مودی کا دورہ اسرائیل اور ’آئرن ڈوم‘ کی بازگشت: انڈین وزیراعظم کے دورے پر سوالات کیوں اُٹھ رہے ہیں؟

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، دہلی
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کے درمیان یروشلم میں بات چیت کے بعد دونوں ملکوں نے اپنے تعلقات کو مزید وسعت دے کر اسے ’امن، ایجاد اور خوشحالی‘ کے لیے خصوصی سٹریٹجک شراکت داری میں بدلنے کا اعلان کیا۔

وزیر اعظم مودی کے اسرائیل کے دو روزہ دورے میں دونوں ملکوں نے زراعت، ٹیکنالوجی، ایجاد، خلائی سائنس، ریسرچ اور واٹر مینیجمنٹ جیسے شعبوں میں 17 معاہدے کیے ہیں۔

نیتن یاہو نے مودی کے دورے کو ’حیرت انگیز اور ناقابلِ یقین‘ قرار دیا جبکہ انڈین وزیراعظم نے اسرائیل کے اپنے دورے کو تاریخی کہا۔

انھوں نے اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے رشتے وقت کی ہر کسوٹی پر کھرے اترے ہیں۔ باہمی رشتے کو سپیشل سٹریٹجک پارٹنر شپ میں بدلنے کا فیصلہ دونوں ملکوں کی تمناؤں کا عکاس ہے۔‘

وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اسرائیل کا یہ دورہ ایسے وقت میں کیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور ایران پر امریکی حملے کے خطرے سے پورا مشرقِ وسطیٰ غیر یقینی حالات سے گزر رہا ہے۔

اسرائیل کے وزیرِ اعظم نیتن یاہو پر غزہ کی جنگ میں ہزاروں فلسطینیوں کے قتلِ عام کا الزام ہے۔ اس صورتحال میں انڈیا میں کئی ماہرین اور اپوزیشن جماعتوں نے مودی کو اسرائیل کا دورہ نہ کرنے کی صلاح دی تھی۔ اپوزیشن کانگریس نے تو وزیر اعظم مودی سے یہ سوال بھی کیا تھا کہ کیا وہ یہ دورہ کسی دباؤ میں کر رہے ہیں۔

’مودی ٹرمپ ٹیرف کی وجہ سے بیک فٹ پر ہیں‘

تجزیہ کار ہرتوش سنگھ بل کہتے ہیں کہ مودی جب سیاسی دباؤ میں آتے ہيں تو وہ توجہ ہٹانے کے لیے اس طرح کا دورہ کرتے ہیں۔

اُن کے بقول ’مودی ٹرمپ کے ٹیرف سے بیک فٹ پر ہیں، آپریشن سندور کے ابتدائی دنوں کی تنقید دیکھ لیں۔ پارلیمنٹ میں سابق جنرل نروانے کی کتاب کا ایشو اٹھا، ان سب سوالوں کی وجہ سے حکومت دباؤ میں تھی۔‘

ہرتوش سنگھ بل کہتے ہیں کہ مودی خارجہ پالیسی کے ذریعے اپنی دقتوں کو حل کرنا اور سیاسی بیانیے کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔

اُن کے بقول ابھی اسرائیل جانے کی کوئی وجہ نہیں تھی، اسرائیل عالمی برادری میں الگ تھلک پڑا ہے۔ ’اسرائیل پر جنگی جرائم اور قتلِ عام کا الزام ہے، وہاں جا کر مودی نیتن یاہو کے ساتھ تصاویر بنوا رہے ہیں۔ اس کا نتین یاہو کو فائدہ ہی فائدہ ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ایک بڑی جمہویت کا لیڈر وہاں آ رہا ہے اور ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے لیے یہ باہمی طور پر سود مند ہے۔ اس میں سیاسی اخلاقیات کا کوئی پہلو نہیں۔ یہ مودی اور آر ایس ایس کا اپنا ذاتی فیصلہ ہے اس میں انڈیا کا کوئی مفاد نہیں۔‘

انڈین میڈیا میں مودی کے دورہ اسرائیل کو بہت جوش و خروش سے پیش کیا گیا۔ سول شعبوں میں ہونے والے معاہدوں کے علاوہ اسرائیل سے جدید ترین ہتھیاروں کی ممکنہ خریداری کو خطے میں ’گیم چینجر‘ قرار دیا گیا۔

’دفاعی شعبے میں تعاون مزید بڑھ رہا ہے‘

انڈیا نے اسرائیل فلسطین تنازعہ میں ہمیشہ متوازن اور پرامن حل کی حمایت کی تھی۔ اس نے مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کے توسیع پسندانہ اقدامات کی مخالفت کی اور ایک خود مختار فلسطینی مملکت کے قیام کی حمایت بھی کرتا رہا۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی نے اسرائیل کے اپنے اس دورے میں یہ واضح کر دیا کہ وہ اس ٹکڑاؤ میں اب پوری طرح اسرائیل کے ساتھ ہیں۔

انھوں نے اپنے اس دورے میں جہاں حماس کے حملے کو ’بربریت اور انسانیت سوز‘ قرار دیا وہیں ہزاروں فلسطینیوں کی موت کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ انھوں نے صدر ٹرمپ کے غزہ امن پلان کی حمایت کی۔

یاد رہے کہ اںڈیا نے اسرائیل کو ابتدا میں ہی تسلیم تو کر لیا تھا لیکن اس سے سفارتی تعلقات قائم نہیں کیے تھے۔ دونوں ملکوں کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات 1992 میں قائم ہوئے۔ اس کے بعد سے دونوں ملکوں کے اقتصادی تعلقات میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا۔

سنہ 2014 میں مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد اسرائیل سے انڈیا کی قربت بڑھتی گئی۔ دلی میں اسرائیلی سفارتخانے کی طرف سے جاری اعداد وشمار کے مطابق سنہ 2023-2022 میں باہمی تجارت 10 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔

اس میں اربوں ڈالر کے دفاعی سودے شامل نہیں۔ انڈیا نے گذشتہ نومبر میں اسرائیل سے دفا‏عی اشتراک کو وسعت دینے کا ایک معاہدہ کیا تھا۔ گذشتہ جنوری میں انڈیا نے اسرائیل سے آٹھ سے 10 ارب ڈالر کے دفاعی ساز و سامان خریدنے کی منظوری دی۔

دفا‏عی تجزیہ کار راہل بیدی کا کہنا ہے کہ دفاع کے شعبے میں انڈیا اور اسرائیل دونوں کا ایک دوسرے پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ انڈیا میں 15 فیصد دفاعی سازو سامان اسرائیل سے خریدا جاتا ہے۔ روس اور فرانس کے بعد اسرائیل انڈیا کے لیے تیسرا سب سے بڑا دفا‏عی سپلائر بن چکا ہے۔

اُن کے بقول انڈیا اسرائیل کا دفاعی سامان خریدنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ اسرائیل اپنا 34 فیصد فوجی سازو سامان انڈیا کو برآمد کرتا ہے۔ سنہ 2020 سے 2024 کے درمیان انڈیا نے اسرائیل سے 20 ارب ڈالرز سے زیادہ مالیت کی دفاعی خریداری کی۔ سب سے اہم دفاعی سامان اسرائیل ڈرونز ہیں جن کے ماڈل پر انڈیا، اپنا ڈرون سسٹم تیار کر رہا ہے۔

انڈین میڈیا یہ بھی دعویٰ کر رہا ہے کہ دورہ مودی کے دوران اسرائیل سے ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام کی ٹیکنالوجی ٹرانسفر پر بھی بات چیت ہوئی۔

دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد دفاعی سودوں کا کوئی ذکر سامنے نہیں آیا لیکن بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بارے میں بات چیت چل رہی ہے اور دونوں ملکوں نے جلد ہی حکومتی سطح پر مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

راہل بیدی کہتے ہیں کہ انڈیا اٹیک اور سرویلینس ڈرونز کے علاوہ اسرائیل کے جن میزائلوں کی خریداری میں دلچسپی لے رہا ہے وہ سپائس 1000، ریمپیج، ایر لورا اور آئس بریکر ہیں۔

راہل بیدی کہتے ہیں کہ ’لیکن انڈین میڈیا جس آئرن ڈوم اور آئرن بیم میزائل نظام حاصل کرنے کی بات کرتا ہے وہ مل پانا شاید مشکل ہو کیونکہ ان دونوں میزائلوں کو بنانے میں امریکہ کا اشتراک رہا ہے۔ لہذا امریکہ کی منظوری کے بغیر اسرائیل یہ دونوں دفاعی نظام کسی بھی ملک کو نہیں دے سکتا۔‘

اسرائیل سائنس، ٹیکنالوجی، زراعت، آبی نظام، میڈیکل سائنس، ریسرچ اور ایجادات کے شعبے میں بہت آگے ہے۔ انڈیا کو زرعی شعبے، واٹر مینیجمنٹ، کاؤنٹر ٹیررازم اور دفاع کے شعبے میں اسرائیل سے بہت مدد ملی۔

دونوں ملکوں کے درمیان مخلف شعبوں میں اشتراک بہت تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ انڈیا کے ہزاروں ہنر مند ورکرز اسرائیل میں کام کر رہے ہیں۔ حکمراں بی جے پی اور اس کی نظریاتی تنطیم آر ایس ایس ابتدا سے ہی اسرائیل سے قریب رہے ہیں۔

مودی حکومت اور اسرائیل دونوں یہ مانتے ہیں کہ دونوں ممالک دہشت گردی کا شکار ہیں اور ان کا ملک مخالف پڑوسیوں سے گھرا ہوا ہے۔ نظریاتی طور پر دونوں ملکوں میں مذہبی قوم پرستی کے نظریات میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔

بی جے پی کے اقتدار میں انڈیا اسرائیل سے بہت قریب ہوتا گیا اور اب وہ اسرائیل کا ایک قریبی اتحادی بن کر ابھر رہا ہے۔

ہرتوش سنگھ بل کہتے ہیں کہ ’اسرائیل سے تعلقات گہرے ہونے میں کوئی بری بات نہیں لیکن اںڈیا نے مسئلہ فلسطین کے پر امن حل کے لیے برسوں سے جو ایک اصولی اور اخلاقی موقف اختیار کر رکھا تھا مودی حکومت اس سے منحرف ہو گئی۔ اس بدلی ہوئی پالیسی سے آنے والے دنوں میں انڈیا کو نقصان ہو گا اور اس کا اثرعرب ممالک سے اس کے تعلقات پر بھی پڑے گا۔‘