سمیع چوہدری کا کالم: ’لگی بندھی کپتانی سے کچھ نہ ہو پائے گا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
جو روٹ دنیائے کرکٹ کے بہترین بلے بازوں میں سے ہیں۔ فروری 2017 میں جب سر الیسٹر کُک ریٹائر ہوئے تو بہترین کارکردگی کی بنیاد پہ جو روٹ کو انگلش ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کر دیا گیا۔ اپریل 2022 تک وہ اس منصب پہ موجود رہے۔
جو روٹ انگلش کرکٹ کی تاریخ میں طویل ترین عرصے تک کپتان رہے اور ہوم گراؤنڈز پہ کئی کامیابیاں بھی ان کے نام ہوئیں مگر بحیثیتِ مجموعی ان کی کپتانی پہ اس سے بہتر کوئی اور تبصرہ نہیں کیا جا سکتا جو ان کی ہوم کاونٹی یارکشائر کی طرف سے انھیں ’کریپٹن‘ کا لقب دے کر کیا گیا۔
اچھے کپتان وہ نہیں ہوا کرتے جو اپنے تئیں بہترین کاوش کرنے کے بعد خود کو حالات کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیں اور مخالف بیٹنگ اننگز کے انہدام کے لیے کسی غیبی تائید کے منتظر رہیں۔
کپتان کی ذمہ داری محض بولرز کی جوڑیاں طے کرنا ہی نہیں ہوتی بلکہ دس وکٹیں اڑانے کو اچھوتے تصورات جگانے کے لیے اپنے بولرز میں تحریک بھی پیدا کرنا ہوتی ہے۔
ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین کپتان گریم سمتھ کا خاصہ تھا کہ وہ بولنگ میں متواتر تبدیلیاں کرتے رہتے تھے۔ پے در پے چھوٹے چھوٹے سپیل کروائے جاتے تاکہ کوئی بھی بلے باز کسی ایک بولر کی لائن لینتھ سے ہم آہنگ نہ ہونے پائے۔
ٹیسٹ کرکٹ میں دس وکٹیں حاصل کرنے کی ذمہ داری اگرچہ بولنگ اٹیک کی ہی ہوتی ہے مگر اس بولنگ اٹیک کو متحرک رکھنا اور ذہنی جمود سے نکالنا کپتان ہی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ فیلڈنگ طے کرنا بھی بولر اور کپتان کی مشترکہ ذمہ داری ہوتی ہے۔ اور اگر بولنگ اٹیک نوآموز و ناتجربہ کار بولرز پہ مشتمل ہو تو کپتان کی ذمہ داری دو چند ہو جاتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دبئی کے ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ کے دوران جب ڈیرن براوو کسی بھی طرح آؤٹ ہو کے نہ دے رہے تھے اور ڈرا کی سمت بڑھتے میچ کو اپنی ٹیم کی جھولی میں ڈالنے کے عین قریب تھے، وہاں کپتان مصباح الحق کی ذہانت کار فرما ہوئی اور مڈ آن کو امپائر کی طرف دھکیل کر، محمد عامر کو باؤنسر پھینکنے پہ آمادہ کیا۔
نتیجتاً براوو اسی مڈآن پہ کھڑے یاسر شاہ کو کیچ پکڑا کر پویلین لوٹ گئے اور پاکستان ہارتے ہارتے جیت اچک کر لے گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دانش مند کپتانی کی جھلک دیکھنا مقصود ہو تو بین سٹوکس بہترین مثال ہیں جو کبھی بھی کتابوں میں لکھی کرکٹ نہیں کھیلتے۔ روایتی فیلڈ پوزیشنز پہ تکیہ کرنے کی بجائے وہ ہر بلے باز کے لیے انفرادی پلان ترتیب دیتے ہیں اور اپنی غیر معمولی فیلڈ پوزیشنز سے بلے باز کو اپنی قوت پہ بے جا بھروسہ کرنے کی شہہ دیتے ہیں۔
مگر اس کے برعکس بابر اعظم کبھی اس کوشش میں مگن نظر نہیں آتے کہ حریف بلے باز کی قوت و کمزوری کا کوئی تجزیہ کریں اور اس پہ کسی جدید حکمتِ عملی سے حملہ آور ہوں۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
بلے باز کوئی بھی ہو، بولر کوئی سا ہو، بابر اعظم کی فیلڈ پلیسمنٹ عموماً وہیں کی وہیں رہتی ہے۔
بولرز کے استعمال میں بھی بابر اعظم کی ترجیحات اکثر ناقابلِ فہم رہتی ہیں۔ آج کراچی میں چائے کے وقفے کے بعد جب ریورس سوئنگ دیکھنے کو مل رہی تھی اور محمد وسیم ایک شاندار سپیل پھینک رہے تھے، تب بابر نے دوسرے کنارے سے فہیم اشرف کو کیوں نہ آزمایا؟ یہ وہ حیران کن فیصلہ تھا جس کے لیے ڈیوڈ گاور، وقار یونس اور مائیک آتھرٹن جیسے لیجنڈز بھی کوئی منطق ڈھونڈنے سے قاصر رہے۔
پہلے روز پاکستان نے ٹاس جیتنے کے بعد ایک اچھا مجموعہ تشکیل دینے میں ناکامی اٹھائی مگر دوسری سہہ پہر بین سٹوکس کے رن آؤٹ کی شکل میں بابر اعظم کو ایک سنہری موقع میسر تھا کہ انگلش اننگز کو دانتوں سے دبوچ لیتے مگر شومئی قسمت تو دیکھیے کہ آدھی ٹیم گنوا چکنے کے بعد بھی چھٹی وکٹ کی ساجھے داری 100 رنز سے تجاوز کر گئی۔ اور اس کے بعد آٹھویں وکٹ کی شراکت میں بھی پچاس سے زائد رنز بن گئے۔
اس سب کے بیچ بابر اعظم محض طے شدہ فیلڈنگ اور لگی بندھی بولنگ کی تبدیلیوں میں محو رہے۔ ان کا سارا دار و مدار تین بولرز پہ رہا جبکہ فہیم اشرف پورے دن میں ایک ہی اوور پھینک پائے۔ بلاشبہ فہیم اشرف کوئی جارحانہ آپشن نہیں ہیں مگر ٹیسٹ کرکٹ میں ان کا اکانومی ریٹ اور پارٹنرشپس توڑنے کی خو سے کون واقف نہیں۔
اگرچہ بین سٹوکس کی ٹیم کو یہاں چوتھی اننگز میں بیٹنگ کرنا ہو گی اور پاکستانی سپنرز بھی چوتھے روز کی پچ سے زیادہ تائید ملنے کی توقع کر سکتے ہیں مگر پہلے دو دنوں میں فیصلہ کن برتری حاصل کرنے کے دو مواقع پاکستان کو میسر ہوئے اور پاکستان دونوں سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہ گیا۔











