رمیز راجہ خود کب بُرا منائیں گے؟ سمیع چوہدری کا کالم

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
رمیز راجہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جب بین سٹوکس کی ٹیم راولپنڈی میں پاکستان کو دھول چٹا چکی تھی تو ایک طرف بابر اعظم اپنی فرمائش کے مطابق پچ نہ ملنے کا گلہ کر رہے تھے اور دوسری جانب رمیز راجہ یہ انکشاف کر رہے تھے کہ معیاری پچز کی تیاری میں پاکستان وقت سے دہائیوں پیچھے رہ گیا تھا۔

ملتان ٹیسٹ سے عین قبل چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ رمیز راجہ گویا ہوئے کہ ملتان میں شائقین کو جدید کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔

ان کی طرف سے ایسے حوصلہ افزا بیان سے دل کو کچھ تقویت سی ملی کہ شاید واقعی راتوں رات کوئی فکری انقلاب برپا ہوا ہو گا اور یہی ٹیم کشتوں کے پشتے لگا دے گی مگر چار ہی روز بعد اس انقلاب کے غبارے سے ساری ہوا نکل چکی تھی۔

کراچی ٹیسٹ کی تیسری شام جب کہ انگلینڈ کلین سویپ کی آخری رسومات لگ بھگ مکمل کر چکا تھا اور اس تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کو فقط ایک رات کا انتظار تھا، تب بابر اعظم کراچی پریس باکس میں بیٹھے فرما رہے تھے کہ نتائج سے قطع نظر، پچھلے چند میچز میں ان کی ٹیم غالب رہی تھی۔

اس پر عقلِ انسانی دریائے حیرت میں غوطہ زن ہو جانے پر مجبور ہو ٹھہری کہ وہ پچھلے چند میچز، جہاں پاکستانی ٹیم غالب رہی تھی، وہ کون سے سیارے پر نشر کیے گئے تھے جو زمان ومکان کی حدود وقیود سے ہی ماورا تھا اور شائقین ایسے تفریح آمیز نظارے کی دید سے محروم ہی رہ گئے۔

کبھی یہ بہانہ کہ پچ صحیح نہیں ملی تو کہیں یہ جوازکہ شاہین آفریدی کی عدم دستیابی سے ہی سب نقصان ہوا۔ کرکٹ میں جب کپتان ایسے حیلوں بہانوں کی اوٹ میں چھپنے کی کوشش کرنے لگیں تو عام زبان میں اس کا یہی مفہوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی نااہلی کے ادراک کی صلاحیت سے بھی عاری ہو چکے ہیں۔

بابر اعظم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ضروری نہیں کہ ہر عظیم بولر اچھا کپتان بھی ہو۔ نہ ہی ہر عظیم بلے باز اچھی قائدانہ صلاحیتوں کا ضامن ہو سکتا ہے۔ سچن ٹنڈولکر کرکٹ کی تاریخ کے کامیاب ترین بلے باز رہے ہیں مگر بطور کپتان ان کا ریکارڈ شرمناک ہے۔ بعینہ جو روٹ عہدِ حاضر کے مسلّمہ بلے باز ہیں مگر بحیثیت قائد وہ اپنی ٹیم میں کوئی جوت جگانے میں ناکام رہے۔ 

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

وراٹ کوہلی کا قضیہ بھی اگرچہ بالکل جو روٹ جیسا نہیں مگر ٹیسٹ کپتانی کے اوائل میں ان کا بھی یہی المیہ رہا۔ اگرچہ بعد ازاں انہیں ٹیسٹ کرکٹ میں کچھ تاریخی کامیابیاں بھی ملیں مگر بحیثیتِ مجموعی وہ کسی بھی فارمیٹ میں ایک بہترین کپتان کی شناخت حاصل نہ کر پائے۔

بابر اعظم اس دور کے عظیم ترین بلے بازوں میں سے ہیں جن کے بارے ناصر حسین نے کہا تھا کہ وہ اس بلے باز کی بیٹنگ دیکھنے کے لیے مہنگی سے مہنگی ٹکٹ بھی خریدنے کو تیار ہوں گے اور فاسٹ بولنگ ٹیلنٹ کی شہرت رکھنے والی پاکستانی کرکٹ میں بابر اعظم کے جیسے عہد ساز بلے باز کا ابھر آنا کسی نعمت سے کم نہیں۔

مگر جیسے ٹنڈولکر اور جو روٹ اپنی تمام تر بیٹنگ صلاحیتوں کے باوجود قیادت کے محاذ پر کوئی کارہائے نمایاں انجام نہ دے پائے، ویسے ہی بابر اعظم بطور کپتان اپنی شناخت تخلیق کرنے میں یکسر ناکام رہے ہیں۔

 اچھا کپتان وہ ہوتا ہے جو آگے چل کر ٹیم کو راہ دکھائے نہ کہ خود ٹیم کے پیچھے چلتے چلتے راہ سُجھانے کی کوشش میں مگن رہے۔ بہترین کپتان ہمیشہ دستیاب وسائل پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے ان کے بہترین استعمال کی تدبیریں کرتے ہیں مگر بابر اعظم جیسے کپتان اکثر کسی اچھے بلے باز یا کسی پرجوش بولر کی جانب سے ایسی فاتحانہ کاوش کے منتظر رہتے ہیں جو میچ کا نقشہ بدل ڈالے۔

یہ بھی پڑھیے:

karachi test

،تصویر کا ذریعہGetty Images

رواں سیریز میں دونوں کپتانوں کے طرزِ عمل پر ایک طائرانہ سی نظر بھی ڈالی جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ ایسی کپتانی سے بابر اعظم انگلینڈ تو کیا، کسی ایسوسی ایٹ لیول کی ٹیم کے سامنے بھی مشکلات میں گِھرے نظر آتے۔

ٹیسٹ کرکٹ میں بولنگ اور بیٹنگ، ہر دو سے کہیں زیادہ اہمیت کپتان کی ہوتی ہے۔ دس وکٹیں اڑانے کا خاکہ پہلے کپتان کے دماغ میں بنتا ہے، اس کے بعد بولنگ اور فیلڈنگ اس خاکے میں رنگ بھرتے ہیں مگر بابر اعظم ٹیم سلیکشن سے لے کر بولنگ کمبینیشن تک ہر جگہ مات کھا گئے۔

کیسی اچنبھے کی بات ہے کہ حالیہ سیریز سے پہلے انگلش ٹیم اپنی تمام تاریخ میں پاکستانی سر زمین پر فقط دو ٹیسٹ میچز جیت پائی تھی اور اب تاریخ کا یہ جبر ہے کہ وہی انگلش ٹیم تین ہفتے سے بھی کم مدت میں تین میچز جیت گئی۔

نہ صرف یہ پاکستان کو ہوم کرکٹ میں پہلی کلین سویپ ہے بلکہ یہ بھی ایک نیا ریکارڈ ہے کہ پاکستان اپنے ہوم گراؤنڈز پہ متواتر چار میچز میں شکست سے دوچار ہوا ہے۔

جو وسائل اس قومی ٹیم کو دستیاب ہیں، وہ ہرگز ان سے بالا نہیں ہیں جو پچھلے برس جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں دستیاب تھے۔ جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں پاکستان نے کلین سویپ کیا تھا مگر ایک ہی سال میں رمیز راجہ نے ’کایا کلپ‘ کی اور پاکستان پہلی بار خود اپنے ہوم گراؤنڈز پر کلین سویپ ہو گیا۔

جب رمیز راجہ نے پی سی بی کی سربراہی سنبھالی تھی تو آتے ہی انھوں نے پاکستان کرکٹ کی اپروچ میں انقلاب لانے کا دعویٰ کیا تھا۔ مصباح الحق اور وقار یونس دو سالہ تگ و دو کے بعد جس مسابقتی الیون کی شکل نکال چکے تھے اس سے رمیز راجہ کو اتفاق نہیں تھا بلکہ انہیں اس کوچنگ سٹائل اور سوچ سے شدید اختلافات تھے۔

رمیز راجہ نے اپنے تئیں اس ’دقیانوسی‘ سوچ کو دیس نکالا دینے میں ایک پل بھی نہیں لگایا بلکہ اثرورسوخ کا عالم یہ تھا کہ باضابطہ عہدہ سنبھالنے سے پہلے ہی وہ کرسی نشیں ہو کر اہم ترین فیصلے کر رہے تھے اور ایسی ہی ایک ’فیصلہ کن‘ میٹنگ میں انھوں نے وقار یونس سے کہا تھا کہ کچھ سخت فیصلے ان کی مجبوری ہیں جن پر وقار یونس برا مت منائیں۔

وقار یونس نے بالکل برا نہیں منایا اور میٹنگ سے رخصت ہونے سے پہلے ہی اپنا استعفیٰ رمیز راجہ کو پیش کر دیا تھا۔

سوال اب صرف یہ ہے کہ ایسی تاریخی اہانت کے بعد رمیز راجہ خود بھی کچھ برا منا پائیں گے؟