انڈیا کا ’فیک نیوز قانون‘ سیاسی طنز و مزاح کے مقصد کو مکمل طور پر ناکام کر دے گا: کنال کامرا

،تصویر کا ذریعہANI
- مصنف, راگھویندر راؤ
- عہدہ, بی بی سی نیوز، نئی دہلی
رواں سال اپریل میں انڈین حکومت نے ایسے نئے قواعد متعارف کروائے ہیں جن کے تحت حکومت کو یہ اختیار مل گیا ہے کہ وہ اپنے فیکٹ چیک یونٹ کی تجویز پر اپنے بارے میں خبروں کو ’جعلی، جھوٹی یا گمراہ کن‘ قرار دے سکتی ہے۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے ترمیم شدہ قوانین ٹوئٹر اور فیس بک جیسے سوشل میڈیا پلیٹفارمز پر لاگو ہوتے ہیں۔ ان قوانین کے تحت اب حکومت کو اپنے ’فیکٹ چیکنگ یونٹ‘ کی نشاندہی پر مواد ہٹانے کا اختیار مل گیا ہے۔
اگر یہ کمپنیاں اس کی تعمیل نہیں کرتیں تو وہ اپنی ’سیف ہاربر‘ کی حیثیت کھو سکتی ہیں۔ یہ حیثیت دراصل انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے تحت ایک ایسی شق ہے جو انھیں اپنے پلیٹ فارمز پر پوسٹ کردہ تیسرے فریق کے مواد کے لیے ذمہ دار ٹھہرائے جانے سے بچاتی ہیں۔
ان قوانین کو عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے اور حکومت نے کہا ہے کہ پانچ جولائی تک فیکٹ چیکنگ یونٹ کام کا آغاز نہیں کرے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت نئے قوانین کو نافذ نہیں کیا جا رہا ہے۔
تاہم حکومت کے اس اقدام کی وجہ سے انڈیا میں آزادی رائے اور صحافت کی آزادی پر پڑنے والے منفی اثرات کے بارے میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے نئے قوانین کو ’سخت‘ اور 'انصاف کے اصولوں کے خلاف اور سنسرشپ کے مترادف‘ قرار دیا ہے۔
دی گلڈ اور انڈیا کی نیوز براڈکاسٹرز اسوسی ایشن نے کہا ہے کہ یہ نئے قوانین ان کے ساتھ کسی بامعنی مشاورت کے بغیر بنائے گئے ہیں۔
ایک سٹینڈ اپ کامیڈین نے بھی نئے قوانین کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ممبئی میں معروف مقیم سٹینڈ اپ کامیڈین کنال کامرا نے ’بمبئی ہائی کورٹ‘ میں عرضی دی ہے کہ نئے قوانین آزادی اظہار کے حق کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور حکومت کو اپنے سے متعلق ’کسی بھی کاروبار کے سلسلے میں حقائق کا فیصلہ کرنے کے حوالے سے واحد ثالت بناتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہMUNAWAR FARUQUI/FACEBOOK
ٹوئٹر اور فیس بک جیسے سوشل میڈیا پلیٹفارم بھی زد میں
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اس کے علاوہ یہ قوانین سوشل میڈیا جیسے تیسرے فریق کو بھی اس بات کے لیے پابند کرتے ہیں کہ وہ سچ کے اس حکومتی ورژن کو اپنے صارفین پر مسلط کرے۔
کامرا اپنے شوز میں سماجی اور سیاسی طنز کو ملا کر پیش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’حکومت کے پاس معاشرے میں دستیاب اب تک کا سب سے بڑا میگا فون ہے‘ یعنی اس کے پاس اپنی بات پہنچانے کا سب بڑا ذریعہ ہے۔ اگر اسے پریشانی ہوتی ہے تو وہ اسے ٹھیک کرنے کے لیے ’وسیع ترین رسائی کے ساتھ ہر دستیاب انفراسٹرکچر تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔‘
کامیڈین کنال کامرا نے کہا کہ ’ایک سیاسی طنز و مزاح نگار کے طور پر‘ وہ حکومتی اقدامات کے بارے میں تبصرے کرتے ہیں اور اپنے کام کو شیئر کرنے کے لیے وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے انٹرنیٹ کی وسیع رسائی پر انحصار کرتے ہیں۔
کامرا نے کہا کہ ان کی ’سیاسی طنز و مزاح کی صلاحیت غیر معقول اور ضرورت سے زیادہ کم ہو جائے گی‘ اگر اسے حکومت کی منتخب کردہ ’من مانی، غیر حقیقی‘ فیکٹ چیک یونٹ کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ ’سیاسی طنز و مزاح کے مقصد کو مکمل طور پر ناکام کر دے گا۔‘
یہ بھی پڑھیے
کامیڈین کا کہنا ہے کہ ان نئے قوانین کے نتیجے میں طنز و مزاح نگار اپنے خلاف کارروائی کے خوف سے سیلف سینسر یا سیاسی تبصروں سے بچنے پر مجبور ہوں گے۔
انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مزاح نگاروں یا سیاسی طنز نگاروں کے تخلیق کردہ مواد پر نئے قوانین کا اطلاق ممکنہ طور پر ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو معطل یا غیر فعال کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔
دوسری جانب انڈین حکومت نے عدالت میں ایک حلفی بیان داخل کیا ہے جس میں کہا ہے کہ نئے قوانین ’وسیع تر عوامی مفاد‘ میں بنائے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حکومت کا مؤقف
حکومت نے کہا کہ یہ قواعد ثبوت پر مبنی حقائق کی جانچ پڑتال کے نظام کے لیے فراہم کیے گئے ہیں تاکہ اس قسم کی جعلی، جھوٹی یا گمراہ کن معلومات سے نمٹنے کے لیے ایک طریقہ کار بنایا جا سکے جس کے نتیجے میں ’ماضی میں فسادات، مشتعل ہجوم کے تشدد اور دیگر گھناؤنے جرائم ہوئے ہیں۔‘
اس نے یہ بھی کہا کہ یونٹ کی طرف سے چیک کیے جانے والے مواد حکومتی پالیسیوں، پروگراموں، نوٹیفیکیشنز، قواعد، ضوابط اور ان کے نفاذ تک محدود ہوں گے۔
حکومت نے عدالت کو بتایا ہے کہ ’حقیقت کی جانچ کرنے والا یونٹ صرف جعلی یا غلط یا گمراہ کن معلومات کی نشاندہی کر سکتا ہے نہ کہ کسی رائے، طنز یا فنکارانہ تاثر کے مواد کی نشاندہی کرے گا۔‘
تاہم پہلے کی سماعت میں عدالت نے کہا کہ نئے قوانین طنز یا نقل کے ذریعے حکومت پر منصفانہ تنقید کو تحفظ فراہم نہیں کرتے۔
ایک ممتاز سیاسی کارٹونسٹ منجول کہتے ہیں کہ ’بظاہر یہ قوانین حکومت کے حق میں اور عوام کے خلاف دکھائی دیتے ہیں۔
’انھیں لوگوں کے خلاف بہت خطرناک انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے، بہت حد تک غداری کے قانون کی طرح۔‘
انڈین ایکسپریس اخبار کے ایک اداریے میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ جعلی خبروں کے خطرات کے بارے میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی، لیکن ایک ایسا فریم ورک جہاں حکومت کی ایک اکائی کو آن لائن مواد کی اصلیت کا تعین کرنے کی صوابدید حاصل ہو وہ بھی خطرات سے بھرا ہو گا۔








