تربت میں فائرنگ سے چھ مزدور ہلاک: ’ماموں کو ہر صورت گھر واپس جانا تھا مگر اب ان کی لاش جا رہی ہے‘

،تصویر کا ذریعہGOB
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
بلوچستان کے دور دراز علاقے تربت میں کام کرنے والے مزدور شفیق اور سکندر نے مل کر سنیچر کے روز اپنے گاؤں شجاع آباد جانے کا پروگرام بنایا، جو صوبہ پنجاب کے شہر ملتان کے قریب واقع ہے۔
’شفیق کی مزدوری کے پیسوں میں سے اس کو آٹھ ہزار روپے دیے گئے تھے، میں نے کہا تھا کہ باقی 16 ہزار گاؤں میں پہنچا دوں گا۔۔۔‘ یہ کہنا ہے بلوچستان کے دوسرے بڑے شہر تربت میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے چھ مزدوروں کے ٹھیکدار نیاز کا۔ انھی مزدوروں میں شفیق اور سکندر بھی شامل تھے۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’سکندر کے صرف 2500 روپے تھے۔ اس نے پروگرام کینسل کر دیا کہ یہ پیسے تو ملتان پہچنے کا کرایہ بھی نہیں ہوگا۔‘
ہلاک ہونے والے پانچ مزدوروں کا تعلق صوبہ پنجاب میں ملتان کے علاقے شجاع آباد سے ہے۔ اس میں ٹھیکدار نیاز کے دو سگے بھائی، ایک ماموں اور ایک ماموں زاد کے علاوہ ان کے قریبی رشتہ دار شامل تھے۔
جبکہ ضلع ناروال سے تعلق رکھنے والے نیاز کے قریبی دوست بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔
تربت پولیس کے مطابق یہ واقعہ ٹارکٹ کلنگ کا ہے جس پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت سی ٹی ڈی تھانہ مکران میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے۔
واقعے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے۔
جبکہ اتوار کو تربت میں ہلاک کیے جانے والے چھ مزدروں کی لاشیں حکومت بلوچستان کے ہیلی کاپٹر میں ملتان پہنچا دی گئیں ہیں۔ نگراں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر علی ڈوملی نے کوئٹہ سے مزدوروں کی لاشوں کو ملتان کے لیے روانہ کیا جبکہ ڈپٹی کمشنر کیچ حسین بلوچ بھی مزدوروں کی میتیوں کے ہمراہ ملتان گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکومت بلوچستان کا کہنا ہے کہ مارے جانے والے مزدوروں کے ورثہ اور زخمیوں کو حکومت بلوچستان کی جانب سے معاوضہ کی جلد ادائیگی یقینی بنائی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
’عمران کو کم عمر ہونے پر چھوڑ دیا‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
تربت میں فائرنگ سے ہلاک ہونے والے چھ مزدوروں کے قتل کا مقدمہ ٹھیکدار نیاز کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
نیاز نے بیان دیا کہ وہ گذشتہ دس برس سے تربت میں تعمیراتی کام کروا رہے ہیں۔ سنیچر کی شب انھیں تقریباً 1:30 بجے اطلاع ملی کہ چند نامعلوم مسلح افراد نے تربت کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن میں ان کے بھائی شہباز، وسیم اور دیگر مزدوروں کو گولیاں مار کر قتل اور زخمی کر دیا ہے۔‘
درج مقدمے میں ان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اطلاع ملنے پر جب وہ جائے وقوعہ پر پہنچے تو ان کے بھائی اور دیگر مزدور فائرنگ سے ہلاک ہو چکے تھے جبکہ توحید اور غلام مصطفی زخمی تھے۔
زخمی ہونے والے مزدور توحید، غلام مصطفی اورعمران نے بتایا کہ رات ایک بجے دو مسلح نقاب پوش دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوئے اور ان کو نیند سے اٹھا کر چھت سے نیچے لائے۔ ’آنکھوں پر پٹی باندھ کر ان پر فائرنگ کی اور پھر موٹر سائیکل پر فرار ہو گئے۔‘
ٹھیکدار نیاز کے مطابق ان کے بھائی شہباز اور وسیم سمیت دیگر مزدور رضوان، سکندر، نعیم اور شفیق فائرنگ سے موقع پر ہی دم توڑ گئے اور توحید اور مصطفیٰ زخمی ہوئے۔ 13 سالہ عمران کو مسلح افراد نے کم عمری کی وجہ سے چھوڑ دیا تھا۔
نیاز کا کہنا ہے کہ ’میں وقوعہ سے قبل رات نو بجے تک ان سب کے پاس بیٹھا رہا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
’چھوٹے بھائی کی شادی کی تیاری کر رہے تھے‘
نیاز نے بتایا ہے کہ ’میں چھوٹے موٹے ٹھیکے لیتا ہوں جس کے لیے مزدور اپنے گاؤں سے بلاتا ہوں۔ زیادہ تر میرے بھائی اور قریبی عزیز ہوتے ہیں۔ اس کام کی انھیں 800 سے لے کر 1300 روپے تک دیہاڑی ملتی ہے۔‘
’میرے ایک چھوٹے بھائی وسیم کے علاوہ باقی سب شادی شدہ اور بچوں والے تھے۔‘
نیاز کا کہنا تھا کہ ’شہباز میرے چھوٹے بھائی، سکندر میرے ماموں زاد بھائی اور میرے ناروال کے دوست نعیم کی شادی تقریباً ڈیڑھ سال پہلے ہی ہوئی۔ انھوں نے میرے پاس ہی مزدوری کی تھی۔ ان تینوں کا ایک، ایک بچہ ہے۔‘
نیاز نے بتایا کہ ان کے اصرار پر ہی مزدوروں نے گھر جانے میں زیادہ وقفہ لیا تھا۔ ’میرے دوست نعیم کے خیالات بہت اونچے تھے۔ وہ اکثر کہتا تھا کہ میں خود غربت کی وجہ سے پڑھ نہیں سکا مگر اپنے بچے کو پڑھاؤں گا۔‘
ان کے مطابق بعض مزدور اپنے گھر بنانے کے لیے کڑی محنت کر رہے تھے۔ ’شبہاز کا پروگرام تھا کہ وہ ایک ہفتے بعد گاؤں واپس جائے گا اور گھر کی تعمیر میں بنیادوں کا کام مکمل ہونے کے بعد دیواریں کھڑی کرے گا۔‘
جبکہ وسیم کی کچھ عرصہ قبل منگنی ہوئی تھی۔ ’اب خیال تھا کہ عنقریب اس کی شادی کروا دیں گے۔ شہباز نے یہ بھی کہا کہ اب وہ ایک ہی مرتبہ بھائی کی شادی پر ہی جائے گا تاکہ بار بار چھٹی نہ کرنی پڑے۔‘
’ماموں بیٹی کی شادی کے لیے پیسے اکٹھے کر رہے تھے‘
نیاز کا کہنا تھا کہ ماموں زاد بھائی سکندر ان سے پہلے اپنی مزدوری کے پیسے گھر بھجوا چکا تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ وہ گاؤں کا چکر لگا کر آجاتا مگر ان کی مزدوری کے صرف 2500 روپے ہی بچتے تھے۔
نیاز کا کہنا ہے کہ ’اس نے مجھ سے کچھ پیسے ایڈوانس مانگے مگر ہمارے کام کی حالت اچھی نہیں تھی۔ کئی جگہوں سے پیسے نہیں ملے تھے۔ میں نے کہا کہ کام کی صورتحال تمھارے سامنے ہے جس پر اس نے واپس جانے کا پروگرام کینسل کرتے ہوئے کہا کہ وہ کچھ دن بعد چلا جائے گا، تاکہ اس کے کچھ اچھے پیسے بن سکیں۔‘
نیاز کا کہنا تھا کہ ماموں شفیق چھ بچوں کے والد تھے۔ ان کی سب سے بڑی بیٹی کی منگنی ہو چکی تھی جب کہ اب شادی کے دن قریب تھے۔ یہ شادی دسمبر میں ہونا تھی۔
’ماموں کچھ سال پہلے میرے ساتھ کام کرتے تھے مگر اب انھوں نے کافی عرصے سے کام چھوڑ دیا تھا اور گاؤں ہی میں زمینداری کرتے تھے۔‘
نیاز کے مطابق ’یہ ان کی بڑی اور لاڈلی بیٹی تھی۔ جب بیٹی کی شادی کا وقت قریب آیا تو انھوں نے چھ ماہ پہلے مجھے سے کہا کہ وہ دوبارہ مزدوری پر جانا چاہتے ہیں تاکہ بیٹی کی شادی کے اخراجات کے لیے پیسے اکٹھے ہو سکیں۔ ان کی واپسی کا پروگرام تو ستمبر میں تھا مگر اچانک ان کی اہلیہ کی طبیعت بہت خراب ہو گئی تھی۔‘
نیاز کا کہنا تھا کہ ان کے ماموں نے فی الفور واپس جانے کا فیصلہ کیا تھا مگر اب ’ان کی لاش واپس جا رہی ہے۔‘













