں نیویارک کے سب وے سٹیشن کی سیڑھیوں پر ایک چوہے کو پیزا کا ٹکڑا چھوڑنے کی وجہ سے شدید مذمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ وہ پیزا ممکنہ طور پر اس چوہے کے لیے بہت بڑا تھا۔ چوہے کی اس حرکت کی ویڈیو کو دنیا بھر میں بطور میم شیئر کیا گیا تھا۔

اتنا ہی نہیں، چوہوں پر انڈیا کے کئ ریاستوں میں ہزاروں لیٹر شراب پینے کا بھی الزام لگ چکا ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ زندگی چوہوں کے لیے بھی اتنی ہی مشکل ہے جتنی انسانوں کے لیے۔ سمارٹ نظر آنے کا سماجی دباؤ چوہوں پر بھی گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ احمد شفیق نامی مصری یورالوجسٹ نے 'اگنوبل' کے عنوان سے ایک انعام یافتہ تحقیق کی تھی جس میں دیکھا گیا تھا کہ پولیئسٹر کی پتلون چوہوں کی جنسی سرگرمیوں کو نمایاں طور پر کم کر دیتی ہے۔

انہوں نے 75 نر چوہوں کا مطالعہ کیا تھا جس میں انہوں نے چوہوں کی پچھلی ٹانگ کو ڈھانپنے کے لئے مختلف قسم کے کپڑوں کی پتلونیں پہنائیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ پو لیئسٹر کی پینٹ والے چوہوں میں جنسی سرگرمیوں کی شرح نمایاں طور پر کم رہی جبکہ روئی اور اون کی پینٹ والے چوہوں میں جنسی سرگرمی معمول کے مطابق رہی۔

احمد شفیق نے اس مطالعہ کو انسانوں پر بھی دھرایا تھا۔

ایک اور تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ چوہے الٹی جاپانی زبان بولنے والوں میں اور الٹی ڈچ زبان بولنے والوں کے درمیان فرق نہیں بتا پاتے۔ لیکن یہ ان کی ذہانت کو جانچنے کا معیار نہیں ہونا چاہیے۔

ہارورڈ بزنس ریویو کے مطابق محقق بین ورمارک کا دعویٰ ہے کہ چوہے کچھ معاملات میں انسانوں سے زیادہ ہوشیار ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’زیادہ پیچیدہ دماغ ہمیشہ بہتر نہیں ہوتا۔‘

بین ورمارک کا مزید کہنا تھا کہ 'لوگ چوہوں کو عملی طور پر اندھا سمجھتے تھے، لیکن ان کی بصری صلاحیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ چوہے ان فلموں کے درمیان فرق بتا سکتے ہیں جن میں چوہے تھے یا نہیں تھے۔‘

حتیٰ کہ ہارورڈ یونیورسٹی سے منسلک سائسندانوں کے مطابق چوہے تھری ڈی ماڈلنگ کو بھی پہچان سکتے ہیں۔

چوہوں کے بارے میں تحقیق کے تناظر میں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ مستقبل میں بھی انسانوں اور چوہوں کے درمیان تنازعات ہوتے رہیں گے۔