پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی: 100 انڈیکس چھ سال کی بلند ترین سطح پر

پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان جمعرات کے روز بھی جاری رہا اور ’کے ایس ای 100 انڈیکس‘ میں کاروباری اوقات میں 279 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد انڈیکس 48772 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔ دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے لاہور کی ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے شہر میں جلسے کی اجازت سے متعلق فیصلہ کر کے کل (جمعہ) تک رپورٹ عدالت میں جمع کروائے۔

لائیو کوریج

  1. کیا پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر فیصلے سے عدلیہ اور پارلیمان کے درمیان ٹکراؤ ختم ہوگا؟

  2. پاکستان سٹاک ایکسچینج: 100 انڈیکس چھ سال کی بلند سطح پر، 48772 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا, تنویر ملک، صحافی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان جمعرات کے روز بھی جاری رہا اور ’کے ایس ای 100 انڈیکس‘ میں کاروباری اوقات میں 279 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد انڈیکس 48772 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

    جمعرات کو کاروباری اوقات کے اختتام پر انڈیکس کی سطح گذشتہ چھ سال کے بعد بلند سطح پر تھی۔

    عارف حبیب سیکورٹیز کے مطابق انڈیکس کی نو جولائی 2017 کے بعد یہ بند ترین سطح ہے جب انڈیکس 49000 پوائنٹس کی سطح سے اوپر بند ہوا تھا۔

    سٹاک مارکیٹ میں گذشتہ کئی دنوں سے تیزی دیکھی جا رہی ہے جس کی وجہ معاشی اشاریوں میں کچھ بہتری ہے جس میں ملک کے تجارتی خسارے میں کمی اور ترسیلات زر میں کچھ بہتری ہے۔

  3. پاکستان میں سونے کی قیمت میں 7800 روپے فی تولہ کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں سونے کی قیمت میں جمعرات کے روز بڑی کمی ریکارڈ کی گئی جب ایک تولہ سونے کی قیمت 7800 روپے کمی کے بعد 197200 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔

    ملک میں سونے کی قیمت میں اُس وقت کمی ریکارڈ کی گئی جب عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے اور عالمی مارکیٹ میں ایک اونس سونے کی قیمت 1885 ڈالر کی بلند سطح پر موجود ہے۔

    پاکستان میں سونے کی تجارت سے منسلک افراد کے مطابق سونے کی قیمت میں کافی اضافہ ہو چکا تھا جس کے بعد ستمبر کے مہینے اور اکتوبر کے پہلے ہفتے میں صرافہ بازار بند رہا جب حکومت کی جانب سے سونے کے کاروبار میں سٹے کی اطلاعات کے بعد کارروائی کا اعلان کیا گیا تھا۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق مارکیٹ کے کھلنے کے بعد سونے کی قیمت کو انٹر بینک ڈالر کے ساتھ منسلک کر دیا گیا جس کے بعد انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت میں کمی کی وجہ سے سونے کی قیمت میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

  4. 15 اکتوبر کو لاہور میں جلسہ: لاہور ہائیکورٹ کا ضلعی انتظامیہ کو تحریک انصاف کی درخواست پر فیصلہ کرنے کا حکم

    تحریک انصاف

    لاہور ہائیکورٹ نے لاہور کی ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے شہر میں جلسے کی اجازت سے متعلق فیصلہ کر کے کل (جمعہ) تک رپورٹ عدالت میں جمع کروائے۔

    تحریک انصاف کی جانب سے ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملک میں عنقریب عام انتخابات کا انعقاد ہونے جا رہاہے اور تحریک انصاف اس ضمن میں الیکشن کے لیے اپنے منشور کا اعلان جلسے میں کرنا چاہتی ہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق 15 اکتوبر کو لاہور میں اس متوقع جلسہ کے لیے ‏ڈپٹی کمشنر سمیت دیگر ذمہ داران کو درخواستیں دی گئیں تاکہ اجازت نامہ مل سکے تاہم لبرٹی چوک میں جلسے کی اجازت نہیں دی گئی۔

    درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ الیکشن کے لیے آئین ہر سیاسی جماعت کو عوامی رابطے کی اجازت دیتا ہے اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ‏اجازت نہ ملنے سے جلسے کے انتظامات کرنے کے لیے مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت ڈپٹی کمشنر لاہور کو یہ جلسہ کرنے کی اجازت دینےکا حکم دے۔

    اس درخواست پر جب جمعرات کی صبح جسٹس راحیل کامران شیخکی عدالت میں سماعت کا آغاز ہوا تو درخواست گزار کے وکیل شاداب جعفری عدالت میں پیش نہ ہوئے بلکہ ان کی جگہ جونیئر وکیل پیش ہوئے۔ عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کے پیش نہ ہونے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ’‏یہ کوئی طریقہ نہیں کہ کیس لگا ہو اور وکیل پیش نہ ہو۔‘

    جسٹس راحیل کامران شیخ نے کہا کہ عدالت اس درخواست پر بطور ارجنٹ کیس سماعت کر رہی ہے۔ اس پر جونیئر وکیل کا کہنا تھا کہ شاداب جعفری دوسری عدالت میں پیش ہوئے ہیں اس لیے انھیں مہلت دی جائے۔

    عدالت نے ڈپٹی کمشنر لاہور کو جلسے کی درخواست پر فیصلہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے انھیں کل تک رپورٹ عدالت میں جمع کروانے کی ہدایت کی ہے۔

  5. کیا والدین کی بچوں سے مار پیٹ انھیں سدھارنے میں مدد دیتی ہے؟

  6. مِس یونیورس میں پاکستانی ماڈل اریکا: ’وہ سوچتے ہیں کہ میں سوئمنگ سوٹ میں مردوں کے سامنے پریڈ کروں گی‘

  7. روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری، ڈالر 279 روپے کی سطح سے نیچے آ گیا, تنویر ملک، صحافی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں کمی کا رجحان جمعرات کے روز بھی جاری ہے۔ کاروبار کے آغاز پر ڈالر کی قیمت میں 76 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد انٹر بینک میں ایک ڈالر کی قیمت 278.75 روپے کی سطح تک گر گئی۔

    ڈالر کی قیمت میں کمی آغاز گذشتہ مہینے کی پانچ تاریخ کو شروع ہوا تھا جس کے بعد اس میں مسلسل کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ ڈالر کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 307.10 روپے کی سطح تک پہنچنے کے بعد ایک مہینے سے زائد عرصے میں 28 روپے سے زیادہ کمی ہوئی ہے۔

    روپے کی قدر میں اضافے کی وجہ ملک میں کرنسی کے کاروبار کے ضوابط میں ترمیم کے ساتھ ڈالر کی سمگلنگ کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

  8. پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیا ہے؟

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے قانون بننے سے چیف جسٹس کے از خود نوٹس لینے کا اختیار اب اعلیٰ عدلیہ کے تین سینئر ترین ججز کے پاس ہو گا۔

    اس کے تحت چیف جسٹس کا ازخود نوٹس کا اختیار محدود ہو گا، بینچوں کی تشکیل اور از خود نوٹس کا فیصلہ ایک کمیٹی کرے گی جس میں چیف جسٹس اور دو سینئر ترین ججز شامل ہوں گے۔

    یہی کمیٹی بنیادی انسانی حقوق کے معاملات کم از کم تین ججوں پر مشتمل بینچ کو بھجوائے گی۔

    انٹرا کورٹ اپیل پر 14 روز میں سماعت ہو گی۔

    اہم نوعیت کے معاملات کے مقدمات 14 روز کے اندر اندر سماعت کے لیے مقرر ہوں گے۔

  9. پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ: ماضی میں از خود نوٹس کے تحت دیے گئے فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق کالعدم قرار

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اپنے مختصر فیصلے میں چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس ایکٹ کے تحت ماضی میں از خود نوٹس کے تحت دیے گئے فیصلوں کے خلاف اپیل کے حق کو کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ اس شق کو آٹھ سات کے تناسب سے مسترد کیا گیا ہے۔

    جنھوں نے ایکٹ کی اس شق کے تحت اپیل کا حق دینے کی حمایت کی تھی ان میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسی، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس امین الدین اور جسٹس جمال مندوخیل بھی شامل ہیں۔

    قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ایکٹ کی اس شق سے متعلق کثرت رائے سے جو فیصلہ آیا ہے اس سے سابق وزیراعظم نواز شریف اور جہانگیر ترین جنھیں از خود نوٹس کے تحت نااہل قرار دیا گیا تھا وہ بھی اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہیں کر سکیں گے۔

    اس کے علاوہ، ان درخواستوں کی سماعت کے دوران یہ نکتہ بھی سامنے آیا تھا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے اطلاق کے بعد کیے گئے از خودنوٹس کے تحت کیے گئے فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق ملنا چاہیے یا نہیں، تو اس نقطے پر اکثریت نے یہ فیصلہ دیا کہ اس ایکٹ کے اطلاق کے بعد کوئی بھی متاثرہ شخص اپیل کر سکتا ہے۔ یہ فیصلہ چھ نو کے تناسب سے آیا ہے۔

    اس حوالے سے تفصیلی فیصلہ اور اختلافی نوٹ بعد میں جاری کیے جائیں گے۔

  10. پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے مقدمے میں کب کیا ہوا؟, شہزاد ملک، بی بی سی نامہ نگار

    اس سے قبل سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں آٹھ رکنی بینچ نے اس قانون کے خلاف اس سال اپریل میں حکم امنتاعی جاری کیا تھا جو کہ تقریبا چھ ماہ تک برقرار رہا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد ان درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایسے اختیارات نہیں لینا چاہتے جس سے عدلیہ کی آزادی کمپرومائز ہو۔

    ان درخواستوں کی سماعت کے دوران عدالت کی طرف سے یہ بھی ریمارکس آئے کہ جب بھی چیف جسٹس نے آئین کی دفعہ ایک سو چوراسی تین کے تحت اپنے اختیارات استعمال کیے تو اس نے ملک کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔

    ان درخواستوں کی سماعت کے دوران سابق حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اس ایکٹ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے عدالتی امور میں مداخلت قرار دیا تھا جبکہ پاکستان مسلم لیگ نواز ، متحدہ قومی موومنٹ اور پاکستان بار کونسل نے اس قانون کی حمایت کی تھی۔

    واضح رہے کہ اس پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں کی سماعت والے پندرہ رکنی بینچ میں سپریم کورٹ کے وہ سات جج صاحبان بھی شامل ہیں جو اس سے پہلے سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم ہونے والے بینچ کی طرف سے جاری ہونے والے حکم امتناعی کا بھی حصہ تھے۔

    سابق حکمراں جماعت نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سے متعلق بل 10 اپریل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کثرت رائے سے ترامیم کے ساتھ منظوری کے بعد 11 اپریل کو صدر مملکت عارف علوی کو دوبارہ بھجوایا تھا تاہم صدر نے دوسری بار بھی بل پر دستخط کیے بغیر اسے واپس بھجوا دیا تھا۔

    صدر کے دس دن تک دستخط نہ کیے جانے کی صورت مین بل از خود قانون بن جانا تھا، اسی لیے اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے 10 دن کی مدت پوری ہوتے ہی ’سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر‘ کے باقاعدہ قانون بن جانے سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی لارجر بینچ نے 13 اپریل کو عدالتی اصلاحاتی بل روکنے کا حکم جاری کیا تھا سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں آٹھ رکنی بینچ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سے متعلق جس وقت حکم امتناعی جاری کیا اس وقت وزارت قانون نے اس ایکٹ کے بطور قانون نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا تھا۔

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر مختصر سماعت کے بعد چیف جسٹس کا تحریر کردہ آٹھ صفحات پرمشتمل حکم نامہ جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ایکٹ بادی النظر میں عدلیہ کی آزادی اور اندرونی معاملات میں مداخلت ہے، بل قانون کا حصہ بنتے ہی عدلیہ کی آزادی میں مداخلت شروع ہوجائے گی، بل پر عبوری حکم کے ذریعے عملدرآمد روکنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اس دوران عبوری حکم نامہ جاری کرنا ضروری ہے۔

    سپریم کورٹ کا حکم امتناعی سے متعلق جاری کیے گئے اپنے فیصلے میں کہنا ہے کہ صدر دستخط کریں یا نہ کریں دونوں صورتوں میں یہ تا حکم ثانی نافذ العمل ہو گا۔ عدالت کسی قانون کو معطل نہیں کر سکتی لیکن بادی النظر میں بل کے ذریعے عدلیہ کی آزادی میں مداخلت کی گئی۔

    عدالتی حکم نامے میں مزید کہا گیا تھا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں پرحکم امتناعی کا اجرا ناقابل تلافی خطرے سے بچنے کیلئے ضروری ہے۔ حکم امتناعی سے متعلق فیصلے میں کہا گیا تھا کہ اگر سیاسی جماعتیں چاہیں تو اپنے وکلاء کے ذریعے فریق بن سکتی ہیں۔

    پریکٹس اینڈ پروسجر ایکٹ سے متعلق پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی حکومت کا سپریم کورٹ کے رولز میں ترمیم کے بِل کے حوالے سے کہنا ہے کہ از خود نوٹس اور بینچوں کی تشکیل کے اختیارات تنقید کی زد میں آتے رہے ہیں اور بار کونسلز نے بھی اس پر تشویش ظاہر کی تھی۔ سابق حکومت کا موقف تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر انٹرا کورٹ اپیل کا حق بھی ہونا چاہیے۔

  11. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی: 100 انڈیکس چھ سال کی بلند ترین سطح پر