پیٹرول کی قیمت میں 40 روپے کی کمی کا اعلان

وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں اضافے کے پیش نظر حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, پیٹرول کی قیمت میں 40 روپے کی کمی

    پیٹرول

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پاکستان کی نگران حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 40 روپے کی کمی کا اعلان کیا ہے۔

    وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں اضافے کے پیش نظر حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کیا ہے۔

    جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی قیمت 40 روپے کی کمی کے بعد 282.38 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت 15 روپے کی کمی کے بعد 303.18 روپے مقرر کی گئی ہے۔

  2. ہماری آنکھوں پر بندھی غزہ کی پٹی: وسعت اللہ خان کا کالم

  3. تربت میں فائرنگ سے چھ مزدور ہلاک: ’ماموں کو ہر صورت گھر واپس جانا تھا مگر اب ان کی لاش جا رہی ہے‘

  4. پاکستان کی اسرائیل کے معاملے پر پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں، اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہیں: پاکستان

    Palestine

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی مذمت کرتے ہیں، اسرائیل فلسطین کے عوام کی نسل کشی کر رہا ہے۔

    جلیل عباس جیلانی نے کہا ہے کہ ہم فلسطین کو فوری انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں، اسرائیل تاحال فلسطینیوں تک امداد پہنچانے کی اجازت نہیں دے رہا، اس حوالے سے مصری حکام سے رابطے میں ہیں۔

    وزیرخارجہ نے کہا کہ فلسطین میں بہت افسوسناک صورتحال چل رہی ہے، وہاں لوگوں کے پاس کھانا، پانی نہیں ہے، فلسطین میں خواتین بچے، محفوظ نہیں ہیں۔

    ’پاکستان کی پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی‘

    وزیر خارجہ نے کہا کہ 18 اکتوبر کو اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا ہنگامی اجلاس جدہ میں ہوگا، پاکستان کی طرف سے میں اجلاس کی نمائندگی کروں گا۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ او آئی سی کے اِس اجلاس کا واحد ایجنڈا یہی ہے کہ کس طرح اسرائیلی مظالم کو روکا جائے، فلسطینیوں کے حقوق کا کس طرح تحفظ کیا جائے، سیز فائر کس طرح کروایا جائے اور انتہائی ضروری انسانی امداد کس طرح وہاں پہنچائی جائے۔

    نگران وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اسرائیل کے معاملے پر پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں، مشرق وسطیٰ میں فلسطین کے مسئلے کا حل نکالنا انتہائی ناگزیر ہے، پاکستان کی فلسطین پر پوزیشن ماضی سے پیوستہ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مسئلہ فلسطین کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان مطالبہ کرتا ہے کہ فلسطین کی حق خودارادیت کی حمایت کرنی چاہیے، پاکستان 1967 کے پہلے کے بارڈرز کی حمایت کرتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ 70 سال سے اسرائیل نے فلسطین میں جبری قبضہ کیا ہوا ہے، اسرائیل کی ظلم و بربریت پاکستان کے لیے ناقابل قبول ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل، غزہ کے نہتے شہریوں پر بمباری کر رہا ہے۔

    جلیل عباسی جیلانی نے کہا کہ ہم غزہ کی غیر قانونی ناکہ بندی کی مذمت کرتے ہیں، اسرائیل کو عالمی قوانین کی پابندی کرنی چاہیے، اسرائیل فلسطین سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں کا احترام کرے۔

  5. کوئٹہ ویڈیو سکینڈل میں سزا: ’ملزمان متاثرہ لڑکیوں کو بے ہوش کر کے ان کی برہنہ ویڈیوز بناتے‘

  6. پشاور ہائی کورٹ کا شادی کی بنیاد پر افغان شہری کو پاکستان اوریجن کارڈ کے اجرا کا حکم

    پشاور ہائی کورٹ

    پشاور ہائی کورٹ نے شادی کی بنیاد پر ایک افغان شوہر کو پاکستان اوریجن کارڈ دینے کا حکم دیا ہے۔

    زینت بیگم کے افغان شوہر نے عدالت سے رجوح کیا تھا کہ وزارت داخلہ ان کی درخواست برائے شہریت نہیں مان رہی اور ان کی درخواست کو بغیر دیکھے اور اور سُنے رد کر دیا گیا ہے۔

    ان کے وکیل سیف اللہ محب کاکاخیل نے عدالت میں اپنے دلائل میں بتایا کہ ان کی مؤکل کی شادی کافی عرصہ پہلے ہوئی اور ان کی شادی سے بچے بھی ہیں۔ اس شادی کی وجہ سے ان کے بچوں کو بھی مسائل درپیش ہیں اور ان کے فارم بی بھی نہیں بن رہے۔

    انھوں نے بتایا کہ شادی کی بنیاد پر فیڈرل شریعت کورٹ تک کا فیصلہ آگیا ہے لیکن قانون میں تبدیلی نہیں کی گئی۔ ’نہ تو درخواست لی جاتی ہے اور نہ ڈپارٹمنٹس شنوائی کرتی ہے۔ اس وجہ سے لوگ عدالت کا رُخ کرتے ہیں۔‘

    جسٹس عبدالشکُور اور جسٹس سید ارشد علی نے وزارتِ داخلہ کو احکامات جاری کیے کہ شادی کی بنیاد پر شوہر کو اوریجن کارڈ دیا جائے اور زینت بیگم کے شوہر وزارتِ داخِلہ میں اپنی درخواست جمع کرائیں۔

    عدالت نے یہ احکام بھی جاری کیے کہ زینت بیگم کے شوہر کی درخواست کو جلد از جلد نمٹایا جائے۔

    سیف اللہ محب کاکاخیل نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’یہ مسئلہ صرف پشاور اور دیگر بڑے شہروں کی حد تک نہیں۔ صبح سے رات تک ایسے کلائنٹس آتے ہیں جو شادی، پیدائش اور دیگر بنیادوں پر پاکستانی شہریت کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

    ’افغان شہریوں کو بی کیٹگری میں رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے افغان شہریوں کو پاکستان اوریجن کارڈ جاری نہیں کیے جاتے۔‘

    پشاور ہائیکورٹ میں ان کی درخواست زیر التوا ہے جس میں قانونی طور پر پاکستان میں مقیم افغان شہریوں کو ملک بدر نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    -اس تحریر میں اس سے قبل پاکستانی شہریت دیے جانے کا ذکر کیا گیا تھا جس کی تصحیح کی گئی ہے۔

  7. تربت میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 6 افراد ہلاک اور دو زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تربت میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 6 افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔

    تربت پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ سیٹلائیٹ ٹاؤن کے علاقے میں پیش آیا۔

    پولیس کے مطابق رات گئے سیٹلائیٹ ٹاؤن تربت میں نامعلوم افراد نے سیٹلائیٹ ٹاون میں واقع ٹھیکیدار نصیر احمد کے گھر کے اس حصے میں گھس کر فائرنگ کی جہاں یہ لوگ سورہے تھےگ

    فائرنگ کے نتیجے میں وہاں موجود 6 افراد موقع پر ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔

    ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم اور زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال منتقل کیا گیا ۔

    ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت رضوان ، شھباز ، وسیم ، شفیق احمد ، محمد نعیم اور سکندر کے ناموں سے ہوئی جبکہ زخمیوں میں غلام مصطفی اور توحید شامل ہیں ۔

    ہلاک اور زخمی افراد کا تعلق پنجاب کے علاقے ملتان اور نارووال سے ہے۔

    پولیس کے مطابق ہلاک اور زخمی افراد ٹھیکیدار کے ہاں تعمیراتی کاموں کے سلسلے میں مزدوری کررہے تھے۔

    اہلکار نے بتایا کہ واقعے کے بارے میں تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے اور یہ واقعہ ٹارگٹ کلنگ کا ہے ۔ ایران سے متصل بلوچستان کے اس ضلع میں پہلے بھی بد امنی کے ایسے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

    دوسری جانب نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان نے تربت میں بے گناہ مزردوں کے قتل کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے انتطامیہ سے رپورٹ طلب کرلی ہے اور ایس پی پولیس تربت کو معطل کردیا ہے۔

    نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر مزدوروں کی میتوں ، لواحقین اور زخمیوں کی حکومت بلوچستان کے خصوصی طیارے اور ہیلی کاپٹر میں کوئٹہ منتقلی کی جا رہی ہے۔

    وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی کی تربت میں چھ مزدوروں کے اندوہناک قتل کی شدید مذمت کی ہے۔

  8. ’پاکستان میں 179 افراد توہینِ مذہب کے مقدمات میں زیرِ حراست‘

    پاکستان کے ایوانِ بالا کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں پیش کی گئی معلومات کے مطابق اس وقت ملک میں 179 افراد ایسے ہیں جو توہینِ مذہب کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ 17 افراد کو ایسے مقدمات میں سزا سنائی جا چکی ہے۔

    گرفتار افراد کی جو معلومات فراہم کی گئی ہیں ان کے مطابق صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ 82 افراد کے خلاف مقدمات درج ہوئے جن میں سے 78 کے خلاف یہ مقدمے ابھی زیرِ سماعت ہیں جبکہ چار کو سزا سنائی جا چکی ہے۔

    اس کے بعد خیبر پختونخوا کا نمبر آتا ہے جہاں 55 افراد کے خلاف مقدمات درج ہیں تاہم ان میں سے ابھی تک کسی کے خلاف مقدمہ اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچا۔

    تیسرا نمبر دارالحکومت اسلام آباد کا ہے جہاں توہینِ مذہب کے 38 مقدمات درج کروائے گئے جن میں سے 11 میں جرم ثابت ہوا۔ پنجاب میں 37 افراد ایسے مقدمات میں ملوث ہوئے جن میں سے 18 گرفتار ہوئے اور ان کے خلاف مقدمات کی کارروائی جاری ہے تاہم پنجاب میں گرفتار کسی ملزم کو سزا نہیں ہوئی۔

    رپورٹ کے مطابق پنجاب میں چھ افراد بےگناہ بھی قرار دیے گئے جبکہ ایک ملزم ضمانت پر ہے اور 12 افراد تاحال گرفتار نہیں کیے جا سکے۔

    بلوچستان میں توہینِ مذہب کے مقدمات میں تین ملزمان گرفتار ہوئے جن میں سے دو کو سزا سنائی گئی جبکہ ایک کے خلاف مقدمہ جاری ہے۔

  9. پنجاب پولیس کا پٹھان کوٹ حملے میں انڈیا کو مطلوب مولانا شاہد لطیف کے قاتلوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ

  10. مسلم لیگ ن آج شیخوپورہ میں جلسہ کرے گی

    پاکستان مسلم لیگ ن کا آج جلسہ عام ہو گا۔ یہ جلسہ شیخوپورہ کے علاقے ونڈالہ دیال شاہ کے مقام پر ہو گا۔

    سابق وزیراعظم اور صدر شہباز شریف اس جلسے سے خطاب کریں گے۔ آج کے جلسے میں نواز شریف کی 21 اکتوبر کو وطن واپسی اور ان کے ایجنڈے کے بارے میں بھی تفصیلات بتائی جائیں گی۔

  11. اگر پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت نہیں تو شہر میں کسی اور کو بھی اجازت نہیں ہوگی: لاہور ہائیکورٹ

    لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس راحیل کامران نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ تحریک انصاف کو اگر لبرٹی چوک میں جلسہ کی اجازت نہیں ہے تو پھر کسی سیاست جماعت کو لبرٹی میں جلسہ کی اجازت نہیں ہوگی۔

    انٹیلیجنس اداروں، پنجاب پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے تحریک انصاف کو لاہور میں جلسے کی اجازت دینے کی مخالفت کردی۔ اپنے جواب میں حکومت نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کو لاہور میں جلسہ نہیں کرنے دینا چاہیے۔

    ڈپٹی کمشنر لاہور نے کہا کہ پی ٹی آئی کو لبرٹی میں جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے کیوں کہ نو مئی کا واقعہ لبرٹی سے شروع ہوا تھا اس لیے ہم اس جماعت کو وہاں کچھ بھی کرنے کی اجازات نہیں دے سکتے۔

    جسٹس راحیل کامران نے کہا کہ پی ٹی آئی کو متبادل جلسہ کی جگہ سے متعلق 72 گھنٹے میں اجازت دی جائے۔

    جسٹس راحیل نے پی ٹی آئی سے کہا کہ وہ دن دو بجے تک متبادل جگہ کی درخواست دیں، اگر متبادل جگہ پر بھی اجازت نہیں ملتی تو کوئی جماعت شہر میں جلسہ نہیں کر سکے گی۔

    لاہور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کو 15 اکتوبر کے جلسے کے لیے متبادل جگہ کی درخواست آج ہی ڈی سی لاہور کو نمٹانے کی ہدایت کردی۔

  12. ’اپنی سیاسی زندگی کے گذشتہ چند سالوں کے واقعات پہ غور کر رہا ہوں‘ عمران خان کا جیل سے پیغام

    تحریک انصاف نے جیل سے سابق وزیر اعظم کا پیغام شیئر کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ’آج کے عمران خان میں اور اُس عمران خان میں جسے پانچ اگست کے روز قید کیا گیا تھا، زمین آسمان کا فرق ہے۔‘

    عمران خان نے دعویٰ کیا کہ ’جب پانچ اگست کو مجھے اٹک جیل میں قید کیا گیا تو پہلے چند روز میرے لیے خاصے مشکل تھے۔ سونے کے لیے میرے پاس بستر نہیں تھا اور مجھے فرش پہ لیٹنا پڑتا تھا۔ جہاں دن کے وقت کیڑے مکوڑے اور رات کو مچھر ہوتے تھے لیکن اب میں اس میں ایڈجسٹ ہوگیا ہوں۔‘

    چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ’آج کے عمران خان میں اور اُس عمران خان میں جسے پانچ اگست کے روز قید کیا گیا تھا، زمین آسمان کا فرق ہے۔ میں آج روحانی، ذہنی اور جسمانی طور پر پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور طاقتور ہوں کیونکہ جیل کی تنہائی میں مجھے قرآنِ پاک کا بغور مطالعہ کرنے کا موقع ملا جس نے میرے ایمان کو مزید مستحکم کیا۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’میں اپنی سیاسی زندگی کے گذشتہ چند سالوں کے واقعات پہ غور بھی کررہا ہوں۔ یہ لوگ مجھے جس جیل میں بھی رکھیں، جیسے حالات میں بھی رکھیں آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ نہ ہی میرے متعلق پھیلائی جانے والی افواہوں سے پریشان ہونا ہے۔ میں عوام کے حقِ حاکمیت اور آئینِ پاکستان کی بنیادی ترین شرط، صاف شفاف الیکشن کے مطالبے سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا۔‘

    سائفر کیس سے متعلق انھوں نے کہا کہ یہ مقدمہ ’سابق آرمی چیف جنرل باجوہ، ڈونلڈ لو کو بچانے کے لیے گھڑا گیا ہے۔ ملک کا منتخب وزیراعظم تو میں تھا، جنرل باجوہ کے ساتھ مل کر غداری تو میرے ساتھ کی گئی۔ آج مجھ پہ مقدمہ اس لیے قائم کیا گیا کہ میں نے پاکستانی عوام کو، جو کہ اس ملک کے اصل حاکم ہیں، اس غداری کی خبر دی۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’مجھے اگر کسی چیز کی تکلیف ہے تو اُن کارکنان، خصوصاً خواتین کارکنان، کی اسیری کی تکلیف ہے جنھیں طاقت کے گھمنڈ میں مبتلا چند افراد نے اپنی انا کی تسکین کے لیے کئی ماہ سے قید کیا ہوا ہے۔ میری عدلیہ سے اپیل ہے کہ ہمارے کارکنان کو رہائی دلائی جائے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’یہ لوگ جتنی مرضی دھاندلی کر لیں، ان کا مقدر صرف اور صرف شکست ہے۔‘

  13. ’اسلام آباد ہائیکورٹ میں معاملہ زیر التوا ہونے پر سائفر کیس کی کارروائی روکی نہیں جا سکتی‘

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سائفر کیس سے متعلق درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ’ٹرائل کورٹ نے اپنے حساب سے پروسیڈنگ چلانی ہے۔‘

    جمعرات کو سماعت کے دوران چیف جسٹس ہائیکورٹ نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد کہا کہ ’اگر کوئی حکم امتناع نہیں تو صرف ہائی کورٹ میں معاملہ زیر التوا ہونے پر کارروائی نہیں روکی جا سکتی۔‘

    عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے دلائل میں کہا کہ ’سائفر کیس ٹرائل کورٹ میں کارروائی روکنے اور فرد جرم عائد کرنے کے فیصلے کے خلاف درخواست ہے۔ معاملہ ہائیکورٹ میں چل رہا ہے اور فیصلہ محفوظ ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے بھی ایف آئی اے کے ایک کیس میں حکم امتناعی جاری کیا ہوا ہے۔

    ’ہم نے بار بار کہا کہ جلدی نہ کی جائے۔ معاملہ ہائیکورٹ میں چل رہا ہے۔‘

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’ہمیں آفیشل سیکرٹ ایکٹ سے متعلق کافی خدشات ہیں۔ کون سی سکیورٹی کا خطرہ ہے؟ یا سیکریسی لیک ہو رہی ہے؟ بھٹو صاحب نے بھی راجہ بازار میں تقریر میں ایسے ہی بتایا تھا تو کیا ہوا۔ میرے مؤکل قومی ہیرو ہیں اور دنیا جانتی مانتی ہے اب وہ بے گناہ جیل میں ہیں۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’میں دیکھ لیتا ہوں اور اس پر آرڈر بھی کردوں گا۔ سترہ اکتوبر سے پہلے کیس لگا دوں گا۔‘

    سپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے دلائل دیے کہ ’9 اکتوبر کو سائفر کیس میں ملزمان کو نقول دیں گئیں۔

    ’سائفر کیس میں ملزم عمران خان نے ٹرائل کورٹ میں دستخط نہیں کیے، جیل ٹرائل کی درخواست پر فیصلہ آنے کے باعث معاملے کو ٹرائل کورٹ میں لٹکایا جا رہا ہے۔ ملزمان کے وکلا نے کہا ہے کہ جیل سماعت کے لیے ان کی درخواست زیر التوا ہے۔‘

    سپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے یہاں تک کہا کہ ’یہ سائفر کیس کا ٹرائل ہی نہیں چلنے دے رہے‘ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’ٹرائل کورٹ نے اپنے حساب سے پروسیڈنگ چلانی ہے۔‘

    ’ضمانت کا کیس الگ ہے، اس کو الگ ہی سنا جانا ہے۔‘

    عدالت نے سائفر کیس سے متعلق تمام درخواستیں یکجا کرتے ہوئے آئندہ سماعت 16 اکتوبر تک ملتوی کی ہے۔

  14. سائفر کیس: عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر 17 اکتوبر کو فرد جرم عائد کی جائے گی، عدالت

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو چالان کے نقول فراہم کرنے کی 9 اکتوبر کی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا ہے جس کے مطابق سترہ اکتوبر کو ملزمان پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین کی جانب سے جاری 4 صفحات پر مشتمل اڈیالہ جیل میں سماعت کے تحریری حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو چالان کے نقول فراہم کرنے کے لیے سماعت مقرر کی گئی تھی۔

    عدالت نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو کمرہ عدالت میں چالان کے نقول فراہم کرنے کے لیے لانے کی ہدایت کی۔ پی ٹی آئی وکلا ٹرائل کورٹ کی سماعت کو روکنے کے لیے کوئی عدالتی حکم سامنے نہیں لا سکے اور انھوں نے سائفر کیس کی سماعت میں معمول کے مطابق دلائل دینے کی استدعا کی۔

    عدالت نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو گذشتہ سماعت کے فیصلے کے مطابق نقول وصولی کا حکم دیا۔ پی ٹی آئی وکلا کے مطابق ٹرائل ان کیمرہ نہیں ہونا چاہیے، جیل میں کمرہ عدالت چھوٹا ہے۔

    پی ٹی آئی وکلا کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفرکیس کی درخواستِ ضمانت زیر التوا ہے، شاہ محمود قریشی کے وکلا نے اوپن کورٹ میں سماعت کرنے کی نئی درخواست دائر کی۔ اڈیالہ جیل میں ٹرائل کے حوالے سے شاہ محمود قریشی نے وزارتِ قانون کے نوٹیفیکیشن کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر کی۔

    ملزمان کو چالان کے نقول فراہم کیے جائیں گے لیکن نقول کی فراہمی ہائیکورٹ کے فیصلے پر انحصار کرے گی۔ عدالت نے ملزمان کو چالان کے نقول فراہم کیے، دستخط کرنے کی ہدایت کی۔

    وکیل صفائی شیرافضل مروت نے عدالت کو بتایا ملزمان چالان کے نقول پر دستخط نہیں کریں گے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے بھی چالان کے نقول پر دستخط کرنے سے انکار کیا۔ قانون کے مطابق چالان کے نقول فراہم کردیے گئے، ملزمان کو آئندہ سماعت پر دستخط کرنے کا حکم دیاجاتاہے۔ ’ملزمان نے اگر نقول پردستخط نہ بھی کیےتو دستخط غیرموثر سمجھے جائیں گے کیونکہ چالان وصول ہوچکا۔‘

    عدالتی فیصلے کے مطابق ’آئندہ سماعت پر سختی سے قانون کے مطابق فردجرم عائد کرنے کی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔‘

    عدالت کے سامنے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے سیل کا مسئلہ اُٹھایا گیا۔ جج نے چیئرمین پی ٹی آئی کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے اڈیالہ جیل میں سیل کا دورہ کیا۔

    عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کے سیل کے سامنے قائم دیوار کو توڑنے کا حکم دیا۔ اڈیالہ جیل سپرنٹینڈنٹ کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کو سیل میں چہل قدمی کے لیے کافی جگہ فراہم کی ہوئی۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے باجود وسیع جگہ کے مزید سیل کی توسیع کی درخواست کی۔

    عمران خآن نے کہا کہ ورزش کی عادت ہے، ناکافی جگہ سے صحت اور روزمرہ زندگی پر برا اثر پڑے گا۔

    عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ 17 اکتوبر کو عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔

  15. ’نیب کو بشریٰ بی بی کی گرفتاری مطلوب نہیں ہے‘, شہزاد ملک/ بی بی سی اردو، اسلام آباد

    اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ کرپشن سکینڈل ریفرنسز میں گرفتار کیے جانے سے قبل آگاہ کرنے کے معاملہ پر درخواست کو قبل از وقت قرار دیتے ہوئے نمٹا دیا ہے۔

    احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے بشری بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔ بشریٰ بی بی کے وکیل لطیف کھوسہ کے علاوہ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفرعباسی عدالت میں پیش ہوئے،لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ کی جانب سے گرفتاری سے متعلق اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے عدالت میں جمع کرواتے ہوئے کہا گیا کہ جیسے اعلیٰ عدلیہ نے فیصلے کیے، ویسا ہی فیصلہ آپ سے بھی چاہتاہوں۔

    نیب پراسیکیوٹر نے کہا نیب قانون میں ایسی کوئی شق موجود نہیں ہے اور گرفتاری سے متعلق آصف علی زرداری کیس کا حوالہ دیا۔ سردار مظفر نے کہا کہ کہیں نہیں لکھا کہ ملزم کو گرفتاری کے حوالے سے پیشگی آگاہ کیاجائے جس کا حوالہ وکیل لطیف کھوسہ نے دیا، اس کو میرے عدالتی حوالے نے غلط قرار دیا ہے۔

    وکیل لطیف کھوسہ نے مؤقف اپنایا کہ گرفتاری پر نیب کو چھپن چھپائی نہیں کھیلنی چاہیے۔ ’اگر گرفتاری مطلوب نہیں تو بشریٰ بی بی کی ضمانت کنفرم کردیں۔ بشریٰ بی بی تو ہر قانونی حق استعمال کرسکتی ہیں۔‘

    نیب پراسیکیوٹر نے کہاکہ درخواستِ قبل از گرفتاری پہلے سے خدشے کا اظہار ہے، آج بھی کہہ رہے کہ بشریٰ بی بی کی گرفتاری مطلوب نہیں ہے۔

    عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے نکتے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے بشری بی بی کی درخواست کو قبل از وقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیب کو بشریٰ بی بی کی گرفتاری مطلوب نہیں ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق نیب گرفتاری سے قبل ملزم کو آگاہ کرنے کی پابند نہیں ہے۔

    عدالت نے بشریٰ بی بی کی گرفتاری سے پہلے آگاہ کرنے کی درخواست اور بشریٰ بی بی کی درخواستِ ضمانت کو نمٹا دیا۔