انڈیا کے جنگلات میں رہنے والے زہریلے سانپ ٹرین پر سفر کیوں کرنے لگے ہیں؟

    • مصنف, جے شکلا
    • عہدہ, بی بی سی
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

انڈیا کے مغربی پہاڑی سلسلوں کے گھنے جنگلوں کو کنگ کوبرا کا قدرتی مسکن سمجھا جاتا ہے۔ کنگ کوبرا عام طور پر جنگلوں میں رہنا پسند کرتے ہیں، جہاں اُنھیں شکار، پانی اور پناہ آسانی سے مل جاتی ہے۔

لیکن حال ہی میں ایک تحقیق سامنے آئی ہے جس میں جنگلوں میں رہنے والے کنگ کوبرا کے تحفظ پر سوالات اُٹھ رہے ہیں۔

انڈین ریاست گجرات کے شہر سورت میں مقیم سائنس دان دکانش پرمار نے اس حوالے سے تحقیق کی ہے۔ ان کے مطالعے کے مطابق کنگ کوبرا انڈین ٹرینوں میں سفر کر رہے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ جنگلوں میں رہنے والے کنگ کوبرا ریلوے ٹریکس اور ٹرینوں تک کیسے پہنچ رہے ہیں؟

گوا جانے والی ریلوے لائنز کئی گھنے جنگلات سے گزرتی ہیں۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ کنگ کوبرا بعض اوقات شکار اور پناہ کی تلاش میں ریلوے ٹریکس کے قریب آ جاتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق اُن کے قدرتی مسکن میں خوراک اور محفوظ پناہ ملنے میں مشکلات کی وجہ سے یہ ریلوے ٹریکس کے قریب آنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

دکانش پرمار کی تحقیق معتبر عالمی جریدے ’بایوٹروپیکا‘ میں شائع ہوئی، جو عام طور پر امریکہ میں ماحولیاتی تحفظ اور اس سے جڑی تحقیق شائع کرتا ہے۔

اس جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ دُنیا کے سب سے زہریلے سانپ کنگ کوبرا غیر دانستہ طور پر طویل فاصلے تک جانے والی ریل گاڑیوں پر سفر کر رہے ہیں۔

اس مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ کنگ کوبرا کے ماحول میں ہونے والی تبدیلیاں اس سانپ کی نسل کے تحفظ اور شہریوں کے لیے بھی خطرے کا باعث بن رہی ہیں۔

دکانش پرمار نے عالمی ماہرین کی ایک ٹیم کے ساتھ مل کر گوا میں کنگ کوبرا کے 47 مقامات کا جائزہ لیا جس میں سب سے زیادہ مغربی پہاڑی سلسلوں کے دوردراز کے جنگلات تھے۔

اس کے لیے اُنھوں نے گوا میں واقع اینیمل ریسکیو سکواڈ کی بھی مدد لی جو کئی برسوں سے سانپوں سمیت جنگلی جانوروں کو بچا رہا ہے۔

گوا کے پانچ ریلوے سٹیشنز پر کنگ کوبرا کی موجودگی

دکانش پرمار نے گوا میں جانوروں کے تحفظ کی ٹیموں کے ذریعے 47 مقامات کا مطالعہ کیا، ان میں سے 18 شمالی گوا میں اور 29 جنوبی گوا میں تھے۔

دکانش پرمار نے اپنی تحقیق کے بارے میں بی بی سی گجراتی کو بتایا کہ کنگ کوبرا کو انڈیا کا رینگنے والا قومی جانور سمجھا جاتا ہے۔

سائنس دانوں کو شک تھا کہ اس کی دوسری نسل بھی ہو سکتی ہے اور اس کے لیے اُنھوں نے یہاں پائے جانے والے کوبرا کو ’اوفیو فیگس کالنگا‘ کے نام سے پہچانا۔

اُن کے بقول کہا جاتا ہے کہ اگر یہ سانپ کسی شخص کو ڈس لے تو وہ پانی نہیں مانگتا اور تقریباً فوری طور پر ہی اس کی موت ہو جاتی ہے۔

تحقیق میں سامنے آیا کہ جن مقامات پر یہ کوبرا پائے گئے تھے وہ ریلوے سٹیشن تھے۔

دکانش پرمار کہتے ہیں کہ گوا سے تعلق رکھنے والی اینیمل ریسکیو ٹیموں نے سنہ 2002 سے 2024 کے درمیان مجموعی طور پر 120 کنگ کوبرا کو ریسکیو کیا، جن میں سے 47 ریلوے ٹریکس کے قریب سے ملے تھے۔ ان میں سے ایک کوبرا گوا میں ریلوے سٹیشن کے قریب سے ملا تھا۔

گوا میں جانوروں کو ریسکیو کرنے والی ٹیم کے سربراہ امرت سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جنوبی گوا میں چندور نامی ریلوے سٹیشن ہے۔ وہاں سے ہمیں کنگ کوبرا کی موجودگی کی اطلاع ملی اور ہم نے اسے بچا کر محکمہ جنگلات کے حوالے کر دیا۔ یہ زخمی حالت میں تھا۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں عام طور پر ایسے سانپ نظر نہیں آتے۔‘

’بایوٹروپیکا‘ میں شائع ہونے والی تحقیق میں دی گئی تفصیلات کے مطابق ’چندور ریلوے سٹیشن پر پائے جانے والے کنگ کوبرا کے کیس نے ہمیں اس بات کی بغور تحقیق کرنے پر آمادہ کیا کہ یہ سانپ ماحولیاتی لحاظ سے غیر موزوں جگہ پر کیسے پہنچ سکتا ہے۔‘

اس نوعیت کا کنگ کوبرا ریاست کرناٹک کے کیسل راک اور ڈنڈیلی ٹائیگر ریزرو میں پایا جاتا ہے۔ تو جب یہ ٹرینیں گوا میں داخل ہوتی ہیں تو سانپ ان کے قریب آ جاتے ہیں۔ ستمبر 2021 میں گوا اینیمل ریسکیو ٹیم نے گوا میں واسکا ڈے گاما شہر کے قریب ایک کوبرا کو اپنی تحویل میں لیا۔ یہ ریلوے سٹیشن سے صرف 200 میٹرز کی دُوری پر تھا۔

لولیم، پالولیم اور پیڈنے ریلوے سٹیشنوں کے آس پاس بھی تین کوبرا پائے گئے۔

دکانش پرمار کے مطابق یہ تمام پانچ مقامات کنگ کوبرا کے قدرتی مسکن نہیں تھے جس کی وجہ سے سائنس دانوں کو سانپ اور ریل کے درمیان اس ’حیران کن تعلق‘ کا مشاہدہ کرنا پڑا۔

’یہ کنگ کوبرا ٹرین کے ذریعے یہاں پہنچا ہو گا‘

دکانش پرمار نے بی بی سی کو بتایا کہ ہم نے تحقیق کی کہ سانپ ریلوے سٹیشنز تک کیسے پہچنے، کرناٹک سے گوا جانے والی ٹرینیں کاسل راک کے علاقے سے گزرتی ہیں۔ یہاں گھنے جنگلات ہیں اور یہاں کنگ کوبرا کثرت سے دیکھے جاتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ تحقیق سے پتہ چلا کہ کنگ کوبرا چوہوں اور دیگر خوراک کی تلاش میں گھنے جنگلات میں کھڑی مال گاڑیوں اور مسافر ٹرینوں کے اندر گھس جاتے ہیں اور انجانے میں اُنھیں یہ معلوم ہی نہیں پڑتا کہ وہ اپنے قدرتی مسکن سے میلوں دُور اپنے لیے غیر موزوں جگہوں پر پہنچ جاتے ہیں۔

دکانش پرمار کہتے ہیں کہ اس تحقیق کو سوشل میڈیاور نیوز رپورٹس سے بھی تقویت ملی جس میں تواتر سے یہ سامنے آتا رہا کہ سانپ بشمول کنگ کوبرا کو ٹرینوں یا ریلوے سٹیشنز کے قریب دیکھا گیا۔

وہ کہتے ہیں کہ جن علاقوں میں ہم نے تحقیق کی وہاں عام طور پر یہ سانپ نہیں پائے جاتے تھے، جہاں یہ لوگوں کو نظر آ رہے تھے۔ اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ یہ ٹرینوں کے ذریعے گوا تک پہنچے۔

سنہ 2017 میں دکانش پرمار نے سورت ریلوے سٹیشن سے بھی ایک سانپ کو ریسکیو کیا تھا۔

ٹرین کا حادثاتی سفر یا خوراک کی تلاش؟

ریسرچرز کی ٹیم نے نتیجہ اخذ کیا کہ ریلوے سٹیشنز پر جگہ جگہ پھینکا گیا کھانا اور گلے سڑے پھلوں کی وجہ سے چوہے ان جگہوں پر جمع ہو جاتے ہیں۔ چوہے ان جگہوں پر اپنے ٹھکانے بنا لیتے ہیں اور یہیں رہتے ہیں اور یہی وہ جگہ ہے جہاں سانپوں کو بھی اپنی خوراک ملتی ہے۔

برسات کے دنوں میں سیلاب کی وجہ سے یہ سانپ ٹرینوں میں ہی اپنے ٹھکانے بنا لیتے ہیں۔

اس تحقیق میں کیلیفورنیا کے وکٹر ویلی کالج میں حیاتیات کے پروفیسر ڈاکٹر ہینرک کیزر اور جرمنی میں حیاتیاتی تنوع کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ڈینس روڈر بھی شامل تھے۔

ڈاکٹر ہینرک نے بی بی سی کو بتایا کہ عام طور پر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سڑکیں اور ریل گاڑیاں سانپوں اور دیگر جنگلی حیات کے لیے رکاوٹ اور اُن کی اموات کا سبب بنتی ہے لیکن اس تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ان کی تیزی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل و حرکت کا ذریعہ بن رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ کنگ کوبرا حادثاتی طور پر ٹرین میں داخل ہو گیا ہو یا خوراک کی تلاش کی ریلوے لائن کے قریب آیا ہو۔

ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ڈینس روڈر نے بی بی سی گجراتی کو بتایا کہ ’یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ انسانوں کے بنائے ہوئے انفراسٹرکچر کس طرح نادانستہ طور پر ان شکاری جانوروں کی نقل و حرکت کو متاثر کر سکتے ہیں۔‘

سانپوں سے متعلق یہ تحقیق اتنی اہم کیوں؟

اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر روڈر کا کہنا ہے کہ ’کنگ کوبرا کا تحفظ انتہائی ضروری ہے۔ اگر وہ مال بردار یا مسافر ٹرینوں کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرتے ہیں تو اس سے انسانی زندگی اور خود انھیں خطرہ لاحق ہوتا ہے۔‘

دکانش پرمار کا کہنا ہے کہ ’کنگ کوبرا ایک انتہائی زہریلا سانپ ہے۔ اسی وجہ سے لوگ اسے دیکھتے ہی مار ڈالتے ہیں۔ اگر یہ کسی انسانی بستی میں اپنا گھر بنا لیتا ہے تو یہ انسانی زندگی کے لیے خطرناک ہو جاتا ہے۔ اس لیے اس کا تحفظ جنگل میں توازن برقرار رکھنے اور حیاتیاتی تنوع کے لیے ضروری ہے۔‘

محققین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ٹرینوں کو جنگلاتی علاقوں میں غیر ضروری طور پر نہیں روکنا چاہیے۔ بچا ہوا کھانا ٹرین کے ڈبوں میں نہیں چھوڑنا چاہیے کیونکہ یہ چوہوں کو اپنی طرف متوجہ کر سکتا ہے۔

محققین یہ بھی کہتے ہیں کہ جنگلات کی تباہی کو روکا جائے تاکہ سانپ ریلوے ٹریک پر آنے پر مجبور نہ ہوں۔

دکانش پرمار کہتے ہیں کہ ’اگر وہ ٹرینوں یا دیگر راستوں پر بھی ایسی انسانی بستیوں سے گزرتے ہیں، تو ان کے زندہ رہنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ان کی حفاظت ہونی چاہیے۔‘

ان کے مطابق انسانی بستیوں میں کنگ کوبرا کی موجودگی انسان اور سانپ کے تصادم کے امکانات کو بڑھا دیتی ہے۔ ایسے علاقوں میں داخل ہونے والے سانپوں کو بھوک، تناؤ اور موت کا خطرہ ہوتا ہے۔