سمیع چوہدری کا کالم: ’پاکستان گھر آئی قسمت ٹھکرا بیٹھا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
ٹیسٹ کرکٹ میں قسمت کا کردار اس قدر اہم ہوتا ہے کہ بسا اوقات ٹاس کی جیت سے ہی میچ میں جیت کی راہ ہموار ہو جاتی ہے۔ اگرچہ ٹاس کے معاملے میں بابر اعظم بہت خوش بخت نہیں رہے مگر کراچی میں جب بالآخر قسمت پاکستان کے رستے آ ہی گئی تو پاکستان اس کا صحیح فائدہ اٹھانے سے قاصر رہ گیا۔
ٹاس جیتنے پہ بابر اعظم مسکراتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ وہ اس ٹاس کی جیت کا بھرپور فائدہ اٹھائیں گے اور بیٹنگ کے لیے سازگار اس پچ پہ کوئی خطیر مجموعہ ترتیب دینے کی کوشش کریں گے مگر اے بسا آرزو کہ خاک شد۔
بلاشبہ کراچی کی یہ پچ بیٹنگ کے لیے سہل تھی۔ ملتان کے برعکس قدرے بہتر باؤنس تھا اور سپنرز کی طرف سے ٹرن بھی ایسا حوصلہ افزا نہیں تھا کہ بلے بازوں کے اوسان خطا ہو جاتے۔ یہاں پاکستان پہلی اننگز میں ایک تگڑا ہدف ترتیب دے کر بین سٹوکس کے سارے حساب کتاب گڑبڑا سکتا تھا۔
مگر بین سٹوکس کا خیال کچھ اور تھا۔
سیریز پہلے ہی جیت چکنے کے بعد انھیں یہ سہولت میسر تھی کہ وہ اپنے سینئر پیسر جیمز اینڈرسن کو آرام دے کر نوجوان سپنر ریحان احمد کو ڈیبیو کا موقع دے سکیں۔ ان تبدیلیوں سے بھی پاکستانی بیٹنگ کے لیے حالات سازگار ہونے کا بھرپور امکان موجود تھا۔
شان مسعود ایک عرصے سے پاکستانی ٹیسٹ ٹیم میں شمولیت کے منتظر رہے ہیں اور یہاں امام الحق کی انجری کی بدولت انھیں موقع ملا جس کا انھوں نے اپنے ہی انداز سے فائدہ بھی اٹھایا۔ رواں سیریز میں انگلش بیٹنگ کی طرح پاکستانی اوپنرز کوئی سبک رفتار آغاز حاصل نہیں کر پائے تھے مگر شان مسعود نے اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی اور نئے گیند کے خلاف جاندار سٹروک کھیلے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مگر جو انجام اس آغاز کے بعد متوقع تھا، وہ انجام ممکن نہ ہو پایا۔ سٹوکس کی قابلِ رشک قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت انگلش بولنگ گاہے بگاہے پاکستانی بیٹنگ میں شگاف ڈالتی رہی اور جو مومینٹم پاکستانی مڈل آرڈر کو میسر ہونا تھا، وہ نہ ہو پایا۔
انگلش بولنگ نے پاکستانی بلے بازوں کی جارحیت کے جواب میں خاموشی اختیار کرنے کی بجائے انھیں مزید جارحیت پہ اکسایا اور اسی جارحیت میں ہی انھیں شکار کر لیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اظہر علی اپنا الوداعی ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں اور یقیناً وہ اپنے طویل کرئیر کا سفر کسی شکست پہ ختم نہیں کرنا چاہیں گے۔ یہی عزم ان کی اننگز میں نمایاں تھا جہاں انھوں نے آغاز میں روایتی ون ڈاؤن بیٹنگ کے تقاضے نبھاتے ہوئے گیند کی چمک ماند پڑنے کا انتظار کیا اور پھر کھل کر سٹروک بھی کھیلے۔
مگر سٹوکس اظہر علی کی وکٹ کی اہمیت سے واقف تھے۔ انھوں نے اظہر کے لیے وہی دامِ تزویر بچھایا جس کی نذر امام الحق اور سعود شکیل ملتان میں ہوئے تھے۔ جب پچ سے کوئی مدد نہ مل کے دے رہی ہو تو کسی بھی کپتان کے لیے یہ ایک تزویراتی چال بہم رہتی ہے کہ لیگ سٹمپ لائن پہ وہ لینتھ دی جائے جہاں سے بلے باز کو گیند سے بچنے کی کوئی گنجائش نہ مل پائے۔
اظہر علی کی وکٹ یہاں بہت اہم تھی اور سٹوکس کی یہ حکمتِ عملی لاجواب رہی کیونکہ اگر اظہر علی اپنے روایتی انداز میں کوئی لمبی اننگز کھیل جاتے تو ٹاس کے وقت بابر اعظم کی آنکھوں میں سجے خواب سچ ہو سکتے تھے مگر اظہر کی وکٹ کے بعد بابر اعظم کو دوسرے کنارے سے کوئی ایسی مستحکم تائید نہ مل پائی جو اننگز کو پہلے دن سے آگے بڑھانے کی امید جگا سکتی۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جب سعود شکیل بھی ریحان احمد کی ایک بہترین گیند پہ خود ہی سے الجھ بیٹھے تو ساری ذمہ داری محمد رضوان کے کندھوں پہ آن پڑی جو یہاں ملتان کے برعکس بہت جلد بازی میں تھے مگر اپنی اس جلد بازی میں وہ اس قدر آگے نکل گئے کہ جو روٹ کی ایک بدترین گیند کے جال میں پھنس بیٹھے۔
جو مجموعہ پاکستان یہاں حاصل کرنا چاہتا تھا، وہ یقیناً اس سے کہیں زیادہ تھا جو پاکستان بالآخر حاصل کر پایا۔ ٹاس جیتنے کے بعد یہ بہترین موقع تھا کہ پاکستانی بیٹنگ اپنی حیثیت ثابت کرتی اور سر پہ منڈلاتے کلین سویپ کے خطرے کی راہ میں حائل ہو جاتی۔
اگرچہ پاکستانی بولنگ پچھلے میچز میں مسابقتی کھیل نہیں جما پائی مگر بابر اعظم یہی توقع رکھیں گے کہ یہاں بیٹنگ کے حصے کا بوجھ بھی بولنگ اٹھائے۔ کیونکہ جو قسمت خدا خدا کر کے گھر آئی تھی، پاکستانی بیٹنگ اپنی سوچ کے ہاتھوں اسے ٹھکرا بیٹھی۔











