’شاہین اور حارث رؤف کی ریڈ لائن کپتان بابر اعظم ہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنہ 2022 میں بابر اعظم پہلے پاکستانی کپتان بنے جنھوں نے ایک سال میں ایک ہزار سے زیادہ ٹیسٹ رنز سکور کیے۔ مگر ساتھ ہی یہ پہلا موقع تھا کہ ہوم سیریز میں پاکستان کو انگلینڈ کے خلاف وائٹ واش کا سامنا کرنا پڑا اور لگاتار چار ہوم ٹیسٹ میچوں میں شکست ہوئی۔
انگلینڈ کی پاکستان میں اس تاریخی فتح کے بعد ایسے لوگوں کی تعداد بظاہر بڑھی ہے جو بابر اعظم کو بطور بلے باز تو پسند کرتے ہیں مگر بطور ٹیسٹ کپتان نہیں۔
جہاں بعض سابقہ کرکٹرز اور شائقین بابر اعظم کو کپتانی سے ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں وہیں موجودہ ٹیم میں کچھ کھلاڑی ایسے بھی ہیں جنھوں نے مشورہ دیا ہے کہ ’ایسا سوچنا بھی منع ہے۔‘
فاسٹ بولرز شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف کھل کر کپتان بابر اعظم کی حمایت میں سامنے آئے ہیں۔
یہ غیر معمولی اس لیے بھی ہے کہ پاکستانی کرکٹ میں ایسا کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے کہ کھلاڑی کسی کپتان کے دفاع میں دیوار بن جائیں۔
اگرچہ 26 دسمبر کو نیوزی لینڈ کے خلاف کراچی ٹیسٹ سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس حوالے سے کوئی واضح اعلان نہیں کیا ہے تاہم فی الحال یہی سمجھا جا رہا ہے کہ سال 2023 کے آغاز پر پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی بابر اعظم کے پاس ہی ہو گی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف نے کپتان بابر اعظم کا دفاع کیسے کیا؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دونوں فاسٹ بولرز نے ٹوئٹر کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے کہ کوئی بابر اعظم کو بطور کپتان تبدیل کرنے کے بارے میں ’سوچے‘ بھی مت۔
شاہین شاہ آفریدی نے لکھا ہے کہ ’بابر اعظم ہماری اور پاکستان کی شان، جان اور پہچان ہے۔ وہ ہمارا کپتان ہے اور رہے گا۔ کچھ اور سوچنا بھی منع ہے۔ پلیز انھیں سپورٹ کریں۔
’یہی ٹیم ہمیں جتائے گی بھی۔ کہانی کبھی ختم نہیں ہوئی۔‘
جبکہ حارث رؤف نے ’سوچنا بھی منع ہے‘ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ لکھا کہ ’آپ ہمارے لیڈر ہو اور ہمیشہ رہو گے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اگرچہ ان دونوں کے علاوہ کسی نے اس نوعیت کے پیغام نہیں دیے ہیں مگر اس سے کچھ حد تک ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے صف اول کے بولرز بابر اعظم کو ہی بطور کپتان دیکھنا چاہتا ہے۔
پاکستان کی انگلینڈ کے خلاف تاریخی شکست کے بعد جب پریس کانفرنس میں بابر اعظم سے یہ سوال پوچھا گیا کہ آیا انھیں کپتانی چھوڑ کر بیٹنگ پر ہی توجہ دینی چاہیے، تو ان کا جواب تھا کہ ’میں دباؤ میں زیادہ انجوائے کرتا ہوں۔
’اس چیز (کپتانی) سے میری بیٹنگ پر فرق نہیں پڑتا۔ بلکہ یہ اعزاز کی بات ہے۔ میں اپنی بہترین کارکردگی دینے کی کوشش کرتا ہوں۔۔۔ بطور کپتان ٹیم کی ہار کا میں ہی دفاع کروں گا۔ جب بھی کوئی ایسی چیز ہوگی میں ہی اس کی ذمہ داری لوں گا۔‘
بابر اعظم نے کہا ہے کہ ’ہمیں کافی مایوسی ہے مگر انگلینڈ نے جیسی کرکٹ کھیلی انھیں سراہنا چاہیے۔
’ہم تھوڑے بدقسمت رہے ہیں کہ ہمارے فاسٹ بولرز فِٹ نہیں تھے۔ نئے لڑکوں کو کھلایا گیا، انھوں نے پرفارم کیا مگر ویسی کارکردگی نہ دے پائے۔۔۔ آسانی سے وکٹیں کھو دینے کی وجہ سے ہم جیتنے والے میچ بھی جیت نہ سکے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ٹیسٹ میچوں میں تجربہ درکار ہوتا ہے اور ہماری ٹیم میں فٹنس کے مسائل تھے۔۔۔ میں کوشش کروں گا کہ نئے لڑکوں کو بیک کیا جائے۔‘
سابق انگلش کپتان ناصر حسین نے تبصرہ کیا ہے کہ شاہین شاہ آفریدی کی انجری کے باعث بابر اعظم کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ ’کسی کپتان کا احتساب صرف نتائج پر نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ان کے پاس کون سے کھلاڑی دستیاب تھے۔ بیٹنگ کی طرح آپ کپتانی بھی سیکھ سکتے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
’بابر اعظم ریڈ لائن ہیں‘
سوشل میڈیا پر بھی صارفین کی جانب سے مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔
سوربھ ملہوترا لکھتے ہیں کہ بابر اعظم نے ایک ہی سیریز میں تین ہوم ٹیسٹ میچوں میں شکست کھائی ہے جبکہ انڈین کپتان ورات کوہلی کو اپنے چھ سال کے کپتانی کے دور میں صرف دو ہوم ٹیسٹ میچوں میں ہار کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
لینہ عزیز کا خیال ہے کہ پی سی بی کو فوری طور پر بابر اعظم کو کپتانی سے ہٹا دینا چاہیے۔ ’وہ بہترین بلے باز ہیں مگر کپتان نہیں۔‘
ادھر شاہین شاہ آفریدی کے ’سوچنا بھی منع ہے‘ کی تنبیہ پر شائقین طرح طرح کے تبصرے کر رہے ہیں۔ کوئی ٹیم میں اتحاد کی تعریف کر رہا ہے تو کوئی کہہ رہا ہے کہ ’اس تاریخی شکست کے بعد سوچنا تو پڑے گا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
ایک صارف نے پوچھا کہ ’یہ قومی ٹیم ہے یا آٹے کی مل کی مزدور یونین۔‘
جبکہ آمنہ کہتی ہیں کہ ’میں اسی لیے اس ٹیم کو سپورٹ کرتی ہوں کیونکہ یہ ایک دوسرے کو سپورٹ کرتے ہیں۔‘
صارف کامران لطیف نے طنز کیا کہ شاہین نے واضح کر دیا ہے ’بابر اعظم ہماری ریڈ لائن ہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 5













