محض ٹکڑوں میں بٹی کپتانی کافی نہ ہو گی: سمیع چوہدری کا کالم

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
پچھلے چند برسوں میں جس تیزی سے انگلش کرکٹ نے اپنا حلیہ بدلا ہے، وہ دنیائے کرکٹ کے لیے خاصی حیران کن رہی ہے۔
اگرچہ 2019 کی ورلڈ کپ کی فتح کے بعد محدود فارمیٹ میں انگلش حکمرانی مسلّم ہو چکی تھی مگر تب بھی ٹیسٹ کرکٹ میں ان کا سکہ نہیں چل پا رہا تھا۔
جو روٹ بلاشبہ دنیا کے چنیدہ بلے بازوں میں سے ہیں مگر بطور کپتان وہ اپنی ٹیم میں کوئی عقابی روح بیدار کرنے سے قاصر رہے اور رواں سیزن میں انگلش کرکٹ بورڈ نے بجا طور پر ان کی سبکدوشی کا فیصلہ کر کے برینڈن میکلم اور بین سٹوکس کے ہمراہ ایک نئے عہد میں قدم رکھا۔
یہ نیا عہد محض انگلش کرکٹ کے لیے ہی نیا نہیں تھا، یہ ٹیسٹ کرکٹ کے مروجہ طور اطوار کے لیے بھی نیا ثابت ہوا ہے۔ جس طرح سے اوئن مورگن نے محدود فارمیٹ کی کرکٹ کو از سرِ نو پروان چڑھایا، بعینہٖ میکلم کی کوچنگ اور سٹوکس کی کپتانی میں جدید ٹیسٹ کرکٹ بھی اپنا تعارف بدل رہی ہے۔
اس انگلش سیٹ اپ کی بہترین بات یہ ہے کہ یہ بے خوف کرکٹ کھیلنے پر مرکوز رہتا ہے اور برے بھلے کی پرواہ کیے بغیر نتائج کی جستجو میں رہتا ہے۔ اسے شکست سے بھی کوئی دقت نہیں، یہ محض ڈرا سے خائف ہے۔
اسی امر کا اعادہ برینڈن میکلم نے راولپنڈی میں بھی کیا کہ وہ شکست و فتح سے بے نیاز ہو کر اپنی تمام تر توانائیاں نتائج کے حصول میں جھونکیں گے کہ بہر حال ڈرا کوئی نتیجہ نہیں ہوتا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دوسری جانب پاکستان کرکٹ غالباً اپنی تاریخ کے اس اکلوتے المیے میں گِھری نظر آتی ہے جہاں وہ اس مخمصے کا شکار ہے کہ ہوم کنڈیشنز میں فتح یاب ہونے کے لیے کس طرح کی پچز تشکیل دی جائیں اور مخالفین کو زیر کرنے کے لیے کون سی حکمتِ عملی مرتب کی جائے۔
ماضی میں پاکستانی مڈل آرڈر سپن کے خلاف بہترین تکنیک کے حامل بلے بازوں سے بھرے رہے ہیں اور ہوم کنڈیشنز میں کامیابی کے لیے سپن وکٹوں کی تشکیل ایک آسان سا کلیہ رہا ہے۔ مگر اب المیہ یہ ہے کہ سپن بعض اوقات خود پاکستانی مڈل آرڈر کو ہی الجھا کر رکھ دیتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
آسٹریلیا کے خلاف ہوم ٹیسٹ سیریز میں یہ ستم ظریفی درپیش رہی کہ آسٹریلوی پیسرز کا ڈنک نکالنے کے لیے سست رو وکٹیں بنائی گئیں جہاں ڈرا ہی بہترین نتجہ ہو سکتا تھا۔ بابر اعظم کی قیادت بھی اس حوالے سے خوب رہی کہ وہ دو میچز کو ڈرا کرنے میں کامیاب رہے اور لاہور ٹیسٹ بھی ڈرا کرنے کے عین قریب تھے تاآنکہ آسٹریلوی پیس اٹیک نے پرانی گیند سے ریورس سوئنگ کی یلغار کر کے پاکستان کی دفاعی لائن میں دراڑیں ڈال دیں۔
مگر یہ انگلش سیریز پاکستان کے لیے ایک طرح کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہو سکتی ہے کیونکہ وہ کچھ نئے چہروں پر تکیہ کر کے میدان میں اتریں گے اور اسی سیریز میں پاکستان کا آئندہ سیزنز کے لیے سپن اٹیک بھی طے ہو گا۔ سپن اٹیک کے ساتھ ساتھ پاکستان کا مڈل آرڈر بھی ازسرِ نو ترتیب پائے گا جہاں اب فواد عالم دستیاب نہیں ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فٹ بال کو اگر کوچز کا کھیل کہا جائے تو کرکٹ کو کپتانوں کا کھیل کہا جا سکتا ہے۔ اگرچہ ٹی ٹونٹی فارمیٹ میں کوچنگ سیٹ اپ کی اہمیت کپتان سے زیادہ ہوتی ہے مگر جوں جوں کرکٹ کا کھیل اپنے دورانیے میں بڑھتا جاتا ہے، توں توں کپتان کا کردار اہم تر ہوتا جاتا ہے۔
بابر اعظم کو قیادت سنبھالے خاصا وقت بیت چکا ہے اور اب انھہیں مزید کسی ناتجربہ کاری یا نو آموزی کے شبہات کا فائدہ میسر نہیں ہو سکتا۔ اب انھیں طے کرنا ہو گا کہ وہ اس ٹیسٹ ٹیم کو کسی نئی جہت سے آشنا کروا سکتے ہیں یا نہیں۔
قائدانہ صلاحیتوں کی بات کی جائے تو ایسا ہرگز نہیں کہ بابر اعظم ان سے یکسر محروم ہیں۔ ہم اس امر کی بے شمار جھلکیاں دیکھ چکے ہیں کہ بابر اعظم میں ایک بہترین کپتان بننے کے بیشتر اجزائے ترکیبی موجود ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا وقت آنے پر وہ ان تمام اجزائے ترکیبی کو درست تناسب میں یکجا کر کے کامیابی کے حتمی نسخے میں بدل پائیں گے؟
ماضی کے کئی ٹیسٹ مچز اس امر کے گواہ ہیں کہ بابر ٹکڑوں میں اچھی کپتانی کرتے ہیں۔ پانچ دس اوورز کے کئی ایسے مراحل آتے ہیں جہاں بابر اپنی دانشمندانہ حکمتِ عملی سے حریف بلے بازوں کا ناطقہ بند کر چھوڑتے ہیں۔ مگر جونہی کاؤنٹر اٹیک ہوتا ہے اور دباؤ بڑھنے لگتا ہے تو ان کے تخمینے گڑبڑا جاتے ہیں۔
یہ انگلش ٹیم نہایت جارحانہ کرکٹ کھیلنے کا عزم لیے پاکستانی سرزمین پر اتری ہے اور بابر اعظم کے پاس بھی یہ بہترین موقع ہے کہ یہ سیریز جیت کر ایک بڑی ٹرافی اپنے نام کریں مگر اس کے لیے صرف انگلش جارحیت کی راہیں مسدود کرنا ہی کافی نہیں ہو گا بلکہ جوابی جارحیت میں بھی ویسی ہی شدت درکار ہو گی جو میکلم کے ڈریسنگ روم سے پاکستان کی راہ میں آئے گی۔
مدافعانہ حکمتِ عملی اور ٹکڑوں میں بٹی اچھی کپتانی سے میچز اور سیریز ڈرا تو کیے جا سکتے ہیں مگر بین سٹوکس کی اس انگلش ٹیم کے خلاف محض ’ٹکڑوں میں بٹی اچھی کپتانی‘ کافی نہیں ہو گی۔











