ڈیبیو پر سات وکٹیں لینے والے ’مسٹری سپنر‘ ابرار احمد جن کی ’انگلیوں میں بہت جان ہے‘

،تصویر کا ذریعہPCB
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کی جانب سے ملتان ٹیسٹ میں ڈیبیو کرنے والے ’مسٹری سپنر‘ ابرار احمد نے انگلینڈ کے بلے بازوں کو آغاز میں ہی مشکل میں ڈال دیا ہے اور اپنے پہلے ہی میچ میں سات وکٹیں حاصل کر لی ہیں۔
ابرار ڈیبیو میچ میں سات وکٹیں حاصل کرنے والے تیسرے پاکستانی بولر ہیں۔
انگلینڈ کے خلاف سیریز کے لیے پاکستان ٹیم کے سکواڈ کا اعلان ہوتے ہی ابرار احمد خاص طور پر سب کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ روایتی سپنر نہیں بلکہ وہ لیگ بریک گگلی کے ساتھ ساتھ کیرم بال بھی کر لیتے ہیں۔
آج انھوں نے انگلینڈ کے جارحانہ بیٹنگ کرنے والے ٹاپ فائیو بلے بازوں کو اپنی مسٹری سپن خصوصاً کیرم بال سے بیٹ کیا اور ان کی جانب سے کاؤنٹر اٹیک کے باوجود اپنی لینتھ پر بولنگ کرتے رہے۔
خیال رہے کہ ابرار احمد کو راولپنڈی ٹیسٹ میں شامل نہ کرنے پر پاکستان کی مینجمنٹ کو خاصی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ابرار احمد نے اس سیزن کی قائداعظم ٹرافی میں 43 وکٹیں حاصل کی ہیں جو اس سال کسی بھی بولر کی سب سے زیادہ وکٹیں ہیں اور یہی کارکردگی ان کی پاکستانی ٹیم میں پہلی بار شمولیت کا سبب بنی ہے۔
ان پر زاہد محمود کو ترجیح دینے کے حوالے سے جب ایک پریس کانفرنس میں ثقلین مشتاق سے سوال پوچھا گیا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ ’ہم انصاف کرنا چاہتے تھے۔ ایک طرف ایک لڑکا (زاہد) جو ٹیم کے ساتھ ایک سال سے ہے اور کئی مرتبہ ٹیم میں کھیلنے کے بہت قریب بھی آیا لیکن اس کو موقع نہیں ملا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ابرار نے ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھا پرفارم کیا ہے تاہم ہم لائن نہیں توڑنا چاہتے تھے اور کسی کو فاسٹ ٹریک نہیں کرنا چاہتے تھے جب ایک کھلاڑی ایک سال سے انتظار کر رہا ہے۔ زاہد ویٹنگ لسٹ میں تھا اس لیے ہم نے اس کے ساتھ انصاف کرنے کا فیصلہ کیا۔‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سیزن میں انھوں 43 میں سے 40 وکٹیں راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں 17 کی اوسط سے حاصل کی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کی پانچ وکٹوں میں زیک کرالی، بین ڈکٹ، جو روٹ، اولی پوپ اور ہیری بروک کی وکٹیں شامل ہیں اور ان میں جو روٹ کے علاوہ تمام ہی بلے باز پنڈی ٹیسٹ میں سنچری سکور کر چکے ہیں۔
ایسے موقع جب یاسر شاہ آؤٹ آف فارم تھے اور پاکستان نعمان علی سمیت دیگر سپنرز کو آزما چکا ہے تو ابرار احمد کی پاکستان ٹیم میں شمولیت اور بہترین کارکردگی یقیناً پاکستانی ٹیم کے لیے ریلیف سے کم نہیں۔
آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ ابرار احمد ہیں کون اور ان کا کرکٹ کھیلنے کا سفر کب شروع ہوا اور اس دوران انھیں کتنی مشکلات جھیلنی پڑیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’پھر میں کھیلنے لگا اور بھائی دیکھنے لگے‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
24 سالہ ابرار احمد کے والد کا تعلق شنکیاری سے ہے جبکہ ان کی والدہ لاہور سے تعلق رکھتی ہیں۔
والد کا ٹرانسپورٹ کا کام ہے اور یہ فیملی کافی عرصے سے کراچی میں مقیم ہے۔
ابرار احمد کی پیدائش کراچی کی ہے انھوں نے کرکٹ اپنے علاقے جہانگیر روڈ کے گلی محلے کی ٹینس بال سے شروع کی۔
ابرار احمد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں ’میں بچپن میں بہت شرارتی تھا۔ گھر میں سب سے چھوٹا ہونے کا اگر فائدہ ہے تو نقصان بھی ہے۔ ایک بھائی کا کام کرو تو دوسرے نے بھی کام کرانا ہوتا تھا لیکن میں اپنے بچاؤ کے لیے امی کو آگے کردیتا تھا۔‘
ابرار احمد بتاتے ہیں ’میرے بڑے بھائیوں کو کرکٹ کا شوق تھا۔ وہ نشتر پارک اور دوسرے میدانوں میں جا کر کھیلا کرتے تھے میں وہاں جا کر بیٹھ جاتا اور انھیں کھیلتے ہوئے دیکھا کرتا تھا۔
’پھر وہ وقت بھی آ گیا جب میں کھیل رہا تھا اور بھائی مجھے دیکھ رہے تھے۔‘
کراچی کے کئی نوجوان کرکٹرز کی طرح ابرار احمد کے ابتدائی کریئر میں کوچ محمد مسرور کا عمل دخل نمایاں ہے جنھوں نے ان میں چھپا ہوا ٹیلنٹ دیکھ کر کھیلنے کا موقع فراہم کیا۔
محمد مسرور کے کہنے پر ہی راشد لطیف نے ابرار احمد کو اپنی کرکٹ اکیڈمی میں بھی شامل کیا تھا۔
ابرار احمد کہتے ہیں ’میں نے سنا تھا کہ جب آپ کسی اکیڈمی میں جا کر کھیلتے ہیں تو آپ کو فیس وغیرہ کے پیسے دینے پڑتے ہیں لیکن ڈسٹرکٹ کی سطح پر میری بولنگ اتنی اچھی تھی کہ اس زمانے میں مجھ سمیت تین چار کرکٹرز ایسے تھے جنھیں راشد لطیف اکیڈمی کی طرف سے ہر ماہ سات ہزار روپے ملتے تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کزنز نے والد کو قائل کیا
ابرار احمد بتاتے ہیں ’اگرچہ میرے بڑے بھائی بھی کرکٹ کھیلتے تھے اور مجھے بھی بہت شوق تھا لیکن میرے والد چاہتے تھے کہ میں پڑھائی پر توجہ دوں مگر میں کرکٹ میں کچھ کرنا چاہتا تھا۔
’جب میرا نام ڈسٹرکٹ کی ٹیم میں آیا تو میں نے اپنے کزن شفیق سے کہا کہ آپ میرے والد سے بات کریں کہ وہ مجھے کھیلنے کی اجازت دے دیں۔ میرے کریئر کا وہ سب سے اہم لمحہ تھا جب میرے کزن نے والد کو قائل کرلیا۔
’انھوں نے میرے والد سے کہا کہ ابرار کو ایک سال دے دیں اس دوران اگر وہ کچھ کرلیتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ وہ آپ کے کہنے پر عمل کر لے گا۔‘
ابرار احمد کے بارے میں عام تاثر یہی تھا کہ وہ صرف محدود اوورز کی کرکٹ میں کامیاب ہو سکتے ہیں لیکن یہ کوچ مسرور ہی تھے جنھیں اس بات کا یقین تھا کہ ابرار احمد ریڈ بال کرکٹ میں بھی کامیاب ثابت ہو سکتے ہیں تاہم کراچی کے ایک سلیکٹر انھیں موقع دینے کے بارے میں تذبذب کا شکار تھے اور انھوں نے راشد لطیف سے رابطہ کیا تو ان کا جواب تھا کہ محمد مسرور جو کہہ رہے ہیں وہ صحیح ہے چنانچہ وہ ریڈبال کی ٹیم میں بھی جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئے۔

،تصویر کا ذریعہCourtesy Ibrar Ahmed
’جو کرنا ہے وہ انگلیوں نے کرنا ہے‘
ابرار احمد کی ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کارکردگی سے کوچ مکی آرتھر بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے تھے۔
ابرار احمد کہتے ہیں کہ ’میں سنہ 2017 کی پاکستان سپر لیگ میں کراچی کنگز کی طرف سے دو میچ کھیلا تھا اگرچہ میں کوئی وکٹ لینے میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا لیکن پشاور زلمی کے خلاف میچ میں اوئن مورگن کے خلاف میرے سپیل سے مکی آرتھر، کمار سنگاکارا اور مہیلا جے وردھنے بہت متاثر ہوئے تھے۔‘
بدقسمتی سے ان کی کمر میں ہیئر لائن فریکچر ہو گیا اور میں تقریباً دو سال کرکٹ سے دور رہا لیکن اس عرصے میں مکی آرتھر نے مجھ پر بہت توجہ دی اور مجھے چالیس روز نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں رکھ کر میری فٹنس کی بحالی پر کام کروایا۔‘
یہ بھی پڑھیے
ابرار احمد کہتے ہیں کہ ’وہ دو سال بہت مشکل تھے لیکن میں نے خود سے یہی کہہ رکھا تھا کہ مجھے صرف فٹ ہونا ہے کیونکہ جو کرنا ہے وہ انگلیوں نے کرنا ہے۔‘
ابرار احمد کہتے ہیں ’میں نے پروفیشنل کرکٹ میں آنے کے بعد ویسٹ انڈیز کے سنیل نارائن اور سری لنکا کے اجانتھا مینڈس کی وڈیوز باقاعدگی سے دیکھی ہیں کہ یہ دونوں بولرز کس طرح بیٹسمینوں کو ٹریپ کرتے ہیں۔‘
کوچ محمد مسرور کہتے ہیں کہ ’ابراراحمد کی انگلیوں میں بڑی جان ہیں اور وہ یکساں مہارت سے گیند کو اندر بھی لے آتے ہیں اور باہر بھی نکالتے ہیں جیسا کہ اجانتھا مینڈس اور افغانستان کے مجیب الرحمن کرتے رہے ہیں۔ وہ ایک مکمل پیکج ہیں انھیں وکٹیں لینے کا فن خوب آتا ہے۔‘











