عسکری قوت کا موازنہ: پاکستان کو افغان طالبان پر کس حد تک فوجی برتری حاصل ہے؟

مطالعے کا وقت: 11 منٹ

پاکستان اور افغانستان کے بیچ جمعرات کی شب ہونے والی سرحدی جھڑپوں اور پاکستانی فضائیہ کی جانب سے افغانستان میں کی گئی تازہ کارروائیوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اب اپنے عروج کو پہنچ چکی ہے۔

دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے درجنوں فوجی اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے ساتھ ساتھ سرحدی چوکیوں پر قبضے اور فوجی اہداف کو بڑے نقصانات پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔ بی بی سی آزادانہ طور پر ان نقصانات کی تصدیق کرنے سے قاصر ہے۔

پاکستان کی جانب سے افغانستان کے خلاف جاری ان فوجی کارروائیوں کو آپریشن ’غضب للحق‘ کا نام دیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ، ترکی، سعودی عرب اور ملائیشیا سمیت متعدد مسلم ممالک نے پاکستان اور افغانستان کے رہنماؤں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے ’ایکس‘ پر پوسٹ کیے گئے اپنے ایک بیان میں افغانستان کی عبوری حکومت کو دھمکی دی ہے کہ ’اب ہمارا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، اب ہماری اور تمھاری کُھلی جنگ ہو گی۔ پاکستان کی فوج سمندر پار سے نہیں آئی ہوئی، ہم تمھارے ہمسائے ہیں اور تمھاری اوقات جانتے ہیں۔۔۔‘

لگ بھگ اسی نوعیت کے بیانات افغانستان طالبان کے ترجمان اور دیگر رہنماؤں کی جانب سے سامنے آ رہے ہیں جن میں بدلہ لینے اور جنگ کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

ایسے میں بہت سے لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ دونوں ممالک کی عسکری قوت کیا ہے؟ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغان طالبان کی فوجی صلاحتیوں میں کافی نمایاں فرق ہے۔

دنیا میں ہتھیاروں اور عسکری طاقت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ گلوبل فائر پاور کے مطابق 2025 میں دنیا کی سب سے طاقتور عسکری قوتوں میں امریکہ، روس اور چین شامل تھیں۔ گلوبل فائر پاور کی فہرست میں شامل 145 ملکوں میں پاکستان کا نمبر 12واں ہے یعنی پاکستان دنیا کی 12ویں بڑی فوجی طاقت ہے۔

پاکستانی مسلح افواج ایٹمی ہتھیاروں سے بھی لیس ہیں جبکہ دوسری جانب افغان طالبان کے پاس نہ تو کافی فوجی وسائل ہیں اور انھیں بہت سی دیگر مشکلات کا سامنا بھی ہے۔

فضائیہ: پاکستان کی عسکری قوت کا اہم پہلو

پاکستان نے رواں مالی سال 26-2025 میں مسلح افواج کے لیے 2.55 کھرب روپے (لگ بھگ نو ارب ڈالر) سے زیادہ رقم مختص کی ہے۔

پاکستانی افواج میں برّی فوج کے تقریباً 13 لاکھ دس ہزار، بحریہ کے سوا لاکھ جبکہ فضائیہ کے 78 ہزار اہلکار شامل ہیں۔

اگر پاکستان کی فضائی قوت کی بات کی جائے تو پاکستان ایئرفورس کے پاس طیاروں کے 11 سکواڈرن ہیں۔ یاد رہے کہ ہر سکوڈارن میں 17 سے 18 لڑاکا طیارے موجود ہوتے ہیں۔ گلوبل فائر پاور کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے پاس موجود طیاروں کی تعداد 1399 ہے، ان میں سے اگر جنگی طیاروں کی بات کی جائے تو پاکستان کے 418 جنگی طیاروں میں سے 328 لڑاکا اور 90 بمبار طیارے ہیں۔

پاکستانی ایئر فورس کا سب سے کارآمد ہتھیار اِس کے دو جنگی طیارے ہیں: جن میں امریکہ سے حاصل کردہ ایف سولہ اور چین کی مدد سے تیار کردہ جے ایف 17 تھنڈر شامل ہیں۔ جے ایف 17 کی تیاری کا مقصد ایک ایسا طیارہ بنانا تھا جو ہلکا ہو، ہر موسم میں اور دن رات کے فرق کے بغیر ایک لڑاکا طیارے کا کام کر سکے۔ یہ طیارہ کامرہ میں قائم پاکستان ایروناٹیکل کامپلیکس اور چین کی چینگڈو ایئرکرافٹ انڈسٹری کے تعاون سے بنایا گیا ہے۔

لڑاکا طیاروں سے ہٹ کر بات کی جائے تو پاکستان کے پاس 64 ٹرانسپورٹ طیارے، 565 ٹرینرز، 4 ٹینکر بیڑے اور 430 ہیلی کاپٹرز ہیں جن میں 57 حملہ آور ہیلی کاپٹر بھی شامل ہیں جبکہ اس کے آپریشنل ہوائی اڈوں کی تعداد 116 ہے۔

پاکستان کی بری قوت

اگر پاکستان کی بری قوت کی بات کی جائے تو گلوبل فائر پاور کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کے پاس کُل 2672 ٹینک موجود ہیں۔

الخالد پاکستانی فوج کا جدید ٹینک ہے جو چین اور یوکرین کی مدد سے پاکستان میں ہی بنایا جا رہا ہے۔ یہ ایک نسبتاً ہلکا (46 ٹن وزن) ٹینک ہے، اس کے مقابلے میں جرمن ساختہ 'لیپرڈ ٹو' اور امریکی ساختہ 'ایم ون ابرامز' ٹینکوں کا وزن 60 ٹن ہے۔

اسے ابتدائی طور پر 1200 ہارس پاور اور 70 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کی حد تک دوڑنے کی صلاحیت کے حامل یوکرین کے 'سکس ٹی ڈی ٹو' ٹیکنس میں استعمال ہونے والے ٹھنڈے مائع ڈیزل انجن کے ساتھ مقامی طورپر تیار کیا گیا۔

بکتربند گاڑیوں کی بات کی جائے تو پاکستان کے پاس ایسی گاڑیوں کی تعداد 2604 ہے۔

توپخانے کے معاملے میں پاکستان کے پاس 662 خودکار توپیں ہیں جبکہ گاڑی سے باندھ کر لے جائی جانے والی توپوں کی بات ہو تو پاکستان کے اسلحہ خانے میں موجود ایسی توپوں کی تعداد 2629 ہے۔

ملٹی بیرل راکٹ لانچر وہیکلز کے معاملے میں، گلوبل فائر پاور کے مطابق، پاکستان کے پاس 600 ملٹی بیرل راکٹ آرٹلری ہے۔

پاکستان کا وسیع میزائل پروگرام

پاکستان کا میزائل پروگرام کروز اور میدانِ جنگ میں استعمال ہونے والے ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائلوں کے علاوہ کم اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں پر مشتمل ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے مئی 2025 میں انڈیا کے خلاف جوابی کارروائی کا آغاز فتح ون میزائل چلا کر کیا تھا اور اس آپریشن کو ’بنیان مرصوص‘ کا نام دیا گیا تھا۔

فتح ون میزائل پاکستان کا جدید اور مختصر فاصلے تک مار کرنے والا ہتھیار ہے جس کی رینج 140 کلومیٹر تک ہے۔

فتح ون پاکستان کا تیار کردہ زمین سے زمین پر مار کرنے والا گائیڈڈ میزائل ہے۔ اس سیریز میں ایک اور میزائل فتح ٹو بھی شامل ہے۔ پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 400 کلومیٹر تک کے فاصلے پر مار کرنے والے اس میزائل میں اپنے ہدف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنانے کی صلاحیت ہے۔

ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائلوں میں ہتف سیریز کے ہتف ون اور نصر میزائل شامل ہیں جو 60 سے 100 کلومیٹر کے فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس کے بعد مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی باری آتی ہے جن میں 200 کلومیٹر رینج والا ابدالی، 300 کلومیٹر تک مار کرنے والا غزنوی، 350 کلومیٹر کی رینج والا رعد، 700 کلومیٹر کی رینج والا بابر اور ساڑھے سات سو سے ایک ہزار کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والا شاہین ون میزائل شامل ہیں۔

پاکستان کے میڈیم رینج میزائلوں میں غوری ون اور ٹو، ابابیل اور شاہین ٹو اور شاہین تھری شامل ہیں۔

ان میں سے غوری ون 1500 کلومیٹر جبکہ غوری ٹو دو ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر نشانہ لگا سکتے ہیں جبکہ ابابیل میزائل کی رینج 2200 کلومیٹر ہے۔

شاہین ٹو اور تھری پاکستان کے سب سے زیادہ فاصلے پر نشانہ بنانے والے میزائل ہیں جن کی رینج 2500 سے 2750 کلومیٹر تک ہے۔

ابابیل اور شاہین تھری ملٹیپل ری انٹر وہیکل یا ایم آر وی کہلاتے ہیں جو دشمن کے بیلسٹک میزائل ڈیفنس شیلڈ کو شکست دینے اور بے اثر کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں اور ماہرین کے خیال میں یہ پاکستان کے میزائل ہتھیاروں میں یہ سب سے بہترین صلاحتیوں والے میزائل سسٹمز ہیں۔

پاکستان کا ڈرون پروگرام

پاکستان اپنے اسلحہ خانے میں عسکری ڈرونز کی تعداد میں اضافہ کرتا رہا ہے اور نہ صرف کئی غیر ملکی ڈرونز خرید چکا ہے بلکہ اس نے خود بھی اس ٹیکنالوجی کو تیار کیا ہے جو بِنا پائلٹ کے دشمن پر نگرانی، جاسوسی یا اہداف کو نشانے بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے ڈرونز انتہائی اونچائی پر دیر تک پرواز کرنے اور ریڈار میں آئے بغیر زمین پر فوج کی سرگرمیوں، ان کی تعیناتیوں، اہم تنصیبات، نئی تعمیرات اور فوجی ٹھکانوں وغیرہ کی موثر نگرانی اور مخصوص ہدف کو تباہ کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔

پاکستان کے پاس مختلف اقسام کے ڈرونز موجود ہیں، جن میں مقامی طور پر تیار کردہ اور درآمد شدہ دونوں شامل ہیں۔

مقامی سطح پر تیار کردہ ڈرونز میں شہپر سیریز (ون، ٹو، تھری)، براق اور عقاب شامل ہیں۔

شہپر تھری ایک جدید میڈیم آلٹیٹیوڈ لانگ اینڈورنس جنگی ڈرون ہے جو 30 گھنٹے تک پرواز کر سکتا ہے اور میزائلوں سے لیس ہے، جبکہ براق پہلا پاکستانی جنگی ڈرون ہے جسے 2015 میں دہشتگردوں کے خلاف استعمال کیا گیا۔

عقاب ڈرون ٹیکٹیکل مقاصد (جیسے نگرانی اور فائر کریکشن) کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر ڈرونز مکمل طور پر پاکستان میں تیار کیے گئے ہیں، صرف چند اجزا جیسے انجن درآمد کیے جاتے ہیں۔

افغانستان کی عسکری قوت کیا ہے؟

افغانستان میں طالبان حکومت کی فوج کے پاس جو ہتھیار موجود ہیں وہ زیادہ تر تین ذرائع سے حاصل کیے گئے ہیں: سابقہ افغان فوج کا اسلحہ اور ساز و سامان، وہ ہتھیار جو امریکہ سمیت غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں رہ گئے تھے اور وہ نئے ہتھیار جو طالبان نے مختلف ذرائع سے حاصل کیے، جیسا کہ بلیک مارکیٹ۔

ماہرین کے مطابق افغان طالبان اور پاکستانی افواج کے درمیان گذشتہ سرحدی جھڑپوں کی مبینہ ویڈیوز سے پتا چلتا ہے کہ طالبان فورسز نے پاکستان کے خلاف زیادہ تر ہلکے ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے جس میں بھاری اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کی بہت کم نشانیاں ہیں۔

امریکی خصوصی انسپکٹر جنرل برائے تعمیر نو اور ملک کی وزارت دفاع کی چند حالیہ رپورٹس کے مطابق سابق افغان حکومت کو گذشتہ 20 برسوں کے دوران 16 لاکھ سے زیادہ ہلکے و بھاری ہتھیار اور مختلف فوجی ساز و سامان فراہم کیا گیا جن میں سے تقریباً 70 فیصد یعنی 10 لاکھ سے زیادہ ہتھیار افغانستان میں برسراقتدار طالبان کے ہاتھوں میں چلے گئے تھے۔

اس وقت طالبان حکومت کی فوج کے ہاتھ میں جو ہلکے ہتھیار ہیں ان میں زیادہ تر کلاشنکوفیں، امریکن ایم 16، ایم فور، ایم 29 لائٹ مشین گنیں شامل ہیں۔

ان میں پیکا ایم ٹو اور ایم 240 جیسی ہیوی مشین گنیں، گرینیڈ لانچرز جبکہ آر پی جی سیون اور اے ٹی فور جیسے راکٹ لانچر اور اینٹی ٹینک میزائل بھی شامل ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کی جانب سے افغانستان سے انخلا کے بعد جاری ہونے والی رپورٹس کے مطابق بھاری بکتر بند گاڑیاں، طیارے اور دیگر بھاری فوجی ساز و سامان جو امریکہ نے سابق افغان حکومت کی فوج کو فراہم کیا تھا، یہ بھی طالبان کے قبضے میں چلا گیا تھا۔

ان بھاری ہتھیاروں میں 122 ایم ایم کی ہووٹزر بندوقیں بھی شامل ہیں جنھیں ڈی 30 کہا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ان میں سے 100 سے 120 بندوقیں اب بھی افغانستان میں موجود ہیں۔

اس کے علاوہ تقریباً 155 ملی میٹر کے ہووٹزر مارٹر اور بہت سے روسی ہتھیار، جیسا کہ زی ٹی 2-23 بھی طالبان کے پاس ہیں۔

طالبان حکومت نے 2024 میں ایک فوجی پریڈ کے دوران بگرام ایئر بیس پر اپنے پاس موجود بھاری ہتھیاروں کی نمائش کی تھی۔ ان میں سکڈ میزائل آر 17 اور البروس آر 300 شامل تھے، جن کی رینج تقریباً 300 کلومیٹر ہے۔

لونا میزائل جسے ’فراگ سیون‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، گریڈ راکٹ لانچر، ملان اینٹی ٹینک میزائل اور آرگن میزائلوں کے ساتھ تقریباً 6 میل تک مار کرنے والے ہتھیار اور لانچنگ سسٹم ہیں۔ یہ تقریباً 35 کلومیٹر تک فائر کر سکتا ہے۔

یہ ہتھیار کم از کم تین دہائیوں سے افغانستان میں استعمال نہیں ہوئے ہیں۔ کچھ وزارت دفاع کی سٹوریج میں اور کچھ پہاڑی علاقوں جیسا کہ پنجشیر میں موجود ہیں۔

طالبان حکومت کی وزارت دفاع نے ان میں سے کچھ ہتھیاروں کو دوبارہ فعال کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ لیکن ان کی تکنیکی حالت اور وہ کس حد تک لڑائی میں عملی استعمال کے لیے تیار ہیں، یہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔افغانستان میں عبوری حکومت پر پاکستان کی برتری کا ایک پہلو ملکی (پاکستانی) فضائیہ اور جدید لڑاکا طیارے ہیں جبکہ طالبان حکومت کے پاس اس کا مقابلہ کرنے کے لیے فضائیہ نہیں ہے۔

طالبان کی حکومت نے سابقہ وزارت دفاع کے متعدد ہیلی کاپٹروں کی مرمت کر کے انھیں فعال کیا ہے اور متعدد پائلٹوں کو تربیت بھی دی ہے تاہم یہ کس حد تک قابل استعمال ہیں اس کے بارے میں کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔

افغانستان کی وزارت داخلہ کے ایک سابق اہلکار اور سکیورٹی امور کے ماہر بسم اللہ تبان کے مطابق امریکہ نے افغانستان میں اپنی موجودگی کے آخری برسوں میں افغان فضائیہ کو مکمل طور پر لیس نہیں کیا تھا اور اس کے کئی فضائی ہتھیاروں کے ذخیرے کو بھی تباہ کر دیا تھا۔

’یہی وجہ ہے کہ طالبان کو فضا میں مار کرنے والے ہتھیاروں تک رسائی حاصل نہیں ہے۔‘

امریکی محکمہ دفاع کی ایک رپورٹ کے مطابق طالبان نے جن طیاروں کو قبضے میں لیا ان میں سی 280 طیارے، ایم ڈی 530 ہیلی کاپٹر، بلیک ہاک ہیلی کاپٹر، اے 29 طیارے، ایم آئی 17 ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر، آیم آئی 24 لڑاکا ہیلی کاپٹر، ایم ڈی 500 لائٹ اٹیک ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔

طالبان حکومت کی وزارت دفاع کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس تقریباً 60 طیارے اور ہیلی کاپٹر ہیں۔

امریکی رپورٹ کے مطابق 61,000 کے قریب ہموی اور رینجرز اور سینکڑوں بکتر بند گاڑیاں طالبان کے ہاتھ لگ چکی ہیں۔ تاہم سابق افغان حکومت کے ایک سکیورٹی اہلکار کا کہنا ہے کہ ایسی بکتر بند گاڑیوں کو جنگ کے دوران ربڑ کے ٹائروں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

امریکی، نیٹو اور سابق افغان حکومتی افواج کے خلاف تقریباً دو دہائیوں تک لڑنے کے بعد طالبان نے گوریلا جنگ کا وسیع تجربہ حاصل کیا ہے اور ماہرین کے مطابق یہی تجربہ آج بھی اُن کی فوجی حکمت عملی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

اکتوبر 2025 میں پاکستان اور افغانستان کے بیچ سرحدی جھڑپوں کے بعد افغانستان کی سکیورٹی امور کے ماہر بسم اللہ تبان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ حالیہ جھڑپوں کی ویڈیوز اور مشاہدات سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان اب بھی ایک باقاعدہ فوج کے طور پر نہیں بلکہ ہلکے ہتھیاروں سے لیس گوریلا گروپ کے طور پر لڑ رہے ہیں۔

اس حکمت عملی میں گھات لگا کر ’سرپرائز‘ حملے کیے جاتے ہیں۔

سکیورٹی امور کے ماہر عامر رانا نے چند ماہ قبل بی بی سی کو بتایا تھا کہ طالبان ابھی تک گوریلا گروپ کو معیاری فوج میں تبدیل نہیں کر سکے اور اس لیے وہ آج بھی پرانے گوریلا حربے استعمال کرتے رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس ایک معیاری فوج ہے، جو انڈیا جیسی بڑی طاقت سے لڑنے کے لیے بنائی گئی ہے۔