روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری، ڈالر 278 روپے کی سطح سے نیچے آ گیا
پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں کمی کا رجحان جمعرات کے روز بھی جاری ہے۔ کاروبار کے آغاز پر ڈالر کی قیمت میں 76 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد انٹر بینک میں ایک ڈالر کی قیمت 278.75 روپے کی سطح تک گر گئی۔ دوسری جانب سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف تمام دائر درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی طرف سے کی جانے والی قانون سازی عدالتی معاملات میں مداخلت نہیں ہے۔
لائیو کوریج
یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ مزید اپ ڈیٹس کے لیے یہاں کلک کریں
پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیا ہے؟
سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے قانون بننے سے چیف جسٹس کے از خود نوٹس لینے کا اختیار اب اعلیٰ عدلیہ کے تین سینئر ترین ججز کے پاس ہو گا۔
اس کے تحت چیف جسٹس کا ازخود نوٹس کا اختیار محدود ہو گا، بینچوں کی تشکیل اور از خود نوٹس کا فیصلہ ایک کمیٹی کرے گی جس میں چیف جسٹس اور دو سینئر ترین ججز شامل ہوں گے۔
یہی کمیٹی بنیادی انسانی حقوق کے معاملات کم از کم تین ججوں پر مشتمل بینچ کو بھجوائے گی۔
انٹرا کورٹ اپیل پر 14 روز میں سماعت ہو گی۔
اہم نوعیت کے معاملات کے مقدمات 14 روز کے اندر اندر سماعت کے لیے مقرر ہوں گے۔
بریکنگ, پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ: ماضی میں از خود نوٹس کے تحت دیے گئے فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق کالعدم قرار, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام
اپنے مختصر فیصلے میں چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس ایکٹ کے تحت ماضی میں از خود نوٹس کے تحت دیے گئے فیصلوں کے خلاف اپیل کے حق کو کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ اس شق کو آٹھ سات کے تناسب سے مسترد کیا گیا ہے۔
جنھوں نے ایکٹ کی اس شق کے تحت اپیل کا حق دینے کی حمایت کی تھی ان میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسی، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس امین الدین اور جسٹس جمال مندوخیل بھی شامل ہیں۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ایکٹ کی اس شق سے متعلق کثرت رائے سے جو فیصلہ آیا ہے اس سے سابق وزیراعظم نواز شریف اور جہانگیر ترین جنھیں از خود نوٹس کے تحت نااہل قرار دیا گیا تھا وہ بھی اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہیں کر سکیں گے۔
اس کے علاوہ، ان درخواستوں کی سماعت کے دوران یہ نکتہ بھی سامنے آیا تھا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے اطلاق کے بعد کیے گئے از خودنوٹس کے تحت کیے گئے فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق ملنا چاہیے یا نہیں، تو اس نقطے پر اکثریت نے یہ فیصلہ دیا کہ اس ایکٹ کے اطلاق کے بعد کوئی بھی متاثرہ شخص اپیل کر سکتا ہے۔ یہ فیصلہ چھ نو کے تناسب سے آیا ہے۔
اس حوالے سے تفصیلی فیصلہ اور اختلافی نوٹ بعد میں جاری کیے جائیں گے۔
پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے مقدمے میں کب کیا ہوا؟, شہزاد ملک، بی بی سی نامہ نگار
اس سے قبل سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں آٹھ رکنی بینچ نے اس قانون کے خلاف اس سال اپریل میں حکم امنتاعی جاری کیا تھا جو کہ تقریبا چھ ماہ تک برقرار رہا۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد ان درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایسے اختیارات نہیں لینا چاہتے جس سے عدلیہ کی آزادی کمپرومائز ہو۔
ان درخواستوں کی سماعت کے دوران عدالت کی طرف سے یہ بھی ریمارکس آئے کہ جب بھی چیف جسٹس نے آئین کی دفعہ ایک سو چوراسی تین کے تحت اپنے اختیارات استعمال کیے تو اس نے ملک کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔
ان درخواستوں کی سماعت کے دوران سابق حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اس ایکٹ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے عدالتی امور میں مداخلت قرار دیا تھا جبکہ پاکستان مسلم لیگ نواز ، متحدہ قومی موومنٹ اور پاکستان بار کونسل نے اس قانون کی حمایت کی تھی۔
واضح رہے کہ اس پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں کی سماعت والے پندرہ رکنی بینچ میں سپریم کورٹ کے وہ سات جج صاحبان بھی شامل ہیں جو اس سے پہلے سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم ہونے والے بینچ کی طرف سے جاری ہونے والے حکم امتناعی کا بھی حصہ تھے۔
سابق حکمراں جماعت نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سے متعلق بل 10 اپریل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کثرت رائے سے ترامیم کے ساتھ منظوری کے بعد 11 اپریل کو صدر مملکت عارف علوی کو دوبارہ بھجوایا تھا تاہم صدر نے دوسری بار بھی بل پر دستخط کیے بغیر اسے واپس بھجوا دیا تھا۔
صدر کے دس دن تک دستخط نہ کیے جانے کی صورت مین بل از خود قانون بن جانا تھا، اسی لیے اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے 10 دن کی مدت پوری ہوتے ہی ’سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر‘ کے باقاعدہ قانون بن جانے سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی لارجر بینچ نے 13 اپریل کو عدالتی اصلاحاتی بل روکنے کا حکم جاری کیا تھا سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں آٹھ رکنی بینچ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سے متعلق جس وقت حکم امتناعی جاری کیا اس وقت وزارت قانون نے اس ایکٹ کے بطور قانون نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا تھا۔
سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر مختصر سماعت کے بعد چیف جسٹس کا تحریر کردہ آٹھ صفحات پرمشتمل حکم نامہ جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ایکٹ بادی النظر میں عدلیہ کی آزادی اور اندرونی معاملات میں مداخلت ہے، بل قانون کا حصہ بنتے ہی عدلیہ کی آزادی میں مداخلت شروع ہوجائے گی، بل پر عبوری حکم کے ذریعے عملدرآمد روکنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اس دوران عبوری حکم نامہ جاری کرنا ضروری ہے۔
سپریم کورٹ کا حکم امتناعی سے متعلق جاری کیے گئے اپنے فیصلے میں کہنا ہے کہ صدر دستخط کریں یا نہ کریں دونوں صورتوں میں یہ تا حکم ثانی نافذ العمل ہو گا۔ عدالت کسی قانون کو معطل نہیں کر سکتی لیکن بادی النظر میں بل کے ذریعے عدلیہ کی آزادی میں مداخلت کی گئی۔
عدالتی حکم نامے میں مزید کہا گیا تھا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں پرحکم امتناعی کا اجرا ناقابل تلافی خطرے سے بچنے کیلئے ضروری ہے۔ حکم امتناعی سے متعلق فیصلے میں کہا گیا تھا کہ اگر سیاسی جماعتیں چاہیں تو اپنے وکلاء کے ذریعے فریق بن سکتی ہیں۔
پریکٹس اینڈ پروسجر ایکٹ سے متعلق پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی حکومت کا سپریم کورٹ کے رولز میں ترمیم کے بِل کے حوالے سے کہنا ہے کہ از خود نوٹس اور بینچوں کی تشکیل کے اختیارات تنقید کی زد میں آتے رہے ہیں اور بار کونسلز نے بھی اس پر تشویش ظاہر کی تھی۔ سابق حکومت کا موقف تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر انٹرا کورٹ اپیل کا حق بھی ہونا چاہیے۔
بریکنگ, پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستیں مسترد: ’چیف جسٹس کے اختیارات کے بارے میں قانون سازی درست ہے‘
سپریم کورٹ کے فل کورٹ نے کثرت رائے سے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف دائر درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دے دیا ہے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ کے 15 میں سے 10 ارکان نے پارلیمان میں ہونے والی قانون سازی کو قابلِ قبول قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس منیب اختر، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس عائشہ ملک نے 10 ججوں کی رائے سے اتفاق نہیں کیا۔
اس سے قبل، سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں آٹھ رکنی بینچ نے اس قانون کے خلاف اس سال اپریل میں حکم امنتاعی جاری کیا تھا جو کہ تقریباً چھ ماہ تک برقرار رہا تھا۔
بریکنگ, سپریم کورٹ ’پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ‘ کا محفوط فیصلہ کچھ دیر میں سنائے گی
سپریم کورٹ کی جانب سے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سے متعلق محفوظ فیصلہ کچھ دیرسنایا جائے گا اور سپریم کورٹ کی جانب سے اس فیصلے کوساڑھے پانچ سنائے جانے کا کہا گیا ہے۔
بریکنگ, سپریم کورٹ نے چیف جسٹس کے اختیارات سے متعلق ’پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ‘ کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا

،تصویر کا ذریعہPTV
چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آج سماعت مکمل ہوئی ہے اگر اتفاق رائے ہوا تو آج فیصلہ سنا دیں گے نہ ہوا تو فیصلہ محفوظ کر لیں گے۔
اس سے پہلے سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم ایک دوسرے ادارے کے اختیار پر مین میخ نکال رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یہاں اس سپریم کورٹ نے ایسا کیا جو اس کا اختیار تھا ہی نہیں، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایک بنچ نے فیصلہ کیا دوسرے نے اس پر اپنا فیصلہ دے دیا۔
انھوں نے کہا کہ وہ تو نظر ثانی کا دائرہ اختیار بھی نہیں تھا، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ انگلی اٹھانی ہے تو پہلے اپنے پر اٹھائیں نا، انھوں نے کہا کہ کسی درخواستگزار میں ہمت نہیں ہوئی کہ اس معاملے پر بات کرتا۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ ہمارے محافظ بنتے ہیں تو پھر آئین کے محافظ بنیں نا، انھوں نے کہا کہ بہت ہو گیا یہ کھلواڑ کہ پارلیمنٹ یہ نہیں کر سکتی، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جسٹس کارنیلئس اپنے فیصلوں میں اسلام کی بات کرتے تھے، جبکہ ہم کہتے ہیں نہیں ہم نے ملکہ کی طرف ہی جانا ہے۔
انھوں نے کہا کہ حکومت اور پارلیمان میں فرق ہوتا ہے اور یہاں بنچ ادھر ادھر کر کے فیصلے کئے جاتے رہے وہ ٹھیک ہے؟ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جج کو روکا بھی جاتا رہا کہ آپ فلاں کیس نہیں سن سکتے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عابد زبیری کے لیے بھی سوال چھوڑ رہا ہوں وہ اس پر بات کریں۔ انھوں نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ میں بنچ ادھر ادھر کر کے فیصلے بدلنا ٹھیک تھا؟
عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت کل اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہو گی
آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمہ میں گرفتارسابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت کل اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہو گی۔
چیف جسٹس عامر فاروق سائفر کیس میں بعد از گرفتاری درخواست ضمانت پر ملزم کے وکیل کے دلائل سنیں گے جس کے بعد ایف آئی اے کے سپیشل پراسیکیوٹرز دلائل کا آغاز کریں گے۔
چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری پر اہم سماعت کل ہو گی۔
چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کے گزشتہ سماعت پر دلائل مکمل نہیں ہوسکے تھے اور انھوں نے آئندہ سماعت پر 20 منٹس میں دلائل مکمل کرنے کی یقین دپانی کرائی تھی۔
چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل کے بعد ایف آئی اے کے سپیشل پراسکیوٹر زدلائل دیں گے۔ سپیشل پراسیکیوٹرز میں راجہ رضوان عباسی، شاہ خاور اور ذوالفقار عباس نقوی ایڈووکیٹ شامل ہیں۔
آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خانکی درخواست ضمانت مسترد کردی تھیجس پر انھوں نے ضمانت بعد از گرفتاری کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
لاہور ہائی کورٹ نے لال حویلی کو ڈی سیل کرنے کی استدعا مسترد کر دی
لاہور ہائی کورٹ راوالپنڈی بنچ نے لال حویلی ڈی سیل کرنے کی استدعا مسترد کردی ہے۔ متروکہ وقف املاک کو پٹیشن کے فیصلے تک لال حویلی کی موجودہ پوزیشن بھی تبدیل کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
سماعت لاھور ہائی کورٹ راوالپنڈی بنچ کے جسٹس مرزا وقاص رؤف نے کی۔
متروکہ وقف املاک بورڈ نے لال حویلی کی پرانی تصویر اور تجاوزات سے متعلق ریکارڈ بھی پیش کر دیا گیا۔لال حویلی کی جانب سردار عبدالرازق اور سردار شہباز پیش ہوئے۔
ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر آصف خان اور ان کے وکیل حافظ احسان احمد کھوکھر عدالت میں پیش ہوئے۔
بریکنگ, پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ:اداروں کو نہ لڑائیں میں تو کہوں گا جیو اور جینے دو، چیف جسٹس
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کے اختیارات سے متعلق ’پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ‘ کیس کی سماعت جاری ہے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں فل کورٹ مقدمے کی سماعت کر رہا ہے۔سماعت میں اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کے دلائل کے دوران جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا آرٹیکل 191 مختلف اور باقی جن آرٹیکلز کا حوالہ آپ دے رہے ہیں وہ مختلف ہیں، جن آرٹیکلز کا حوالہ آپ نے دیا ہے وہ بنیادی حقوق ہیں، آرٹیکل 192 میں لاء کا مطلب ایکٹ آف پارلیمنٹ ہے جو انٹری 58 سے نکلتی ہے، صوبائی اسمبلی کیوں یہ قانون سازی نہیں کر سکتی؟ ان معاملات میں مشکلات ہیں، ون سائز فٹس آل نہیں چل سکتا یہاں پر۔
اس موقع پر چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا یہ کیوں نہیں کہتے آئین سازوں نے پارلیمنٹ یا لا کا لفظ دانستہ استعمال کیا ہے، آئین سازوں نے آئین کو جاندار کتاب کے طور پر بنایا ہے جو وقت پڑنے پر استعمال ہو سکے جبکہ جسٹس محمدعلی مظہر نے کہا آرٹیکل 191 میں قانون کا لفظ استعمال کیوں ہوا، اس پر بھی روشنی ڈالیں۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا آرٹیکل 191 میں قانون کا مطلب ایکٹ آف پارلیمنٹ ہی لیا جائے گا۔
جسٹس منیب اختر نے کہا ایکٹ آف پارلیمنٹ صوبائی اسمبلی کا بھی ہو سکتا ہے، کیا صوبے اپنی ہائی کورٹ کے لیے قانون سازی کر سکتے ہیں؟ جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا آئین ساز یہ بھی کہہ سکتے تھےکہ سپریم کورٹ اپنے رولز تب تک بنائے جب تک کوئی قانون سازی نہیں ہو جاتی، آئین سازوں کی نیت سے کہیں واضح نہیں کہ قانون سازی سے سپریم کورٹ رولز بدل سکتے ہیں۔
جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کیا سپریم کورٹ رولز 1980 لا ہیں؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا سپریم کورٹ رولز 1980 آرٹیکل 191 میں لکھے الفاظ لا میں نہیں آتے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا آئین میں کہاں لکھا ہے کہ عدالتی فیصلے بھی قانون ہوں گے، عدالتی فیصلوں کی پابندی اور ان پر عملدرآمد ضروری ہے؟ جبکہ جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا ایگزیکٹو اور پارلیمنٹ کے رولز قانون ہیں؟ اگر یہ قانون ہیں تو سپریم کورٹ رولز لا میں کیوں نہیں آتے؟
جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھا آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ رولز 1980 لاء ہیں لیکن آرٹیکل 191 میں درج لفظ لاء کے اندر نہیں آتے جبکہ جسٹس منیب اختر نے عثمان منصور سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا اٹارنی جنرل صاحب آپ غیر معمولی بات کر رہے ہیں، آپ میری دلیل تو سمجھیں، جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا آپ کی بات سمجھ گیا ہوں لیکن پھر بھی آپ کہہ دیں۔
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا ایگزیکٹو اور پارلیمان کے رولز قانون کا درجہ رکھتے ہیں، رولز قانون ہوتے ہیں لیکن یہ آرٹیکل 191 میں استعمال شدہ لفظ قانون نہیں کہلائیں گے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا آپ نے بحث کسی اور بنیاد پر شروع کی تھی، اگر آپ اپنے دلائل ہی جاری رکھتے تو یہ مشکل کھڑی نا ہوتی، کچھ سوالات کے ہاں یا ناں میں جواب دینا مشکل ہوتا ہے۔
جسٹس عائشہ ملک نے پوچھا آپ کے مطابق رولز عام طور پر قانون ہوتے ہیں تو عدالت لفظ قانون کی تشریح کس اصول پر کرے گی؟ جبکہ جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا 1956 کے رولز آئین کی کون سی شق کے مطابق بنے تھے؟ جسٹس مظاہر نقوی نے پوچھا سپریم کورٹ کے آخری رولز 1980 میں بنے تو مطلب پارلیمنٹ 43 سال سوتی رہی؟
جسٹس مظاہر نقوی نے پوچھا پارلیمنٹ کا ریکارڈ لائے ہیں آپ؟ اس ایکٹ پر بحث ہوئی تھی یا نہیں؟ جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا پارلیمنٹ کا ریکارڈ ان کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔
جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھا ایکٹ میں پارلیمنٹ کا مسئلہ ازخود نوٹس یا آرٹیکل 184 تین سے متعلق طریقہ کار بنانا تھا، پارلیمنٹ نے ایکٹ میں ازخودنوٹس سے نکل کر ہر طرح کے کیس کیلیے ججز کمیٹی بنا دی، ایک دم سے ساری چیزیں اوپر نیچے کرنا پارلیمنٹ کے لیے ٹھیک نہیں تھا، پارلیمنٹ کے اختیار استعمال کرنےکا بھی کوئی طریقہ کار ہونا چاہیے تھا، اگر غلطیاں سپریم کورٹ میں ہیں تو پارلیمنٹ کی بھی ہیں، جو مسئلہ تھا پارلیمنٹ اسےٹھیک کرتی۔
پریکٹس اینڈ پروسیجر عدلیہ کی آزادی کے خلاف نہیں ہے: اٹارنی جنرل
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کے اختیارات سے متعلق ’پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ‘ کیس کی سماعت جاری ہے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں فل کورٹ مقدمے کی سماعت کر رہا ہے۔سماعت میں اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کے دلائل کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین میں لفظ لا دو سو سے زیادہ بار آیا ہے، آپ کہہ رہے ہیں جہاں بھی یہ لفظ لکھا وہ ایک تناظر میں دیکھا جائے گا۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ ’ون سائز فٹس آل‘ والا معاملہ نہیں ہے، جہاں بھی یہ لفظ لکھا ہے اس کی نوعیت الگ ہے۔
اس موقع پر جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کیا کہ آرٹیکل 191میں پھر سبجیکٹ ٹو کانسٹیٹوشن اینڈ لا کیوں ہے؟ یہ پھر صرف سبجیکٹ ٹو کانسٹیٹیوشن کیوں نہیں رکھا گیا؟
جسٹس اطہر من اللہ نے بھی ریمارکس دیے کہ اٹارنی جنرل صاحب آرٹیکل 191 میں صرف لا کا لفظ نہیں، یہ سبجیکٹ ٹولا لکھا ہے۔
اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمان کا آرٹیکل 191 میں ترمیم نہ کرنے کا مطلب اپنا اختیار سرنڈر کرنا نہیں، آرٹیکل 191 میں قانون کا لفظ موجود ہے جس کے تحت ہی پریکٹس اینڈ پروسیجر لا بنا ہے۔
اس پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آرٹیکل آٹھ کہتا ہے ایسی قانون سازی نہیں ہوسکتی جو بنیادی حقوق واپس لے۔ جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آرٹیکل 191 قانون بنانے کا اختیار دیتا ہے۔ صرف عدلیہ کی آزادی کے خلاف قانون سازی نہیں ہوسکتی۔
اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اصل سوال ہی عدلیہ کی آزادی کا ہے۔ جبکہ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ قانون کا ایک حصہ ایکٹ آف پارلیمنٹ دوسرا عدالتی فیصلے ہیں۔
پریکٹس اینڈ پروسیجر عدلیہ کی آزادی کے خلاف نہیں ہے۔ اور میں اس نکتے پر تفصیلی دلائل پیش کروں گا
چترال کے نزدیک سرحد پر حملہ: ’طالبان کا قبضہ ہمیں مار کر ہی ممکن ہو گا‘
بریکنگ, پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ: ’آئین کا کوئی آرٹیکل پارلیمان سے قانون سازی کا اختیار واپس نہیں لیتا‘، اٹارنی جنرل

،تصویر کا ذریعہPTV
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کے اختیارات سے متعلق ’پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ‘ کیس کی سماعت جاری ہے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں فل کورٹ مقدمے کی سماعت کر رہا ہے۔
سماعت میں اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ آج تحریری جواب کی بنیاد پر دلائل دوں گا۔ جس پر چیف جسٹس نے انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں آپ سب باتیں دہرائیں گے نہیں ہائی لائٹ کریں گے۔
اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ’میں آرٹیکل 191 اور عدلیہ کی آزادی کی بات کروں گا، تین سوالات اٹھائے گئے تھے جن کا جواب دوں گا۔‘
اٹارنی جنرل منصور عثمان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے ماسٹر آف روسٹر کے نکتہ پر دلائل دوں گا ، 1956 کے رولز پر بھی عدالت میں دلائل دوں گا اور اختیارات کی تقسیم اور پارلیمان کے ماسٹر آف روسٹر کے اختیار لینے پر دلائل دوں گا۔
جبکہ اس کے علاوہ فل کورٹ کی تشکیل اور اپیل کے حق سے محروم کرنے کے حوالے سے بھی دلائل دوں گا۔ تاہم جو کہا جا چکا اس کو نہیں دہراؤں گا۔
اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل 14,20,22,28 میں دیے گئے حقوق قانون کے مشروط ہیں۔جب سے آئین بنا ہے آرٹیکل 191 میں کوئی ترمیم نہیں ہوئی، آرٹیکل 191 میں ترمیم نہ ہونا عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنانا ہے۔
اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ آرٹیکل 191 میں لاء کا لفظ باقی آئینی شقوں میں اس لفظ کے استعمال سے مختلف ہے؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ سنگین غداری کے قانون اور رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ میں قانون سازی کا اختیار آئینی شقوں سے لیا گیا۔ ان قوانین میں پارلیمنٹ نے فیڈرل لیجسلیٹیو لسٹ پر انحصار نہیں کیا تھا۔
رائٹ ٹو پرائیویسی کو قانون کے ذریعے ریگولیٹ کیا گیا ہے، آرٹیکل 191 سے پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار ملتا ہے۔ آئین کا کوئی آرٹیکل پارلیمان سے قانون سازی کا اختیار واپس نہیں لیتا۔
اس پر بنچ کے رکن جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ پارلیمنٹ نے اگر 1973 کے بعد سے آرٹیکل 191 کے تحت کچھ نہیں کیا تو اس کا ایک اور مطلب بھی تھا۔
اس ک امطلب یہ بھی ہو سکتا ہے پارلیمنٹ نے تسلیم کیا آرٹیکل 191 مزید قانون سازی کی اجازت نہیں دیتا۔ اس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 191 قانون سازی کا اختیار دیتا ہے پابندی نہیں لگتا۔
بریکنگ, سائفر کیس میں عمران خان پر فردِ جرم عائد کرنے کا حکم ہائیکورٹ میں چیلنج
تحریکِ انصاف کے سربراہ اور سابق وزیراعظم عمران خان نے سائفر کیس میں خصوصی عدالت کی جانب سے ان پر فرد جرم عائد کرنے کا حکم اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔
شیر افضل مروت ایڈووکیٹ کے ذریعے دائرہ کی گئی درخواست میں چیئرمین پی ٹی آئی نے نو اکتوبر کے ٹرائل کورٹ کے حکم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے حکم نامے میں لکھا کہ اس مقدمے کی نقول وصول کر لی گئیں حالانکہ ایسا نہیں ہوا۔
درخواست گزار کا یہ بھی کہنا ہے کہ خصوصی عدالت نے جیل میں سماعت کے خلاف ہائیکورٹ کے فیصلے کا بھی انتظار نہیں کیا۔
خیال رہے کہ سائفر کیس میں خصوصی عدالت نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر 17 اکتوبر کو فرد جرم عائد کرنے کا حکم دے رکھا ہے
پاکستان سے بیرون ممالک جانے والے بھکاریوں کے گروہ: ’یہاں روپے ملتے ہیں، سعودی عرب میں ریال میں بھیک ملتی ہے‘
اسلام آباد ہائیکورٹ نے صداقت عباسی کی بازیابی کی درخواست نمٹا دی, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

،تصویر کا ذریعہDAWN TV/ Screengrab
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما صداقت عباسی کی بازیابی کے لیے دائر درخواست ان کی گھر واپسی کی بنیاد پر نمٹا دی ہے۔
بدھ کی صبح اس کیس کی سماعت کے دوران صداقت عباسی کی جانب سے ان کے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے۔ ان کی آمد پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے بابر اعوان سے استفسار کیا کہ ’جی ڈاکٹر صاحب بندہ واپس آ گیا ہے۔‘
جس پر بابر اعوان نے جواب دیا کہ ’میں اس مرد حریت کو سلام پیش کرنا چاہتا ہوں جس نے بندہ بازیاب کروا دیا۔‘
بابر اعوان کے اس بیان پر عدالت نے بازیابی کی اس درخواست کو نمٹا دیا ہے۔
یاد رہے کہ صداقت عباسی نو مئی کے واقعات کے بعد روپوش ہو گئے تھے جبکہ تحریک انصاف کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ چند روز قبل انھیں سکیورٹی حکام نے انھی تحویل میں لے لیا ہے۔ تاہم رواں ہفتے پاکستان کے نجی ٹی وی چینل ڈان پر وہ اچانک نمودار ہوئے، انٹرویو دیا اور تحریک انصاف اور سیاست کو خیرباد کہنے کا اعلان کیا۔
سوشل میڈیا پر ان کی وہ ویڈیو کافی وائرل ہوئی جس میں گھر پہنچنے پر وہ اپنے اہلخانہ سے مل کر آبدیدہ ہیں۔
آمدن سے زیادہ اثاثہ جات کا کیس: اسحاق ڈار سمیت دیگر ملزمان کے خلاف مقدمے میں عدالتی دائرہ کار پر سماعت 17 اکتوبر تک ملتوی
اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور ان کے شریک ملزمان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس میں عدالتی دائرہ اختیار پر 17 اکتوبر کو دلائل طلب کر لیے ہیں۔
منگل کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت کی۔
نیب پراسیکیوٹر افضل قریشی، وکلاء صفائی اور اسحاق ڈار کے وکیل محمد عرفان عدالت پیش ہوئے، عدالت نے سابق صدر نیشنل بنک سعید احمد سمیت دیگر شریک ملزمان کی حاضری لگائی۔
سماعت شروع ہونے پرملزمان کے وکلاء کی جانب سے کیس کی سماعت دو ماہ کے لیے ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی۔
نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ کیس لاہور ریجن کا ہے، وکیل صفائی قاضی مصباح نے کہا کہ یہ کیس بند ہو گیا تھا، عدالت نے آئندہ سماعت پر عدالتی دائرہ اختیار پر دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت17 اکتوبر تک کے لیے سماعت ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نےنیب ترامیم سے متعلق سابق وزیر اعظم عمران خان کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے نیب ترامیم کو کالعدم قرار دیا تھا جس کے بعد وہ مقدمات دوبارہ کھل گئے تھے جو نیب ترامیم کے بعد ختم کر دیے گئے تھے۔
عمران خان کی بیٹوں سے بات کروانے کا معاملہ: خصوصی عدالت نے 18 اکتوبر تک جیل قواعد و ضوابط طلب کر لیے
آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی ان کے بیٹوں کی ٹیلی فون پر بات کروانے سے متعلق درخواست پر سماعت کرتے ہوئے قیدیوں سے فون پر بات کروانے سے متعلق جیل ایس او پی طلب کر لیے ہیں۔
خصوصی عدالت کے جج ابولحسنات ذوالقرنین نے 18 اکتوبر تک ایس او پی جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔
منگل کو سماعت کے دوران سپرٹینڈنٹ اڈیالہ جیل نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی بیٹوں سے فون پر بات کروانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت گرفتار ملزمان کی بیرون ملک بات نہیں کروانے کی اجازت نہیں۔
آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کے جج سماعت کی۔ کیس کی سماعت 18 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی۔
اگر پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے بنائے گئے رولز میں ترمیم کر سکتی ہیں تو آزاد عدلیہ کا تصور ختم ہو جائے گا: جسٹس اعجاز الاحسن
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کے اختیارات سے متعلق ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت جاری ہے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا فل کورٹ ’پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ‘ کے خلاف درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بینچ کی کوشش ہو گی کہ ان درخواستوں کی سماعت آج ہی مکمل کر لی جائے۔
انھوں نے کہا کہ یہاں پر ججز وکلا کو سننے کے لیے بیٹھے ہیں جبکہ ججز اپنی رائے فیصلے میں دیں گے۔
بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الااحسن نے ریمارکس میں کہا کہ کیا آئین کے آرٹیکل ایک سو اکانوے میں کہیں لکھا ہے کہ سپریم کورٹ کے بنائے گئے رولز میں پارلیمنٹ ترمیم کر سکتی ہے کیونکہ اگر ایسا ہوا تو پھر آزاد عدلیہ کا تصور ختم ہو جائے گا۔
چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل سے کہا کہ پہلے وہ اپنے دلائل دیں پھر سوالوں کا جواب دیں کیونکہ ان درخواستوں کی وجہ سے دیگر مقدمات متاثر ہو رہے ہیں۔
بینچ میں موجود مسرت ہلالی نے سوال کیا کہ آئین کے آرٹیکل ایک سو اکانوے میں سپریم کورٹ کو لامحدود اختیارات دیے گئے ہیں جس پر ایم کیو ایم کے وکیل کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت سپریم کورٹ کو اختیارات کی ایک حد مقرر ہے جس سے وہ آگے نہیں جاسکتی۔
