موسمیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ کا سربراہی اجلاس: ’ہمارا سیارہ خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے‘

کوپ 27

اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کے سربراہی اجلاس کا آغاز مصر میں اس انتباہ کے ساتھ ہوا کہ ’ہمارا سیارہ خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے۔‘

سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس اتوار کو اقوام متحدہ کی جاری کردہ ایک رپورٹ کا جواب دے رہے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ پچھلے مسلسل آٹھ سال ریکارڈ شدید گرمی رہی ہے۔

کوپ 27 کے نام سے مشہور شرم الشیخ میں ہونے والے اس سربراہی اجلاس میں 120 سے زیادہ عالمی رہنما شرکت کررہے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق کارروائیوں پر ان ممالک کے درمیان دو ہفتوں کے مذاکرات کا آغاز ہوگا۔

کوپ 27 کے صدر، مصری وزیر خارجہ سامح شکری نے رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ یوکرین پر روس کے حملے کے بعد پیدا ہونے والے خوراک اور توانائی کے بحران کو موسمیاتی تبدیلی پر کارروائی کی راہ میں حائل نہ ہونے دیں۔

ان کا کہنا تھا ’ہم سب کے لیے ضروری ہے کہ ہم جن چیلنجز کا سامنا کرتے ہیں ان کی شدت کو پہچانیں، اسے تسلیم کریں اور اس پر قابو پانے کے لیے ثابت قدمی اور عزم کا مظاہرہ کریں۔‘

اقوام متحدہ کی ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن کی تازہ ترین رپورٹ میں موسمیاتی تبدلیوں کے حوالے سے کارروائی کی ضرورت کو واضح کیا گیا۔

مسٹر گوٹیرس نے کانفرنس کو ایک ویڈیو پیغام بھیجا جس میں انھوں نے سٹیٹ آف گلوبل کلائمیٹ رپورٹ 2022 کو ’موسمیاتی افراتفری کا ایک تاریخی واقعہ‘ قرار دیا۔

سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ صنعتی دور سے لے کر اب تک عالمی درجہ حرارت میں 1.15 سینٹی گریڈ کا اضافہ ہوا ہے اور کہا گیا ہے کہ حالیہ آٹھ سال میں مسلسل شدید گرمی ایک ریکارڈ ہے۔

رپورٹ میں موسمیاتی تبدیلی کے دیگر وسیع اثرات کے بارے میں بھی خبردار کیا گیا ہے، جس میں سطح سمندر میں اضافہ، گلیشیئر کا بڑے پیمانے پر پگھلنا اور ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر شامل ہیں۔

گوٹیرس نے کہا کہ ان نتائج کی روشنی میں، کوپ 27 کو فوری اور قابل اعتبار کارروائی کا آغاز کرنا چاہیے۔

پیر کو باقاعدہ شروع ہونے والے اس سربراہی اجلاس میں سربراہان مملکت اور حکومتی رہنما پانچ پانچ منٹ کے خطاب کریں گے۔

توقع ہے کہ برطانیہ کے وزیر اعظم رشی سونک عالمی رہنماؤں پر زور دیں گے کہ وہ قابل تجدید توانائی کی طرف منتقلی میں’مزید تیزی‘ سے آگے بڑھیں۔

موسمیاتی تباہ کاریاں

،تصویر کا ذریعہANADOLU AGENCY

،تصویر کا کیپشنترقی پذیر ممالک موسمیاتی تباہ کاریوں سے سنبھلنے کی کوشش کر رہے ہیں
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یہ بھی پڑھیے

وہ رہنماؤں سے یہ بھی کہیں گے کہ گلاسگو میں گزشتہ سال کے سربراہی اجلاس میں کیے گئے وعدوں پر ’پیچھے ہٹنے‘ سے گریز کریں۔

عالمی رہنما پیر اور منگل کو بات کریں گے، اور ان کے روانہ ہونے کے بعد، کانفرنس کے مندوبین مذاکرات کے سلسلے کو آگے بڑھائیں گے۔

گلاسگو میں گزشتہ سال کے سربراہی اجلاس میں کئی وعدوں پر اتفاق کیا گیا تھا:

  • سب سے زیادہ آلودگی پھیلانے والے فوسل ایندھن میں سے ایک کوئلے کے استعمال کو ’فیز ڈاون‘ کرنا یعنی اس کے استعمال کو آہستہ آہستہ کم کرنا
  • 2030 تک جنگلات کی کٹائی کو روکنا
  • 2030 تک میتھین کے اخراج میں 30 فیصد کمی کرنا
  • اقوام متحدہ کے سامنے نیا موسمیاتی ایکشن پلان پیش کرنا

ترقی پذیر ممالک مطالبہ کر رہے ہیں کہ معشی مدد سے متعلق سابقہ وعدوں کو برقرار رکھا جائے۔

لیکن وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں ہونے والے ’نقصان‘ کے لیے مالی امداد پر بات چیت ہو یعنی ان ممالک کی مالی امداد جو ان تبدیلیوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا سامنا کر رہے ہیں نہ کہ صرف مستقبل کی کارروائیوں پر۔

اس بارے میں مذاکرات کے بعد یہ مسئلہ اب سی او پی 27 کے سرکاری ایجنڈے پر ہے۔

موجودہ موسمیاتی تباہ کاریوں سے سنبھلنے کی کوشش کرنے والے ترقی پذیر ممالک رقوم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ان دو ہفتوں کے دوران تمام رسمی مذاکرات کے ساتھ ساتھ سینکڑوں تقریبات ہوں گی جن میں دنیا بھر سے نوجوانوں، کاروباری گروپوں، فنکاروں اور فیشن کمیونٹیز کی نمائشیں، ورکشاپس اور ثقافتی پرفارمنس ہوں گی۔