سمیع چوہدری کا کالم: اس احتیاط کو خود علاج درکار ہے

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف,  سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

سیانے کہہ گئے ہیں کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے۔ بجا، مگر بسا اوقات احتیاط اس نہج پہ جا پہنچتی ہے جہاں خود اسے علاج کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ ملتان ٹیسٹ کا آج صبح کا سیشن پاکستان کی ایسی ہی احتیاط سے لبریز تھا۔

 ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستانی بیٹنگ کا دیرینہ فارمولا رہا ہے کہ صبح کے سیشن کا پہلا آدھا گھنٹہ احتیاط سے گزارا جائے اور اس کے بعد کچھ رنز بٹورنے کی فکر کی جائے۔ یہاں بھی یہی فارمولا کارفرما تھا مگر یہاں احتیاط صرف آدھے گھنٹے تک موقوف نہ رہ پائی۔ یہ احتیاط اس قدر طاری ہوئی کہ ساری بیٹنگ لائن کو ہی نگل گئی۔

 پاکستان پہلے روز کے کھیل میں برتری نہ سہی، مسابقت پہ ضرور تھا۔ اور جس طرح سے یہ پچ تشکیل دی گئی ہے، یہاں اننگز در اننگز بیٹنگ کو دشوار تر ہوتے ہی جانا ہے۔ پاکستان کے لیے نہ صرف میچ بلکہ سیریز میں بھی زندہ رہنے کا واحد رستہ یہی تھا کہ پہلی اننگز کا اختتام کسی تگڑی برتری پہ ہوتا تا کہ چوتھی اننگز میں کوئی پہاڑ سا ہدف ان کا منتظر نہ ہو۔

 اور ایسا بھی ہرگز نہیں کہ یہ پاکستانی بیٹنگ لائن برتری حاصل کرنے کی صلاحیت سے عاری تھی۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مگر مسئلہ یہاں صلاحیت کا نہیں، سوچ کا تھا۔ سوچ یوں خوف کی دبیز تہوں میں لپٹی ہوئی تھی کہ انگلش بولرز کے ہاتھوں سے نکلتی ہر گیند کسی جادوئی کرتب کے مانند نظر آنے لگی اور ہر آہٹ پہ دل دھڑکنے لگے۔

 اگر بابر اعظم رابنسن کی اس بہترین گیند کا شکار نہ ہوتے تو شاید حالات مختلف ہو پاتے۔ لیکن محمد رضوان کے کریز پہ آتے ہی پچ کسی معمے کی سی ہو گئی اور انگلش بولنگ میچ پہ حاوی ہونے لگی۔ اور پاکستان کے ’احتیاطی‘ ردِ عمل نے انگلش حوصلوں کو مزید بڑھاوا دیا۔

 حالانکہ نہ تو یہ پچ کسی طوفان کی آماج گاہ بنی تھی اور نہ ہی انگلش بولنگ میں راتوں رات کوئی ایسی کاٹ عود کر آئی تھی جو پہلے روز دستیاب نہ تھی۔ مسئلہ فقط پاکستانی بیٹنگ کی سوچ کا تھا جو صبح کے سیشن میں اتری ہی اس عزم سے تھی کہ کسی نہ کسی طور، لنچ تک کا وقت گزارا جائے۔

 پاکستانی بلے بازوں میں ایک فہیم اشرف ہی تھے جو میچ کو میرٹ پہ کھیلے اور ہر گیند کے ساتھ کماحقہ سلوک کیا۔ انھوں نے پاکستانی بیٹنگ کی روایتی سوچ کی نفی کرتے ہوئے احتیاط کو پسِ پشت ڈالا اور جوابی جارحیت سے کچھ دباؤ بھی واپس انگلش کیمپ کو لوٹایا۔

یہ بھی پڑھیے

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سالوں پہلے ایک ورلڈ کپ میچ کے دوران رمیز راجہ اور سارو گنگولی اکٹھے کمنٹری باکس میں موجود تھے کہ انڈیا نے اوپر تلے دو تین وکٹیں گنوائیں۔ رمیز راجہ نے فوری اسی ’احتیاط‘ کی وکالت کی کہ انڈیا کو اب کچھ دیر جذبات سنبھال کر محتاط ہو جانا چاہیے۔ مگر عین اسی لمحے، ان کے پہلو نشین سارو گنگولی اس تجویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے بولے کہ احتیاط کا کرکٹ سے کوئی تعلق نہیں، جب مقابلہ گیند اور بلے کا ہے تو ہر گیند کو اس کے میرٹ پہ کھیلنا ہی درست طریق ہے۔

 جن دنوں رمیز راجہ کمنٹری باکس میں براجمان ہوا کرتے تھے، وہ پاکستان کرکٹ کے تمام نقائص کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے خلاصہ کیا کرتے تھے کہ ان دگرگوں حالات کے ذمہ دار وہ سب بورڈ چئیرمین ہیں جن کا اپنا کرکٹ سے کبھی تعلق نہیں رہا۔

 ان سبھی مسائل کا حل بھی رمیز راجہ یہی تجویز کیا کرتے تھے کہ جب کرکٹ کے معاملات کرکٹرز چلائیں گے تو سب بدل جائے گا۔ ان کے عہدہ سنبھالنے کے بعد کچھ چیزیں واقعی بدلی بھی ہیں مگر المیہ یہ کہ ان میں سے بیشتر تبدیلیاں پاکستان کرکٹ کے لیے مثبت ثابت نہیں ہوئیں۔