آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹرمپ جوہری مذاکرات پر ایران سے ’ناخوش‘، امریکی حملے کے خطرات کے پیش نظر کئی ملکوں کے حفاظتی اقدامات
- مصنف, مایا ڈیوس اور پویا قربانی
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
امریکہ اور ایران کے درمیان جنیوا میں جوہری پروگرام پر مذاکرات کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے رویے سے ناخوش ہیں مگر انھوں نے تاحال یہ فیصلہ نہیں کیا کہ آیا وہ اس پر حملہ کریں گے۔
جمعرات کو مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہونے کے بعد ٹرمپ نے جمعے کو کہا کہ ’میں اس بات سے خوش نہیں کہ وہ ہمارے مطالبے کو تسلیم نہیں کر رہے۔ تو مجھے خوشی نہیں ہوئی۔‘
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے خلاف فوجی طاقت استعمال نہیں کرنا چاہتے لیکن ’بعض اوقات آپ کو ایسا کرنا پڑتا ہے۔‘
امریکہ کے ممکنہ حملے کے خطرات کے پیش نظر کئی ملکوں نے جمعے کے روز خطے میں اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت دی ہے۔
برطانیہ نے تہران میں سفارتخانے سے اپنے عملے کو عارضی طور پر واپس بلایا ہے۔ اس نے شہریوں کو اسرائیل کے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت دی ہے۔
چین، انڈیا اور کینیڈا جیسے ملکوں نے ممکنہ تناؤ کے پیش نظر اپنے شہریوں کو ایران سے نکلنے کی ہدایت دی ہے۔ جرمنی اور فرانس نے بھی فوری طور پر اپنے شہریوں کو اسرائیل کے سفر سے گریز کرنے کا کہا ہے۔
اسرائیل میں امریکی سفارتخانے نے اپنے بعض عملے اور ان کے خاندانوں کو ملک چھوڑنے کا کہا ہے اور یہ مشورہ دیا ہے کہ کمرشل پروازوں کی دستیابی کے دوران اسرائیل سے نکل جائیں۔
مذاکرات میں کامیابی کیوں نہ ملی؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے اپنے جوہری پروگرام پر سمجھوتہ نہ کیا تو امریکہ اس کے خلاف فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔ امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں 2003 کے عراق حملے کے بعد سب سے بڑی فوجی تعیناتی کی ہے۔ جبکہ ایران نے کہا ہے کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ سخت جواب دے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر مذاکرات میں پیشرفت کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ مذاکرات میں ثالثی اور عمان کے وزیرِ خارجہ بدر البوسعيدی نے کہا تھا کہ فریقین نے 'نمایاں پیش رفت' کی ہے اور مزید گفتگو مشاورت کے بعد جلد دوبارہ شروع ہوگی۔ اگلے ہفتے ویانا میں تکنیکی نوعیت کی بات چیت بھی ہوگی۔
ایران کے مذاکراتی نمائندے اور نائب وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی کہ کچھ امور پر اتفاق ہو گیا ہے جبکہ چند معاملات ابھی حل طلب ہیں اور مزید بات چیت ایک ہفتے کے اندر ہو گی۔
امریکی محکمۂ خارجہ نے اعلان کیا کہ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو پیر کو اسرائیل جائیں گے جہاں وہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے اور ایران سمیت خطے کے مختلف معاملات پر بات چیت ہو گی۔
چند دن قبل امریکی سفیر برائے اسرائیل مائیک ہکابی نے سفارتی عملے کو مشورہ دیا تھا کہ جو لوگ ملک چھوڑنا چاہتے ہیں وہ 'آج ہی جانے کی تیاری کریں۔'
امریکی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں بھی شہریوں کو مشورہ دیا گیا کہ فلائٹس دستیاب ہونے تک ملک چھوڑنے پر غور کریں۔ اسی طرح امریکہ نے بیروت میں اپنے سفارتخانے سے بھی غیر ضروری عملے کو روانہ ہونے کا حکم دیا تھا۔
امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا الزام ہے کہ ایران خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کے قریب پہنچ رہا ہے تاہم ایران اس کی ہمیشہ تردید کرتا رہا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ فوجی حملے کا امکان موجود ہے لیکن امریکہ طویل جنگ میں الجھنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ان کے بقول سفارتی حل 'ترجیح ہے' مگر یہ اس بات پر منحصر ہے کہ ایران کیا قدم اُٹھاتا ہے۔
گذشتہ چند ہفتوں میں امریکہ نے ہزاروں فوجیوں کے ساتھ دو طیارہ بردار بحری جہاز، جنگی بحری جہاز، لڑاکا طیارے اور فضائی ری فیولنگ کے طیارے خطے میں بھیجے ہیں۔ ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ دنیا دس دن کے اندر جان لے گی کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ہوگا یا فوجی کارروائی۔
ایران دعویٰ کرتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔ تاہم اس نے حالیہ برسوں میں یورینیم کی افزودگی کو ہتھیاروں کے درجے کے قریب تک بڑھایا ہے۔
تہران نے کہا کہ جون میں اس کی تین جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کے بعد اس نے افزودگی کا عمل روک دیا تھا۔ ٹرمپ نے ان حملوں کو 'تباہ کن' قرار دیا تھا۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کی جوہری نگران ایجنسی (آئی اے ای اے) نے رپورٹ دی ہے کہ حملوں کے بعد اسے ایران کے افزودگی مراکز تک رسائی نہیں دی جا رہی، جو ایک تشویش ناک صورتحال ہے۔ ایجنسی نے اپنے رکن ممالک کو بتایا کہ جوہری تنصیبات کا فوری معائنہ ضروری ہے۔
غیر یقینی میں مبتلا ایرانی شہری
ایرانی شہروں میں امریکی حملے کے خدشات کے پیش نظر کئی لوگ پریشانی میں مبتلا ہیں۔
کئی نوجوان بار بار طیاروں اور جہازوں کو ٹریک کرنے والے پلیٹ فارمز چیک کر رہے ہیں۔ کچھ کو بیرونی مداخلت کا خوف ہے اور بعض نے اس سے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔ گذشتہ 50 روز سے زیادہ عرصے کے دوران حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا گیا ہے۔
بہت سے لوگوں کے لیے یہ امیدیں مدھم پڑ گئی ہیں کہ بیرونی دباؤ طاقت کا توازن بدل سکتا ہے، خاص طور پر جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بظاہر سفارتی بات چیت کا رُخ اختیار کیا ہے۔ اس سے پہلے انھوں نے مظاہرین کو 'احتجاج جاری رکھنے' کی ترغیب دی تھی اور وعدہ کیا تھا کہ 'مدد راستے میں ہے۔'
امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ایچ آر اے این اے کے مطابق ایرانی مظاہروں میں سات ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے جبکہ ہزاروں مزید کیسز ابھی بھی زیرِ تفتیش ہیں۔ ایران کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 3117 ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ماہرین، جن میں ایران کے لیے انسانی حقوق کے خصوصی نمائندہ مائی ساتو بھی شامل ہیں، زور دیتے ہیں کہ انٹرنیٹ پر پابندیوں اور وسیع پیمانے پر گرفتاریوں کے باعث اس مرحلے پر 'پُرتشدد کریک ڈاؤن کی اصل شدت کا تعین کرنا ناممکن ہے۔'
بہت سے ایرانیوں کو خوف ہے کہ مذاکرات کی ناکامی تباہ کن نتائج کو جنم دے سکتی ہے۔ کچھ تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ ایران کی قیادت پہلے ہی اشارہ دے چکی ہے کہ وہ پسپائی اختیار کرنے کے بجائے 'علاقائی جنگ' کا خطرہ مول لے سکتی ہے۔
بعض انٹیلیجنس مبصرین تجویز کرتے ہیں کہ اگر ایران کو فوجی دباؤ کا سامنا ہوا تو وہ 'پاگل شخص' جیسی حکمتِ عملی اپنا سکتا ہے اور حکومت کی تبدیلی کی بجائے جوابی کارروائی کی دھمکی دے کر 'جلا ہوا میدان' چھوڑ سکتا ہے۔
اندرونِ ملک جاری دباؤ ان خدشات کو مزید تقویت دیتا ہے۔ مائی ساتو نے انسانی حقوق کے وکلا پر بڑھتے ہوئے دباؤ سے خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ احتجاجی مظاہروں کے بعد بھی کافی عرصے تک گرفتاریاں، دھمکیاں اور نگرانی جاری ہے۔
حکومت کے حامی سوشل میڈیا چینلز پر دو متضاد بیانیے غالب ہیں۔
ایک حلقہ محتاط امید کا اظہار کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب ایک فریق حالات کو قیامت خیز سمجھتا ہے۔
سرکاری میڈیا نے میزائل صلاحیتوں کی نمائش کرنے والی نشریات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے جو کشیدگی بڑھنے کے ادوار میں ایک عام حکمتِ عملی ہے۔
معاشی طور پر، ملک نوروز سے پہلے کے اُس موسم میں داخل ہو رہا ہے جو عام طور پر خریداری کا سب سے مصروف وقت ہوتا ہے۔ مگر اس بار فضا معمول سے یکسر مختلف ہے۔
امریکی پابندیوں کے باعث ایران بُری طرح متاثر ہے اور مہنگائی کی شرح 62 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ ایسے میں غیر یقینی صورتِ حال نے مارکیٹ کو مفلوج کر دیا ہے۔ تاجر انتہائی کم گاہکوں کی آمد کی شکایت کر رہے ہیں اور سرمایہ کار بھی ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔
سوشل میڈیا پر ایک اور نمایاں رجحان ہنگامی تیاریوں میں اضافہ ہے۔ لوگ ڈبہ بند خوراک، ٹارچیں، پانی کی بوتلیں ذخیرہ کر رہے ہیں اور ایمرجنسی بیگ تیار کر رہے ہیں۔
اگرچہ بعض اپوزیشن رہنما امریکی مداخلت کے امکان کو ایک محدود اور 'ہدفی' کارروائی کے طور پر پیش کرتے ہیں مگر دیگر خبردار کرتے ہیں کہ یہ ایک وسیع اور کہیں زیادہ تباہ کن فوجی آپریشن میں بھی بدل سکتا ہے۔
غیر یقینی کی یہ کیفیت صرف ایران تک محدود نہیں۔ متعدد ممالک نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے اور جیسے جیسے خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، آئندہ مذاکرات کے دور کی اہمیت وجودی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔
ایران کے اندر لاکھوں افراد کے لیے آنے والے ہفتے کسی واضح سمت کا وعدہ نہیں کرتے۔ صرف یہ امید باقی ہے کہ سفارت کاری کامیاب ہو جائے، اس سے پہلے کہ خوف حقیقت کا روپ دھار لے۔
کسی واضح راستے کی عدم موجودگی میں ملک کے اندر جذباتی فضا تھکن، سماجی تقسیم اور الرٹ رہنے کی ہے۔
جیسے جیسے مذاکرات کے اگلے دور کا وقت قریب آتا جا رہا ہے، عوام معمولی سی سفارتی امید اور اس شدید احساس کے درمیان جھول رہے ہیں کہ ان کے اختیار سے باہر ہونے والے فیصلے راتوں رات ان کا مستقبل بدل سکتے ہیں۔
بہت سے لوگوں کی زندگیاں معلق حالت میں ہیں جہاں بیک وقت سب کچھ بھی بدل سکتا ہے یا کچھ بھی نہیں بدل سکتا۔