’ریحان احمد نے پاکستان کو سیمی فائنل میں پہنچنے کی امید دی‘

مطالعے کا وقت: 5 منٹ

ٹی 20 ورلڈ کپ کے گروپ ٹو کے اہم مقابلے میں انگلینڈ نے نیوزی لینڈ کو چار وکٹوں سے شکست دے کر ایک بار پھر پاکستان کے سیمی فائنل میں پہنچنے کے امکانات پیدا کیے ہیں۔ مگر بظاہر یہ آسان نہیں ہو گا۔

اب تک یہ فیصلہ نہیں ہو سکا کہ اس گروپ سے دوسرا سیمی فائنلسٹ کون ہو گا۔

اگرچہ اس گروپ سے انگلینڈ پہلے ہی سیمی فائنل کھیلنے کے لیے کوالیفائی کر چکا ہے مگر اب دوسرے سیمی فائنلسٹ کے لیے شائقین کی نظریں سنیچر کو پاکستان اور سری لنکا کے میچ پر رہیں گی۔

جمعے کو ہونے والے میچ میں انگلینڈ نے اس وقت شاندار واپسی کی جب 160 رنز کے ہدف کے تعاقب میں وِل جیکس اور ریحان احمد کے درمیان ساتویں وکٹ کے لیے 40 رنز کی ناقابل شکست شراکت قائم ہوئی۔

یہ انگلینڈ کی ساتویں وکٹ کے لیے ٹی 20 ورلڈ کپ مقابلوں میں سب سے طویل شراکت تھی اور اسی کی بدولت انگلش ٹیم نے آخری اوور میں ہدف کا کامیاب تعاقب کیا۔

میچ کا احوال

نیوزی لینڈ نے اس میچ میں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا جو کہ آغاز کے اعتبار سے درست ثابت ہوا کیونکہ اوپنرز ٹِم سائفرٹ اور فن ایلن کے درمیان 64 رنز کی شراکت قائم ہوئی تھی۔

مگر کیوی ٹیم میں ٹاپ سکورر گلین فلپس تھے جنھوں نے چار چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 39 رنز کی باری کھیلی۔

انگلینڈ نے خراب آغاز کے باوجود مڈل اوورز اور آخر میں رنز کے بہاؤ کو کنٹرول کیا۔ تینوں سپنرز عادل رشید، وِل جیکس اور ریحان احمد نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔

جواب میں انگلینڈ کا آغاز خاصا کمزور تھا اور صرف دو رنز پر دونوں اوپنرز فِل سالٹ اور جاس بٹلر پویلین لوٹ چکے تھے۔

مگر کپتان ہیری بروک نے 26 رنز اور ٹام بینٹن نے 33 رنز کے ساتھ اننگز کو سہارا دیا۔

انگلینڈ کی طرف سے سب سے کلیدی باری وِل جیکس نے 32 رنز کے ساتھ کھیلی جن کا ساتھ 19ویں اوور میں دو چھکے لگانے والے ریحان احمد نے 19 رنز بنا کر دیا۔

دونوں بلے بازوں نے ساتویں وکٹ کے لیے صرف 16 گیندوں پر 44 رنز جوڑے جو انگلینڈ کی فتح میں فیصلہ کن ثابت ہوئے۔

وِل جیکس کو دو وکٹیں حاصل کرنے اور 32 رنز بنانے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

سنیچر کا فیصلہ کن میچ: پاکستان یا نیوزی لینڈ، سیمی فائنل میں کون جائے گا؟

اب جہاں تک بات گروپ ٹو کے دوسرے سیمی فائنلسٹ کی ہے تو اس میچ میں شکست کے باوجود نیوزی لینڈ کے پاس گروپ سٹیج میں تین پوائنٹس ہے کیونکہ اسے سری لنکا کے خلاف فتح حاصل ہوئی تھی جبکہ پاکستان کے خلاف اس کا میچ بارش سے متاثر ہوا تھا۔

دوسری طرف پاکستان نے گروپ سٹیجز میں اب تک کوئی میچ نہیں جیتا اور اسے ہیری بروک کی شاندار سنچری کی بدولت انگلینڈ کے خلاف شکست ہوئی تھی۔

بہت سے شائقین کے ذہنوں میں اب بھی یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ پاکستان کیسے سیمی فائنل میں اپنی جگہ بنا سکتا ہے۔

کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق سنیچر کے روز پاکستان کو سری لنکا کے خلاف میچ میں 64 رنز سے جیت درکار ہو گی، یا پھر اسے دوسری بیٹنگ کے دوران ہدف کا تعاقب 13.1 اوورز میں کرنا ہوگا۔ کچھ ایسی ہی بات انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان میچ کے اختتام پر کمنٹیٹر این سمتھ نے بھی دہرائی ہے۔

کرکٹ تجزیہ کار مظہر ارشد کا کہنا ہے کہ 'پاکستان کو سیمی فائنل میں جگہ بنانے کے لیے (پہلے بیٹنگ کرنے کے بعد) تقریباً 65 رنز سے جیتنا ہو گا یا پھر (دوسری بیٹنگ کرتے ہوئے) قریب 13 اوورز میں ہدف کا تعاقب کر کے سری لنکا کو ہرانا ہو گا۔'

ان کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک اندازہ ہے اور صورتحال اس وقت واضح ہو گی جب میچ کی پہلی اننگز اختتام پذیر ہو چکی ہو گی۔

اگر پاکستان سری لنکا کے خلاف فتح کے باوجود یہ شرائط پوری نہ کر سکا تو اس کی جگہ نیوزی لینڈ سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرے گا۔

'ریحان احمد نے پاکستان کو امید دی'

پاکستان کے سیمی فائنل میں پہنچنے کے امکانات کو زندہ رکھنے پر پاکستانی سوشل میڈیا صارفین ریحان احمد کو داد دیتے دکھائی دے رہے ہیں۔

عمر راؤ نامی صارف نے لکھا کہ 'مشن کامیاب۔ ریحان احمد نے ہمارے اپنے کھلاڑیوں کے مقابلے پاکستانی کرکٹ کے لیے زیادہ کام کیا ہے۔'

ایک صارف نے انھیں 'میرپور کا میئر' بنانے کی تجویز دی تو کسی نے کہا کہ انھیں 'پاکستان کی اعزازی شہریت ملنی چاہیے۔'

تیمور زمان نے کہا کہ 'ریحان احمد نے میچ کی صورتحال بدل کر پاکستان کو امید دی ہے۔'

جبکہ اریبا کی رائے ہے کہ 'ریحان احمد نے وہ کر دکھایا جس کے شاداب اور نواز صرف دن میں خواب دیکھتے ہیں۔'

خیال رہے کہ ریحان احمد کے والد کا تعلق میرپور سے ہے اور وہ برطانیہ منتقل ہونے کے بعد ٹیکسی ڈرائیور کے طور پر کام کرتے تھے۔

2022 میں 18 سالہ ریحان نے ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کے خلاف کراچی میں ڈیبیو میچ کھیلا تھا اور وہ انگلینڈ کی نمائندگی کرنے والے سب سے کم عمر کھلاڑی بنے تھے۔

ان کے دو دیگر بھائی بھی کرکٹر ہیں۔