انڈیا میں نئے آئی ٹی قوانین: انڈین حکومت ٹوئٹر سمیت سوشل میڈیا کمپنیوں کے پیچھے کیوں پڑی ہے؟

ٹوئٹر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, پرسنتو کے رائے
    • عہدہ, ٹیکنالوجی رائٹر

انڈیا میں ٹوئٹر کے مینیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) کو گذشتہ ہفتے دارالحکومت نئی دہلی کے قریب ایک شہر غازی آباد میں پولیس نے طلب کیا۔

وہ عدالت سے عارضی ریلیف ملنے پر گرفتاری سے تو بچ گئے مگر یہ مقدمہ اب بھی جاری ہے۔

اس کی وجہ ایک مبینہ نفرت پر مبنی جُرم کی ویڈیو ہے جسے ٹوئٹر پر شیئر کیا گیا۔ اس میں مار پیٹ کے بعد ایک 72 سالہ مسلمان مرد کی داڑھی مونڈ دی گئی۔ اس ویڈیو کو معروف صحافیوں سمیت کئی لوگوں نے شیئر کیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس جُرم کی بنیاد مذہب نہیں کیونکہ حملہ آور اس مرد سے ایک تعویذ خریدنے پر ناخوش تھے۔ پولیس نے حملے پر چھ لوگوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس نے اس مقدمے کی شکایت بھی درج کی ہے جس میں ٹوئٹر انڈیا کے علاوہ خبروں کی ویب سائٹ دی وائر، تین صحافیوں اور اپوزیشن جماعت کانگریس کے تین سیاستدانوں کو بدامنی پھیلانے کے مقصد سے ویڈیو شیئر کرنے کے الزام پر نامزد کیا گیا ہے۔ یہ تمام چھ لوگ مسلمان ہیں جبکہ ویڈیو غیر مسلم افراد نے بھی شیئر کی تھی۔

کسی سوشل میڈیا کمپنی کی اعلیٰ قیادت کو کسی پوسٹ کی بنا پر طلب کرنا غیر معمولی بات ہے۔ ٹیلیفون کمپنیوں کی طرح انھیں 'انٹر میڈیری (توسط کرانے والا)' سمجھا جاتا ہے۔ انڈین قوانین کے مطابق ایسے فریق کو اپنی ویب سائٹ پر کسی پوسٹ کے لیے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا اگر وہ قانون کی پاسداری کرتے ہیں اور قانون کے تحت مواد ہٹا دیتے ہیں۔

تاہم انڈیا کی وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ ٹوئٹر یہ حق کھو سکتا ہے اگر اس نے فروری میں متعارف کردہ نئے آئی ٹی قوانین کی تعمیل نہ کی۔

سرکاری طور پر ان نئے آئی ٹی قوانین کو انفارمیشن ٹیکنالوجی رولز (انٹرمیڈیری گائیڈ لائنز اینڈ ڈیجیٹل میڈیا ایتھکس کوڈ) کا نام دیا گیا ہے۔ ان میں سوشل میڈیا کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ کمپلائنس (تعمیل)، صارفین کی شکایات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہر وقت رابطے کے لیے تین ایگزیکٹو افسران تعینات کریں۔ یہ لازمی ہوگا کہ تینوں ٹوئٹر کے باقاعدہ ملازمین اور انڈین شہری ہوں۔

وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ ٹوئٹر کے دو نئے اہلکار اس کے باقاعدہ ملازمین نہیں ہیں جبکہ دفتر کا درج کردہ پتہ دراصل وکیلوں کے ایک چیمبر کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چیف کمپلائنس افسر سے متعلق معلومات نہیں دی گئی ہے جو کہ تعمیل کی خلاف ورزی (نان کمپلائنس) اور غیر قانونی ہے۔

سوشل میڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ان قوانین کے مطابق ایک حکم کے تحت سوشل میڈیا کمپنی کو 36 گھنٹوں کے اندر مواد ہٹانا ہوتا ہے اور قابل اعتراض مواد جیسے پورن ہٹانے کے لیے خودکار نظام بھی استعمال کرنا ہوتا ہے۔

21 جون کو ٹوئٹر نے انڈیا میں اس متنازع ویڈیو سے جڑے 50 ٹویٹس تک رسائی روکی۔ انڈیا میں کمپنی کے سربراہ نے ویڈیو کے معاملے پر پولیس سے ملنے کی حامی بھری لیکن یہ پیشکش ٹھکرا دی گئی۔ انھیں ذاتی حیثیت میں طلبی کا ایک نوٹس بھیج دیا۔

صحافی اور ڈیجیٹل حقوق کے کارکن نکھل پہوا کہتے ہیں کہ 'انڈین حکومت ٹوئٹر کو ایک مثال بنا رہی ہے تاکہ تمام غیر ملکی کمپنیوں کو ایک واضح پیغام دیا جاسکے۔

'اسے چین سے حسد ہے۔ یہ انڈیا کے انٹرنیٹ پر غیر ملکی کمپنیوں کے عمل پر مزید کنٹرول چاہتی ہے۔'

سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے انڈیا میں 'انٹرمیڈیری' کا درجہ کھو دینا ایک مشکل راستہ ہے۔ ملک میں آسانی سے مذہبی جذبات مجروح ہوسکتے ہیں۔ مثلاً گائیں جسے ہندو مقدس سمجھتے ہیں اس پر ایک کارٹون کمپنی اور اس کے ملازمین کے لیے مسائل کھڑے کرسکتا ہے اور اس سے ہزاروں لوگ ان کے خلاف شکایات درج کرا سکتے ہیں۔ ٹوئٹر کے خلاف یہ کیس آئندہ مزید کیسز کی شروعات ہوسکتا ہے۔

ٹوئٹر نے کمپلائنس کے مسئلے پر کوئی جواب نہیں دیا مگر یہ بتایا کہ عبوری طور پر کمپنی نے چیف کمپلائنس افسر مقرر کیا ہے اور 'ٹوئٹر نئی ہدایات پر عمل کرنے کے لیے پوری کوشش کرے گا۔'

روی شنکر پرساد

،تصویر کا ذریعہAni

،تصویر کا کیپشنروی شنکر پرساد قانون اور آئی ٹی کے وزیر ہیں

پیغام رساں کو ٹریس کرنے کا قانون

ٹوئٹر وہ واحد کمپنی نہیں جس کا انڈین حکومت سے اختلاف چل رہا ہے۔ گذشتہ ماہ واٹس ایپ نے حکومتی قوانین پر مقدمہ دائر کیا اور کہا کہ اس سے صارفین کی رازداری متاثر ہوسکتی ہے۔ انڈیا میں واٹس کے 400 ملین سے زیادہ صارفین ہیں اور فیس بک کی ملکیت والی یہ کمپنی ملک کی سب سے بڑی میسنجر ایپ ہے۔

واٹس ایپ کو ایک اعتراض اس قانون پر ہے جس میں پیغام تشکیل دینے والے کو ٹریس کرنا لازم ہوگا۔ کمپنی کے مطابق اس طرح اسے مجبوراً اپنی انکرپشن (خفیہ کاری) توڑنا ہوگی اور ہر پیغام کو محفوظ رکھنا ہوگا۔

حکومتی اہلکار کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ کو اپنی انکرپشن توڑے بغیر ایک طریقہ نکالنا ہوگا جس سے پیغام تشکیل دینے والے تک پہنچا جاسکے۔ لیکن کمپنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے لیے بھی واٹس ایپ کو اپنے ڈیٹا بیس میں 'ہر بھیجے گئے پیغام کا فنگر پرنٹ رکھنا ہوگا۔' اس طرح بھی انکرپشن ٹوٹ جائے گا اور لوگوں کے رازداری کے حق کی خلاف ورزی ہوگی۔

پیغام کو ٹریس کرنے کے قانون سے دیگر میسنجر کمپنیاں بھی متاثر ہوں گی، جیسے آئے دن مقبول ہونے والی سگنل ایپ اور ایپل کا آئی مسیج سافٹ ویئر۔ تاہم ابھی کے لیے حکومت کی نگاہیں واٹس ایپ پر ہیں۔

اس قانون کو پہلی بار 2019 میں تجویز کیا گیا تھا جب واٹس ایپ پر فارورڈ میسجز کے ذریعے کئی طرح کی افواہیں چلتی تھیں: جیسے کسی بچے کا اغوا ہونا، گائیں ذبح کرنا اور قتل عام کی خبریں۔ یہ بعد میں اکثر فیک نیوز نکلتی تھی۔

حکومت چاہتی ہے کہ واٹس ایپ دہشتگردی، جعلی خبروں اور جرائم سے متعلق تحقیقات میں مدد کرے۔ تاہم پرائویسی کی حمایت کرنے والے کہتے ہیں کہ جرائم کے خاتمے کے لیے انکرپشن ختم کرنے کا سودا گھاٹے کا ہوسکتا ہے۔

پرائیویسی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

'بگ برادر جیسی ریاست'

اس سارے معاملے پر اقوام متحدہ کو بھی تشویش ہے جس کے سپیشل ریپوتارژ نے کہا ہے کہ انڈیا کے نئے آئی ٹی قوانین انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور اظہار رائے پر قدغن ثابت ہوسکتے ہیں۔ ایک خط میں ان کا کہنا ہے کہ اس سے 'انٹرمیڈیئری اپنی ذمہ داری محدود رکھنے کے لیے مواد ہٹانے کے مطالبات پر ضرورت سے زیادہ عمل کرسکتے ہیں۔'

خط میں کہا گیا کہ نئے قوانین سے حکومت کے پاس صحافیوں کو سینسر کرنے کی طاقت آجائے گی۔ لیکن ان نئے اصولوں کے آنے سے پہلے بھی صحافیوں کو چُپ کرایا جاتا رہا ہے اور ان پر فرد جرم عائد ہوتے رہے ہیں۔

نئے قوانین میں خبروں کے ناشر کے لیے الگ شرائط رکھی گئی ہیں جن کی نگرانی اطلاعات و نشریات کی وزارت کرے گی۔ اس میں بھاری ذمہ داری یکطرفہ ہے۔ انھیں بھی اب لازماً کمپلائنس اور مواد ہٹانے کی درخواست پر عمل پیرا ہونا ہوگا۔

نیشنل براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ نئے اصولوں میں میڈیا ہاؤسز کو ڈیجیٹل نیوز سے الگ رکھا جائے مگر حکومت نے اس سے انکار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انٹرمیڈیئری سے متعلق قوانین، قانونی چارہ جوئی کا باعث بھی بنے ہیں۔ انھیں 13 میڈیا کمپنیوں نے چیلنج کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے 'نگرانی اور خوف کا نیا دور شروع ہوگا۔' دلی میں ایک وکیل نے قانون کی خلاف وزری پر ٹوئٹر کے خلاف کیس کیا ہے جبکہ جنوبی ریاست تمل ناڈو کے شہر چنئی میں ایک گلوکار ٹی ایم کرشنا نے عدالت میں درخواست دائر کی ہے کہ نئے قوانین سے بطور ایک فنکار ان کی رائے کی آزادی اور رازداری کے حقوق متاثر ہوں گے۔

نیٹ فلکس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ان قوانین کے خلاف پہلی درخواست وکیل سنجے کے سنگھ نے مارچ میں دائر کی تھی۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ نئے اصول آئین میں رائے کے اظہار کی آزادی کے خلاف ہیں۔ انھوں نے آئی ٹی کے متنازع قانون 66 اے، جس میں آن لائن 'تکلیف دہ' کمنٹس لکھنا جُرم کہا گیا تھا، کے خلاف تاریخی فیصلے کا حوالے دیا۔

سپریم کورٹ نے 66 اے کو خارج کر دیا تھا اور کہا تھا کہ انٹرمیڈیری سے مواد ہٹانے کے ہزاروں مطالبات پر زبردستی نہیں کی جاسکتی۔ مگر انھیں مخصوص مواد ہٹانے کی قانونی درخواست پر فوری عمل کرنا ہوگا۔

سنگھ کا کہنا ہے کہ 'نئے قوانین اس فیصلے کے خلاف ہیں۔ بظاہر وہ چاہتے ہیں کہ حکومت مخالف اور تنقید آمیز مواد ہٹایا جاسکتے۔' ان کا کیس اب بھی زیر سماعت ہے۔

شریا سنگھل قانون کی طالبہ ہیں جنھوں نے 66 اے کو عدالت میں چیلنج کیا۔ وہ اس بات سے متفق ہیں۔

لیکن وہ کہتی ہیں کہ ٹوئٹر کو ان اصولوں پر پوری طرح عمل کرنا چاہیے تھا اور اس کے بعد انھیں چیلنج کیا جاتا تاکہ اس کی پوزیشن مضبوط ہوتی۔ وہ کہتی ہیں کہ قانونی چارہ جوئی ضروری ہے کیونکہ سوشل میڈیا کمپنیوں سے یہ امید کی جارہی ہے کہ خودکار نظام اور کی ورڈز (خاص اصطلاحات) کی بنا پر مواد سینسر کیا جائے۔ اس سے ممکنہ طور پر بہت زیادہ ٹویٹ حذف ہوسکتے ہیں۔

سنگھل کہتی ہیں کہ 'یہ بِگ برادر کی ریاست جیسا ہے۔ مسلسل نگرانی اور کنٹرول کی یہ حالت پہلے کبھی نہیں تھی۔'